Baaghi TV

Tag: Full movies hd

  • سلمان خان بگ باس سے رخصت لیکن کیوں؟

    سلمان خان بگ باس سے رخصت لیکن کیوں؟

    انڈیا کا رئیلٹی شو بگ باس بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی بہت مقبول ہے. اس شو نے بہت سارے لوگوں کو سلبیرٹی بنا دیا. اس بار کے بگ باس کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں معروف فلم میکر ساجد خان نے شرکت کی اور ان کی شرکت بہت زیادہ کنٹرورشل رہی. سلمان خان کی میزبانی نے اس بار بھی شو کو چار چاند لگا دئیے. تاہم سلمان خان اس شو سے الگ ہو گئے ہیں ایسا نہیں ہے کہ سلمان خان کی بگ باس انتظامیہ کے ساتھ ان بن ہو گئی ہے. بگ باس سے الگ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ سلمان خان کا بگ باس سے کنٹریکٹ‌ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس بار بگ باس کا دورانیہ چار ہفتے بڑھا دیا گیا ہے. اس لئے سلمان خان نے اپنے کنٹریکٹ‌کے حساب سے شو کی ہوسٹنگ ختم کر دی ہے. اطلاعات یہ ہیں کہ اب

    چار ہفتوں کے اس شو کی ہوسٹنگ کرن جوہر کریں گے کرن جوہر ایک بار پہلے بھی شو کی ہوسٹنگ کر چکے ہیں. سلمان خان تو شو سے چلے گئے ہیں لیکن یقینا ان کے چاہنے والے ان کو بہت زیادہ مس کریں گے. دیکھنا یہ ہے کہ اس بار بگ باس کا ونر کون ہوگا. کس کی قسمت کا ستارہ جگمگاتا ہے.

  • عادل نے کس کے کہنے پر شادی کا اعتراف کیا؟‌

    عادل نے کس کے کہنے پر شادی کا اعتراف کیا؟‌

    راکھی کی شادی اس وقت کنٹرورشل بنی جب عادل نے شادی کے حوالے سے مبہم باتیں کہیں . کبھی شادی کی وڈیوز کو فیک کہا تو کبھی تصاویر کو. لیکن آخر کار عادل کو راکھی کے ساتھ اپنی شادی کا اعتراف کرنا پڑا. راکھی اور عادل سے میڈیا نے انٹرویو کیا. عادل سے مختلف سوالات ہوئے انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ راکھی کیسے رو رہی تھی جیسے میں بھاگ گیاہوں. راکھی نے کہا کہ میں سب بھول گئی ہوں عادل نے اپنی شادی کا اعتراف کر لیا ہے میرے لئے اتنا ہی کافی ہے.ہم میاں بیوی ہیں ہم میں کوئی جھگڑا نہیں ہے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش ہیں. ایک میڈیا پرسن نے راکھی اور عادل دونوں سے سوال کیا کہ کیا سلمان خان نے فون کیا تھا؟ عادل نے کہا کہ سلمان خان مجھے بہت عزت دیتے ہیں بہت پیار

    کرتے ہیں ، جبکہ راکھی بولی کہ سلمان خان نے فون کیا ہے تو عادل نے اعتراف کیا ہے. راکھی نے پھر کہا کہ میں خدا کے بعد سلمان خان کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں‌نے میرا گھر بسایا ہے. آج اگر مجھے خوشیاں ملی ہیں تو وہ سلمان خان کی بدولت ہے. عادل نے کہا کہ میں نے شادی سے انکار نہیں کیا تھا لیکن بس خاموش اسلئے تھا کیونکہ گھر والوں کو منا رہا تھا.

