Baaghi TV

Tag: IMF

  • آئی ایم ایف سے مختصر مدت کے اسٹینڈ بائی معاہدے کا امکان

    آئی ایم ایف سے مختصر مدت کے اسٹینڈ بائی معاہدے کا امکان

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی مدت ختم ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو تجویز دی ہے کہ بورڈ اجلاس نہ ہو سکے تو پروگرام میں 6 ماہ کی توسیع کی جائے، اسٹینڈبائی معاہدے کا حجم ساڑھے 3 ارب ڈالر کیا جائے تاہم ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نواں جائزہ مکمل نہ ہوا تو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مختصر مدت کا اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان اپنے کوٹے کے ڈھائی ارب ڈالر لے سکتا ہے، پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی مدت ختم ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو تجویز دی ہے کہ بورڈ اجلاس نہ ہو سکے تو پروگرام میں 6 ماہ کی توسیع کی جائے، اسٹینڈبائی معاہدے کا حجم ساڑھے 3 ارب ڈالر کیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فتنے کو تخفظ دینے کے لئے نظریہ عمران استعمال کیا جا رہا ہے،جاوید لطیف
    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 20 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان
    پُرامن ممالک کی فہرست میں پاکستان کونسے نمبر پر؟
    پی آئی اے کی تنظیم نو، اصلاحات اور بحالی کیلئے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل
    مصدق ملک نے تیل ذخیرہ اندوزی کا توڑ پیش کر دیا
    ٹیلی گرام بھی اسٹوریز کا فیچر متعارف کرانے کیلئے تیار

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے آئندہ چند دنوں میں مزید ایک ارب ڈالر اور سعودی عرب سے بھی مزید 2 ارب ڈالر جولائی میں ملنے کی امید ہے۔ تاہم دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، پاکستان نے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے بجٹ میں فیصلہ کن اقدامات کر لیے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی تھی کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر ایک دو دن میں فیصلے کا امکان ہے۔ شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں معاشی صورت حال میں بہتری کے اہداف مشترکہ کوششوں سے حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

  • پاکستان سے معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں.  آئی ایم ایف

    پاکستان سے معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں. آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔ جبکہ سٹاف لیول معاہدےکےلئےآئی ایم ایف کااہم بیان سامنے آ گیا، مشن چیف نے پاکستان کی جانب سے حال ہی میں کی جانے والی کوششوں کا بھرپور اعتراف کیا ہے۔

    نیتھن پورٹر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، پاکستان نےپالیسیوں کو مزید ہم آہنگ بنانے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کیے، پاکستانی معاشی فیصلہ سازی سے قرض پروگرام کے معاملات میں بہتری ہوئی، پارلیمنٹ سےمنظوربجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھنا احسن قدم ہے، ٹیکس آمدن بڑھنے سے پاکستان سماجی شعبے کیلئے فنڈنگ دستیاب ہو سکے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن بڑھنے سےپاکستان میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز مہیا ہو سکیں گے، مانیٹری پالیسی میں سختی سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، فارن ایکسچینج مارکیٹ میں بہتری سےبیلنس آف پیمنٹ کادباؤکم ہو گا، آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کو منگل کو علی الصبح ٹیلی فون کیا۔ وزیراعظم اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے امور پر گفتگو کی۔

    شہباز شریف نے معاشی صورتحال کی بہتری کے اہداف مشترکہ کوششوں سے حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کے نکات پر ہم آہنگی آئندہ ایک دو روز میں آئی ایم ایف کے فیصلے کی شکل اختیار کرے گی۔ منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے وزیراعظم سے پیرس میں ہونے والی ملاقاتوں کے تناظر میں وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کی آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے حوالے سے کوششوں کا اعتراف کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    علی محمد خان پھر دوبارہ گرفتار کرلیئے گئے
    آئی سی سی ورلڈ کپ کا شیڈول جاری،پی سی بی کا بیان سامنے آگیا
    ڈالر کی قیمت مزید نیچے آنے کا امکان
    مہک ملک کی اداکاری میں اینٹری
    استاد صحافت ڈاکٹر مہدی حسن سویلین کا فوجی ٹرائل، چیف جسٹس کیس پر فل کورٹ بینچ بنائیں، جسٹس یحییٰ آفریدی
    پاکستانیوں اورامت مسلمہ کو حج 1444ھ کی مبارک باد دیتا ہوں. وزیر اعظم
    وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کے نکات پر ہم آہنگی آئندہ ایک دو دن میں آئی ایم ایف کے فیصلے کی شکل اختیار کرے گی۔ انہوں نے معاشی صورتحال کی بہتری کے اہداف مشترکہ کوششوں سے حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایم ایف نے وزیراعظم سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری چاہتے ہیں، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے قائدانہ عزم کو سراہا۔

