Baaghi TV

Tag: How to

  • "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "نانی سلطی”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    ناجانے اس بوڑھی عورت کا اصل نام کیا تھا۔ مگر پورا گاؤں اسے "نانی سلطی” کے نام سے پکارتا تھا۔ نانی سلطی ہمارے گاؤں میں جس چھوٹے سے کمرے میں رہتی تھی، گاؤں کے لوگ اس کمرے کو نانی کی کوٹھی کہا کرتے تھے۔ نانی کی کوٹھی کے باہر بندھے چند چھوٹے چھوٹے کتے اور مرغیاں "نانی سلطی” کی شاید بہترین ساتھی تھے۔ ایک چارپائی، چھوٹا سا کمرہ ، باہر بندھے کتے اور چند ضرورت کے برتن "نانی سلطی” کی کل کائنات تھے۔ نانی سلطی دماغی طور پر سوچنے کی صلاحیت سے محروم تھی۔ میرے خیال میں تو یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پورا گاؤں اس کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔ اور اسی وجہ سے گاؤں کے بگڑے لڑکے نانی سلطی کو تنگ کرتے تھکتے نہ تھے۔ صرف بگڑے لڑکے ہی نہیں بلکہ گاؤں کے زیادہ تر لوگوں بشمول پنج (پانچ) وقتی نمازوں کے لیے نانی سلطی انٹرنینمنٹ کا واحد ذریعہ تھی۔ لوگوں کے گھروں سے کھانا لے کر گزرا کرنے والی نانی سلطی اب گزر گئی ہے۔ لوگ اس کو پاگل سمجھتے تھے۔مگر وہ اللہ کے اس قدر قریب تھی۔کہ دین کا علم نہ تھا۔مگر پھر بھی نانی سلطی ہمیشہ روزہ رکھتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب گاؤں میں، میں نے پہلی بار روزہ رکھا تو نانی سلطی اس دن بھی سہری کے وقت ہمارے گھر سہری کےلیے آئی تھی۔ اماں کے بتانے پر کہ اس کا آج پہلا روزہ ہے، نانی نے میرے لیے ڈھیروں دعائیں کیں۔

    "نانی سلطی” پانی سے بہت گھبراتی تھی۔ گاؤں کے لڑکے جب نانی پر پانی پھینکتے تو روتے روتے پانی پھینکنے والوں کو دو چار گالیوں سے نوازتے ہوئے اپنے مکان کی طرف چل پڑتی تھی۔سوائے اس کے وہ بیچاری اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ میں نے اکثر” نانی سلطی” کو اپنے چھوٹے سے مکان کے باہر آنے والی مرغیوں کو دانہ ڈالتے دیکھا تھا۔ مگر کل شب خواب میں مجھے” نانی سلطی” جنت کے پرندوں کو دانہ کھلاتے دیکھائی دی۔

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

     سارہ گِل نے پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ڈاکٹر کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہ

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    پرویز الہی کی مبینہ آڈیو لیک جس میں وہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری کو گندی گالیاں دے رہے ہیں

    علی امین گنڈاپور اور امتیاز نامی شخص کے مابین آڈیو لیک

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    ‏عمران خان دی بندہ کی عزت کرسکدا اے….فواد چودھری کی آڈیو لیک

  • کلچرل جرنلسٹس فاﺅنڈیشن آف پاکستان کے سالانہ انتخابات

    کلچرل جرنلسٹس فاﺅنڈیشن آف پاکستان کے سالانہ انتخابات

    کلچرل جرنلسٹس فاﺅنڈیشن آف پاکستان کے گزشتہ روز سالانہ انتخابات پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر نزد قذافی اسٹیڈیم میں منعقد کئے گئے۔انتخابات کے نتائج کے مطابق شجر الدین چئیرمین ، طاہر بخاری صدر اور ٹھاکر لاہوری جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے. اصغر سلیمی نائب صدر منتخب ہوئے. ھاکر لاہوری بلامقابلہ سیکرٹری جنرل بننے میں کامیاب رہے۔سی جے ایف پی کے انتخابات میں حسن عباس زیدی نے چیف الیکشن کمیشن کے فرائض انجام دیئے جبکہ علی عابدی اور جبار صدیقی ممبران میں شامل تھے۔ اس موقع پر سینئر شوبز جرنلسٹ زین مدنی حسینی سینئر نائب صدر، وقار اشرف خرانچی ، سیکرٹری اطلاعات جبار صدیقی، اشفاق حسین نائب صدر، سینئر جوائنٹ سیکرٹری حسن عباس زیدی،جوائنٹ ظہیر شیخ، نوین علی ایڈیشنل سیکرٹری، علی عابدی آفس سیکرٹری جبکہ قربان پرنس اور قاسم ارشد کو سیکرٹری ایونٹس کی

    ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس موقع پر سی جے ایف پی کی سپریم کونسل کا بھی اعلان کیا گیا، شجرالدین سپریم کونسل کے چیئرمین جبکہ سینئر ممبر ندیم سلیمی، سیف اللہ سپرا، ندیم نظر، خالد ابراہیم اور فرزانہ چوہدری سپریم کونسل ارکان میں شامل ہیں۔ سالانہ انتخابات کے اس فیسٹیول میں پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری اعجاز کامران، نامور فلم ڈائریکٹر پرویز کلیم،الطاف حسین، ڈائریکٹر الحمرا کلچرل کمپلیکس قذافی اسٹیڈیم سید نوید بخاری ، اداکار اچھی خان، سیف علی خان، گلوکار ناصر بیراج ، مختار احمد، احتشام سہروردی سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ ٹھاکر لاہوری نے اس موقع پر کہا کہ ہماری باڈی دلجمعی سے کام کریگی.

  • سپر پنجابی کا ٹریلر جاری ، 3 مارچ کو ریلیز ہوگی

    سپر پنجابی کا ٹریلر جاری ، 3 مارچ کو ریلیز ہوگی

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ کی کامیابی کے بعد پاکستان میں ایکبار پھر پنجابی فلموں کا دور شروع ہو گیا ہے.حال ہی میں سال کی پہلی فلم رنگ عشقے دا ریلیز ہوئی. تاہم اب پنجابی فلم سپر پنجابی کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے. ٹریلر کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے. پروڈیوسرصفدرملک اور افتخار ٹھاکر کی کامیڈی،رومانس اور ایکشن سے بھرپور فلم "سپرپنجابی”کی کاسٹ میں محسن عباس حیدر،صائمہ بلوچ،افتخار ٹھاکر،ثنافخر،ناصر چنیوٹی،سلیم البیلا،عدنان شاہ ٹیپو،نوازانجم مرکزی کردار ادا کررہے ہیں.ابو علیحہ کی بہترین ڈائریکشن میں تیار ہونے والی یہ فلم3 مارچ کو ریلیز ہونے جا رہی ہے.محسن عباس حیدر اور صائمہ بلوچ پہلی بار ایکساتھ کسی فلم میں نظر آئے ہیں. صائمہ بلوچ نے دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں ایک

    اہم کردار ادا کیا ان کی پرفارمنس کو شائقین نے بےحد سراہا. پرڈیوسر صفدر ملک اور افتخار ٹھاکر نے سپر پنجابی میں تمام وہ مصالحے ڈالے ہیں جو کسی فلم کو سپر ہٹ بناتے ہیں. ابو علیحہ اس فلم کے حوالے سے کہتے ہیں کہ میں نے بہت ہی محنت کے ساتھ یہ فلم بنائی ہے اور مجھے بہت خوشی ہے کہ فلم کی تمام کاسٹ‌نے نہایت ہی پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا اپنا کام مکمل کروایا. پرفارمنسز ہوں یا میوزک شائقین یقینا لطف اندوز ہوں گے.

  • سجل علی کی فلم ’واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ‘ ریلیز کر دی گئی

    سجل علی کی فلم ’واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ‘ ریلیز کر دی گئی

    پاکستانی اداکارہ سجل علی جو ایک بڑی فین فالونگ رکھتی ہیں. انہوں نے پاکستان کے ساتھ بالی وڈ میں بھی کام کیا. بالی وڈ‌ میں نام کمانے کے بعد سجل علی نے انٹرنینشل مارکیٹ کو اپنا ہدف بنایا اور یوں انہیں جمائمہ گولڈ سمتھ کی فلم واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ مل گئی . اس فلم میں ان کے ساتھ کئی انٹرنیشنل فنکاروں نے ساتھ کام کیا. اس فلم کی ریلیز کےلئے سجل علی کے مداح کافی منتظر تھے ،ان کے مداحوں کے لئے خوشخبری ہے کہ واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ کو آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں ریلیز کردیا گیا ہے. لیکن پاکستان میں رواں برس مارچ تک ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اٹ‘ کو سینماؤں میں پیش کیے جانے سے قبل مختلف فلم فیسٹیولز میں بھی دکھایا گیا اور اسے ستمبر 2022 میں

    ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا تھا۔کہا جا رہا ہے کہ فلم جہاں جہاں ریلیز کی گئی وہاں بہت پسند کی جارہی ہے. جمائمہ گولڈ‌سمتھ کی پہلی فلم ہے جس کے لئے وہ بھی ایکسائٹیڈ ہیں. اس فلم کو ہدایات کاری بالی وڈ فلم ساز شیکھر کپور کی ہیں. شبانہ اعظمی نے سجل علی کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ سجل نہایت ہی باصلاحیت اور باادب ہیں ان کے ساتھ کام کرکے بہت اچھا لگا.

  • پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش ،برفباری ، کی پشین گوئی

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش ،برفباری ، کی پشین گوئی

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارش ،برفباری ، کی پشین گوئی
    محکمہ موسمیات نے ہفتہ سے پیر کے دوران ملک کے مغربی اور بالائی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائیں ہفتہ کو ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونگی جو پیر تک بالائی علاقوں پر موجود رہیں گی۔

    28 جنوری(رات) سے 30 جنوری کے دوران مری میں درمیانی سے شدید برفباری کا امکان ہے جس سے سڑکوں کی بندش اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران شدید برفباری سے گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل کا امکان ہے۔29 جنوری اور 30 جنوری کو اسلام آباد،لاہور،گوجرانوالہ،گجرات،حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اس دوران قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، خوشاب، میانوالی اور سرگودھا میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ بھکر، لیہ، ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن میں ہلکی بارش متوقع ہے۔ اسی طرح چند مقامات پر ژالہ باری بھی متوقع ہے۔

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    بارش کے بعد درجہ حرارت میں 02 سے 04 ڈگری سینٹی گریڈ کمی کا امکان ہے۔پی ڈی ایم اے کی طرف سے بارش کے دوران سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ڈرائیور حضرات بارش اور برفباری کی صورت میں محتاط ڈرائیونگ کو یقینی بنائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کرکے مدد لی جا سکتی ہے۔

  • روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی کی نئی لہر آئے گی،احسن ظفر بختاوری

    روپے کی قدر میں کمی، مہنگائی کی نئی لہر آئے گی،احسن ظفر بختاوری

    زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا ردعمل سامنے آیا ہے،

    صدر اسلام آباد چیمبر احسن ظفر بختاوری کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں کمی، ڈالر کی اونچی اڑان پر تشویش ہے، زرمبادلہ ذخائر کم ہو کر3.7ارب ڈالر کی کم ترین سطح پر آ گئے، ڈالر 265روپے سے تجاوز کر گیا جو پاکستان کی کمزور معیشت کا عکاس ہے، زرمبادلہ کے مضبوط ذخائر سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں، زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے،حکومت برآمدات میں اضافے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے، ترسیلات زر کو بینکنگ چینلز کے ذریعے ملک میں لانے کی حوصلہ افزائی کی جائے زرمبادلہ ذخائر کو بہتر بنانے کیلئے آوٹ آف دی باکس حل تلاش کر نے کی ضرورت ہے،روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی سے مہنگائی کی نئی لہر آئے گی شرح سود میں اضافے کے بعد قرضے مہنگے ہونے سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی،

    احسن ظفر بختاوری کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے شرح سود میں اضافہ کیا تھا، روپے کی قدر میں کمی سے افراط زر پر قابو پانے کی کوششوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، روپے کی گرتی ہوئی قدر سے تمام درآمدی اشیا مزید مہنگی ہوں گی،مقامی طور پر تیار کی جانے والی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا، کم آمدنی والے طبقے کیلئے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جائے گا،