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    مرزاآغامحمدعزتالزماں المعروف عزتؔ_لکھنوی 1932ء میں شہر لکھنؤ کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام آغا محمد بدیع الزماں تھا۔ عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، اما باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ
    سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔

    قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔15؍اگست 1958ء کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ ‘کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں ان کا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا 16؍جنوری 1981ء کوانتقال کر گئے۔

    عزتؔ لکھنوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
    ….
    فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گے
    بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچہ اپنا
    غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آ جاتے ہیں
    کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا
    لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی
    ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا
    ———
    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا
    ———
    اک محبت ہے فقط وجہِ بہارِ زندگی
    ورنہ اس دنیا میں کیا رکھا ہے انساں کے لیے
    ———
    آپ خوب واقف ہیں، دل کی جو تمنا ہے
    حُکم کیا ہے اے مولا، چپ رہوں میں یا مانگوں
    ———
    ناقدریِ زمانہ کی تلخی سے بے نیاز
    اچھے ہیں جن کے پاس متاعِ ہنر نہیں

  • پاکستان کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر کا یوم پیدائش

    پاکستان کی معروف اداکارہ حنا دلپذیر کا یوم پیدائش

    معروف پاکستانی اداکارہ اور شاعرہ حنا دلپذیر المعروف مومو کا یوم پیدائش ہے-

    باغی ٹی وی: مزاحیہ اداکاری کی وجہ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی اداکارہ اور شاعرہ حنا دلپذیر خان 16 جنوری 1966 میں کراچی میں پیدا ہوٸیں انہوں نےاپنے فنی کیریٸر کا آغاز 42 سال کی عمر میں 2008 میں فصیح باری خان کی ٹیلی فلم ” برنس روڈ کی نیلوفر ” سے کیا جس میں انہوں نے سعیدہ کے نام سے کردار ادا کیا۔

    انہوں نے ڈارامہ سیریل بلبلے میں ” مومو” کے نام سے مزاحیہ کردار ادا کیا جس سے انہیں بےپناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوٸی اور اب وہ عوام خاص طور پر بچوں اور خواتین میں ” مومو” کے نام سے ہی جانی جاتی ہیں ۔ ان کے دیگر ڈراموں میں خاتون منزل، باندی، تم ہوکے چپ ، قدوسی کی بیوہ، عینی کی آٸے گی بارات، لیڈیز پارک اور گوگلی محلہ وغیرہ شامل ہیں ۔

    حنا نے دلپذیر خان نامی ایک نوجوان سے اپنی پسند کی شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا مصطفی دلپذیر پیدا ہوا ، ابھی وہ تین سال کا تھا کہ دلپذیر خان نے اپنی بیوی حنا المعروف موموکو ہنسی مذاق میں طلاق دے دی حنا عرف مومو نے اس کے بعد ابھی تک دوسری شادی نہیں کی –

    اعجاز اسلم نے اپنے دوست کو کیوں رلا دیا ؟

    حنا اردو میں شاعری بھی کرتی ہیں انہوں نے اب تک 100 سے زاٸد غزلیں لکھی ہیں جن کو وہ کتابی شکل دے کر شعری مجموعہ شاٸع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔

    آغا نیاز مگسی

  • عادل درانی نے اپنی شادی کی تصویر شئیر کرکے راکھی کودی مبارکباد

    عادل درانی نے اپنی شادی کی تصویر شئیر کرکے راکھی کودی مبارکباد

    عادل درانی اور راکھی ساونت کی شادی کچھ دنوں سے ہے بہت زیادہ ہے چرچا میں ، اب تو عادل درانی بھی راکھی کے ساتھ اپنی شادی کو مان گئے ہیں اور انہوں نے راکھی کے ساتھ انسٹاگرام پوسٹ پراپنی شادی کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ راکھی آپ کو نکاح کی بہت مبارکباد ، میں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں نے آپ سے شادی نہیں کی بس میں فیملی کو منا رہا تھا اسلئے اس شادی پر بات نہیں‌کرنا چاہتا تھا. عادل درانی کی اس پوسٹ پر راکھی ساونت نے عادل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری جان میرے ساتھ رہو آپکا بہت شکریہ . یوں عادل اور راکھی دنیا کے سامنے اپنے رشتے کو تسلیم کر چکے ہیں اور راکھی بھی اسلام قبول کر چکی ہیں اور ان کا اب مسلم نام فاطمہ ہے. دیکھنا یہ ہے کہ راکھی ، راکھی ساونت

    کے نام کو ہی آگے لیکر چلتی ہیں یا فاطمہ درانی کے نام کو لیکر چلتی ہیں. یاد رہے کہ راکھی ساونت کے مسلمان ہونے پر ان کےاپنے گھر والوں کو بالکل بھی اعتراض نہیں ہے اور راکھی اسلام قبول کرکے کافی خوش ہیں. راکھی کو ابھی تک انتہا پسند ہندئوں کی طرف سے اسلام قبول کرنے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا گیا.

