Baaghi TV

Tag: full movies

  • زوہارحمن کی شارٹ فلم عید مبارک ڈزنی+ کیلئے منتخب

    زوہارحمن کی شارٹ فلم عید مبارک ڈزنی+ کیلئے منتخب

    سپائیڈر مین، فارفرام ہوم میں اداکاری سے شہرت حاصل کرنے اور مارول یونیورس کی پہلی حجاب پہننے والی اداکارہ زوہا رحمن کی شارٹ فلم عید مبارک کو ڈزنی کے کرئیٹر+ نے اپنے ‘Flip the Script ‘فلم فنڈ کیلئے منتخب کر لیا ہے جو کہ زوہا رحمان کی یقینا ایک بڑی کامیابی ہے. فلم عید مبارک ایک لائیو ایکشن مختصر فلم ہے جو مصنف اور ڈائریکٹر کے اپنے بچپن کی اصل کہانی پر مبنی ہے اسے ماہ نور یوسف نے ڈائریکٹ کیا ہے. فلم کا پریمیئرفروری 2023کو چلڈرن فلم فیسٹیول سیٹل میں ہوگا. فلم کی شوٹنگ کراچی، پاکستان میں مئی 2022میں کی گئی جو پانچ دن تک

    12گھنٹے روزانہ جاری رہی، جب کہ اس کی پوسٹ پروڈکشن لاس اینجلز، کیلیفورنیامیں ہوئی۔زوہا رحمان نے نیٹ فلیکس کی Young Wallanderاور ایپل ٹی وی کی Foundation میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ان کی اداکاری کی صلاحیتوں کی شہرت بالی وڈ تک بھی پہنچی جہاں انہوں نے میگابایوگرافیکل اسپورٹس فیچر’83 میں شرکت کی۔زوہا این شمن جاہ کی ‘لارڈ کرزن کی حویلی ‘کی کاسٹ میں بھی شامل ہیں جو اس سال کے آخر میں فیسٹیول میں ریلیز کے لئے تیارہے۔

  • عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

    غالب عرفان

    21؍جنوری 2021 یوم وفات

    نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
    05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
    غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

    جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
    حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

    فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
    اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

    مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
    خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

    خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
    منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

    🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

    الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
    دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

    کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
    کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

    ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
    ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

    تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
    تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

    رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
    آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

    زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
    پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

    ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
    ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں

  • ایلینا میہائیلونا شرمین  روسی یہودی شاعرہ

    ایلینا میہائیلونا شرمین روسی یہودی شاعرہ

    تاریخ ولادت:21 جنوری 1908ء
    روستوو نا دانو
    تاریخ وفات:10 اگست 1942ء
    وجہِ وفات:شوٹ
    طرزِ وفات:سزائے موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    پیشہ:مصنفہ، شاعرہ
    پیشہ ورانہ زبان:روسی
    عسکری خدمات:
    ۔۔۔۔۔۔
    لڑائیاں اور جنگیں
    مشرقی محاذ (روسی جنگ عظیم)

    ایلینا مہیائیلونا شرمان ایک روسی یہودی شاعرہ تھیں جو دوسری جنگ عظیم میں نازیوں کے ہاتھوں ماری گئی تھیں۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ایلینا میہائیلونا شرمین 21جنوری 1908 کو روسٹو-آن-ڈان، جنوبی روس میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک سمت پیما تھے اور ان کی والدہ ایک استانی تھیں۔ انھوں نے روسٹوو اسٹیٹ پیڈاگوجیکل انسٹی ٹیوٹ کے روسی زبان اور ادب کے شعبے میں منتقل ہونے سے پہلے روسٹو-آن-ڈان کے لائبریری کالج میں تعلیم حاصل کی جہاں سے انھوں نے 1933 میں گریجویشن کیا۔ گریجویشن کے بعد انھوں نے ایک لائبریری اور کئی عجائب گھروں میں کام کیا۔ 1937 سے 1941 تک انھوں نے گورکی لٹریری انسٹی ٹیوٹ میں الیا سیلونسکی کے تحت تعلیم حاصل کی۔
    کیرئیر
    ۔۔۔۔
    ایلینا شرمین نے 1924 میں ادبی کام شائع کرنا شروع کیا، پہلے مقامی رسالوں میں اور بعد میں ماسکو کے جرائد میں کام کیا۔ انھوں نے مختف لوک کہانیوں کو اکٹھا کیا اور ان میں ترمیم کی۔

    1933 سے 1936 تک انھوں نے مختلف ملازمتیں کیں۔ انھوں نے سلماش میں کچن معاون کے طور پر بھی کام کیا جو اس وقت سوویت یونین کی گندم کی کٹائی کی مشینری کی سب سے بڑی صنعت تھی۔ سیلماش میں رہتے ہوئے وہ فیکٹری ملازمین کے بچوں کو ادب اور ثقافت بھی سکھاتی تھیں۔ گورکی لٹریری انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں انھوں نے کئی مقامی رسالوں کی تدوین بھی کی۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز میں انھیں فوج میں بھرتی کیا گیا، جہاں انہوں نے فوجی اخبار، ڈائریکٹ سائٹس کی ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جس میں ان کی بہت سی طنزیہ نظمیں شائع ہوئیں۔ انھوں نے پوسٹر اور پروپیگنڈہ کتابچوں کی کاپیاں بھی لکھیں۔ ان کا شعری مجموعہ ٹو دی فائٹر آف یونٹ این(To the Fighter of Unit N) 1942 میں شائع ہوا۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    ایلینا شرمین کی تحریروں کا مرکز ویلری مارچیخن نامی نوجوان کے لیے ان کی بے مثال محبت ہے۔ مارچیخن سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ بیس کی دہائی کے آخر میں تھیں۔ وہ ان کا سب سے ہونہار طالب علم تھا۔ وہ 1930 کی دہائی کے آخر تک اس کے ساتھ خط و کتابت کرتی رہیں۔ 1939 میں وہ دوبارہ ذاتی طور پر ملے، اس وقت تک مارچیخن ریڈ آرمی میں ایک خوبصورت جوان سپاہی تھا اور شرمین ایک تنہا اکتیس سالہ عورت تھی۔ ایلینا شرمین نے اس نوجوان کے بارے میں بہت سی نظمیں لکھیں۔ ایلینا کو 1941 میں اس نوجوان کی موت کی خبر نہ مل سکی اور وہ یہی سمجھتی رہیں کہ وہ ایلینا میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ایلینا کی بہترین نظم آخری نظم(The Last Poem) اسی نوجوان کو الوداع کہنے کے موضوع پر مشتمل ہے جس میں ایلینا نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ وہ بھی شاید اب زیادہ عرصہ نہ جی سکے۔

  • نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

    جمیل الدین عالی

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    فیروز خان نے ساتھیوں سے تاحال معافی نہیں مانگی

    اداکار فیروز خان جنہوں نے چند روز قبل اپنے شوبز کے ساتھیوں کو نہ صرف لیگل نوٹس بھیجے بلکہ ان کے پرسنل نمبرز اور گھروں کے ایڈریس بھی سوشل میڈیا پر جاری کر دئیے۔ اس کے بعد فرحان سعید نے ان کو تین دن کا وقت دیا کہ وہ پبلکلی معافی مانگیں۔ باقی اداکاروں نے بھی فیرو ز خان کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فیروز خان کی اس حرکت کو نہ صرف ناپسند کیابلکہ یہ بھی کہا کہ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ فیروز خان کو اپنے کئے پر کسی قسم کی شرمندگی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک انہوں نے کسی بھی پلیٹ فارم پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی ساتھیوں کو اذیت دینے کا اعتراف کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ

    فیروز خان نے کیرئیر کے اس موڑ پر ایسی حرکت کرکے اپنے کیرئیر پر سٹاپ لگا لیا ہے۔ یاد رہے کہ فیروز خان کی سابقہ اہلیہ علیزے سلطان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ ان پر بری طرح سے تشدد کرتے تھے اور تصاویر بھی عدالت میں پیش کیں ، ان تصاویر کے بعد بہت ساری شوبز سلیبز نے فیروز کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا اور علیزے کے ساتھ کھڑے ہوگئے اسی غصے میں فیروز خان نے اپنے ساتھیوں کو لیگل نوٹس بھیجے اور معافی کا مطالبہ کیا۔

  • تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں  وکیل تنیشا

    تنیشا ڈپریشن کا شکار نہیں تھی بلکہ شیزان خان کی والدہ اسے غلط دوائیاں دیتی تھیں وکیل تنیشا

    انڈین ٹی وی اداکارہ تنیشا شرما کو خود کشی کئے ہوئے ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن کیس ہے کہ سلجھنے کا نام ہی نہیں‌لے رہا. تنیشا کی والدہ نے اداکار شیزان خان کو تنشیا کی موت کا ذمہ دار تو ٹھہرا دیا گیا ہے لیکن ابھی تک کیس کی جتنی بھی سنوائی ہوئی ہے اس کے مطابق تو شیزان خان تنیشا کی موت کے ذمہ دار نظر نہیں آتے. تنیشا خود کشی کیس میں اب ایک نیا موڑ آیا ہے بتایا گیا ہے کہ تنیشا نے خود کشی سے قبل 15 منٹ تک علی نامی لڑکے سے وڈیو پر بات کی. کہا جا رہا ہے کہ علی تنیشا کا جم ٹرینر تھا اس کے ساتھ تنیشا کی کافی بے تکلفی تھی لیکن والدہ کہتی ہیں کہ علی صرف میری بیٹی کا اچھا دوست تھا اس سے آگے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا.دوسری طرف تنیشا شرما کے وکیل نے کہا ہے کہ تنیشا بالکل بھی

    ڈپریشن میں نہیں تھی بلکہ شیزان خان اور اسکی والدہ اسکو اس قسم کی دوائیاں دے رہے تھے کہ جس سے وہ پریشان رہنے لگی تھی. اپنے فیصلے ٹھیک طرح سے نہیں کر پا رہی تھی. یاد رہے کہ شیزان خان کی ضمانت ابھی تک منظور نہیں‌ہوئی اور شیزان خان نے ابھی تک کوئی ایسا بیان نہیں دیا جس سے لگے کہ ہاں ان کا اس خود کشی سے کوئی تعلق ہے، لیکن تنیشا کی والدہ تلی ہوئی ہیں کہ کسی طرح سے شیزان خان کا اس خود کشی سے لنک ثابت کر دیں اور اسے سزا ہوجائے.

  • گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    گلے لگانا پیمرا کی نظر میں جرم ہے لیکن تھپڑ مارنا نہیں زنیرہ انعام خان

    آج پاکستانی ڈرامہ جتنا بھی بدل چکا ہے لیکن ان کو پسند کرنے والی ایک بڑی تعداد ہے. ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ڈرامہ نہ صرف بن رہا ہے بلکہ دیکھا بھی جاتا ہے. اداکار عثمان مختار کی اہلیہ جو کہ سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں وہ اکثر ٹی وی ڈراموں اور سوشل ایشوز پر بات کرتی نظر آتی ہیں. حال ہی میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈراموں میں گلے لگا لینے یا پیار محبت کے جذبات دکھانا لوگوں کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن لڑکیوں کو تھپڑ مارنا اور تشدد ان کے لئے قابل قبول ہے اس پر تو پیمرا بھی حرکت میں نہیں آتا وہ بھی تشدد پر پابندی نہیں‌لگاتا لیکن گلے لگانے جیسے دیگر معاملات پر فورا نوٹس لیتا ہے.

    زنیرہ انعام خان کی اس بات سے بہت سارے سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا. اور کہا کہ ہمارے ہاں لوگوں کا دوہرا معیار ہے اور ویسا ہی دوہرا معیار پیمرا کا بھی ہے جن باتوں پر نوٹس لیا جانا چاہیے اس پر نوٹس نہیں‌لیا جاتا. یاد رہے کہ ہمارے اکثر ڈراموں میں لڑکیوں کو نہایت تابعدار دکھایا جاتا ہے، وہ شوہر کی مار پیٹ سہہ لیتی ہیں‌ اور قربانی دینے والی دیوی بن جاتی ہیں اسی چیز پر زنیرہ انعام خان نے آواز اٹھائی ہے.

  • جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب،نقاد اور مصلح

    پیدائش:08 فروری 1819ء
    لندن
    وفات:20 جنوری 1900ء
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    مادر علمی:کرائسٹ چرچ
    کنگز کالج، لندن
    مادری زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ آکسفورڈ
    تحریک:آزاد خیال

    جان رسکن ایک انگریزی ادیب آرٹ کا نقاد اور مصلح تھا۔ لندن میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ 1860ء میں اپنی ساری موروثی جائداد مزدوروں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کی۔ ایک نمونے کا گاؤں بنایا جس میں کسان امدادِ باہمی کے اصولوں پر کام کرتے تھے۔ 1870ء میں آکسفورڈ میں فنونِ لطیفہ کا پروفیسر مقرر ہوا۔ وفات کے بعد آکسفورڈ کا ایک کالج اس کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی اہم تصنیف ’’ماڈرن پینٹرز‘‘ (پانچ جلدیں) ہے۔ دوسری تصانیف میں دی سیون لیمپس آف آرکی ٹیکچر اور دی اسٹونز آف وینس قابل ذکر ہیں۔

  • امریندرسنگھ کو آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا روبی انعم

    امریندرسنگھ کو آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا روبی انعم

    سٹیج کی معروف اداکارہ روبی انعم جنہوں نے انڈین پنجابی فلم چل میرا پت میں کام کیا ہے ان کے کردار کو بہت زیادہ پسند کیا گیا. روبی انعم ایک اور انڈین پنجابی فلم میں‌کام کررہی ہیں، روبی انعم کہتی ہیں کہ چل میرا پت میں‌ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا . اس فلم کے ہیرو امریندر سنگھ بہت اچھا بچہ ہے فلم کی پوری کاسٹ تجربہ کار تھی . امریندر سنگھ کو تو میں نے کئی بار آن سیٹ چھوٹے منہ والا کہا. روبی نے کہا کہ چل میرا پت میں‌ کام کے دوران میرا بہت خیال رکھا گیا، مجھے پرہیزی کھانا دیا جاتا تھا ، میرے لئے ایک خاتون کک رکھی گئی تھی جو ہر روز تازہ اور

    میری پسند کا کھانا بنا کر مجھے کھلاتی تھی. روبی نے یہ بھی کہا کہ میں نے عمر کے اس حصے میں فلموں میں کام کیا ہے جس میں لڑکیاں فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لیتی ہیں. لیکن میں‌بہت خوش ہوں ، چل میرا پت میں مجھے جو کردار دیا گیا وہ ایسا تھا کہ اس عورت کی نہ کوئی اولاد ہوتی ہے اور نہ ہی اسکا شوہر وہ اکیلی ہوتی ہے. لیکن میں‌ ایک اور انڈین پراجیکٹ میں‌ کام کررہی ہوں اس میں‌ میرا کردار یقینا الگ ہو گا. میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں ایسا کام کروں جس سے میرے ملک پاکستان کی عزت بڑھے.