Baaghi TV

Tag: geo news

  • عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    اسلام آباد : ٕ عمران خان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے جیو کی رپورٹ کے مطابق پناہ گاہوں (شیلٹر ہومز) کو عمران خان کے ٹریڈ مارک پروجیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ غریبوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں تاہم دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا کہ دستاویزات پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کی زیر نگرانی ملک بھر میں کل 39 احساس پناہ گاہیں قائم کی گئیں، اس پروگرام کےتحت بےگھرافراد کو بنیادی طورپرصحت کی دیکھ بھال، رہائش کیلئے محفوظ ماحول، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار خوراک وغیرہ سمیت متعدد پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے قابل احترام انداز سے معیاری خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    پروگرام کے آغاز سے اب تک 39 احساس پناہ گاہیں فعال ہیں، اب تک، مالی سال 2022 کے مارچ مہینے تک 18 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہےبیت المال (پی بی ایم) نے ڈونرز کے ذریعے خوراک کی فراہمی کیلئے گاڑیاں خریدیں، ’’احساس۔ کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ (ای کے بی این ایس) پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 40 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

    پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مارچ 2022 تک 161.088 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، غریبوں کے بھلے کیلئے کیے جانے والے اخراجات کے مقابلے میں دیکھیں تو عمران خان نے اپنی رہائش گاہ سے دفتر تک کے سفر کے ذریعے قومی خزانے سے 984؍ ملین (98 کروڑ 40لاکھ سے زائد) روپے خرچ کیے۔

    یہ تفصیلات پی ڈی ایم کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر استعمال کے اخراجات کے حوالے سے جاری کی تھیں، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں جاری کی گئی دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے سفری اخراجات 472.36 ملین روپے تھے جبکہ سفر سے زیادہ ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال پر زیادہ اخراجات ہوئے جو 511.995 ملین روپے رہے۔

    ان دستاویزات کے مطابق اگست 2018 سے دسمبر 2018 تک عمران خان کے سفری اخراجات 37 کروڑ 93 لاکھ روپے تھے۔ اسی طرح، خان کے سفر پر 2019 میں 131.94 ملین روپے، 2020 میں 143.55 ملین روپے، 2021 میں 123.8 ملین روپے اور جنوری سے مارچ 2022 کے دوران 35.14 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو، پاکستان سپر لیگ کا آج سے آغاز

    سفری اخراجات کے علاوہ دیکھیں تو صرف مالی سال 2018-19کے دوران وزیر اعظم ہاؤس اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کا بجلی کا بل 149.19 ملین روپے تھا۔

  • آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: آصف زرداری پر عمران خان کے مبینہ قتل کی سازش کے الزام کے کیس میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو شیخ رشید کی جانب سے درخواست ضمانت کے لیے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ آصف زردای کیخلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ آصف زرداری نے کوئی شکایت نہیں کی، تیسرے فریق کی شکایت پر مقدمہ بنا۔ جیل میں ہوں اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 فروری تک جواب طلب کرلیا۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

  • عمران خان کا بہانے بنا کر  عدالت پیش نہ ہونا قانون کا مزاق ہے. مریم نواز شریف

    عمران خان کا بہانے بنا کر عدالت پیش نہ ہونا قانون کا مزاق ہے. مریم نواز شریف

    عمران خان کا بہانے بنا کر عدالت پیش نہ ہونا قانون کا مزاق ہے. مریم نواز شریف

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ لندن میں نواز شریف اور شہباز شریف نے مجھے پارٹی کی ذمہ داری دی، اور مجھے ہدایت کی گئی کہ سرجری کے فوری بعد پاکستان واپس جائیں، نوازشریف نے مجھے خود کنونشنر کا شیڈول تیار کرکے دیا، اور کہا کہ جلسے الیکشن کے قریب جا کر کریں گے۔ جبکہ مریم نواز نے مزید کہا کہ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا عوامی ردعمل ملے گا، کارکنوں کا جذبہ دیکھ کر سے دل خوش ہوگیا، مہنگائی سے آنکھیں بند تو نہیں کی جا سکتیں، لیکن استقبال سے لگا جیسا آٹا مفت اور ٹماٹر 2 روپے کلو مل رہے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسائل گھمبیر ہیں نوازشریف کی غیر موجودگی میں متحرک کردار ادا نہیں کیا جا سکا، سوشل میڈیا پر توجہ کم رہی، اپوزیشن میں آپ کے پاس بیانیہ ہوتا ہے، بیانیے کی جنگ نے کارکردگی کی جگہ لے لی، ہم نے ووٹ کو عزت دو مہم میں بہت مؤثر سوشل میڈیا چلایا، جس کے باعث پاپا جونز کو ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم میدان میں کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں، یکطرفہ میدان کھلا چھوڑا جو ہماری لاپروہی ہے، ذاتی یا پارٹی تشہیر کیلئے سرکاری خزانے سے سوشل میڈیا نہیں چلا سکتے، اس لئے مسلم لیگ کا آئی ٹی ونگ بنا رہے ہیں جس کے سربراہ افنان اللہ ہوں گے۔ چار سال سوشل میڈیا، ترجمانوں اور یو ٹیوبرز پر توجہ رہی۔

    لیگی چیف آرگنائزر نے کہا کہ جھوٹ بولنا نہیں آتا، سچا الزام بھی لگاتے ہوئے سوچتی ہوں، کسی سے ملنے یا ناراضی دور کرنے میں میری کوئی انا نہیں، سب سینئر میرے والد اور چچا کے ساتھی ہیں، خود بھی نہیں چاہوں گی کہ سینئر شخصیات میرے پیچھے کھڑی ہوں، شاہد خاقان سے رابطہ ہوا وہ لاہور تھے اور انہوں نے کہا ہے کہ ملاقات کروں گا، کیپٹن صفدر انفرادی شخصیت ہیں،بات کا خود جواب دے سکتے ہیں، وزیراعظم یا وزیراعلی کے عہدے پر نظر ہے نہ ہی کوئی ٹارگٹ ہے، عہدے کو سامنے رکھا تو پارٹی کے لئے کام نہیں کرسکتی۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہم نے پری الیکشن مہم شروع کردی ہے، انتخاب میں اپنا الیکشن لڑیں گے، پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں، اسے ابھی انتخابی اتحاد نہیں کہا جاسکتا، یہی مشن ہے کہ ہر صوبے میں جماعت کی تنظیم مضبوط کروں، جہاں کمزوریاں ہیں دور کرنا ہے، تنظیمی دوروں کو پری الیکشن کمپین سمجھ لیں، ان دوروں کا ایک مقصد بہترین انتخابی نمائندوں کی تلاش بھی ہے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ن لیگ کے رہنمائوں پر بچوں والے کیسز بنائے گئے، ہمارا دامن صاف لیکن ہفتے میں چھ دن عدالت میں پیش ہوتے تھے، عمران خان کے تو ثبوت ہیں، گھڑیاں بیچ کر اربوں روپے کمائے، سڑک بھی نواز شریف سے بنوائی، وہ عدالت نہیں جاتے پلاسٹر چڑھا دیتے ہیں، یہ عدلیہ کے لئے اچھا تاثر نہیں، ہمارے گلے کا پھندا سخت ہوتا تھا، ہمیں تو کوئی ریلیف نہیں، ان کے بہانوں پر تاریخ پڑ جاتی ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان پاکستان کا واحد وزیراعظم ہے جسے ووٹ کے ذریعے باہر نکالا گیا، اپنے ووٹ پورے کرانے کے لئے بھی فیض کی خدمات لی جاتی تھیں، 20 میں سے 15 الیکشن پی ٹی آئی جیتے تو ہماری کس اور کون سی سہولت کاری ہے۔ جبکہ مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، ملک کو ہتھوڑے مار مار کر 4 سال میں توڑ دیا، آئی ایم ایف سے ہم نے کوئی معاہدہ نہیں کیا، بلکہ جو گزشتہ حکومت نے شرائط طے کی تھیں وہ اب ہمیں پوری کرنی پڑرہی ہے، پی ٹی آئی کے لوگ چاہتے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے، سول بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    مریم نواز نے کہا کہ مجھے تکلیف ہے کہ نوازشریف کا کیس صحیح طرح نہیں لڑا گیا، اس کیلئے جو قانون سازی کرنی چاہئے تھی وہ یہ حکومت نہیں کرسکی، اب نواز شریف کی بے گناہی پر سب بولیں گے، لوگوں کو بتانا چاہئے کہ نواز شریف کے ساتھ ظلم کیا گیا، وہ جلد نہ صرف ہمارے درمیان بلکہ کیسز بھی ختم ہوں گے، چند ہفتوں کی بات ہے، اس کے لئے کوششیں ہورہی ہیں۔

  • حکومت کہتی مشکل وقت اور قوم قربانی دے لیکن سب سے پہلے شہباز شریف قربانی دیں۔ سراج الحق

    حکومت کہتی مشکل وقت اور قوم قربانی دے لیکن سب سے پہلے شہباز شریف قربانی دیں۔ سراج الحق

    حکومت کہتی مشکل وقت اور قوم قربانی دے لیکن سب سے پہلے شہباز شریف قربانی دیں۔ سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے حکومت کہتی ہے مشکل وقت ہے قوم قربانی ہے، سب سے پہلے شہباز شریف قربانی دیں۔ جہلم میں مہنگائی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جماعت اسلامی میدان میں کھڑی ہے اور مہنگائی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ایسے ظالم حکمران ہیں کہ مہنگائی میں کمی کا مطالبہ کرنے پر بھی سیخ پا ہوتے ہیں، پاکستان کو ان ظالموں نے 62 ہزار ارب کے قرضوں کے کوہ ہمالیہ تلے دبا دیا، قرض لینے والے عوام سے مطالبہ کرتے ہیں چائے روٹی کم کر دو۔

    نجی ٹی وی کے مطابق سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت پہلے سے پسے عوام پر منی بجٹ کے ذریعے ٹیکسز کا بوجھ ڈالنے لگی ہے، عوام گیس بجلی پانی کا بل کہاں سے ادا کریں گے، زرعی پاکستان میں 160 روپے کلو آٹا اور275 روپے کلو پیاز ہے، جو چیزیں جو پاکستان میں پیدا ہوتی ہیں ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا ایم پی اے اور ایم این ایز نے پیسے اپنی تجوریوں میں بھر رکھے ہیں، حکومت کے ایک وزیر نے بیان دیا کہ خزانہ خالی ہو گیا ہے، پوچھنا چاہتا ہوں یہ خزانہ آپ نے خالی کیا یا عوام نے خالی کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    یاد رہے کہ اس سے قبل سرائے عالمگیر میں مہنگائی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا غریب عوام کے لیے بجلی پانی اور گیس کا بل ادا کرنا مشکل ہو گیا ہے، ہم ٹیکس دیتے ہیں مزدوری کرتے ہیں، حکمرانوں کی کرپشن کے باعث پاکستان غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے، انہوں نے قرضے لیکر اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا اسحاق ڈار کے آنے کے بعد ہر چیز کی قیمت میں اضافہ ہوا، انہوں نے وعدہ کیا تھا ڈالر 200 روپے پر لائیں گے، آج مشکل وقت ہے آج بھی حکومت کہتی ہے قوم قربانی دے، سب سے پہلے شہباز شریف قربانی دیں۔

  • امریکہ نے میرے خلاف سازش نہیں کی ہے. عمران خان کا یوٹرن

    امریکہ نے میرے خلاف سازش نہیں کی ہے. عمران خان کا یوٹرن

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ شریف اور بھٹو خاندان نے اربوں کی کرپشن کی ہے اور انہوں نے ہی ملک کو لوٹا ہے جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت بری طرح برباد ہو چکی ہے، اس وقت پاکستان تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، عوام کی منتخب حکومت کے پاس ذمہ داری کے ساتھ اختیار بھی ہونا چاہیئے۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ساکھ تباہ کردی گئی، شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے، میں نے غنی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات کی کوشش کی، وزیر خارجہ نے اپنا سارا وقت بیرونی دوروں پر لگایا، افغانستان کا ایک دورہ نہیں کیا۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ روس یوکرین تنازعے میں ہم نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا، کسی ایک فریق کی حمایت کرتے تو تعلقات متاثر ہوسکتے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    امریکا سے بہتر تعلقات کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی تعلقات کا انحصار ایگوز پر نہیں بلکہ عوام کے مفاد میں ہونا چاہئے، پاکستان کےعوام کے مفاد میں یہی ہے کہ ہم امریکا اسے اچھے تعلقات استوار کریں کیونکہ یہ سُپر پاور اور سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ جبکہ سفارتی سائفر اور مبینہ سازش پر انہوں نے کہا کہ وقت کےساتھ یہ بات کھلی کہ یہ امریکا نہیں تھا جس نے میرے خلاف سازش کی ہے.

  • سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ

    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ

    لاہور:سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی اہلیہ نے شوہر کی گمشدگی پر چیف جسٹس پاکستان سےازخود نوٹس کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: لاہورمیں چوہدری پرویزالہٰی نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کی اہلیہ اوربچوں سےملاقات کی، اس موقع پر محمد خان بھٹی کی اہلیہ کاکہنا تھاکہ ان کےشوہر کو سندھ ہائیکورٹ جاتے ہوئےمٹیاری سے گرفتارکیا گیا 3 دن گزرنےکے بعد بھی ان کے شوہرکا کوئی پتا نہیں، شوہرکی زندگی کوخطرہ ہے، چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں۔

    واضح رہے کہ 6 فروری کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کو سندھ کے علاقے مٹیاری سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پرویز الہیٰ نے بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ حفاظتی ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ جا رہے تھے، خدشہ ہے کہ محمد خان بھٹی کو ویسے ہی لاپتہ کردیا جائےگادوسری جانب ایس ایس پی مٹیاری کلیم ملک کا کہنا تھا کہ پولیس نے محمد خان بھٹی کو حراست میں نہیں لیا۔

    حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

  • کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی-

    باغی ٹی وی: جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ عوامی مفاد کا تعین کیا عدالت میں بیٹھے 3ججز نے کرنا ہے؟ کیا عوام نیب ترامیم کیخلاف چیخ و پکار کر رہی ہے؟ نیب ترامیم کونسے بنیادی حقوق سے متصادم ہے نشاندہی نہیں کی گئی، عمران خان کے وکیل اسلامی دفعات اور آئین کے بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے رہے-

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

    جسٹس منصور علی شاہ نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے نیب ترمیمی بل پر ووٹنگ سے اجتناب کیا، کیا ووٹنگ سے اجتناب کرنے والے کا عدالت میں حق دعویٰ بنتا ہے؟ کیا کوئی رکن اسمبلی پارلیمان کو خالی چھوڑ سکتا ہے؟ کیا پارلیمان میں کرنے والا کام عدالتوں میں لانا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا نہیں ہے؟

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شا ہ نے ریمارکس دیے کہ استعفی منظور نہ ہونے کا مطلب ہے کہ اسمبلی رکنیت برقرار ہے، رکن اسمبلی حلقے کے عوام کا نمائندہ اور ان کے اعتماد کا امین ہوتا ہے۔کیا عوامی اعتماد کے امین کا پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا درست ہے؟ کیا قانون سازی کے وقت بائیکاٹ کرنا پھر عدالت آ جانا پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کرنا نہیں؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان چاہتے تو نیب ترامیم کو اسمبلی میں شکست دے سکتے تھے، پی ٹی آئی کے تمام ارکان مشترکہ اجلاس میں آتے تو اکثریت میں ہوتے-

    چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں شرکت کے نقطے پر عمران خان سے جواب لیں گے،کیا صرف بنیاد پر عوامی مفاد کا مقدمہ نہ سنیں کہ درخواست گزار کا کنڈکٹ درست نہیں تھا؟ہر لیڈر اپنےاقدامات کو درست کہنے کیلئے آئین کا سہارا لیتا ہے، پارلیمان کا بائیکاٹ کرنا پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی تھی،ضروری نہیں سیاسی حکمت عملی کا کوئی قانونی جواز بھی ہو،بعض اوقات قانونی حکمت عملی بھی سیاسی لحاظ سے بے وقوفی لگتی ہے پارلیمانی کارروئی کا بائیکاٹ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔برصغیر میں تو بائیکاٹ کی تاریخ لمبی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں کتنے ارکان نے نیب ترامیم کی منظوری دی؟جس پر وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ بل منظوری کے وقت مشترکہ اجلاس میں 166 ارکان شریک تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں ارکان کی تعداد 446 ہوتی ہے، یعنی آدھے سے کم لوگوں نے ووٹ دیا۔عدالت صرف بنیادی حقوق اور آئینی حدود پار کرنے کے نکات کا جائزہ لے رہی ہےدرخواست گزار نے نیب ترامیم عوامی مفاد اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر چیلنج کیں۔ عمران خان کے کنڈکٹ پر سوال تب اٹھتا اگر نیب ترامیم سے ان کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا۔ بظاہر درخواست گزار کا نیب ترامیم سے کوئی ذاتی مفاد منسلک نہیں لگتا۔

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ضروری نہیں ذاتی مفاد کے لیے ترامیم چیلنج ہوں درخواستگزار کو نیب ترامیم چیلنج کرنے سے سیاسی فائدہ بھی مل سکتا ہے، پی ٹی آئی نے استعفے نا منظور ہونے پر عدالت سے رجوع کیا، استعفے منظور ہونے پر بھی پی ٹی آئی عدالت میں آ گئی۔ عمران خان نے دانستہ طور پر پارلیمنٹ خالی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ شاید عمران خان کو معلوم تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو عدالت آ گئے۔ عمران خان سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ کسی بھی مقدمے کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے، قیاس آرائیوں پر نہیں۔ عدالت قانون سازی کو برقرار یا کالعدم قرار دینے کے بجائے بغیر کسی فیصلے کے واپس بھی کر سکتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اگر عدالت نیب قانون کالعدم قرار دے گی تو کل کیا کوئی بھی سپریم کورٹ میں قانون سازی چیلنج کر دے گا؟۔ ایک شخص نے نیب ترامیم چیلنج کیں، ممکن ہے اسی جماعت کے باقی ارکان ترامیم کے حق میں ہوں۔

    سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 14 فروری تک ملتوی کردی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

  • سپریم کورٹ  شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے شریف فیملی کی شوگر ملوں کی کپاس کے علاقوں میں منتقلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی جس پر سپریم کورٹ برہم ہوگئی جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کہ آپ کیس کیوں واپس لینا چاہتے ہیں ؟نمائندہ پنجاب انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شوگر ملوں کی منتقلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے، ملوں کو اجازت دے دی گئی۔

    جسٹس مظاہر علی اکبر نے استفسار کیا کہ کیس عدالت میں ہے تو مسئلہ کیسے حل ہوگیا؟ زیر التواء مقدمہ پر پنجاب حکومت کیسے خط لکھ کر واپس لے سکتی ہے، فوری اس خط کو واپس لیں۔

    عمران خان کےآئی ایم ایف سےکیےگئےمعاہدے پر شہبازحکومت عمل کررہی ہے ،اسحاق ڈار

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی استدعا کو طریقہ کار کے مطابق دائر کرے جائزہ لیں گے۔

    وکیل اشرف شوگر مل نے بتایا کہ شوگر ملوں نے تو اب کرشنگ شروع کردی ہے۔ وکیل جے ڈی ڈبلیو شوگر مل نے کہا کہ میں نے کیس میں کچھ دستاویزات لگائی ہیں، مجھے نئی درخواست کے جائزے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ نے وکیل کی استدعا پر کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کردی۔

    ترکیہ پاکستان کا دوست ملک ہے ،مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم

  • شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    شیخ رشید نے ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    اسلام آباد: سابق وفاقہ وزیرداخلہ اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

    باغی ٹی وی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی ضمانت کی درخواستیں مجسٹریٹ اور سیشن عدالت سے مسترد کی جاچکی ہیں جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ہے۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ آصف زرداری کے خلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں ، آصف زرداری نےکوئی شکایت نہیں کی، تیسرےفریق کی شکایت پرمقدمہ بنا۔

    درخواست میں کہا گیا ہےکہ جیل میں ہوں، اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں، مچلکے جمع کرانے کے لیے تیار ہوں لہٰذا ضمانت منظور کی جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت 13 فروری کو ہوگی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاحکم

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

    صدر مملکت نے پشاور ہائیکورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی منظوری دیدی

  • تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    لاہور :الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس جواد حسن نے درخوست پر سماعت کی آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے-

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں،عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گی عملدرآمد کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے ہمیں یقین دہانی چاہیے تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی وکیل نے کہا کہ جوڈیشری،چیف سیکریٹری، فنانس سب نے معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، کیس صرف تاریخ سے متعلق ہے،تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں کیس میں فریق نہیں بنایا جاسکتا-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،کیس میں صدر مملکت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ،عدالت نےکہا کہ ایسا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عملدرآمد نہ کرا سکیں،درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا ،ملک میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کروانا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کو 40 بلین کی رقم مانگے کے باوجود ضمنی الیکشن کے لیے جاری نہیں کی گئی-

    جسٹس جواد حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کے لیےا سٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے،جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے-

    گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں فیڈریشن اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق نہیں بنایا گیا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرے تو پھر گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر گورنر اس پراسس کا حصہ نہ بنے تو پھر گورنر الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے ،کیس میں گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں-

    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے ، صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد از نماز جمعہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 14 جنوری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پرپنجاب کی صوبائی اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی تھی اس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کیا تھا۔

    چنانچہ پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے دائر درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے فوری بعد گورنر کو الیکشن کا اعلان کرنا ہے، گورنر پنجاب الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، 10 روز سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور گورنر پنجاب کی جانب سے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ گورنر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