Baaghi TV

Tag: Greek Boat Disaster

  • یونان کشتی حادثہ  تین پاکستانیوں کی میتیں وطن پہنچ گئیں

    یونان کشتی حادثہ تین پاکستانیوں کی میتیں وطن پہنچ گئیں

    یونان کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانیوں کی میتوں کو وطن واپس پہنچا دیا گیا ہے جبکہ حادثے میں وفات پانے والے 15 پاکستانیوں کی میتوں کی شناخت مکمل کرلی گئی اور وہ تین میتیں لاہور پہنچ گئی ہیں، تینوں میتیں قطر ائیر ویز کی پرواز کیو آر 608 کے ذریعے یونان سے براستہ دوحا لاہور لائی گئیں جنہیں ایپولینسز کے ذریعے آبائی علاقوں کے لئے روانہ کردیا گیا۔

    عبدالواحد اور سفیان عباس کی میتیں گجرات جب کہ ناصر علی کی میت گوجرانوالہ کی لیے روانہ کی گئی ہے۔ یونان میں قائم پاکستانی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ 3 میتیں اسلام آباد اور 11 لاہور جائیں گی۔ ٹوٹل 14 ڈیڈ باڈیز بھیجی جائیں گی، 15 ویں ڈیڈ باڈی کی تاحال ابھی تک روانگی کیلئے کنفرم نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل یونان کے کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ڈی این اے کی تصدیق ہونے کے بعد 14 میتوں کو پاکستان بھیجنے کا سلسلہ 20 جولائی سے شروع ہونے کا کہا گیا تھا ۔ کشتی حادثہ میں جاں بحق افراد کی میتیں 20 جولائی سے پاکستان جانا شروع ہوں گی اور 23 جولائی تک 14 میتوں کو پاکستان روانہ کر دیا جائے گا ایسا کہا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میتیں بھیجنے کے ترتیب وار سلسلے میں پہلے 4، پھر 4، پھر 2، پھر 2، پھر 2 میتیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 3 باڈیز اسلام آباد اور 11 لاہور جائیں گی۔ ٹوٹل 14 ڈیڈ باڈیز بھیجی جائیں گی، 15 ویں ڈیڈ باڈی کی تاحال ابھی تک روانگی کیلئے کنفرم نہیں ہے۔ تمام میتیں قطر ائیرویز کے ذریعے پاکستان روانہ کی گئی جس کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کر رہی ہے۔ لاہور ائیرپورٹ اور اسلام آباد ائیرپورٹ سے میتوں کو ان کے لواحقین وصول کر رہے ہیں جنہیں ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی گاؤں یا شہروں میں بھیجا جائے گا جس کا بندوبست بھی حکومت پاکستان نے کیا ہے۔

  • یونان کشتی حادثہ: ڈی این اے کے بعد میتوں کو پاکستان بھیجا جائے گا

    یونان کشتی حادثہ: ڈی این اے کے بعد میتوں کو پاکستان بھیجا جائے گا

    یونان کے کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ڈی این اے کی تصدیق ہونے کے بعد 14 میتوں کو پاکستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جبکہ کشتی حادثہ میں جاں بحق افراد کی میتیں 19 جولائی سے پاکستان جانا شروع ہوں گی اور 23 جولائی تک 14 میتوں کو پاکستان روانہ کر دیا جائے گا۔

    میتیں بھیجنے کے ترتیب وار سلسلے میں پہلے 4، پھر 4، پھر 2، پھر 2، پھر 2 میتیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 3 باڈیز اسلام آباد اور 11 لاہور جائیں گی۔ ٹوٹل 14 ڈیڈ باڈیز بھیجی جائیں گی، 15 ویں ڈیڈ باڈی کی تاحال ابھی تک روانگی کیلئے کنفرم نہیں ہے۔ تمام میتیں قطر ائیرویز کے ذریعے پاکستان روانہ کی جائیں گی جس کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کر رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    لاہور ائیرپورٹ اور اسلام آباد ائیرپورٹ سے میتوں کو ان کے لواحقین وصول کریں گے، جنہیں ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی گاؤں یا شہروں میں بھیجا جائے گا جس کا بندوبست بھی حکومت پاکستان نے کیا ہے۔

  • یونان کشتی حادثہ؛ تحقیقات میں کوسٹ گارڈ کی غفلت کا انکشاف

    یونان کشتی حادثہ؛ تحقیقات میں کوسٹ گارڈ کی غفلت کا انکشاف

    یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے واقعے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حادثے کی ممکنہ وجہ یونانی کوسٹ گارڈ کی غلطی ہو سکتی ہے جبکہ برطانوی اخبار گارڈین، جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی، یونانی میڈیا ایجنسی سولومن اور برلن کی تحقیقاتی ایجنسی فارینسس نے واقعے کی مشترکہ تحقیقات کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کوسٹ گارڈ کے دعوے کے برعکس اس نے کشتی کو رسی سے باندھا تھا۔ مشترکہ تحقیقات میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں جس سے معلوم ہوا ہے کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے حادثے کے حوالے سے متضاد بیانات دیے ہیں۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کوسٹ گارڈ کی ریسکیو بوٹ تارکین کی کشتی کے قریب ہی بندرگاہ پر موجود تھی لیکن جائے حادثہ پر نہیں پہنچی، جبکہ یورپی یونین بارڈر اور کوسٹ گارڈ ایجنسی فرانٹکس نے تین مرتبہ مدد کی پیشکش بھی کی لیکن یونانی حکام نے جواب نہیں دیا۔ تاہم خیال رہے کہ لیبیا سے اٹلی جانے والی کشتی میں 700 کے قریب تارکین سوار تھے جو یونان کے قریب سمندر میں الٹ گئی تھی۔ اس کشتی میں سوار مسافرین میں سے 500 ابھی تک لاپتہ ہیں۔ تحقیقات میں یونانی کوسٹ گارڈ کے لاگ، زندہ بچ جانے والوں کی گواہی، فلائٹ اور میری ٹائم ڈیٹا، سیٹلائٹ امیجز اور عینی شاہدین کی ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    کشتی کی مغرب کی جانب اچانک حرکت کے حوالے سے بھی کوسٹ گارڈ اور زندہ بچ جانے والوں کے بیان میں تضاد پایا گیا ہے۔ کوسٹ گارڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشتی کی سمت خود سے بدل گئی تھی تاہم تحقیقات کے مطابق یونانی ریسکیو کشتی اس وقت تارکین کی کشتی کے پاس پہنچی تھی جب اس نے سمت بدل لی تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشتی کو رسی باندھی گئی تھی۔ تاہم یاد رہے کہ متعدد مسافروں نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کوسٹ گارڈ نے تارکین کو بتایا تھا کہ کشتی مغرب کی جانب سفر کر رہی ہے۔ کشتی کی نچلی منزل پر موجود مسافروں کے بیان کے مطابق کشتی کے ایک گھنٹہ بلا حرکت سمندر میں کھڑے رہنے کے بعد بھی اسے دوسری مرتبہ رسی سے باندھنے کی کوشش کی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    مسافروں نے بتایا کہ کشتی کا انجن بند ہونے کے باوجود یہ آگے کو بڑھ رہی تھی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے رسی سے باندھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ایک مسافر نے بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے تارکین کو یونانی پانیوں سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ ذمہ داری یونانی حکام پر نہ عائد ہو۔ یونانی کونسل برائے مہاجرین کی وکیل ماریہ پاپامینا کا بھی کہنا ہے کہ کوسٹ گارڈ نے دو مرتبہ کشتی کو رسی سے باندھنے کی کوشش کی تھی۔

  • اسپین جانے والے 300 تارکین وطن بھی لاپتہ

    اسپین جانے والے 300 تارکین وطن بھی لاپتہ

    کشتیوں میں اسپین جانے والے 300 تارکین بھی وطن لاپتہ ہوگئے ہیں، اسپین کی ایک ایجنسی کے مطابق کشتی میں بہت سارے مسافروں کیساتھ بچے بھی سوار تھے، یونان کشتی حادثے کے بعد اب اسپین جانے والے تارکین کی کشتیوں کو بھی مبینہ طور پر حادثہ پیش آیا ہے، اور اسپین ایجنسی نے بتایا ہے کہ تین کشتیوں میں اسپین جانے والے 300 تارکین وطن لاپتا ہوگئی ہے جس میں بہت سارے مسافر سوار تھے.

    تارکین وطن کے امدادی گروپ ’واکنگ بارڈرز‘ کی ہیلینا مالینو نے بتایا کہ اسپین پہنچنے کی کوشش کرنے کے لیے سینیگال سے نکلنے والی دو کشتیاں 15 روز اور ایک کشتی 13 روز سے لاپتا ہے۔ ہیلینا مالینو کے مطابق ایک کشتی میں تقریباً 65 افراد اور دوسری میں 50 سے 60 افراد سوار تھے۔ جبکہ تیسری کشتی 27 جون کو سینیگال سے روانہ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 200 تارکین وطن سوار تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا

    ہیلینا مالینوکا کہنا ہے کہ تارکین وطن عدم استحکام کی وجہ سے اسپین روانہ ہوئے تھے، کشتی میں سوار افراد کے اہل خانہ پریشان ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ 23 جون کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ یونان کشتی حادثےمیں جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 350 ہے، شناخت کے بعد لاشیں پاکستان لائی جائیں گی

    سینیگال سے سپین کے جزائر کینری جانے والی تارکین وطن کی تین کشتیاں بحراوقیانوس میں ڈوبنے سے کم ازکم تین سوافرادلاپتہ ہوگئے، تاہم فرانسیسی کوسٹ گارڈ نے ایک ہفتہ سے زائد عرصہ قبل سمندر میں لاپتہ ہونے والے تارکین وطن کی تلاش شروع کرنے کے بعد ایک کشتی سے 86 افراد کو بچا لیا ۔ جبکہ دوکشتیوں کی تلاش جاری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق خیال کیا جا رہاہے کہ وہ بڑے جہاز سے چار دن پہلے 23 جون کو سینیگال سے روانہ ہوئے تھے۔ واکنگ بارڈرز کے مطابق، یہ سینیگال کے ایک ساحلی قصبے کافاؤنٹائن سے روانہ ہوا جو کہ ٹینیرائف سے تقریباً 1,700 کلومیٹر دور ہے۔ واکنگ بارڈرزگروپ نے پہلے اندازہ لگایا تھا کہ بڑے جہاز میں 200 افراد سوار تھے ، جن میں بہت سے بچے بھی شامل تھے ، جب یہ 27 جون کو کینری جزائر کی طرف کافاؤنٹائن سے نکلا تھا۔

    بی بی سی ویریفائی کے زیر نگرانی سمندری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، کوسٹ گارڈ کا جہاز اور اس کی مدد کرنے والا کنٹینر جہاز اب گران کینریا جزیرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔بچائے گئے افراد میں 80 مرد اور چھ خواتین شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جہاز میں سوار تمام افراد کو بچا لیا گیا ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ یہ خبر یونانی ساحل کے قریب بحیرہ روم کے تارکین وطن کے بدترین جہازوں میں سے ایک میں ڈوبنے کے چند ہفتوں بعد سامنے آئی ہے۔کم از کم 78 افراد کے ڈوبنے کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن اقوام متحدہ (یو این) نے اطلاع دی ہے کہ 500 ابھی تک لاپتہ ہیں۔

  • یونان کشتی حادثہ؛  جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت

    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت

    یونان میں کشتی حادثے میں جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی میتوں کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ ماہ یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے حادثے میں سیکڑوں افراد لاپتہ ہوگئے تھے، جب کہ متعدد افراد کی موت کی بھی تصدیق کردی گئی ہے۔ یونانی حکام کی جانب سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 15 پاکستانیوں کی شناخت کی تصدیق کردی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں گجرات سے تعلق رکھنے والے 6 افراد اور گوجرانوالہ کے 4 افراد بھی شامل ہیں۔ دیگر افراد میں شیخوپورہ، راولپنڈی، میرپور، وہاڑی اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 23 جون کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ یونان کشتی حادثےمیں جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 350 ہے، شناخت کے بعد لاشیں پاکستان لائی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ دوسری جانب یونان کشتی حادثہ، زندہ بچنے والا پاکستانی گھر پہنچ گی، یونان کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والا خوش قسمت پاکستانی واپس گھر پہنچ گیا۔ جبکہ 28 سالہ عثمان صدیق محکمہ پولیس میں سپاہی ہے، 4 دوستوں کے ساتھ اٹلی جانا چاہتا تھا۔
    یونان کشتی حادثہ: زندہ بچ جانے والے نوجوان عثمان صدیق نے پوری کہانی سنادی
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    عثمان صدیق نامی اس خوش قسمت پاکستانی کا تعلق گجرات کے علاقے کالیکی سے ہے۔ عثمان صدیق نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بدقسمت کشتی میں 700 افراد سوار تھے، جن میں 350 پاکستانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے پہلے ایک ہیلی کاپٹر بھی آیا اور تصاویر لینے کے بعد چلا گیا تھا۔