  • بہاولنگر کے شہریوں کا بذریعہ وکیل آئی ایم ایف کو نوٹس

    بہاولنگر کے شہریوں کا بذریعہ وکیل آئی ایم ایف کو نوٹس

    بہاولنگر کے شہریوں نے آئی یم ایف کے خلاف سیشن کورٹ میں بذریعہ وکیل پٹیشن دائر کر دی ہے جبکہ وکیل نے انٹرنیشنل مونیٹرنگ فنڈ کو نوٹس بھی بھیج دیا، جبکہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہم نے یا پھرہمارے خاندان نے آج تک آپ سے قرض مانگا اور ناہی لیا ہے لہذا جنہوں نے آپکے ساتھ قرض کے معاہدے کیئے اب وہی ہی اس ب کے ذمہ دار ہیں.


    مزید کہا گیا کہ آباؤ اجداد قیام پاکستان سے پہلے کے یہاں سے کسی نے بھی قرض کی درخواست نہیں کی تھی اور ناہی ہم نے کی ہے جبکہ وکیل کے ذریعے بھیجے نوٹس میں شہریوں نے کہا ہمیں پندرہ یوم میں تفصیل کے ساتھ جواب دیں کہ ہم شہری کیسے آپ کے قرض دار ہوگئے جبکہ مزید کہا گیا کہ اگر جواب نہ دیا تو آپکے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

    بھیجے گئے نوٹس میں مزید کہا گیا کہ ہمیں ایک ٹی وی پروگرام کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے شہری آپکے قرض دار ہیں جس کے سبب ملک کی معیشت خطرے میں ہے جبکہ اس کیلئے مزید ایک بار پھر مزید قرض مانگا جارہا ہے لیکن ہمارے ورثاء نے نہ زبانی اور ناہی کبھی تحریری طور پر کوئی قرض کی درخواست کی ہے اور آئندہ کوئی کرے لیکن اگر کسی نے ذاتی خواہش پر ایسا تو اس کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کراچی؛ ایسی مویشی منڈی جہاں خریدار اور بیوپاری دونوں خواتین
    ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں اور اکٹھے ہوجائیں. وزیر اعظم
    سعودی گاکا ایویشن سیکیورٹی وفد کا اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کا دورہ
    مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنج
    ویڈیو بیان میں کوئی اشتعال نہیں پھیلایا ،معلوم ہی نہیں کہ لوگ کہاں سے آئے،عمران خان
    عمران خان کا بیانیہ غیر ملکی میڈیا کے سامنے بھی غیر مقبول
    سیکرٹری دفاع کا دفاعی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ
    مسماتہ ستاں بی بی، رفیقاں بی بی، شکیل، جلیل، خلیل اور عقیل طالب وغیرہ کی طرف سے آئی ایم ایف کو بذریعہ وکیل بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم اپنے یا ورثاء کیخلاف یہ قرض کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ جو مسلمان قرض دار مڑتا ہے اس کی بخشش نہیں ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ نوٹس اردو میں لکھا گیا ہے جو انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ لے عالمی ادارے کو طالب حسین جٹ میکن نامی وکیل کی طرف سے بھیجا گیا ہے

  • وزیر خزانہ نے اے آر وائی کی آئی ایم ایف بارے خبر کو مکمل جھوٹ قرار دے دیا

    وزیر خزانہ نے اے آر وائی کی آئی ایم ایف بارے خبر کو مکمل جھوٹ قرار دے دیا

    پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی نے خبر چلائی جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے ایک بیان منسوب کرکے کہا گیا کہ: "آئی ایم ایف سے اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔” جس پر وزیر خزانہ مفتاح سماعیل نے ردعمل دیتے ہوئے کہا: یہ کیسا مکمل جھوٹ ہے اور شرم کی بات ہے کہ اے آر وائی اس طرح کی چیزیں بناتا ہے۔

    برمنگھم میں مقیم ایک پاکستانی محمد نواز نے ردعمل دیتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا کا حوالہ دیکر بتایا: ‏‎پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان آئندہ 3 ماہ میں تیل کی قیمت 28 روپے فی لیٹر اور بجلی 6 روپے فی یونٹ مہنگی کرے گا۔

    پاکستان کی وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث نے ایک انٹرویو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا: پاکستان اور آئی ایم ایف مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان کے مطابق اس پروگرام کی بحالی کے سلسلے میں جلد پیش رفت ہونے والی ہے۔

    دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا : آئی ایم ایف اپنی شرائط میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں اور پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے باوجود بھی آئی ایم ایف نے اب تک معاہدہ جاری رکھنے پر دستخط نہیں کیے.

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah