Baaghi TV

Tag: IMF

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کو نگراں وزیر خزانہ مقرر کر دیا گیا ہے جبک نگراں وزیر اعظم انوار الحق کی کابینہ کے اہم ارکان کے چناؤ کا عمل جاری ہے خیال رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں شامل ہے۔جبکہ اس میں 3 ارب ڈالر کے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملک کو گزشتہ ماہ تقریباً 1.2 بلین ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوئی تھی۔

    خیال رہے اس وجہ سے نگراں وزیر خزانہ کی تقرری کو بہت اہمیت دی جارہی تھی جس میں اس عہدے کے لیے کئی اور نام بھی سامنے آئے تھے۔ تاہم واضح رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو رواں ہفتے یوم آزادی کے موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ اور انہوں نے 2 جنوری 2006 سے تین سال تک اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں تھیں اور ملک کے مرکزی بینک کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر اپنی تقرری سے قبل، ڈاکٹر شمشاد اختر نے جنوری 2004 سے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوب مشرقی ایشیا کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں اور اس سے قبل وہ محکمہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی رہی ہیں، شمشاد اختر مشرقی اور وسطی ایشیا میں شعبہ کی ڈائریکٹر، گورننس، فنانس اور ٹریڈ ڈویژن کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    اور ان کے خاندانی پس منظر کا ذکر کریں تو حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی ہے۔ جبکہ شمشاد نے 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی تھی اور پھر ڈاکٹر شمشاد اختر نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ایم ایس سی بھی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے 1977 میں یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس اور1980 میں یو کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

  • آئی ایم ایف سے معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    آئی ایم ایف سے معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان معاہدے کی تفصیلات جاری کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر ملیں گے، ملکی معیشت کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے، پاکستان کو نئےمالی سال کےدوران بھاری بیرونی مالی ضروریات کیلئے وسائل مہیا ہونگے، پاکستان کو 9 ماہ کےنئے پروگرام پرثابت قدمی سے عمل کرنا ہوگا۔ جبکہ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنا ہوگی، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری ضروری ہے جبکہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے حساب سے ہونا چاہیے۔ پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ توانائی کے شعبے میں سبسڈی بتدریج کم کی جائے گے، اس کے علاوہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں بھی اخراجات کم کیے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سرکلر ڈیٹ 2500 ارب کو پہنچ رہا ہے اور یہ رقم معیشت کے 3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کو سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے، غیر ضروری سبسڈیز کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کی معیشت پست شرح نمو کا شکار رہی ہے، آئندہ مالی سال ترقی کی شرح 2.5 فیصد ہو سکتی ہے۔ پاور سیکٹر کو بقایاجات ختم کرنے کی ضرورت ہے، مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے صوبوں کو سرپلس بجٹ دینا ہو گا۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 8 فیصد ہو سکتی ہے۔

    عالمی ادارے کے مطابق رواں سال معاشی شرح نمو2.5 فیصد، اگلےسال 3.6 فیصد ہوجائےگی، اس سال مہنگائی 25.9 فیصد، اگلے سال کم ہوکر 11.4 فیصد پرآجائے گی، قرضوں کی شرح کا تخمینہ اس سال 70.9 فیصد، اگلے سال 68.5 فیصد ہے، اس مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 1.7 فیصد پر آجائے گا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال سرکاری زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر ہو جائیں گے، اگلے مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 12.9 ارب ڈالر تک جانے کی توقع ہے، حکومت کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہیں، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ کی پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔ بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس سال مالی خسارہ 3567 ارب، اگلے سال 5444 ارب روپے تک جانے کا خدشہ ہے، رواں مالی سال ترسیلات زر 32 ارب 88 کروڑ ڈالر رہنے کی توقع ہے جبکہ اگلے مالی سال ترسیلات زر بڑھ کر 34 ارب 76 کروڑ ڈالر تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس مالی سال برآمدات 30 ارب 8 کروڑ ڈالر تک جا سکتی ہیں، اگلے مالی سال برآمدات کا حجم بڑھ کر 33 ارب 34 کروڑ ڈالر ہو جائے گا۔ رواں سال دفاعی بجٹ 1804 ارب، اگلے مالی سال 2093 ارب ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اگلے 3 سال میں 87 ارب 42 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہے، رواں مالی سال 28 ارب 36 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی تعاون کی ضرورت ہے، اگلے مالی سال 27 ارب 16 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی، پاکستان کو سال 2025-26 میں 31 ارب 89 کروڑ ڈالرفنانسنگ درکار ہوگی۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ مالی سال ٹیکس ریونیو11 ہزار 21 ارب تک جانے کا تخمینہ ہے، اگلے مالی سال ٹیکس ریونیو 13 ہزار 93 ارب روپے تک جا سکتا ہے، مالی سال 2025-26 میں ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 14 ہزار 738 ارب تک جانے کا امکان ہے۔

  • آئی ایم ایف کی  پاکستان کی مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی

    آئی ایم ایف کی پاکستان کی مدد جاری رکھنے کی یقین دہانی

    وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا کو ٹیلی فونک گفتگو میں یقین دلایا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے تین ارب ڈالرکے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بات چیت میں وزیر اعظم نے حال ہی میں طے پانے والے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں تعاون اور مدد پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم نے ایم ڈی کی قیادت اورپیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف غریبوں کے لیے محسوس کرتی ہیں اور ان کی حمایت کو انمول قرار دیا۔ آئی ایم ایف کے ایم ڈی نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک بہت ہی قابل اعتماد کیس بنایا، حالانکہ آئی ایم ایف بورڈ ماضی میں اعتماد کی کمی کی وجہ سے معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے کے پاکستان کے عزم پر شکوک و شبہات کا شکارتھا۔ تاہم وزیراعظم کے ساتھ اپنی مسلسل مصروفیات کی روشنی میں انہوں نے بورڈ کو یقین دلایا کہ پاکستان اپنے وعدوں کو پورا کرے گا کیونکہ اس نے ذاتی طور پر وزیراعظم سے ملاقات کی تھی اور ان کی سنجیدگی کو دیکھا تھا۔ وزیراعظم کی طرف سے دکھائی گئی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب دونوں فریقین کے درمیان مضبوط شراکت داری اور باہمی اعتماد ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کا اہم رکن قراردیتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا جبکہ اس موقع پر پیرس میں وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران ایم ڈی جارجیوا کے مثبت نقطہ نظر اوران کے واضح تبصروں کو سراہا۔ بالآخر، دونوں طرف کی محنت رنگ لائی گئی اوراسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) پر دستخط ہو گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا
    وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے۔یہ حکومت اگست تک ہے جس کے بعد ایک عبوری حکومت سنبھالے گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات کے بعد اگر پاکستان کے عوام نے ان کی حکومت کو دوبارہ منتخب کیا تو وہ آئی ایم ایف اور ترقیاتی شراکت داروں کی مدد سے معیشت کا رخ موڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان کے بہترین کوالٹی کے آموں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی آموں کا تحفہ منیجنگ ڈائریکٹر کو احترام اور گہری تعریف کے طور پر بھیجنا اعزاز کی بات ہوگی۔

  • امریکہ کا آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کا خیرمقدم

    امریکہ کا آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کا خیرمقدم

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے لکھا کہ ہم اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کی مدد کے لیے ایک پروگرام کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ میکرو اکنامک اصلاحات اور پائیدار معاشی بحالی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کام جاری رکھے۔


    خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی منظوری دیدی تھی۔ 9 ماہ کے لیے پاکستان کو تین ارب ڈالر دیئے جانے ہیں جس کی پہلی قسط آج پاکستان کو موصول ہو چکی ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کی بحالی سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے متعدد بار امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ امریکا آئی ایم ایف معاہدے کی بحالی کےلیے اپنا کردار ادا کرے۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اشارہ دیا ہے کہ امریکا نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے انتظامات کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔ واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ میں جو کہوں گا وہ یہ ہے کہ ہم اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان عملے کی سطح کے معاہدے تک پہنچنے کی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ملک کی اقتصادی کامیابی کے لیے ہماری حمایت غیر متزلزل ہے اور ہم تکنیکی مصروفیات کے ذریعے پاکستان کے ساتھ رابطے جاری رکھیں گے اور اپنے تجارتی و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مستحکم کرتے رہیں گے۔پاکستان کو معاشی بحالی اور خوشحالی کے طویل المدتی پائیدار راستے پر گامزن ہونے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنی ہے، ساتھ ہی یقین دلایا کہ ہم اس عمل میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    پشاور میں آج تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تجارت کا مزید فروغ چاہتا ہے، پاکستان معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جس سے نکلنے کے لیے ہماری نیک خواہشات ہیں، آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدہ پر پاکستان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

  • آئی ایم ایف سے  پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر قرض کی منظوری مل گئی

    آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر قرض کی منظوری مل گئی

    عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان ہونے والے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد آئی ایم ایف کا پاکستان کو تین ارب ڈالر کی پہلی قسط 1.2 ارب ڈالر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آج، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے حکام کی مدد کے لیے پاکستان کے لیے 2,250 ملین SDR (تقریباً 3 بلین ڈالر، یا 111 فیصد کوٹے) کے لیے 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کی منظوری دی۔

    جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو طے شدہ پالیسیوں پر سختی سے کاربند رہنا ہوگا اور پاکستان میں معاشی اصلاحاتی پروگرام معیشت کو فوری سہارا دینے کیلئے ہے پروگرام سے پاکستان کومعیشت کو اندرونی اور بیرونی عدم توازن کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہنا ہے کہ اللہ کا شکر ہے چیزیں درست سمت میں جارہی ہیں، وزیراعظم نے کچھ ماہ پہلے سعودی عرب، یو اے ای، چین کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوشش ہے حکومت کی مدت پوری ہونے تک زرمبادلہ ذخائر14 سے 15 ارب ڈالر کے درمیان ہوں، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر کے درمیان ہونے چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سیاسی جماعت پر پابندی،ایاز صادق نے اعلان کر دیا
    یوکرینی وزیر خارجہ رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
    کوئی بتا دے ریاست پر حملہ کرنا جرم ہے یا نہیں؟ جاوید لطیف
    جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد رکن پارلیمنٹ کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی
    پاکستان اور سری لنکن بورڈ الیون کا دو روزہ میچ ڈرا
    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے وزارت خزانہ کے بھیجے گئے 8.2 ارب ڈالر کی فنانسنگ گیپ کا منصوبہ مان لیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، چین، سعودیہ اور یو اے ای سے فنانسنگ حاصل کرنی ہے اور رواں مالی سال کے دوران چین سے 3.5 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا انتظام کیا جائےگا۔ وزارت خزانہ کے پلان کے مطابق سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کرنی تھی۔ اس کے علاوہ یو اے ای سے ایک ارب ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکی فنانسنگ اور عالمی بینک سے 50 کروڑ ڈالرکی فنانسنگ حاصل کرنی ہے۔

  • سعودی عرب  کی امداد کے بعد روپے کی قدر میں اضافہ

    سعودی عرب کی امداد کے بعد روپے کی قدر میں اضافہ

    سعودی عرب سے دو ارب ڈالرز سٹیٹ بینک میں ڈیپازٹ کیے جانے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر میں بڑی کمی جبکہ روپیہ میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، اسٹیٹ بینک ٓآف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے دوسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 1 روپیہ 23 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔


    اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کا بھاؤ 279 روپے 80 پیسے سے کم ہو کر 278 روپے 57 پیسے ہو گیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.44 فیصد کی بحالی دیکھی گئی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک کی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 1 روپے سستا ہوکر 282 روپے پر آگیا۔ ڈالر کی قیمت 250 روپے سے نیچے آ سکتی ہے، معاشی ماہرین

    علاوہ ازیں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان ہونے والے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے تحت پہلے حصے میں سعودی عرب سے دو ارب ڈالرز موصول ہوئے ہیں، آئندہ چند روز کے دوران چین، قطر، یو اے ای سے بھی اربوں ڈالرز موصول ہوں گے جس کے باعث امریکی ڈالر کی قدر میں مزید گراوٹ دیکھنے کو ملے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے سے بھی جلد 3 ارب ڈالر میں سے پہلی قسط کے ایک ارب ڈالر جلد مل جائیں گے اس طرح پاکستان کی عالمی ادارے کو یقین دہانی بھی پوری ہو جائیگی جس کے مطابق رواں ماہ کے دوران اپنے زر مبادلہ کے ذخائر ہر حال میں 15 ارب ڈالر کرنا ہیں۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 250 روپے سے نیچے آ سکتی ہے۔ جس کے باعث درآمدات کی جانے والی چیزوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئیگی جس میں سرفہرست پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہیں۔

  • آئی ایم ایف کے وفد کی  عمران خان سے ملاقات

    آئی ایم ایف کے وفد کی عمران خان سے ملاقات

    آئی ایم ایف کے وفد نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے زمان پارک لاہور میں ملاقات کی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے وفد اور چیئرمین پی ٹی آئی کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے سے زائد یہ ملاقات جاری رہی ہے اور تحریک انصاف کے اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمودقریشی بھی شریک تھے جبکہ سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے ویڈیو لنک پر آئی ایم ایف وفد کو بریفنگ دی ہے۔


    جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد آئی ایم ایف کا وفد زمان پارک سے روانہ ہوگیا ہے تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل ی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے ٹوئٹ میں بتایاکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات میں ریذیڈنٹ نمائندے ایستھرپیریز نے شرکت کی جبکہ آئی ایم ایف کے کنٹری چیف نیتھن پورٹر نے واشنگٹن سےورچوئل شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف ٹیم سے اسٹاف لیول معاہدے سے متعلق بات چیت ہوئی، آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کےلیے معاہدہ طےکیا ہے، اس تناظر میں ہم مجموعی مقاصد اور کلیدی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں نمائندہ آئی ایم ایف کے مطابق آئی ایم ایف وفد کی جانب سے پاکستان میں سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، ملاقاتوں کا مقصد انتخابات سے پہلے آئی ایم ایف کے نئے سپورٹ پروگرام کیلئے سیاسی جماعتوں کی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے۔

  • آئی ایم ایف ٹیم صرف عمران نہیں بلکہ سب سیاسی جماعتوں سے ملاقات کر رہی

    آئی ایم ایف ٹیم صرف عمران نہیں بلکہ سب سیاسی جماعتوں سے ملاقات کر رہی

    آئی ایم ایف کی ملک کی سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کررہی ہے جبکہ وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے معیشت و توانائی بلال اظہر کیانی نے آئی ایم ایف وفد کی زمان پارک آمد اور حماد اظہر کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا اب آئی ایم ایف سے ملاقات کا جشن صرف آپ جیسے سازشی جھوٹے اور بے شرم جشن منا سکتے ہیں۔ آئی ایم کی ٹیم سب سیاسی جماعتوں سے مل رہی ہے اور کل پیپلز پارٹی سے مل چکی ہے، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان تحریک ِ انصاف سے خاص طور پر اس لیے مل رہی کہ اب دوبارہ معیشت کے ساتھ کوئی کھیل نہ کھیلیں، کوئی سازش نہ کرنا اور کوئی خط نہ لکھنا۔


    جبکہ اس سے قبل سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا تھا کہ تحریک انصاف سے چند روز پہلے آئی ایم ایف کی ٹیم نے رابطہ کیا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی معاہدے کا مسودہ اگلے ہفتے آئی ایم کے بورڈ کے سامنے واشنگٹن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اس سلسلے میں تحریک انصاف سے معاہدے کی حمایت کے لیے درخواست کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے کے درمیان تین ارب ڈالر کا اسٹاف لیول کا اسٹینڈ بائی معاہدہ طے پا گیا ہے ، اس معاہدے کی منظوری رواں ماہ ہونی متوقع ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے چند روز قبل ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 12 جولائی کو پاکستان کو قسط مل جائے گی۔ اس معاہدے کی منظوری سے قبل آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا شامل تھے۔ اس دوران معاہدے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے وسیع تر قومی مفاد میں نئے قرض پروگرام کی حمایت کی یقین دہانی کروا دی اور اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پر عمل درآمد پر اتفاق بھی کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    اس سے قبل ایستر پیریز روئز نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا عملہ جن سیاسی جماعتوں سے ملاقات کررہا ہے اُن میں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے نمائندے شامل ہیں۔ ملاقاتوں کا مقصد نئے قرض پروگرام کے تحت پالیسیوں پر عملدراامد کی یقین دہانی حاصل کرنا ہے۔ قومی انتخابات سے پہلے پروگرام سے متعلق کلیدی مقاصد کے حصول کیلئے حمایت حاصل کی جا رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی  نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی. احسن اقبال

    پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی. احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف معاہدہ کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی لیکن شکر خدا کا معاہدہ طے پاگیا جبکہ انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت گرانے کو 1971 کے سانحے کے برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں پاکستان کا مستقبل چھینا گیا، احسن اقبال کا کہنا تھا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ وزارت خزانہ کی اس ٹیم کی کامیابی ہے جس کی قیادت وزیراعظم نے کی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے آئی ایم ایف سے معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے لابنگ کی لیکن اس کے باوجود موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا، آئی ایم ایف کے معاہدے سے معیشت بہتر ہو گی اور روپے کی قدر مستحکم ہو گی، اگلے چند ماہ میں مہنگائی میں بھی کمی آئے گی، ہم پاکستان کے مسائل حل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سویٹزرلینڈ کے اعلی سطح وفد اگلے ہفتے پاکستان دورے کا امکان
    سعودی شہزادہ طلال بن عبدالعزیز آل سعود سپردخاک
    دو گروپوں میں تصادم، 4 افراد جاں بحق
    دو فریقین کی خونخوار لڑائی میں 14 افراد زخمی،5 کی حالت تشویش ناک
    صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کا بِل واپس لینے کا فیصلہ
    پی ٹی آئی نے 17 رکنی کراچی نگراں کمیٹی کا اعلان کر دیا
    احسن اقبال کا کہنا تھا پاکستان کو 9 بڑے چیلنجز درپیش ہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنے نظام عدل کو مضبوط کرنا ہے کیونکہ جس ملک میں عدل نہیں ہوتا وہاں غیر ملکی سرمایہ کار نہیں آتے، بجلی اور گیس کی چوری سے بھی ملک پر بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے درخواست کی کہ سمندر پار رہنے والے پاکستانی اپنے پیسے بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں بھیجیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا 2018 کی سازش 1971 کے سانحے سے کم نہیں تھی، 2018 میں پاکستان کا مستقبل چھینا گیا۔