Baaghi TV

Tag: Full movies hd

  • نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

    جمیل الدین عالی

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    اداکار فیروز خان جنہوں نے چند روز قبل اپنے شوبز کے ساتھیوں کو نہ صرف لیگل نوٹس بھیجے بلکہ ان کے پرسنل نمبرز اور گھروں کے ایڈریس بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دئیے۔ اس کے بعد فرحان سعید نے ان کو تین دن کا وقت دیا کہ وہ پبلکلی معافی مانگیں۔ باقی اداکاروں نے بھی فیرو ز خان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فیروز خان کی اس حرکت کو نہ صرف ناپسند کیابلکہ یہ بھی کہا کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ فیروز خان کو اپنے کئے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک انہوں نے کسی بھی پلیٹ فارم پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی ساتھیوں کو اذیت دینے کا اعتراف کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ

    فیروز خان نے کیرئیر کے اس موڑ پر ایسی حرکت کرکے اپنے کیرئیر پر سٹاپ لگا لیا ہے۔ یاد رہے کہ فیروز خان کی سابقہ اہلیہ علیزے سلطان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ان پر بری طرح سے تشدد کرتے تھے اور تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں ، ان تصاویر کے بعد بہت ساری شوبز سلیبز نے فیروز کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور علیزے کے ساتھ کھڑے ہوگئے اسی غصے میں فیروز خان نے اپنے ساتھیوں کو لیگل نوٹس بھیجے اور معافی کا مطالبہ کیا۔

  • تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں  وکیل تنیشا

    تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں وکیل تنیشا

    انڈین ٹی وی اداکارہ تنیشا شرما کو خود کشی کئے ہوئے ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن کیس ہے کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں‌لے رہا. تنیشا کی والدہ نے اداکار شیزان خان کو تنشیا کی موت کا ذمہ دار تو ٹھہرا دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کیس کی جتنی بھی سنوائی ہوئی ہے اس کے مطابق تو شیزان خان تنیشا کی موت کے ذمہ دار نظر نہیں آتے. تنیشا خود کشی کیس میں اب ایک نیا موڑ آیا ہے بتایا گیا ہے کہ تنیشا نے خود کشی سے قبل 15 منٹ تک علی نامی لڑکے سے وڈیو پر بات کی. کہا جا رہا ہے کہ علی تنیشا کا جم ٹرینر تھا اس کے ساتھ تنیشا کی کافی بے تکلفی تھی لیکن والدہ کہتی ہیں کہ علی صرف میری بیٹی کا اچھا دوست تھا اس سے آگے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا.دوسری طرف تنیشا شرما کے وکیل نے کہا ہے کہ تنیشا بالکل بھی

    ڈپریشن میں نہیں تھی بلکہ شیزان خان اور اسکی والدہ اسکو اس قسم کی دوائیاں دے رہے تھے کہ جس سے وہ پریشان رہنے لگی تھی. اپنے فیصلے ٹھیک طرح سے نہیں کر پا رہی تھی. یاد رہے کہ شیزان خان کی ضمانت ابھی تک منظور نہیں‌ہوئی اور شیزان خان نے ابھی تک کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے لگے کہ ہاں ان کا اس خود کشی سے کوئی تعلق ہے، لیکن تنیشا کی والدہ تلی ہوئی ہیں کہ کسی طرح سے شیزان خان کا اس خود کشی سے لنک ثابت کر دیں اور اسے سزا ہوجائے.

  • گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    آج پاکستانی ڈرامہ جتنا بھی بدل چکا ہے لیکن ان کو پسند کرنے والی ایک بڑی تعداد ہے. ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ڈرامہ نہ صرف بن رہا ہے بلکہ دیکھا بھی جاتا ہے. اداکار عثمان مختار کی اہلیہ جو کہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ اکثر ٹی وی ڈراموں اور سوشل ایشوز پر بات کرتی نظر آتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈراموں میں گلے لگا لینے یا پیار محبت کے جذبات دکھانا لوگوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن لڑکیوں کو تھپڑ مارنا اور تشدد ان کے لئے قابل قبول ہے اس پر تو پیمرا بھی حرکت میں نہیں آتا وہ بھی تشدد پر پابندی نہیں‌لگاتا لیکن گلے لگانے جیسے دیگر معاملات پر فورا نوٹس لیتا ہے.

