Baaghi TV

Tag: iftikhar thakur

  • پاکستان میں لاکھوں لینے والے فنکار انڈیا میں کتنے پیسے لیتے ہیں افتخار ٹھاکر نے بتا دیا

    پاکستان میں لاکھوں لینے والے فنکار انڈیا میں کتنے پیسے لیتے ہیں افتخار ٹھاکر نے بتا دیا

    معروف اداکار افتخار ٹھاکر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ کہا ہے کہ پاکستانی کامیڈینز کی بھارت میں بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے ، انہیں‌ وہاں کی پنجابی فلموں میں کام کرنے کا نہ صرف بھاری معاوضہ ملتا ہے بلکہ ان کو ایسا پروٹوکول دیاجاتا ہے کہ لگنے لگ جاتا ہے کہ جیسے ہم کوئی اس ملک کے صدر بن گئے ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ پاکستانی فنکار جب پاکستان کی فلموں میں کام کرتے ہیں تو ان کو لاکھوں‌دیا جاتا ہے جبکہ بھارت کی کسی پنجابی فلم میں کام کرتے ہیں تو ان کو کروڑوں‌ملتا ہے . انہوں نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں کو انڈیا میں بہت

    زیادہ پسند کیا جاتا ہے. کپل شرما شو میں ہمارے جتنے بھی فنکار گئے ان کو بہت زیادہ عزت ملی. اس کے علاوہ بھی بھارت میں‌ کسی بھی پراجیکٹ کا پاکستانی فنکار حصہ بنے ان کو بہت وقار کے ساتھ بلایا گیا، انہوں نے کہاکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ کپل شرما بھاری بھرکم معاوضہ لیتا ہے وہ یہ بھی جان لیں کہ وہ تو وہاں رہ کر ایسا کرتا ہے لیکن پاکستانی فنکار تو پاکستان سے بھارت جا کر بھاری معاوضہ لیتے ہیں تو یہ پاکستانی فنکاروں کی ایک قسم کی جیت اور حوصلہ افزائی ہے.

  • حسین نواز نے دیکھتے ہی دیکھتے گول گپے کی پرات خالی کر دی افتخار ٹھاکر

    حسین نواز نے دیکھتے ہی دیکھتے گول گپے کی پرات خالی کر دی افتخار ٹھاکر

    اداکار افتخار ٹھاکر نے کہا ہے کہ میرا شریف فیملی کے ساتھ ہمیشہ ہی بہت ملنا ملانا رہا ہے ، میرا ان سب کے ساتھ ہنسی مذاق والا تعلق ہے، وہ سیاست کیا کرتے ہیں میرا ایسے معاملات سے بالکل بھی کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی مجھے ان کی سیاست کے ساتھ جوڑا جائے، ہر کوئی اپنا اپنا کام کررہا ہے. انہوں نے شریف فیملی کے گھر ایک شادی میں‌جانے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ میں ان کی فیملی کی ایک شادی میں‌گیا وہاں میرے پاس حسین نواز آکر کھڑے ہو گئے ہم باتیں کرنے لگ گئے ، پاس ہی ہمارے گول گپوں کی پرات پڑی ہوئی تھی ، اس نے مجھ سے باتیں

    کرنے کے دوران ایک گول گپا اٹھایا منہ میں ڈالا اور سیدھا حلق میں لے گیا میں نے کہا کہ اوئے چبایا بھی نہیں اور حلق میں لے گئے ، خیر ہم ایسی ہی باتیں کررہے تھے کہ میں نے تھوڑی دیر کے بعد گول گپوں کی پرات کو دیکھا تو وہ خالی ہو چکی تھی. انہوں‌نے کہا کہ یہاں سے انداہز لگا لیں کہ حسین نواز کو کھانے پینے کا کتنا شوق ہو گا. افتخار ٹھاکر نے بار بار اس انٹرویو میں کہا کہ میری شریف فیملی سے دوستی ہے ان کی سیاست سے میرا کوئی تعلق نہیں.

