Baaghi TV

Tag: Google

  • گوگل کی سب سے بڑی تبدیلی

    گوگل کی سب سے بڑی تبدیلی

    جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گوگل دنیا کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے اور اس میں بہت بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے اور گوگل کے ڈیسک ٹاپ ہوم پیج پر ایک ڈسکور فیڈ کا اضافہ کیا جا رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی سمجھی جاسکتی ہے یعنی گوگل ویب سائٹ اوپن کرنے پر روایتی سرچ باکس کے ساتھ مختلف مواد نظر آئے گا۔

    جبکہ ایک رپورٹ میں گوگل کی اس نئی ڈسکور فیڈ کی جھلک پیش کی گئی اور اس میں مختلف خبروں کی ہیڈلائنز، موسم کی پیشگوئی، اسپورٹس اسکور اور دیگر تفصیلات نظر آ رہی ہیں اور گوگل کی جانب سے اس طرح کا فیچر 2018 میں موبائل ڈیوائسز کے یو ایس ہوم پیج میں بھی متعارف کرایا تھا، تاہم گوگل ترجمان کی جانب سے بھی ڈیسک ٹاپ ورژن میں کی جانے والی تبدیلی کی تصدیق کردی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چین؛ تجارتی مندی میں کمی، بحالی کی امیدوں میں اضافہ مگر چیلنجز بدستور برقرار
    روپیہ کے مقابلےامریکی ڈالر میں مزید کمی
    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    ہنگو حملے کے دوران دہشتگردو ں کا مقابلہ کرنیوالے پولیس نوجوان سے وزیراعظم کی ملاقات
    ترجمان کے مطابق اس نئی تبدیلی کی آزمائش ابھی انڈیا میں کی جا رہی ہے اور جیسا اوپر درج کیا جا چکا ہے کہ گوگل دنیا میں سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے تو اس میں کی جانے والی ہر تبدیلی اس لیئے بھی اہم ہوتی ہے جبکہ گوگل کا یہ نیا فیچر مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جس میں نیوز اسٹوریز کی طویل فہرست نظر آتی ہے جس میں سیاست شوبز، ٹیکنالوجی وغیرہ.

  • 120 غیر قانونی لون ایپس  بند

    120 غیر قانونی لون ایپس بند

    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے صارفین کے تحفظ کے پیش نظر گوگل اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تعاون سے پلے اور ایپل اسٹور پر دستیاب 120 غیر قانونی لون ایپس کو بند کروا دیا گیا ہے جبکہ حال ہی میں غیر قانون پرسنل لون ایپس کا رجحان منظر عام پر آیا ہے جس میں صارفین کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنے اور ڈیٹا پرائیویسی کیخلاف ورزیوں سمیت وصولی کے غیر موذوں طریق کار بارے میں سنگین شکایات موصول ہوئیں تھیں۔

    جبکہ خیال رہے کہ ایس ای سی پی نے نہ صرف لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کے لیے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو سخت کیا بلکہ غیر مجاز اور غیر قانونی قرضوں کی ایپس کو بند کرنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے ہیں۔ ایس ای سی پی کی جانب سے مؤثر نگرانی اور صارفین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے نتیجے میں ایس ای سی پی نے غیر قانونی طور پر چلنے والی 120 پرسنل لون ایپس کو فوری طور پر بلاک کرنے کے لیے گوگل اور پی ٹی اے کو رپورٹ کیا۔

    علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق ان غیر قانونی ایپس چلانے والے افراد کے خلاف الیکٹرانک جرائم کے روک تھام کے ایکٹ 2016 کے مطابق مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھیجا گیا۔ ایس ای سی پی غیر قانونی ایپس کی موجودگی کے لیے گوگل پلے اسٹور اور ای پل ایپ اسٹور کی مسلسل مانیٹرنگ بھی کرتا ہے۔ ایس ای سی پی کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گوگل نے پاکستان کے لیے پرسنل لون ایپ کی نئی پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کے مطابق گوگل صرف ایس ای سی پی سے منظور شده پرسنل لون ایپس کو اپنے گوگل پلے اسٹور پر جگہ دیتا ہے۔

    ڈیجیٹل ایپس سے قرض حاصل کرنے والے صارفین کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کی منظور شدہ ایپس سے ہی قرض حاصل کریں۔ ایس ای سی پی کے ریگولیٹری فریم ورک کی تحت منظور شده ایپس کے لیے لازمی ہے کہ صارف کو قرض کے چارجز، قرض کی مدت قسطوں اور دیگر چارجز کی واضح معلومات فراہم کرے۔ مزید برآں ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل ذرائع سے قرض فراہم کرنے والی لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنیوں کی جانب سے ریگولیٹری فریم ورک اور دیگر معیارات پر عمل درآمد کا آڈٹ بھی شروع کر رکھا ہے تا کہ ان کمپنیوں میں بھی ممکنہ ڈیٹا پرائیویسی کی خلاف ورزیوں وغیرہ کا جائزہ لیا جا سکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ لائسنس یافتہ این بی ایف سیز اور منظور شده لون ایپس کے خلاف کسی بھی شکایت کی صورت مینایس ای سی پی کے کمپلنٹ پورٹل https://sdms.secp.gov.pk/sdmsadmn/ پر شکایات درج کرائیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی لون ایپس یا غیر قانونی سرمایہ کاری کی اسکیموں کی اطلاع بھی اس پورٹل پر دے سکتے ہیں۔

  • گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ نامی ایک پروف ریڈر متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے جو ہجے اور گرامر کو چیک کرنے کیساتھ تصحیح بھی تجویز کرے گا، جبکہ اکثر انسان کو کسی ایسے شخص کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لیے مناسب موضوعات کے ساتھ بات چیت کرنا مشکل لگتا ہے اگروہ واقف معلوم ہوتوپھرایک نئے موضوع میں دلچسپی ہو سکتی ہے جس پر گوگل اینڈرائیڈ پر اپنے جی بورڈ کی بورڈ ایپ کے لیے کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ جی بورڈ پر سب سے زیادہ مقبول کی بورڈ ایپس میں سے ایک ہےاور یہ بہت سی خصوصیات پیش کرتا ہے جو ٹائپنگ کو تیز اور آسان بناتا ہے جبکہ ان خصوصیات میں سے ایک پروف ریڈنگ ہےجو آپ کے ہجے اور گرامر کو چیک کرتا ہے اور تصحیح تجویز کرتا ہے۔ یہ فی الحال ترقی کے مراحل میں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ گوگل گفتگو شروع کرنے والوں کی حمایت کے ساتھ اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جیسا کہ GappsMod Flags ٹیلی گرام چینل میں AssembleDebug میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاہم گوگل کے نئے فیچر تک رسائی کے لیےآپ کو صرف جی بورڈ میں پروف ریڈ بٹن پر ٹیپ کرنے کی ضرورت ہے جب میسج فیلڈ خالی ہو۔ آپ کو ان عنوانات کی فہرست نظر آئے گی جن کے ذریعے آپ اسکرول کر سکتے ہیں اور ان میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ عام موضوع کا احاطہ کرتے ہیں جیسے سفر، موسیقی، خبریں، کھیل، فلمیں، کھانا، کافی، سیاست، تعلیم، دستکاری، سائنس ، اور بہت کچھ ہےپھر جی بورڈ ایک متن تیار کرے گا جسے آپ گفتگو شروع کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    خیال رہے کہ جیسے اگر آپ سفر کو بطور موضوع منتخب کرتے ہیں تو Gboard کچھ ایسا پوچھ سکتا ہے کہ آپ آگے کہاں جانا چاہیں گے؟ یا آپ کےسفر کا بہترین تجربہ کیا تھا؟ اس کے بعد آپ متن کو اپنے پیغام میں کاپی اور پیسٹ کر کے بھیج سکتے ہیں۔

  • 15 اگست تک جی میل   ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    گوگل کے مطابق جی میل کی ایپلی کیشن میںٹرانسلیشن کے فیچر کو پیش کردیا گیا ہے لیکن ترتیب وار تمام صارفین کو اس تک رسائی دے دی جائے گی۔ گوگل نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ اینڈرائیڈ صارفین کے موبائلز پر 15 اگست تک مذکورہ فیچر نظر آنے لگے گا جب کہ آئی او ایس صارفین کے موبائلز میں 21 اگست تک فیچر شامل ہوجائے گا۔

    تاہم واضح رہے کہ گوگل جی میل پر ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے جب کہ گوگل ٹرانسلیشن دنیا کی 100 سے زائد زبانوں میں بھی دستیاب ہے۔ گوگل ٹرانسلیشن کو جی میل بھی شامل کیا جا چکا ہے جب کہ ڈیسک ٹاپ پر اسے استعمال کرنے والے افراد گزشتہ کئی سالوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    کمپنی کے مطابق ترجمے کا فیچر ای میل کے ٹاپ پر نظر آئے گا، صرف ایک کلک پر صارفین موصول ہونے والی ای میل کو مطلوبہ زبان میں پڑھ سکیں گے۔ اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی صارف کو آئندہ 15 دن کے اندر ای میل کے ٹاپ پر ترجمے کا فیچر نظر نہ آئے تو ایسے صارفین کو جی میل کی سیٹنگ میں جا کر ٹرانسلیشن کے فیچر کو آن کرنا پڑے گا۔ کمپنی کے مطابق ٹرانسلیشن کے آپشن کو ڈسمس کیے جانے کے بعد دوبارہ بھی مذکورہ فیچر ای میل کے ٹاپ پر نطر آئے گا لیکن اگر کوئی صارف ترجمے کے فیچر کو ہمیشہ کے لیے سیٹنگ میں جا کر بلاک کرے گا تو اس سے دوبارہ ترجمے کی اجازت دینا نہیں پوچھا جائے گا۔

  • آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    میٹا نے کینیڈا میں صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق اس بارے میں میٹا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ رواں سال جون میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کینیڈا کے صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    میٹا کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کمپنیوں کے حوالے سے بنائے گئے نئے ’ آن لائن ایکٹ ’ کے نفاذ سے قبل کینیڈا کے صارفین کیلئے فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کردی جائے گی۔ اور وہ اس سے محروم ہوجائیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    جبکہ خیال رہے کہ کینیڈا کی پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والا آن لائن نیوز ایکٹ گوگل پیرنٹ الفابیٹ اور میٹا جیسے پلیٹ فارمز کو کینیڈا کے نیوز پبلشرز کے ساتھ ان کے مواد کے لیے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کرنے پر مجبور کرے گا۔

    کینیڈا میں میٹا کی پبلک پالیسی کی سربراہ ریچل کرن نے کہا ہے کہ نیوز آؤٹ لیٹس رضاکارانہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد شیئر کرتے ہیں تاکہ اپنے سامعین کو بڑھا سکیں اور ان کی نچلی لائن میں مدد کریں، اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگ ہمارے پاس خبروں کے لیے نہیں آتے ہیں۔

  • گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    گوگل نے نئی پالیسی جاری کردی

    دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیفشل اینٹیلجنس سے بنائے گئے ریویوز گوگل کی پالیسیوں کے خلاف ہیں لہذا انکی اجازت نہیں ہے اور ان کو اسپیم تصور کیا جائے گا۔ جبکہ گوگل کے مطابق صارفین ایسا کونٹینٹ دیکھیں تواپنی فیڈ میں موجود is_spam نامی فیچر کی مدد سے اس کی نشان دہی بطور اسپیم کریں۔

    گوگل کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق آٹو میٹڈ کنٹینٹ کے بارے میں کہا گیاہے کہ کمپنی آٹومیٹڈ پروگرام یا آرٹیفشل اینٹیلجنس سےلکھے گئے ریویوز کی ہرگز اجازت نہیں دیتی ہے، اگر کسی صارف کو ایسا کنٹینٹ دکھائی دے تو is_spam فیچرکا استعمال کرکے اسپیم مارک کردیا جائے، علاوہ ازیں گوگل کی پالیسی شر انگیز، نازیبا اور توہین آمیز مواد کے استعمال سے روکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    خیال رہے کہ گوگل کی جانب سے نئی اَپ ڈیٹ کی گئی پالیسی میں غیر قانونی کنٹینٹ، نقصان دہ لنک یا وہ لنک جو میلویئر، وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر جیسے ہوں وہ سختی سے منع کئے گئے ہیں، مصنوعی ذہانت اور آٹو میٹڈ کنٹینٹ کی پروڈکٹ ریٹنگ پالیسیز 28 اگست 2023ء سے نافذ العمل ہوگی۔

  • گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کاآغاز کردیا

    گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کاآغاز کردیا

    گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کا آغاز کردیا ہے۔ نئی لیب چار ماہ تک ورکنگ کرے گی جسے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ایسے ایپ ڈیویلپرز، اسٹوڈیوز اور کمپنیوں کی نشاندہی کے لئے تیار کیا گیا ہے جو اپنے کاروبار کی ترقی کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ایپ گروتھ لیب کے ذریعے پاکستانی ایپ ڈیولپرز گوگل ماہرین کے تجربے سے مستفید ہوسکیں گے۔ جامع تعلیم اور معاونت کے مراحل پر مشتمل یہ پروگرام ایپ ڈیویلپرز کو اشتہارات، ایڈموب، فائربیس، جی ٹیک اور پلے میں گوگل کے ماہرین کے علاوہ دیگر صنعتی ماہرین سے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

    لیب کا قیام پاکستان کی ایپ انڈسٹری کے مقامی اور عالمی سطح پر ترقی دینے میں مدد کے لئے گوگل کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لیے گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر فرحان ایس قریشی کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ ملک میں ڈیویلپرز کے لیے مستحکم ماحولیاتی نظام کے قیام میں مدد دینے کے لیے گوگل کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ فرحان ایس قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جاری کوششوں کے ذریعے پاکستانی ڈیویلپرز کو دنیا کی بہترین ایپلی کیشنز بنانے میں ان کی مدد کی توقع رکھتے ہیں۔ایپ گروتھ لیب کے چار بڑے مقاصد رکھے گئے ہیں، جس میں اول اپنی کمپنی کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی ترتب دینے کی غرض سے مختلف بیرموں کو سمجھنے کے لیم عالمی ایپ اور گیمنگ کے مواقع دریافت کرنا ہے۔’
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    دوئم ایپ اور گیم پروڈکٹ کی تیاری کے لیے ایک ایسی سوچ استعمال کریں جس میں صارف کو مرکزیت حاصل ہو اور اپنی ایپ کو طویل مدتی کامیابی کیلئے اعلیٰ درجہ کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکیں۔ سوئم ابتدائی کا میابی کے لیے مختلف اقسام کی حکمت عملی تیارکریں اور اُن سے فائدہ اٹھائیں، گوگل کے ٹولز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، مالی فائدے کا ماڈل تیار کریں اور قابل ستاائش ترقی کی جاسکے۔ چہارم مارکیٹ اور پلیٹ فارم کے تنوع کی حکمت عملیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ایپ کودنیا بھرمیں مقبول بنانے کا علم حاصل کرنا ہے۔

  • چیٹ جی پی ٹی کے متبادل  الفا گو کا اعلان

    چیٹ جی پی ٹی کے متبادل الفا گو کا اعلان

    گوگل ڈیپ مائنڈلیبارٹری کے مطابق انہوں نے اپنے اے آئی نظام کا نام، جیمینائی رکھا ہے جو کمپنی کے تیارکردہ مصنوعی ذہانت (آرٹفیشل انٹیلی جنس) پروگرام ’ایلفا گو‘ کو ترقی دے کربنایا جائے گا۔ اسے آخرکار لینگویج لرننگ ماڈل (ایل ایل ایم) میں بدلا جائےگا جبکہ رپورٹس کے مطابق ایلفا گو کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ’ری انفورسمنٹ لرننگ‘ کی مؤثرتکنیک پر کام کرتا ہے جس میں سافٹ ویئر اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ اے آئی ہرطرح کی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور بہتر فیصلے کرتا رہتا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنے والی جنریٹیو اے آئی کو دوبارہ فارمیٹ سے گزارکر نیچرل ساؤنڈنگ ٹیکسٹ کو شامل کیا جائے تو جیمینائی دنیا کا طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کا پروگرام بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس حوالے سے ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی ڈیمس ہیسیبی نے کہا ہےکہ جیمینائی میں انسانیت کی مدد کرنے والی سب سے اہم ٹیکنالوجی بننے کی صلاحیت موجود ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قرض پروگرام کےحصول کیلئے وزیر اعظم نےاہم کردارادا کیا. اسحاق ڈار
    نرس کے ساتھ زیادتی،ڈاکٹر نے نازیبا ویڈیو بھی بنا لی
    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم
    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ
    وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہیں پاک فوج کے برابر کردیں
    رپورٹس کے مطابق گوگل لیب کی جانب سے اس پر دن رات کام جاری ہے جس پرغیر معمولی لاگت بھی آئے گی،اس سے قبل گوگل اپنے طاقتور چیٹ بوٹ بناچکا ہے جو بارڈ کے نام سے استعمال ہورہا ہے۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