  • پریانکا کو برفی کا رول دیکر انوراگ کشپ نے یہ کیوں کہا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے؟

    پریانکا کو برفی کا رول دیکر انوراگ کشپ نے یہ کیوں کہا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے؟

    بالی ودڈ اداکارہ پریانکا چوپڑہ کہتی ہیں کہ مجھے فلم برفی کا کردار آفر کرنے کےلئے انوراگ کشپ میرے گھر پر آئے ، میں تیار ہوئی تھی میں نے گائون پہن رکھا تھا مجھے دیکھ کر انوراگ نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تم میں تو بہت گلمیر ہے تم تو برفی کا کردار کر ہی نہیں سکتی . میں کیسے لوگوں کو تمہارا گلیمر بھلا سکتا ہوں، سوری میں تم سے برفی کے لئے ایگریمنٹ نہیں کر سکتا. میں نے انوراگ سے کہا کہ میں کر سکتی ہوں مجھے یقین ہے آپ یقین تو کریں اس کے بعد انہوں نے کردار دیا کروایا تو بہت متاثر ہوئے. پریانکا چوپڑہ مزید کہتی ہیں کہ میں نے اکشے کمار سے نظم و ضبط سیکھا ہے ، ان کو دیکھ کر میں نے عادت بنا لی کہ اگر ڈائریکٹر نے مجھے 12 گھنٹے کے پیسے دئیے ہیں تو وہ چاہے

    سیٹ پر مجھے بٹھائے یا کام کروائے میں مائنڈ نہیں‌کروں گی، امیتابھ بچن سے میں نے یہ سیکھا کہ خود پر یقین رکھو حالات کیسے بھی ہوں. پریانکا چوپڑا نے کہا کہ شروع میں جب انڈسٹری میں آئی سیٹس پر جاتی تو بہت نروس رہتی تھی. کسی سے بات نہیں کرتی تھی جو لائنز ملتی تھی بس بول دیتی تھی لیکن اعتراض فلم کے بعد مجھے لگا کہ میں خود سے بھی ایکٹنگ میں ایکسپریشنز لا سکتی ہوں اور میں لیکر آئی اور میری اداکاری کو بہت سراہا بھی گیا.

  • ہرتیک روشن ہسپتال  پہنچ گئے ، مداح پریشان

    ہرتیک روشن ہسپتال پہنچ گئے ، مداح پریشان

    بالی وڈ اداکار ہرتیک روشن ہستپال پہنچ گئے ہیں جیسے ہی یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ان کے مداح خاصے پریشان ہوگئے. تفصیلات کے مطابق ہریتک روشن کچھ سال قبل اپنی فلم بینگ بینگ کی شوٹنگ کے دوران ایک حادثے کا شکار ہوگئے تھے اور انہیں اس حادثے میں سر پر چوٹ لگی تھی یہ چوٹ بعد میں ان کے لئے پریشانی کا سبب بن گئی ۔ہریتک روشن کی سر پرلگنے والی اس چوٹ کے باعث ا نہیں سرجری کرانا پڑی اور ان کے دماغ سے دو ماہ پرانا جم جانے والا خون کا لوتھڑا نکالا گیا تھا۔ آپریشن کے بعد سے ہریتک روشن باقاعدگی سے اپنا بون میرو چیک اپ کرواتے ہیں تاکہ وہ مزید پریشانی سے بچ سکیں. کہا جا رہا ہے کہ ہرتیک روشن بون میرو ٹرانسپلانٹ کلینک جاتے ہیں اور ضروری ٹیسٹ کرواتے

    ہیں. ہرتیک روشن نے اپنے پرستاروں سے کہا ہے کہ پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ہوں اور اپنے چیک اپ کے لئے کلینک جاتا ہوں. یاد رہے کہ ہرتیک روشن کو سر کی اس چوٹ کے بعد کافی عرصے تک ڈپریشن بھی رہا اور انہوں نے لوگوں سے ملنا ملانا بھی چھوڑ دیا تھا تاہم علاج کے بعد انہوں نے پھر سے اپنی فلمی سرگرمیاں شروع کیں اور دوستوں سے رابطے بحال کئے.