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

     لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا، لڑکی کی موت ساحل پر پڑے پڑے ہوئی

  • شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکرعلی ادیب،مصورحقیقت

    شاکر علی
    عظیم تجریدی مصور
    یوم وفات : 27 جنوری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مصوری کی ابتدائی تعلیم جے جے اسکول آف آرٹس بمبئی سے حاصل کرنے کے بعد وہ انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے فن مصوری کا تین سالہ کورس مکمل کیا۔ انہیں کچھ عرصہ فرانس کے ممتاز مصور آندرے لاہوتے (Andre L’Hote) کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ 1951ء میں پاکستان آگئے اور 1952ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے وابستہ ہوگئے جو بعد میں نیشنل کالج آف آرٹس کہلانے لگا۔ 1961ء میں وہ اسی کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے اور 1973ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ شاکر علی پاکستان میں تجریدی مصوری کے ساتھ ساتھ تجریدی خطاطی کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔

    انہوں نے آیات قرآنی کو تجریدی انداز میں لکھنے کی جو بنا ڈالی اسے بعد ازاں حنیف رامے‘ صادقین‘ آفتاب احمد‘ اسلم کمال‘ شفیق فاروقی‘ نیر احسان رشید‘ گل جی اور شکیل اسماعیل نے بام عروج تک پہنچا دیا۔ حکومت پاکستان نے فن مصوری میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1962ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 1971ء میں ستارہ امتیاز عطا کیا تھا۔

    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ان کی وفات کے بعد 19 اپریل 1990ء اور 14اگست 2006ء کو ان کی مصوری اور تصویر سے مزین دو ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے ۔ شاکر علی کا انتقال 27 جنوری 1975ء کو لاہور میں ہوا۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر یہ عبارت درج ہے جو محترمہ کشور ناہید کے ذہن رسا کی تخلیق ہے: چڑیوں‘ پھول اور چاند کا مصور شاکر علی 6 مارچ 1914ء کو رام پور کے افق پر طلوع ہوا اور 27 جنوری 1975ء کو لاہور کی سرزمین میں مدفون ہیں۔

  • نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

    برلن:جرمنی میں ایک نئی قسم کا ڈائنا سور دریافت ہوا ہے جس کے منہ میں 400 سے زائد دانت تھے اور وہ بطخ اور بگلوں کی طرح کھانا کھاتا تھا۔سائنس اور ٹکنالوجی: ٹیرو سار خاندان سے تعلق رکھنے والے بیلینوگنیتھس مائیوسیری (بیلینوگنیتھس مطلب وہیل کے منہ جیسا) نامی اس ڈائنا سور کی باقیات تقریباً سالم ہیں۔ یہ باقیات جرمنی کی ایک ریاست بیویرین کی ایک کان سے حادثاتی طور پر اس وقت دریافت ہوئیں جب سائنس دان چونے کے بڑے بڑے پتھروں کی کھدائی کر رہے تھے جن میں مگر مچھوں کی ہڈیاں موجود تھیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے پروٹوکول افسر کینیڈا سے آئے اپنے مہمانوں سمیت ڈاکوؤں کے ہاتھوں…

    18 ویں صدی میں پہلی بار ٹیرو سارس دریافت ہونے کے بعد سے اس جگہ سے اڑنے والے اس ڈائنا سور کی سیکڑوں باقیات دریافت کی جا چکی ہیں۔یہ تحقیق یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ کے پروفیسر ڈیوڈ مارٹِل کی سربراہی میں کی گئی جس میں انگلینڈ، جرمنی اور میکسیکو کے ماہرینِ باقایات بھی شامل تھے۔

    آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے منفی کورونا ٹیسٹ کی شرط…

    پروفیسر مارٹِل کا کہنا تھا کہ تقریباً مکمل ڈھانچے پر چونے کی ایک انتہائی باریک تہہ چڑھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ ڈھانچہ بالکل محفوظ تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس ٹیروسور کے جبڑے بہت لمبے ہیں اور ان میں چھوٹے، باریک اور خم دار دانت موجود ہیں۔ ان دانتوں کےدرمیان باریک کنگھی کی طرح خلاء موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے جبڑے ایووسیٹ نامی پرندے کی چونچ کی طرح اوپر کو مڑے ہوئے ہیں اور آخر میں اسپون بِل پرندے کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس کے منہ کے آخر میں کوئی دانت نہیں لیکن اس کے علاوہ دونوں جبڑوں میں پیچھے تک دانت ہیں۔

  • الطاف حسین  صحافی وادیب،یوم پیدائش

    الطاف حسین صحافی وادیب،یوم پیدائش

    الطاف حسین صحافی و ادیب

    پیدائش:26 جنوری 1900ء
    سلہٹ
    وفات:25 مئی 1968ء
    کراچی
    شہریت:برطانوی ہند
    پاکستان
    جماعت:پاکستان مسلم لیگ
    مادر علمی؛کلکتہ یونیورسٹی
    جامعہ ڈھاکہ
    صناعتِ پاکستان
    مدت منصب
    ۔۔۔ 17 اگست 1965 – 15 مئی 1968
    ایڈیٹر چیف ڈان
    مدت منصب
    ۔۔۔ 14 اگست 1947 – 16 اگست 1965

    الطاف حسین سلہٹ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1923ء میں ایم اے کیا۔ 1938ء تک مختلف کالجوں میں انگریزی کے استاد رہے پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ 1945ء میں روزنامہ ڈان دہلی کے ایڈیٹر مقررہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈان کراچی منتقل ہوا تو آپ بھی کراچی چلے گئے۔ 1951ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ 1952ء میں بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس منعقدہ ماسکو میں شرکت کی۔ کچھ عرصہ پاکستان نیشنل کمیٹی انٹرنیشل پریس انسٹی ٹیوٹ اور کامن ویلتھ پریس یونین کی پاکستان شاخ کے صدر رہے۔ 1960ء میں آپ کو ہلال قائداعظم کا اعزاز دیا گیا۔ 1965ء میں مرکزی حکومت کے وزیر صنعت و حرفت بنائے گئے۔ انگریزی میں تین کتب "شکوہ جواب شکوہ” کا ترجمہ، انڈیا گزشتہ دس سال اور ماسکو میں پندرہ دن ، کے مصنف ہیں۔

  • آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ:حمیدہ شاہین کے یوم پیدائش پرخراج تحسین

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    حمیدہ شاہین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    26 جنوری 1963 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کی ایک بہتر پاکستانی شاعرہ پروفیسر حمیدہ شاہین صاحبہ 26 جنوری 1963 کو سرگودھا پنجاب میں پیدا ہوئیں۔ وہ 1988 میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں لیکچرر تعینات ہوئیں اور ٹھیک 32 برس بعد اپنی سالگرہ کے دن 26 جنوری 2020 میں ترقی کرتے ہوئے 20 گریڈ میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں۔ جبکہ آج اپنی سالگرہ کے دن 60 سال کی عمر کو پہنچ کر گورنمٹ ملازمت سے سبکدوش ہو گٙئی ہیں۔ حمیدہ شاہین صاحبہ کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، دستک، دشت وجود اور”زندہ ہوں” شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نمونہ کلام

    کھیل میں کچھ تو گڑ بڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ
    آدھے لوگ نِری مٹی تھے ، آدھے چاند ستارے لوگ

    اُس ترتیب میں کوئی جانی بوُجھی بے ترتیبی تھی
    آدھے ایک کنارے پر تھے ، آدھے ایک کنارے لوگ

    اُس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا
    آدھے اس نے ساتھ ملائے ، آدھے اس نے مارے لوگ

    آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں
    اُس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ

    کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا
    آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ

    ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے
    آدھے پھیکے بے رس ہو گئے ، آدھے زہر تمہارے لوگ

    آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دیے
    آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ

    آدھوں آدھ کٹی یک جائی ، پھر دوجوں نے بیچوں بیچ
    آدھے پاؤں کے نیچے رکھے ، آدھے سر سے وارے لوگ

    ایسا بندو بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا
    ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اُتارے لوگ

    کچھ لوگوں پر شیشے کے اُس جانب ہونا واجب تھا
    دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ

    حمیدہ شاہین