  • کونسا سیاستدان افتخار ٹھاکر کو لمبی ناک والا کہتا ہے؟‌

    کونسا سیاستدان افتخار ٹھاکر کو لمبی ناک والا کہتا ہے؟‌

    اداکار افتخار ٹھاکر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میاں شہباز شریف نے میری کافی فرینکنس ہے ، ہم جب بھی ملے ہیں ایک دوسرے کو جگتیں‌لگائی ہیں، وہ جب میرے پروگرام مذاکرات میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اس پروگرام میں کیا ہوگا تو میں نے ان کو بتایاکہ سر آپ کو جگتیں ہوں گی ، یہ کہہ کر میں نے اگلے ہی لمحے ان کے منہ پر جگت لگا دی تو انہوں نے کہا کہ چپ کر اوئے چائنہ دی چوئی، انہوں نے ایسا کہا تو میں نے کہا کہ سر تانوں سے کم آندا اے . آجائو فیر. یوں پروگرام کے دوران میں نے ان کو بہت جگتیں لگائیں ، جب پروگرام

    ختم ہو تو وہ لفٹ کے پاس کھڑے مجھے کہتے تم نے میرے ساتھ اچھی نہیں کی ، میں تمہاری شکایت بڑے میاں صاحب کو لگائوں گا تو میں نے کہا کہ جائیں لگا دیں ان کا منہ بھی تو پھیکے خربوزے جیسا ہے. یہ سن کر شہباز شریف ہنس پڑے. یوں افتخار ٹھاکر نے بتایا کہ ان کا اور میاں شہباز شریف کا آپس میں کافی ہنسی مذاق رہتا ہے لیکن میرا شہباز شریف کے سیاسی معاملات کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے.

  • کامیڈین افتخار ٹھاکر کی گاڑی ایکسائز حکام نے کیوں روکی ؟‌

    کامیڈین افتخار ٹھاکر کی گاڑی ایکسائز حکام نے کیوں روکی ؟‌

    معروف اداکار افتخار ٹھاکر کی گاڑی کو لاہور میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن حکام نے ٹوکن ٹیکس کی عدم ادائیگی پر روک لیا۔ محکمہ ایکسائز نے ڈیوس روڈ ناکے پر کامیڈین افتخار ٹھاکر کی گاڑی کو روکا۔ ڈائریکٹر ایکسائز محمد آصف کےمطابق افتخار ٹھاکر نے موقع پر ہی ٹوکن ٹیکس جمع کرادیا ۔ افتخار ٹھاکر کا کہنا تھا کہ بینکوں کی موبائل ایپ نے آسانی کردی ہے ، موقع پر ہی ٹیکس ادا کرکے جان چھڑائی جاسکتی ہے ، ایکسائز والے روکیں تو غصہ نہیں کرنا چاہیے۔افتخار ٹھاکر نے یہ بھی کہا کہ ہم سب شہریوں کو اپنے فرائض کا علم ہونا چاہیے، انہوں نے یہ بھی

    کہا کہ ایسی غفلت دوبارہ نہیں ہو گی. یاد رہے کہ افتخار ٹھاکر حال ہی میں آسٹریلیا سے وطن واپس آئے ہیں، وہ وہاں پر اپنی فلم سپر پنجابی کی پرموشن کے لئے گئےتھے، سپر پنجابی کو پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں ریلیز کیا گیا. فلم کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے، ابو علیحہ کی ڈائریکشن میں‌ بنی اس فلم کا میوزک اور کہانی اس کا پلس پوائنٹ ہے. افتخار ٹھاکر بہت جلد کچھ نئے پراجیکٹس کے ساتھ سنیما گھروں میں واپس آ رہے ہیں ان کا کہنا ہےکہ اپنے مداحوں کے لئے کام کرتا رہوں گا.

  • افتخار ٹھاکر نے محسن عباس حیدر کے بارے میں کہہ دی بڑی بات

    افتخار ٹھاکر نے محسن عباس حیدر کے بارے میں کہہ دی بڑی بات

    اداکار افتخار ٹھاکر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ اب شفٹوں میں کام کرنے کا زمانہ گیا ، پاکستان میں ہی شفٹوں میں کام کرنے کا رواج ابھی تک ہے ورنہ دنیا تو کب کا شفٹوں میں کام کرنے کا سلسلہ چھوڑ چکی ہے. انہوں نے کہا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے اب ہمیں جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنا ہو گا ورنہ ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ اگر ڈھنگ سے پنجابی فلم بنائی جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہے. ہماری فلم سپر پنجابی پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی 860 اسکرین پر ریلیز کی جارہی ہے،”سپر پنجابی”

    تفریح سے بھر پور فلم ہے جسے دنیا بھر کے شائقین ضرور پسند کریں گے،افتخار ٹھاکر نے کہا کہ پانچ ہفتوں میں میری اور ناصر چنیوٹی کی پانچ فلمیں ریلیز ہورہی ہیں،صفدر ملک پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے او نیگیٹو ہیں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ محسن عباس حیدر کے بغیر پنجابی فلم انڈسٹری کچھ نہیں ہے، محسن عباس حیدر پنجابی فلموں کا سرمایہ ہے، میں اسکی اداکاری سے بے حد متاثر ہوں بڑوں کا احترام کرتا ہے لیکن جب کیمرے کے سامنے آتا ہے تو سینئر جونئیر بھول کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے جوکہ بہت اچھی بات ہے.

  • سپر پنجابی اب عید الفطر پر ریلیز ہو گی

    سپر پنجابی اب عید الفطر پر ریلیز ہو گی

    افتخار ٹھاکر اور صفدر ملک کی فلم سپر پنجابی جو کہ پہلے رواں ماں تین تاریخ کو ریلیز کی جانی تھی اس کی ریلیز اب عید الفطر پر ہوگی . چند روز قبل افتخار ٹھاکر اور صفدر ملک نے ایک پریس کانفرنس کرکے کہا تھا کہ ہم تین مارچ کو فلم اس لئے ریلیز نہیں کررہے کیونکہ پی ایس ایل چل رہا ہے لوگوں کا دھیان پی ایس ایل کے میچز کی طرف ہوگا جس کی وجہ سے ہماری فلم نظر انداز ہونے کا خدشہ ہے. تاہم اب فلم کی ریلیز کی نئی تاریخ سامنے آگئی ہے اور اب عید الفطر پر یہ فلم شائقین دیکھ سکیں گے. عید پر سپر پنجابی کے ساتھ منی بیک گارنٹی اور ہوئے تم اجنبی بھی ریلیز ہو رہی ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ بڑے بجٹ کی ان دو فلموں میں سپر پنجابی کیسا بزنس کرتی ہے. سپر پنجابی کو

    ابو علیحہ نے ڈائریکٹ کیا ہے اور صائمہ بلوچ اور محسن عباس حیدر نے مرکزی کردار کئے ہیں. ابو علیحہ کا دعوی ہے کہ فلم جدید سینما کی بنیاد رکھے گی اور اس میں وہ سب ہے جو شائقین دیکھنا چاہتے ہیں. دوسری طرف افتخار ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ہم نے فلم کا سکرپٹ بہت سوچ سمجھ کر اور شائقین کی پسند نہ پسند کو مد نظر کر لکھا ہے.

  • سپر پنجابی سے پنجاب کا سینما ڈیجیٹل دور میں داخل

    سپر پنجابی سے پنجاب کا سینما ڈیجیٹل دور میں داخل

    ایکشن فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کی فقید المثال کامیابی کے بعد فلمی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی تھی کہ اس پنجابی فلم کی کامیابی کو کیش کروانے کے لئے پنجاب کے فلم میکرز کے پاس کوئی دوسری فلم ہی نہیں ہے۔ "رنگ عشقے دا” اور "شاٹ کٹ” کے نہایت کمزور بزنس نے بھی اس تاثر کو تقویت دی۔ تاہم تین مارچ کو ریلیز ہونےوالی پنجابی فلم "سپر پنجابی” کے آفیشل ٹریلر اور گانے کے ٹیزر کو دیکھ کر گمان ہورہا ہے کہ 2023 میں سپر پنجابی پہلی بلاک بسٹر فلم ثابت ہونے والی ہے۔ "سپرپنجابی” کی لک اینڈ فیل، اس کے کلر پیلیٹس، پروڈکشن ڈیزائن، فریمنگ کسی بھی طرح انڈین پنجابی فلموں سے کم نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جو پنجابی رومانوی کامیڈی فلمیں بنائی جاتی تھیں، ان پر سب سے زیادہ اعتراض ہی یہ اٹھایا جاتا تھا کہ ہمارے پروڈیوسرز اور ہدایتکار نئے زمانے کے ساتھ اپنی سینما سکرین کو ہم آہنگ کرنے سے قاصر ہیں۔ فلم ساز صفدر ملک اور افتخار

    ٹھاکر نے "جاوید اقبال” جیسی بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ فلم کے لکھاری اور ہدایتکار ابوعلیحہ کے ساتھ مل کر اس تاثر کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ سپرپنجابی نہ صرف ریکارڈ مدت میں شوٹ کی گئی ہے بلکہ شوٹنگ پیک اپ کے بعد فقط تین ماہ کے اندر اس فلم کو سینما میں 3 مارچ کو لگانے کا اعلان کرکے ابوعلیحہ نے اپنی کرافٹ اور صفدر ملک نے اپنی سینما سے محبت ثابت کردی ہے.فلم ٹریڈ اور پنجاب کے فلمی حلقوں نے سپر پنجابی کا خیر مقدم کیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

  • افتخار ٹھاکر کی ڈگری پر نیویارک اکیڈمی نے سوالات کیوں اٹھائے؟‌

    افتخار ٹھاکر کی ڈگری پر نیویارک اکیڈمی نے سوالات کیوں اٹھائے؟‌

    معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ کیرئیر کے آغاز کی بات ہے کہ میں ایک ڈرامہ کرنے کے لئے امریکہ گیا ، وہاں میرا جھگڑا کسی بندے سے ہو گیا وہ بہت طاقتور تھا ، ڈرامہ ختم ہو گیا پاکستان واپس جانے کا وقت آگیا ، میں‌نے محسوس کیا کہ یہ بندہ تو بہت طاقتور ہے شوبز حلقوں میں اسکا بڑا نام ہے او یہ مجھے کسی صورت وہاں کام نہیں‌کرنے دے گا. میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ بات کی اس نے کہا کہ تم کچھ عرصہ یہیں رہو،جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہوجائیگا تب واپس چلے جانا. مجھے اسکا مشورہ سمجھ میں آیا لہذا میں نے نیویارک میں‌قیام کیا ، میں نے بی اے کر رکھا تھا ، اپنی ڈگریاں پاکستان سے منگوائیں لیکر نیویارک اکیڈمی چلا گیا ، کہ کچھ پڑھ لوں ، انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا بی اے ہے

    ہمارے لئے میٹرک ہے ، میں بہت پریشان ہوا ہمت نہ ہاری اور دوبارہ سے پڑھائی کی ڈگری لی، سوا تین سال وہاں رہا، وہاں مجھے اچھی نوکری مل گئی ، پانچ لاکھ مہینہ اور ایک گاڑی تھی میرے پاس ، لیکن میں نے پاکستان واپس جانے کا فیصلہ کیا تومیری کمپنی والے حیران ہوئے بولے کیوں جا رہے تو میں‌نے کہا کہ میرا مشن تھا پڑھنا وہ میں نے پڑھ لیا اب میں اپنے ملک واپس جائونگا مجھے واپس آکر افتخار ٹھاکر بننا تھا لہذا میں واپس آیا اور ویسے بھی اس ملک نے مجھے عزت دی تھی میں کیسے اسکو چھوڑ‌سکتا تھا.