  • کہو نا پیار ہے کو ریلیز ہوئے 23 سال بیت گئے

    کہو نا پیار ہے کو ریلیز ہوئے 23 سال بیت گئے

    فلم کہو نہ پیار ہے سے ہرتیک روشن نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا ، یہ فلم سینما گھروں‌کی زینت بنی تو شائقین جوق در جوق سینما گھروں میں پہنچے فلم کا میوزک اور ہرتیک کی اداکاری اور ان کا ڈانس شائقین کی توجہ کا مرکز بن گیا. اس سال کی یہ فلم سب سے بڑی ہٹ بن گئی. یوں ہرتیک روشن راتوں رات سپر سٹار بن گئے. اس کے بعد بھی انہوں نے بہت ساری فلموں میں کام کیا لیکن انہیں جو کامیابی کہو نہ پیار ہے سے ملی وہ دوبارہ نصیب نہ ہو سکی. اس کے باوجود وہ عوام کے پسندیدہ رہے. ہرتیک روشن نے بالی وڈ میں ڈانس اور اداکاری کو ایک نیا رنگ دیا. امیشا پاٹیل نے بھی کہو نہ پیار ہے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا وہ بھی راتوں رات سٹار بن گئیں. کہو نا پیار ہے کو ہرتیک کے والد راکیش روشن نے

    ڈائریکٹ کیا تھا. اس میں گانوں کی کمال کوریوگرافی نے شائقین کو ڈانس سٹیپس کا دیوانہ بنا دیا. آج بھی اس فلم کے گیت اور ڈانس سٹیپس مشہور ہیں اور یاد کئے جاتے ہیں. فلم میں ابھیشک شرما نے ہرتیک روشن کے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا تھا انہوں نے فلم کے 23 سال مکمل ہونے پر کہونا پیار ہے کے سیٹ کی تصویر شئیر اور کہا کہ یہ فلم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گی.

  • اعجاز اسلم  نے اپنے دوست کو کیوں رلا دیا ؟

    اعجاز اسلم نے اپنے دوست کو کیوں رلا دیا ؟

    اداکار اعجاز اسلم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ بہت شرارتی ہوا کرتے تھے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے ایک دوست کو لڑکی بن کر کافی عرصے تک تنگ کیا. اعجاز اسلم نے کہا کہ میں لڑکی کی آواز نکال کر اپنے دوست سے بات کیا کرتا تھا. میں نے اپنے ساتھ دو تین دوست بھی رکھے ہوئے تھے جو میری بہنیں بن کر میرے دوست سے بات کرتی تھی . میرے دوست کو مجھ سے پیار ہو گیا اور وہ تو مجھ سے شادی کرنے کو تیار ہو گیا. لیکن جب میں نے اور میرے دوستوں نے بتایا کہ ہم تمہیں تنگ کیا کرتے تھے تو وہ بہت رویا. اعجاز اسلم نے یہ بھی بتایا کہ مجھے اچھی گاڑیوں اور بائیکس کا بہت زیادہ شوق ہے اگر میری 20 ملین کی لاٹری نکل آئے تو اس میں سے کچھ فیصد

    چیرٹی کرکے باقی اپنے چھوٹے موٹے شوق پورے کروں گا. انہوں نے کہا کہ شوبز ہو یا کوئی فیلڈ اس میں کامیابی راتوں رات نہیں ملتی ایک مکمل پراسس ہوتا ہے جس سے گزرنا پڑتا ہے. جو کام کریں اس کے لئے محنت کریں کامیابی اپنے وقت سے ہی ملے گی. اعجاز اسلم نے یہ بھی کہا کہ میں نے ایسے بہت سارے لڑکے دیکھے ہیں جو مجھے ملتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ آج ہم شوبز میں آئے ہیں اور کل سپر سٹار بن جائیں ٹھیک ہے اچھی خواہش ہے لیکن پہلے کچھ کر تو لیں کامیابی بھی مل جائیگی .