Baaghi TV

Tag: gold

  • عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت: امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاریاں

    عالمی مالیاتی بحران میں شدت کے باعث امریکی بینکوں میں بڑے پیمانے میں برطرفیوں کی تیاری شروع ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا کے مطابق انویسٹمنٹ بینکوں کے ریونیو میں کمی کے باعث بینکوں پر لاگت کم کرنےکا دباؤ ہے اس وجہ سے امریکی بینکنگ سیکٹر میں لاکھوں برطرفیوں کی توقع ہے۔

    امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

    میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ بینک متاثر ہوں گے جہاں پچھلے سالوں میں زیادہ بھرتی کی گئیں،چند امریکی بینکوں نے تو 15ہزار سے زائد ملازمین کو نکالنے کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام بینکوں میں کٹوتیوں کی توقع نہیں تاہم وہ لاگت کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

    کریڈٹ سوئس، گولڈمین سکس، مورگن اسٹینلے اور بینک آف نیویارک میلن سمیت بینکوں نے حالیہ مہینوں میں 15,000 سے زیادہ ملازمتوں میں کمی کرنا شروع کر دی ہے، اور صنعت پر نظر رکھنے والے توقع کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی اس کی پیروی کریں گے-

    کیفے، بروئیٹ اینڈ ووڈس کے تجزیہ کارتھامس ہالیٹ نے کہا کہ ہم نے امریکہ سے کچھ انتباہی شاٹس دیکھے ہیں سرمایہ کاروں کو انتظامیہ کو لاگت پر عمل کرتے ہوئے اور ایک معقول ریٹرن پروفائل کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ یورپی امریکی بینکوں کی پیروی کریں گے۔

    آئی سی سی بھی آن لائن فراڈ کا شکار ہو گیا

    موڈیز میں عالمی بینکنگ کی شریک سربراہ آنا ارسو نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ ملازمتوں میں کٹوتیاں مالیاتی بحران کے مقابلے میں کم شدید ہوں گی، لیکن 2000 میں ڈاٹ کام کے کریش کے بعد مارکیٹوں میں گرنے سے زیادہ بھاری ہوں گی-

    واضح رہے کہ امریکا کے قرضے 31.4 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ریپبلیکنز کی اکثریت پر مشتمل ایوان نمائندگان اور جوبائیڈن کے درمیان جاری محاذ آرائی کے نتیجے میں ملک پر ڈیفالٹ کے بادل منڈلا رہے ہیں-

    ٹریژری سکریٹری جینیٹ ایل یلن نے جمعہ کو متنبہ کیا کہ اگر قانون سازوں نے قرض کی حد کو بڑھانے کے لئے کام نہیں کیا تو انہیں جنوری کے بعد ملک کے بلوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے لئے "غیر معمولی اقدامات” کرنے ہوں گے اور یہ کہ جون کے شروع میں ڈیفالٹ میں تاخیر کرنے کے ان کے اختیارات ختم ہوسکتے ہیں۔

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

  • بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان مالی بحران:فوری اقدامات نہ کئےتوہم سخت فیصلے کرنے پرمجبور ہوںگے، وزیراعلیٰ بلوچستان

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا ہےکہ ہمارے پاس اتنے بھی فنڈز نہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرسکیں۔

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ بلوچستان نےکہا کہ رواں مالی سال کے 30ارب پی پی ایل کے 32ارب روپے کےواجبات ادا نہیں کئےجارہے،وفاقی حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو مشکلات میں اضافہ ہوگا اور پھر مجبوراً ہم سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    کوئی ہنسے یا روئے: کراچی میں ہمارا مینڈیٹ قبول کرنا ہوگا:سراج الحق

    میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ کا آئینی حصہ دینے میں بھی تاخیر کی جارہی ہے، موجودہ صورتحال میں ملازمین کی تنخواہوں اور ترقیاتی کاموں کے لئے پیسے دینے کے قابل نہیں رہیں گے سیلاب متاثرین کیلئے وزیراعظم کی طرف سے اعلان کئے گئے پیسے بھی ابھی تک نہیں ملے۔

    انہوں نے صوبے کے مالی بحران کا ذمہ دار وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا مالی بحران سنگین ہوگیا ہے جس کو حل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے، وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود وفاقی محکمے ٹس سے مس نہیں ہورہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم متعلقہ محکموں کوبھی پابند کریں کہ وہ بلوچستان کےمسائل کوسنجیدگی سے لیں، بلوچستان ہی پاکستان کا مستقبل ہے جس پر توجہ دی جانی چاہیے۔

    نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقرری،مختلف نام زیر غور

    اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے انکشاف کیا تھا کہ صوبے کا مالی بحران سنگین ہوگیا ہے، صوبے کے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہ کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے وفاق سے فوری طور پر صوبے کا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کا حصہ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے نہ ہونے سے صوبےکے ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں، شدید سردی میں سیلاب متاثرین بحالی کے منتظر ہیں، صوبے کو اس کا حصہ مل جائے تو اپنے سیلاب متاثرین کو خود سنبھال سکتے ہیں

    بعد ازاں جمعرات کو چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے رابطہ ہوا تھا اسحاق ڈار سے بلوچستان کی واجب الادا رقم جاری کرنے کی درخواست کی جس پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بلوچستان کے واجبات کی ادائیگی سی روز ہی جاری کرنے کی یقین دہانی کروا ئی تھی وفاق کی جانب سے رقم کی ادائیگی سے مالی بحران کو قابو پانے میں مدد ملے گی،چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا تھا-

    سرکاری اخراجات میں کمی کا مشن، 15 رکنی کفایت شعاری کمیٹی قائم

  • حکومت کا بندرگاہوں پر  پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ

    وفاقی وزير برائے پورٹس اینڈ شپنگ فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ کئی ہفتوں سے بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نےکہا کہ مشکل وقت میں کاروباری طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کرکےہی معیشت میں استحکام کی کوشش ہوسکتی ہے کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کرکے مزید اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی وزارت بحری امورنےبندرگاہوں کو ملنے والے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی ٹرمینلز سے بھی جرمانے خاطر خواہ کم کرانے کی کوشش کی جائیگی۔

    لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم


    ٹمبر مارکیٹ کے تاجروں نے اپنا حتجاج ختم کرتے ہوئے وفاقی وزیر کے رویہ اور اقدام کو مثبت قرار دیا قبل ازیں کراچی کے تاجروں نے کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کی تلاش میں ریلی نکالی اور وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کی دفتر پی این ایس سی بلڈنگ کے باہر دھرنا دیا۔


    تاجروں کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر سے ایک ماہ سے ملاقات کی درخواست کررہے ہیں لیکن فیصل سبزواری مسائل سننے پر آمادہ نہیں جب کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی اور خالد مقبول صدیقی کے پاس بھی ہمارے لیے وقت نہیں کلیئرنس میں تاخیر اور ایل سیز نہ کھلنے سے بھاری ڈیمرجز عائد ہورہے ہیں، تاجروں نے پورٹ حکام اور وفاقی وزیر سے ڈیمرج اور پورٹ چارجز معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    ریلی کے بعد ٹمبر ٹریڈرز نے نجی بینک کی برانچ میں ایل سیز کے حوالے سے اپنے کاغذات کی واپسی کے لئے دھرنا بھی دیا۔

    تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے بتایا کہ 9.7 ملین ڈالر مالیت کی درامدی لکڑی کراچی بندرگاہ پہنچ چکی ہے، مزید 17 ملین ڈالر کی لکڑی راستے میں ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی یقین دہانی کے باوجود ایل سی کی دستاویزات منظور نہیں ہورہیں پورٹ پر پہنچنے والی کھیپ پر بھاری ڈیمرج عائد ہورہا ہے جو ڈالر کی شکل میں ملک سے باہر جائے گا اور بحران کا شکار تاجروں اور درآمد کنندگان ہوجھ بنے گا۔

    پی این ایس سی بلڈنگ ہر دھرنے کے بعد حکام نے مزاکرات کی کوشش کی اور وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کا پیغام پہنچایا کہ جمعہ کو تین رکنی وفد سے ملاقات ممکن ہے جس پر تاجروں نے جمعہ کی سہ پہر تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ضلع خیبر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہید

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    کراچی: ملک کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں حالیہ ایک ہفتے کے دوران 25 کروڑ80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ملک کے مجموعی ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر دس ارب 44 کروڑ36 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کرچار ارب60 کروڑ 12لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔


    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ درآمدات روکنے سے زرمبادلہ ذخائر کی گراوٹ رکی ہے، 13 جنوری تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 44 کروڑ ڈالر رہے،جنوری کے دوسرے ہفتے میں زرمبادلہ کے ذخائر 25 کروڑ 58 لاکھ ڈالر بڑھے ہیں۔

    ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب84کروڑ 24لاکھ ڈالر ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی ہے
    ملاقات میں باہمی دلچسپی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا,روسی وفد نے وزیراعظم سے توانائی و دیگر امور پر بات چیت کی، وزیراعظم نے روسی وفد کو پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی بارے آگاہ کیا، روسی وفد نے سیلاب سے اموت اور مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا،

    دوسری جانب پاکستان روس کے بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کے لئے دوسرے دن بھی مذاکرات ہوئے،

    ہاکستان اور روس نے وفود کی سطح پر توانائی،تیل وگیس،زراعت ،مالیات،،تجارت،سرمایہ کاری، کسٹم، صنعت، تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امور پر غور کیا،مواصلات روڑز ،پوسٹل سروس اور ریلوے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے وفود کی سطح پر مذاکرات کئے گئے، ،روسی وفد کا کہنا تا کہ توانائی کا شعبہ مذاکرات میں ترجیحی شعبہ ہے،کیونکہ روسی وفد کی قیادت بھی روس کے وزیر توانائی کررہے ہیں توانائی کے شعبے میں دونوں ملک مل کر آگے بڑھیں گے توانائی،تیل وگیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے ورکنگ گروپس قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے ،روسی وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے سائنس وٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبے میں شعبے سے دائرہ اٹھائے،روسی وفد 78-80 ارکان پر مشتمل ہے۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت

  • ملک کے دیوالیہ ہونے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

    ملک کے دیوالیہ ہونے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

    چیئرمین سلیم مانڈی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا

    راولپنڈی گڈز فارورڈنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے کسٹم ایکٹ میں ترمیم کے مطالبے پر بحث کی گئی،ضم شدہ اضلاع میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز کی استثنیٰ کا ایجنڈا زیر غورآیا ،نمائندہ ملاکنڈ چیمبراعجاز احمد نے کہا کہ وزیر مملکت خزانہ نے ہم سے ملنے کا وعدہ کیا تھا ملاقات نہیں ہوسکی، مالاکنڈ چیمبر کی جانب سے وزیر مملکت سے رابطہ کیا گیا لیکن وقت نہیں دیا گیا، وزیر مملکت نے خود کہا تھا کہ ملاقات کرکے معاملہ حل کریں گے، فاٹا کے صنعتی زونز کی مشکلات پر فلحال معاملات طے نہیں پا سکے ، گزشتہ 15 دنوں میں وزیر مملکت خزانہ سے ملاقات نہیں ہو سکی ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مالاکنڈ چیمبر کے مسائل حل کرنے کیلئے وزیر مملکت خزانہ سے ملاقات کروائی جائے ،وزارت خزانہ کے افسران یہ ملاقات کرائیں،سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ملاقات میں چیئرمین ایف بی آر کو بھی ہونا چاہیے، کمیٹی نے اگلے ہفتے کو مالاکنڈ چیمبر سے ایف بی آر اور وزیر مملکت سے بات کرنے کی ہدایت کردی

    ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ بینک کے صدر نے کمیٹی کو بریفنگ دی،صدر ایگزم بینک نے کہا کہ پیپرا کی جانب سے کچھ خریداری پر پیپرا قوانین عائد کیے گئے ہیں، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئی دستاویز ہے جس پر ہم بات کر سکیں کیونکہ ہمارے پاس دستاویز نہیں، کمیٹی نے ایگزم بینک کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا کمیٹی نے اگلے اجلاس میں پیپرا کو طلب کرلیا،وزارت خزانہ کو ایگزم بینک کے دیگر مسائل کو حل کرنے کی ہدایت کی گئی،

    ڈالر کی کمی پاکستان کیلئے ایک اور خطرے کی گھنٹی بج گئی
    پاکستان فارماسیوٹیکل ایسوسی ایشن نے کمیٹی کو بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی کمی پاکستان کیلئے ایک اور خطرے کی گھنٹی بج گئی،6ارب ڈالر کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری اس وقت مشکلات کا شکار ہے،حکومت نے مسائل حل نہ کیے تو اگلے ماہ فارما انڈسٹری بند ہو جائے گی،فارما انڈسٹری کی برآمدات اگلے ماہ زیرو ہوجائیں گی اورلوگ بے روزگار ہو جائیں گے، ہم 95 فیصد خام مال درآمد کرتے ہیں،ادویات نہیں ملے گی تو مسائل میں اضافہ ہوگا،فارماسیوٹیکل انڈسٹری کے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھل رہے ہیں، وزیر خزانہ سیاسی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں صنعتوں کے مسائل حل نہیں کیے جارہے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہمیں فہرست دیں ہم ترجیحی بنیادوں پر ایل سیز کھولیں گے، جو بھی خام مال منگوایا جاتا ہے وہ اہم ہے بینک بھی ڈالرز نہیں دیتے،

    سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ کم رکھ کر ہم کیا بتانا چاہتے ہیں، ہماری ترسیلات زر ڈالر کے ریٹ کی کمی کی وجہ سے کم ہورہی ہے، شرح سود اور مہنگائی کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، میں سیاسی باتیں نہیں کررہا بزنس کمیونٹی جو میرا حلقہ میں ان کی بات کررہا ہوں،

    حکومت کسی کی دوائی ختم نہیں کررہی ،معاشرے میں افراتفری نہ پھیلائی جائے،وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا
    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی مشکل حالات سے گزر رہا ہے،اس وقت عام حالات کی طرح بات کرنا درست نہیں ہے،ہر کوئی یہاں اپنی کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کررہا ہے ملک کے حالات کو درست کرنا ہم سب سے کی ذمہ داری ہے، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ایما پر حکومت کو سخت فیصلے کرنے ہونگے، ملکی معیشت کی بحالی کیلئے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، آئی ایم ایف پروگرام کی جلد بحالی چاہتےہیں،خواہش ہے عام آدمی پر زیادہ بوجھ نہ پڑے،حکومت کی کوشش ہے صاحب ثروت لوگوں پر زیادہ بوجھ ڈالا جائے،آئی ایم ایف کے تحفظات دور کر دیئے گئے ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے آج بھی اجلاس ہوگا، تمام طبقوں کو بوجھ برداشت کرنا پڑے گا، حکومت نے آرڈیننس میں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کتنا ٹیکس لگایا جائے گا،حکومت نے بینکوں کو بتا دیا ہے کونسی اشیا درآمد کرنے کیلئے ڈالرز دینے ہیں،حکومت ڈالرز ملک سے باہر لیجانے کے نظام کی نگرانی کررہی ہے، معیشت کو درست کرنے کیلئے ہمارے پاس پلان موجود ہے، حکومت کسی کی دوائی ختم نہیں کررہی اور ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے،معاشرے میں افراتفری نہ پھیلائی جائے،سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو بلا کر کہا کہ 60 فیصد کٹ لگایا جائے، ڈیفنس،گندم، کھاد اور تیل کی درآمد کی اجازت دی ہے،

    ملک کے دیوالیہ ہونے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آ گئے،سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ملک 75 ہزار دفعہ ڈیفالٹ ہوچکا ہے، ایل سیز کا نہ کھلنا ڈیفالٹ ہی ہے،اس وقت بینکوں سے ضروری اشیا کی درآمد کی ایل سیز نہیں کھل رہی، وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ڈیفالٹ اس وقت ہورہا تھا جب ہم نے حکومت سنبھالی، ہم ملک کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دینگے ،ڈیفالٹ اس وقت ہوتا ہے کہ جب آپ اپنی بیرونی ادائیگیاں نہیں کرتے، آج پاکستان اپنی بیرونی ادائیگیاں کررہا ہے کسی کی ایل سی نہیں کھل رہی وہ کہہ رہا ہے کہ ڈیفالٹ ہوگیا،بینکوں کو ترجیحی شعبوں کو ایل سیز کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے،

    کمیٹی نے اگلے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو طلب کرلیا ،کمیٹی نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کمیٹی کو بتائیں کہ ایل سیز کا مسئلہ کیسے حل کریں گے،

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    وزارتوں میں ایک ہی عہدے پر 3 سال سے تعینات افسران کی فہرست طلب
    دوسری جانب نور عالم کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا ،وزارتوں میں ایک ہی عہدے پر 3 سال سے تعینات افسران کی فہرست طلب کر لی گئی،گریڈ 18 اور 19 پر کام کرنے والے گریڈ 17 کے افسران کی تفصیل بھی طلب کر لی گئی،کمیٹی نے وزارت ثقافت کی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے پر اظہارِ برہمی کیا،پی اے سی نے وزارت ثقافت کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لینے سے انکارکر دیا ،2021کے بعد وزارت ثقافت میں رہنے والے سیکریٹریز کو اظہار ناراضی کا نوٹس بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں وزارت کے ڈپٹی سیکریٹریز کی آمد پر چیئرمین پی اے سی نے اظہار برہمی کیا،نور عالم نے کہا کہ جوائنٹ سیکریٹری سے کم عہدے کے کسی بھی افسر کو پی اے سی میں نہ لایا کریں، چیئرمین کمیٹی نور عالم نے آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیے بغیر اجلاس ملتوی کر دیا

  • آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے کی صلاحیت ہے،وزیر آئی ٹی

    آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے کی صلاحیت ہے،وزیر آئی ٹی

    وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کیریئر کونسل پورٹل کا افتتاح کردیا۔

    اس موقع پر امین الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان سافٹ ویئرایکسپورٹ بورڈ کا تیارکردہ پورٹل آئی ٹی ہنرمندوں کو کیریئرکونسلنگ فراہم کرے گا،آئی ٹی فیلڈ منتخب کرنے والے نوجوانوں کو اکثر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کیلئے کون سا شعبہ فائدہ مند ہے،پورٹل سے نوجوانوں کو اپنے کیریئر سے متعلق فیصلے کرنے اور روزگار کی تلاش میں آسانیاں ملیں گی، پاکستان کی دو تہائی آبادی 30 سال تک کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ نوجوان آبادی پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں جوٹیکنالوجی کی دنیا کا انمول اثاثہ بن سکتے ہیں، شہری علاقوں میں کیریئر کونسلنگ کی تعداد کم اور دیہی علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کو مستقبل میں بہترین روزگار کیلئے جامع رہنمائی فراہم کی جائے،

    وزارت آئی ٹی کے ادارے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی یہ کاوش اسی سلسلے کی کڑی ہے،خواہش ہے کہ آئی سی ٹی کی کھربوں ڈالر کی عالمی صنعت سے پاکستان کو باوقار حصہ ملے، یہ خواب اسی وقت پورا ہوگا جب ہم اپنے نوجوانوں کو درست سمت میں رہنمائی فراہم کرسکیں ، اس پورٹل کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری کو موزوں امیدوار بھی مل سکیں گے پاکستان میں کچھ سال قبل تک آئی ٹی سےمتعلق اتنی آگاہی موجود نہیں تھی جیسی اب ہے،ملک میں نئے فارغ التحصیل افراد کیلئےانٹری لیول میں سب سے اچھی تنخواہیں شعبہ آئی ٹی میں ہیں، پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ ڈھائی ارب ڈالرز ہے، ہمیں کم از کم 15 ارب ڈالرز کے ٹارگٹ تک جانا ہے، ٹارگٹ کے حصول کیلئے ملک بھر میں براڈ بیند سروسز کی فراہمی اورفری لانسنگ تربیت کیلئے کام کررہے،آئی ٹی انڈسٹری میں پاکستان کا سارا قرضہ اتارنے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی صلاحیت ہے، ضروری ہے کہ آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹرزکے مسائل حل کرنے میں تمام متعلقہ وزارتیں اپنا کردار ادا کریں،اگر آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر کے مسائل حل کردیئے جائیں تو یہ ملک کے اقتصادی مسائل حل کرسکتے ہیں، وزارت آئی ٹی میں منعقدہ تقریب میں ایڈیشنل سیکریٹری عائشہ حمیرا، سید جنید امام، محمد عمر ملک سمیت دیگر افسران نے شرکت کی

    پانچ بچوں کی ماں سے "خفیہ”ملنے آنیوالے تاجر کا قاتل گرفتار،کس نے کیا قتل؟ اہم انکشاف

    عید کے حوالے سے کی جانے والی شراب کی بڑی سپلائی ناکام بنا دی گئی

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    قبل ازیں وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق سے سوئیڈش سفیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ "سوئیڈن سمیت تمام یورپی ممالک سے دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں،” وفد میں سوئیڈن کی ٹیکنالوجی کمپنیزنمائندگان شریک تھے، باہمی دلچسپی کے امور پرتبادلہ خیالات ہوا. وفاقی وزیر نے پاکستان میں آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں ہونےوالےاقدامات سےوفد کوآگاہ کیا.امین الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ٹیلنٹ، اکثریتی نوجوان آبادی اوربیرونی سرمایہ کاری کا مرکز ہے. دنیا بھرمیں پاکستان کو برانڈ کےطور پر متعارف کروانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں. آئی ٹی و ٹیلی کام شعبوں میں سوئیڈن کمپنیزکے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے تیارہیں،سوئیڈش کمپنیز نے صحت، تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجیزکے استعمال پرتجاویزکا تبادلہ کیا، سوئیڈش وفد کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کےاستعمال سے ماحولیاتی تبدیلیوں او غذائی قلت پرقابوپایا جاسکتا ہے،سوئیڈش سفیر ہنرک پیرسن نے آئی ٹی وٹیلی کام کمپنیزکو سوئیڈن میں روڈ شو کی دعوت دی.اور کہا کہ خواہش ہےدونوں ممالک کے مابین دیگر شعبوں کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کا فروغ ہو،

    علاوہ ازیں پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق زشتہ 3 سال میں موبائل بینکنگ اکاؤنٹس میں 148 فیصد اضافہ ہوا،بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 35 اشاریہ 7 ملین سے بڑھ کر 88 اشاریہ 5 ملین تک بڑھ گئی۔ پاکستانیوں نے سال 2021-22 میں 10 اعشاریہ 6 ٹریلین کی آن لائن ٹرانزیکشنز کیں۔سال 2021-22 میں آن لائن بینکنگ میں 32 فیصد اضافہ ہواپاکستان میں ای کامرس ریٹیلرز کی تعداد میں 76 فیصد اضافہ ہوا،ای کامرس ریٹیلرز کی تعداد 4 ہزار 445 ہوگئی۔ ملک بھر میں ای ویلٹ ایجٹس کی تعداد 6 لاکھ 37 ہزار سے زائد ہوگئی۔ تین سالوں میں ایپ بیس موبائل بینکنگ لین دین میں 9 کروڑ اضافہ ہوا۔ پاکستان میں 93 فیصد گھرانوں کے پاس ذاتی موبائل ہے۔پاکستان میں ایک اکائونٹ سے 24 گھنٹے میں 10 لاکھ روپے تک آن لائن ٹرانسفر کئے جاسکتے ہیں

  • لاہور:شہریوں کو سڑک پر کچرا پھینکنے پر گرفتار کیا جائے گا

    لاہور:شہریوں کو سڑک پر کچرا پھینکنے پر گرفتار کیا جائے گا

    لاہور میں شہریوں کو دکانوں اور گاڑیوں سے شاہراہوں پر کچرا پھینکنے پر مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے مطابق لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) کے سی ای او عنان قمر کا کہنا ہے کہ سیف سٹی، اایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے زونل سطح پر ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جبکہ ملتان چونگی ایک درجن سے زائد مقدمات درج کردیئے گئے ہیں۔

    800 پولیس اہلکاروں کے ساتھ پولیو مہم کا آغاز

    ایل ڈبلیو ایم سی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اندر سے کوڑا پھینکنے والوں کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے مانیٹر کیا جائے گا جبکہ ایکسائز ڈییارٹمنٹ سے گاڑی کا ریکارڈ لے کر مالکان کو جرمانے اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا تمام محکموں نے لاہور کو صاف رکھنے کیلئے مل کرکام کرنے کا عزم کرلیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

  • پنجاب میں دھند کے باعث ائیرپورٹس پر  پروازوں کا شیڈول متاثر

    پنجاب میں دھند کے باعث ائیرپورٹس پر پروازوں کا شیڈول متاثر

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کی وجہ سے لاہور ملتان اور فیصل آباد ائیرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق شدید دھندکی وجہ سے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حد نگاہ 6000 میٹر ہےپرواز پی اے 475 کی ریاض سے لاہور آمد دوپہر 12:20 کے بجائے شام 07:20 تک مؤخر کی گئی ۔

    کراچی بلدیاتی الیکشن کے مکمل نتائج ، پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا

    پرواز پی اے411 کی دبئی سےلاہور آمد رات 09:10 کے بجائے کل صبح 03:15 بجے تک مؤخر کی گئی ہے پرواز پی اے 410 کی لاہور سے دبئی روانگی دوپہر 01:10 کے بجائے رات 08:20 تک مؤخر کردی گئی ۔

    دبئی سے نجی ائیرلائن کی پرواز پی ای 411 تاخیرکا شکار ہوئی، نجی ائیرلائن کی کراچی سے لاہور روٹ کے اپ ڈاؤن کی پروازیں پی اے 405 اور پی اے 406 منسوخ کی گئیں جدہ سے سعودی ائیرلائن کی لاہور آمدکی پرواز ایس وی 738 اور روانگی کی پرواز ایس وی 739 بھی تاخیر کا شکار ہوئی۔

    کراچی کا میئر جیالا ہی ہو گا، سندھ کے صوبائی وزیر کا باغی ٹی وی کو انٹرویو

    فیصل آباد ائیرپورٹ پر بھی حد نگاہ 5000 میٹر ہونے کی وجہ سے لینڈنگ اور ٹیک آف میں دشواری ہوئی جس بناء پر کراچی سے فیصل آباد کے لیے پی آئی اے کی پرواز پی کے 340 اور پی کے 341 منسوخ کردی گئیں۔

    ملتان ائیرپورٹ پر حد نگاہ 4000 میٹر رہا، موسمی خرابی کے باعث ملتان سےکراچی کے لیے پی آئی اے پرواز پی کے 330 اور پی کے 331 تاخیر کا شکار ہوئی ملتان جدہ روٹ پر قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 739 اور ایس وی 740 بھی تاخیرکا شکار ہوئی۔

    اسلام کا عادلانہ نظام ہی تمام مشکلات کا حل ہے، حافظ محمد ادریس

  • بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ  تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں اضافہ،ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک

    بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ ملک کی 40 فیصد سے زائد دولت کی مالک ہے جبکہ غریب مزید غربت کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: انسداد غربت کے لیےکام کرنے والے برطانوی ادارے آکسفیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بھارت میں جہاں امیر ترین افراد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں غریب عوام مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔

    آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق 2012 سے لےکر 2021 تک بھارت میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، اس عرصے میں ملک کی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف ایک فیصد آبادی کے پاس چلی گئی اور 2021 میں 40 فیصد سے زیادہ ملکی دولت بھارت کی ایک فیصد اشرافیہ کی ملکیت رہی۔

    رپورٹ کے مطابق 2022 میں بھارتی ارب پتی شہریوں کی تعداد 166 تک پہنچ گئی جو کہ 2020 میں 102 تھی۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ گزشتہ سال دنیا کے چوتھے اور بھارت کے امیر ترین شخص گوتم اڈانی کی دولت میں 46 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بھارت کے 100 امیر ترین افراد کی مشترکہ دولت 660 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

    2022 میں، مسٹر اڈانی بلومبرگ کے دولت کے انڈیکس میں دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ وہ ان لوگوں کی فہرست میں بھی سرفہرست رہے جن کی دولت میں سال کے دوران عالمی سطح پر سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بھارت میں اشیائے ضروریہ اور مختلف سہولیات پر دیے جانے والے کُل ٹیکس میں سے64 فیصد ٹیکس 50 فیصد ملکی آبادی ادا کرتی ہے۔

    آکسفیم کا کہنا ہےکہ بھارت میں بنیادی ضروریات کی اشیاء بدستور غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے غریب اور متوسط ​​طبقے پرامیروں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے جب کہ ملک کے امیر ترین افرادکم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    آکسفیم نے وزیر خزانہ سے بھارت میں معاشی عدم مساوات سے نمٹنےکے لیے امیر افراد پر ویلتھ ٹیکس لگانےکا مطالبہ کیا ہے دریں اثنا، اس نے مزید کہا کہ ہندوستان میں غریب "زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضروریات بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں”۔

    رپورٹ – سروائیول آف دی ریچسٹ – سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم شروع ہوتے ہی جاری کی گئی۔

    رپورٹ میں ہندوستان میں دولت کی تقسیم میں بڑے تفاوت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2012 سے 2021 تک ملک میں پیدا ہونے والی 40 فیصد سے زیادہ دولت صرف 1 فیصد آبادی کے پاس چلی گئی تھی جبکہ صرف 3 فیصد کم ہوکر 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

    آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہار نے کہا، "ہندوستان بدقسمتی سے صرف امیروں کا ملک بننے کے لیے تیز رفتار راستے پر ہے ملک کے پسماندہ – دلت، آدیواسی، مسلمان، خواتین اور غیر رسمی شعبے کے کارکن ایک ایسے نظام میں مسلسل مشکلات کا شکار ہیں جو امیر ترین لوگوں کی بقا کو یقینی بناتا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امیر، فی الحال، کم کارپوریٹ ٹیکس، ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اس تفاوت کو درست کرنے کے لیے چیریٹی نے وزیر خزانہ سے کہا کہ وہ آئندہ بجٹ میں ترقی پسند ٹیکس اقدامات جیسے کہ ویلتھ ٹیکس کو نافذ کریں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے ارب پتیوں کی پوری دولت پر 2 فیصد ٹیکس اگلے تین سالوں تک ملک کی غذائی قلت کا شکار آبادی کی غذائیت کو سہارا دے گا۔

    اس نے مزید کہا کہ 1% ویلتھ ٹیکس نیشنل ہیلتھ مشن کو فنڈ دے سکتا ہے، جو کہ 1.5 سال سے زیادہ عرصے کے لیے ہندوستان کی سب سے بڑی صحت کی دیکھ بھال کی اسکیم ہے۔

    Oxfam نے کہا کہ سرفہرست 100 ہندوستانی ارب پتیوں پر 2.5% ٹیکس لگانا یا 5% ٹاپ 10 ہندوستانی ارب پتیوں پر ٹیکس لگانے سے تقریباً 150 ملین بچوں کو اسکول میں واپس لانے کے لیے درکار پوری رقم پوری ہو جائے گی۔

    آکسفیم انٹرنیشنل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر گیبریلا بوچر نے کہا، "اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس آسان افسانے کو ختم کر دیں کہ ان کی دولت میں سب سے زیادہ دولت کے لیے ٹیکس میں کٹوتی کسی نہ کسی طرح ہر کسی کے لیے ‘نیچے’ ہو جاتی ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ "عدم مساوات کو کم کرنے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے” امیروں پر ٹیکس لگانا ضروری تھا۔