Baaghi TV

Tag: gohar khan

  • فلسطینیوں کے حق میں‌بولنے پر گوہر خان کو شدید تنقید کا سامنا

    فلسطینیوں کے حق میں‌بولنے پر گوہر خان کو شدید تنقید کا سامنا

    بالی وڈ‌ کی معروف اداکارہ گوہر خان نے بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر دی ہے . انہوں نے سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کے حق میں‌لکھا اور کہا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں‌کے درمیان جاری جنگ ختم ہونی چاہیے اور اسرائیل کو ظلم و بربریت کرنے کا عمل بند کرنا چاہیے. ان کے ان خیالات کو لے لیا انڈیا کی معروف صحافی آمنہ بیگم انصاری نے اور کہا تم غلط حمایت کررہی ہو. گوہر خان نے کہا کہ آپ صحافی ہو کر حقائق سے دور ہیں کمال ہے ویسے .گوہر خان نے لکھا کہ اگر آپکی نظر میں حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے تو اسی لہجے میں اسرائیل بھی ایک دہشت گرد ریاست ہے۔

    گوہر خان کا اسرائیل کےخلاف بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت فلسطین پر بلا اشتعال حملہ کردیتا ہےانہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فلسطینیوں کی جانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟۔ اداکارہ کا صحافی کو کرارا جواب دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ جنگ جنگ ہے،پہلے پڑھیں کہ یہ سلسہ کب شروع ہوا اور پھر بات کریں۔یوں گوہر خان نے اسرائیل اور انڈین صحافی کو لے لیا آڑھے ہاتھوں . انہوں نے صحافی کو اصل حقائق کی معلومات لینے کا مشورہ دیا اور اسرائیل کو ظلم بند کرنے کا کہا. گوہر خان کی اس پوسٹ‌کو بہت سراہا گیا جس میں‌انہوں نے فلسطین کی حمایت کی .

    مجھے لگتا ہے کہ ہر سال مجھے ایوارڈ ملنا چاہیے آمنہ الیاس

    تیری میری کہانیاں کا ریسپانس بہت اچھا ملا ندیم بیگ

    مجھے نہیں لگتا سنیتا کی شکل ماہرہ خان کے ساتھ ملتی ہے حسن احمد

  • گوہر جان ،منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ

    گوہر جان ،منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