    زنیرہ انعام خان کی اس بات سے بہت سارے سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا. اور کہا کہ ہمارے ہاں لوگوں کا دوہرا معیار ہے اور ویسا ہی دوہرا معیار پیمرا کا بھی ہے جن باتوں پر نوٹس لیا جانا چاہیے اس پر نوٹس نہیں‌لیا جاتا. یاد رہے کہ ہمارے اکثر ڈراموں میں لڑکیوں کو نہایت تابعدار دکھایا جاتا ہے، وہ شوہر کی مار پیٹ سہہ لیتی ہیں‌ اور قربانی دینے والی دیوی بن جاتی ہیں اسی چیز پر زنیرہ انعام خان نے آواز اٹھائی ہے.

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔

  • امریندرسنگھ کو آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا روبی انعم

    امریندرسنگھ کو آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا روبی انعم

    سٹیج کی معروف اداکارہ روبی انعم جنہوں نے انڈین پنجابی فلم چل میرا پت میں کام کیا ہے ان کے کردار کو بہت زیادہ پسند کیا گیا. روبی انعم ایک اور انڈین پنجابی فلم میں‌کام کررہی ہیں، روبی انعم کہتی ہیں کہ چل میرا پت میں‌ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا . اس فلم کے ہیرو امریندر سنگھ بہت اچھا بچہ ہے فلم کی پوری کاسٹ تجربہ کار تھی . امریندر سنگھ کو تو میں نے کئی بار آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا. روبی نے کہا کہ چل میرا پت میں‌ کام کے دوران میرا بہت خیال رکھا گیا، مجھے پرہیزی کھانا دیا جاتا تھا ، میرے لئے ایک خاتون کک رکھی گئی تھی جو ہر روز تازہ اور

    میری پسند کا کھانا بنا کر مجھے کھلاتی تھی. روبی نے یہ بھی کہا کہ میں نے عمر کے اس حصے میں فلموں میں کام کیا ہے جس میں لڑکیاں فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لیتی ہیں. لیکن میں‌بہت خوش ہوں ، چل میرا پت میں مجھے جو کردار دیا گیا وہ ایسا تھا کہ اس عورت کی نہ کوئی اولاد ہوتی ہے اور نہ ہی اسکا شوہر وہ اکیلی ہوتی ہے. لیکن میں‌ ایک اور انڈین پراجیکٹ میں‌ کام کررہی ہوں اس میں‌ میرا کردار یقینا الگ ہو گا. میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں ایسا کام کروں جس سے میرے ملک پاکستان کی عزت بڑھے.

  • سلمان خان نے سنیل شیٹی کا کئی سال پہلے کا راز بتا دیا

    سلمان خان نے سنیل شیٹی کا کئی سال پہلے کا راز بتا دیا

    بالی وڈ اداکار سلمان خان جن کا شمار اس وقت امیر ترین اداکاروں میں‌ہوتا ہے ، سلمان اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ چیرٹی میں نکال دیتے ہیں. سلمان خان نے اس بار بگ باس کی میزبانی کا اچھا خاصا معاوضہ طلب کیا جو کہ ان کو ملا بھی. سلمان خان آج جتنے بھی امیر ہوں لیکن ایک وقت وہ بھی تھا جب ان کے پاس پیسے نہیں‌ہوتے تھے. سلمان خان کا سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کافی سال میرے پاس پیسے نہیں ہوا کرتے تھے ، ایک بار میں سنیل شیٹی کی دوکان پر چلا گیا وہاں کپڑے دیکھے، بہت دل کیا کہ خرید لوں لیکن میرے پاس پیسے

    نہیں تھے سنیل شیٹی دیکھ رہے تھے انہوں نے مجھے سٹون واش کی شرٹس دیں ، یہ بتاتے ہوئے سنیل شیٹی کی آنکھوں میں آنسو آگئے. یوں سلمان خان نے بتایا کہ کبھی وہ بھی ان حالاتوں میں تھے کہ ان کے پاس بھی خریداری کرنے کےلئے پیسے نہیں ہوتے تھے. سلمان خان نے اس قسم کا واقعہ سنا کر نوجوان نسل کو پیغام دیا کہ زندگی میں‌ محنت کریں‌تو بہت کچھ مل جاتا ہے پیسہ بھی شہرت بھی اور مقام بھی .

  • ہنی مون سے پہلے عمرہ کرنے جائیں گے راکھی اور عادل کی میڈیا سے گفتگو

    ہنی مون سے پہلے عمرہ کرنے جائیں گے راکھی اور عادل کی میڈیا سے گفتگو

    بالی وڈ کی اداکارہ اور آئٹم گرل کہلائی جانے والی راکھی ساونت نے گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کی اس موقع پر ان کے شوہرعادل درانی بھی ان کے ساتھ موجود تھے. جب میڈیا نے ان سے سوال کیا کہ ہنی مون کہاں منائیں گے تو عادل درانی نے کہا کہ ہم ہنی مون سے پہلے عمرہ کریں گے. راکھی نے بھی کہا کہ ہم ہنی مون سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کریں گے . عمرہ کے دوران ہمارا رشتہ پکا ہوجائیگا اور جس رشتے کو اللہ تعالی جوڑتا ہے اسکو کوئی بھی نہیں توڑ پاتا. میری دعا ہے کہ اس بار میرا گھر جڑ جائے اور میرا رشتہ پکا ہوجائے. یوں راکھی ساونت نے اسلام قبول کرنے کے بعد اسکی تعلیمات پر بھی عمل کر نا شروع کر دیا ہے. راکھی ساونت نے نہ صرف برقعہ پہننا شروع کر دیا ہے بلکہ وہ عمرہ

    کی ادائیگی کا بھی ارادہ رکھتی ہیں. وہ کئی بار کہہ چکی ہیں کہ اسلام میں‌کم کپڑے پہننے کی بھی اجازت نہیں ہے لہذا میں کم کپڑے بھی نہیں پہنوں گی. یاد رہے کہ راکھی ساونت اور عادل درانی کی شادی گزشتہ برس مئی کے مہینے میں ہوئی اور دونوں‌نے اپنی شادی کا اعلان حال ہی میں کیا ہے. لیکن راکھی ساونت کو خدشات ہیں‌کہ کہیں عادل کے گھر والے اسکا رشتہ نہ ختم کروا دیں.

  • سلمان خان نے مجھے مرنا سکھایا دیویا دتہ

    سلمان خان نے مجھے مرنا سکھایا دیویا دتہ

    بالی وڈ‌اداکارہ دیویا دتہ نے حال ہی میں ایک انکشاف کیا ہے اور وہ انکشاف ہے بہت ہی مزے کا. اداکارہ نے بتایا کہ جب وہ فلم انڈسٹری میں آئیں تو انہیں فلموں میں مرنا نہیں آتا تھا ، انہیں یہ نہیں‌ سمجھ میں آتی تھی کہ سانس کو کیسے روکا جائے کہ یوں لگے کہ اصل میں‌کوئی مرا ہے. دیویا نے مزید بتایا کہ سلمان خان کو کسی نے بتایا کہ ایک نئی لڑکی فلموں میں‌ آئی ہے اور اسکو مرنا نہیں آتا، سلمان خان اپنا پیک اپ کر چکے تھے لیکن وہ سیٹ پر آئے اور انہوں نے مجھے مرنا سکھایا، دیویا نے کہا کہ میرا سلمان پہ کرش تھا میں ان کی دیوانی تھی ان کو بہت پسند کرتی تھی، وہ میرے سامنے

    بیٹھے تھے اور مجھے سکھا رہے تھے کہ کیسے مرنا ہے تو جب آپ کا کرش آپ کو سکھا رہا ہو کہ فلموں میں‌کیسے مرنا ہے تو پھر کیسے نہ مرنا سیکھے کوئی. دیویا نے یہ بھی کہا کہ سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کا بہت زیادہ مزا آیا ، سچ تو یہ ہے کہ سلمان ایک بہترین کو سٹار رہے ہیں ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا. انہوں نے مجھے سکھایا کہ گھبرانا نہیں‌ ہے ہر کوئی ہر کام کر سکتا ہے بس ثابت قدم رہنا ضروری ہوتا ہے اور سیکھنے کی خواہش کا ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے.