تحصیل میرپور ماتھیلو میں Benazir Income Support Programme (BISP) سینٹر سے متعلق سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔مقامی شہریوں اور متاثرہ خواتین کے مطابق سینٹر میں مبینہ بدعنوانی، رشوت خوری، بدانتظامی اور سہولیات کی شدید کمی پائی جا رہی ہے۔ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ انہیں گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے، بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں اور بعض افراد سے 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت طلب کی جاتی ہے۔مزید شکایات کے مطابق سینٹر میں نہ مناسب بیٹھنے کی جگہ ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی کولنگ کا کوئی انتظام موجود ہے، جس سے خواتین، بچے اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری کی جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سینٹر میں شفاف اور باعزت نظام یقینی بنایا جائے۔
Tag: Ghotki News
-

گھوٹکی میں سیپکو افسر کی ویڈیو وائرل نشے کا اعتراف؟ متنازع بیان پر ہنگامہ
گھوٹکی: سپرنٹنڈنگ انجینئر سیپکو غلام علی تنیو کا مبینہ ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر وائرل، جس میں منشیات کے استعمال کا اعتراف اور متنازع گفتگو سامنے آگئی۔
گہوٹکی با غی ٹی وی/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری ویڈیو میں مبینہ طور پر غلام علی تنیو کہتے سنائی دے رہے ہیں: "میں بھی نشے کا عادی ہوں، نشہ کرتا ہوں” اور "میں بھی آئس پیتا ہوں، آئس پی کر کام کرتا ہوں”ویڈیو میں مزید یہ بھی مبینہ طور پر کہا گیا: "نوکری کرنی ہے تو کام کرو، جو بھی آئے گولی مار دو، ایف آئی آر کٹوادو”سیپکو کے اعلیٰ افسر کے ان مبینہ بیانات پر شہریوں اور صارفین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔شہری حلقوں نے متعلقہ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ -

گھوٹکی میں تعلیمی بحران 286 اسکول خستہ حال، اساتذہ غائب | ڈپٹی کمشنر کا بڑا ایکشن
گہوٹکی باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری میرپور ماتھیلو، 12 مئی 2026: ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے کہا ہے کہ حکومت سندہ کی جانب سے ضلع گھوٹکی کے اسکولوں کو علیحدہ بجٹ فراہم کیا گیا ہے، اس لیے ہیڈ ماسٹرز کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اسکولوں کی حالت بہتر بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی دفتر میں تعلیمی اصلاحات کے لیے قائم ڈسٹرکٹ سروس ڈلیوری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ای اوز سیکنڈری و پرائمری، سی ایم او عمران علی سیال اور ٹی ای اوز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے 135 اسکولوں کی مرمت کے لیے اسکیم رکھی گئی ہے جبکہ حکومت سندہ کی جانب سے سیکنڈری اور پرائمری اسکولوں کو مرمت، فرنیچر اور اسٹیشنری کی مد میں بجٹ فراہم کیا گیا ہے، اس لیے اب ہیڈ ماسٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے اسکولوں کی بہتری کے لیے مخلصانہ کردار ادا کریں، خصوصاً فرنیچر کی کمی کو ختم کیا جائے تاکہ طلبہ کو درپیش مشکلات کم ہوسکیں۔ اجلاس کے دوران انہوں نے ڈی ای اوز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل غیر حاضر رہنے والے اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو رپورٹ ارسال کی جائے، تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور جن اسکولوں کو بجٹ فراہم کیا گیا ہے ان کے ڈی ڈی اوز کی رہنمائی کی جائے تاکہ بجٹ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکے۔ قبل ازیں سی ایم او عمران علی سیال نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 74 پرائمری اور 51 سیکنڈری اسکولوں کے اساتذہ مسلسل غیر حاضر ہیں جبکہ 286 اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔
