Baaghi TV

Tag: Imran Khan

  • ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ عطا تارڑ میرے لیے بہت محترم ہیں وہ صحیح بول رہے ہیں ہونگے جوکچھ ان کے کیساتھ ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہیں نہیں کہا بلکہ ایک ڈیوٹی جج گئے انہوں نے کہا کہ واش روم جو اڑھائی تین فٹ کا ہے اس کے بالکل اوپر 6 فٹ پر کیمرہ لگا ہوا ہے، اگر وہ واش روم استعمال بھی کریں تو ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ جج صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا کہ میں جوں ہی گیا تو چیئرمین پی ٹی آئی میرے پائوں پڑ گئےاور کہنا شروع کر دیا کہ مجھے مٹن اور انواع واقسام کے کھانے دو ، میری سپیشل ٹائلیں لگائو، مجھے ڈرائنگ یا فرسٹ کلاس لائونج میں لے جائو، یا میں بہت بڑا کارنامہ کر کے آیا ہوں مجھے اس کا صلہ دو، یا مجھے 3 ہسپتالوں میں لے جائواورمیری تیرہ میڈیکل رپورٹس بنائو۔

    انہوں نے مزید کہا مجھے نواز شریف کی طرح جاتی امرا 8 ہفتوں کیلئے بھیجو، نواز شریف کی طرح لندن بھیجو، انہوں نے شہباز شریف کی طرح جج کے سامنے نہیں کہا کہ میری دو شکائتیں ہیں، یا پھر سعد رفیق طرح نہیں کہا کہ انڈہ کچا تھا، سلائس ٹھنڈا تھا، اور نہ ہی انہوں نے آصف علی زرداری کی طرح مساجر چیئر مانگی ہے جبکہ ہم نے پھر بھی سیکھنا نہیں ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جو کیا وہ بھگتیں،اگر انہیں سزا ہوئی ہے تو عدالتیں سزا کو ختم کریں گی۔

    ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ نے جو کہا کہ ان کیساتھ غلط ہوا، میں ان کیساتھ ہوں بالکل نہیں ہونا چاہیےتھا لیکن مجھے بتائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا کہا تھا؟ میں اے سی اور ٹی وی اتروا دوں گا اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں اے سی اور ٹی وی لگے ہوئے تھے، گھر سے طرح طرح کے کھانے آرہے تھے۔ جبکہ سینئر تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس ملک میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جن کے بدتر حالات ہیں، انہیں سردرد کی گولی تک نہیں ملتی، میں نہیں کہتا چیئرمین پی ٹی آئی کو سہولیات دیں لیکن اتنا تو کریں کہ جب وہ کسی واش روم میں جائیں تو سامنے کیمرا لگا ہوا نہ ہو۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    نجی ٹی وی کے مطابق سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ میں عطا تارڑ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کے کی طرف سے کہ ان کے فائدہ کیلئے آپ نے نیب قوانین میں ترمیم کی، شکریہ آپ نے اپنے گھر کے سارے پیسے لگا کر موٹرویز بنائیں، شکریہ اس کیلئے بھی کہ آپ نہ ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو ،غلام اسحاق خان، ڈاکٹر عبد القدیر، ثمر مند مبارک اور باقی ہزاروں خاموش مجاہدین ہیں ان کا تو کوئی کام ہی نہیں تھا اصل کام تو آپ نے کیا ہے، آپ نے دھماکے کیے آج ہم ناقابل تسخیر ہو گئے ہیں۔ جبکہ ارشا بھٹی نے مزید کہا کہ اس کیلئے بھی شکریہ ہے کہ آپ نے نیب ختم کیا جلد ہی آپ بزنس کی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، آپ نے بہت اچھا سسٹم سیٹ کیا،زرداری ،مولانا صاحب اور آپ سارے ملے، اور اس ملک کو آپ نے بدترین حکومت دے کر ریکارڈ مہنگائی اور ریکارڈ بیروزگاری،ریکارڈ غربت دے کرآج آپ لندن میں بیٹھے ہیں اور یقینا ہمارے لیے سوچ رہے ہوں گے، شکریہ اس کیلئے بھی آپ نے نااہلی ختم کروائی اور آئین کو دھوکہ دیا،سپریم کورٹ کے فیصلوں کو دھوکہ دیا،پارلیمنٹ اور عوام کو دھوکہ دیا۔

  • عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے. سرفراز بگٹی

    عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے. سرفراز بگٹی

    نگراں وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سانحہ نو مئی پر ریاست اپنے طور پر پاکستان تحریک انصاف سے منسلک شواہد جمع کررہی ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں لگا ہے جبکہ عمران خان سائفر کیس میں گرفتار نہیں ہیں۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی چیئرمین پی ٹی آئی ملزم ہیں یا مجرم جبکہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا لیکن 9 مئی حملہ منظم سازش تھی، ریاست اپنے طور پر 9 مئی پر پی ٹی آئی سے منسلک شواہد جمع کررہی ہے، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اپنے طور پر کام کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سائفر سے متعلق دنیا بھر میں پاکستان کا تماشا لگایا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کیس میں گرفتار نہیں ہیں، سکیورٹی کے پیش نظر عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا ہے علاوہ ازیں سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں 4 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ حکومت پنجاب نے چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے بیت الخلا کا انتظام کیا ہے، ”عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    نگراں وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی گئی ہیں، وکلا کی جیل میں ملاقات ہوتی ہے، انھیں پڑھنے کیلئے کتابیں بھی دی گئی ہیں، وکلا کی ملاقات کم ہوسکتی ہے مگر ملاقات سے منع نہیں کیا گیا تاہم آئندہ عام انتخابات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے، یہ مینڈیٹ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اسے دیا ہے، اتفاق رائے ہے کہ حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات ہوں۔ خیال رہے کہ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حلقہ بندیاں ضروری ہیں، حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن ہونے چاہئیں، جب تک حلقہ بندیوں کا معاملہ حل نہیں ہوتا الیکشن نہیں ہونگے، لگتا ہے کہ 7 یا 8 ماہ میں عام انتخابات ہو جائیں گے۔

  • صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ صدر مملکت ایکس پوسٹ نہ کرتے تو بہتر ہوتا کیونکہ انہیں معاملہ قانونی طریقے سے اٹھانا چاہئے تھا جبکہ صدر مملکت کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے اور دیکھنا ہوگا کہ صدر مملکت ردعمل نہ دیں تو کیا ہوگا، بل پر صدر کے ردعمل نہ دینے پر آئین بھی خاموش ہے اور صدر مملکت اپنے عملے کو تبدیل کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عارف علوی نئے صدر کے آنے تک عہدے پر رہ سکتے ہیں، صدر مملکت کی مدت میں توسیع کی نظیر نہیں ملتی جبکہ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بحث نہیں ہوئی، بہت سے بلز عجلت میں پاس کرائے گئے، بلز کی منظوری کیلئے کوئی دباؤ یا مخالفت نظر نہیں آئی۔ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عجلت میں قانون سازی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات 90 دن میں نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے کہ ساڑھے 4 ماہ درکار ہیں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حلقوں میں وسیع تبدیلیاں آئیں گی، اصل مسئلہ حلقہ بندیوں کا ہے، دسمبر میں الیکشن ہوئے تو 35 نشستیں سردی سے متاثر ہوں گی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پرانی مردم شماری پر الیکشن کرنا بھی درست نہیں تھا، 5 سال بعد نئی مردم شماری کرانے کا وقت آجائے گا، مردم شماری کی تاخیر سے منظوری میں بدنیتی نہیں ہے، پی ٹی آئی دورمیں نئی مردم شماری پر الیکشن کا فیصلہ ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن کے قریب واپس آنا چاہئے، ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ اپنا جگہ قائم ہے، شہباز شریف بتائیں گے کہ الیکشن مہم میں بیانیہ کیا ہوگا، مہنگائی کا بوجھ ن لیگ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر کیمروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرک میں کیمرے لگانا زیب نہیں دیتا، بیرک میں سیکیورٹی دینی ہوتی ہے، جیل مینول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں، سہولیات کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔

  • پی ٹی آئی کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت پر پی ٹی آئی کا ردعمل آگیا ہے جس میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    جبکہ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پی ٹی آئی کور کمیٹی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے خود کو مقدمے کی سماعت سے فوری علیٰحدگی اور معاملہ کسی دوسرے بنچ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانون و انصاف کو محض ایک مذاق اور عدالت کو تماشہ بنا دیا، وہ چیف جسٹس کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں کور کمیٹی تحریک انصاف نے کہا کہ معاملے کو التواء میں ڈالنے کا واحد مقصد چیئرمین عمران خان سے روا رکھے جانے والے انتقام و تشدد کے سلسلے کا دوام ہے، چیف جسٹس آف پاکستان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے اندازِ فیصلہ سازی کا نوٹس لیں جبکہ کور کمیٹی تحریک انصاف نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کیخلاف سپریم جیوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    سابق وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ ہاؤس پہنچے ہیں، جبکہ اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو بیان دیا ہے اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیئے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جس بل کو چیک کرتے ہیں اس پر دستخط بھی کرتے ہیں، اس میں زبانی کلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو زبانی کلامی بات نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت صاحب نے اتنے دن انتظار کیوں کیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلوں پر دستخط نہ کرنے والا معاملہ اتنا آسان نہیں، اس پر صدر عارف علوی کو جواب دینا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آرمی اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی۔ اور پھر آج صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔

  • عمران خان کو تمام سہولیات میسر، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب

    عمران خان کو تمام سہولیات میسر، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب

    ایڈیشنل سیشن جج اٹک کی جانب سے جاری کردہ ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے دورے کی رپورٹ کے متعلق ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے وضاحت جاری کی ہے جس میں ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو پاکستان پریزنز رولز 1978 کے رول 257 اور 771 کے مطابق تمام تر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

    مزید کہا گیا ہے چئیرمین پی ٹی آئی کے لئے انکے کمرے میں بروز ہفتہ نیا واش روم تعمیر کیا گیا ہے اور واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی لگائے گئے ہیں جبکہ واش روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم ، ائیر فریشنر ، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں علاوہ ازیں واش روم کی دیواریں 5 فٹ اونچی رکھی گئی ہیں اور باتھ روم کو نیا دروازہ لگایا گیا ہے۔

    وضاحت کے مطابق چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، بیڈ میٹرس ، میز ، کرسی ، ائیر کولر ایگزیکٹ فین ، فروٹ ، شہد ، کھجوریں ، جائے نماز انگریزی ترجمے کے ساتھ قران مجید ااور مطالعہ کیلئے ایک درجن کے قریب کتابیں ، چائے تھرماس ، اخبار اور ٹیشو پیپر موجود ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی منگل کے روز فیملی اور جمعرات کے روز وکلاء سے قانون کے مطابق ملاقات کرائی جاتی ہے۔ جبکہ عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے پانچ ڈاکٹر تعینات کئے گئے ہیں۔ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی پر ایک ڈاکٹر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسپیشل خوراک دی جاتی ہے ، جسے ڈاکٹر کی چیکنگ کے بعد سپیشل ٹیم کے ذریعے مہیا کیا جاتا ہے۔ اور چئیرمین تحریک انصاف اور جیل سیکیورٹی کے لئے انکے کمرے کے باہر برآمدے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔

  • خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    خلاف ورزی پر پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    راولپنڈی میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کارکنان کے خلاف ریلی نکالنے پرمقدمہ درج کرلیا گیا ہے دوسری طرف انسداد دہشت گردی عدالت نے یونین کونسل 18 کے چئیرمین سجاد حیدر کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا جبکہ تھانہ وارث خان میں درج مقدمے میں طلحہ، راجہ ناصر محفوظ، علی، عرفان، حماد بٹ، فرہاد بٹ، شرجیل عثمان اور عبدالمعیز کو نامزد کیا گیا۔ مقدمے میں آٹھ افراد کو نامزد کرنے کے علاوہ 15 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا۔

    جبکہ مقدمے کے متن کے مطابق کارکنوں نے لیاقت باغ سے فیض آباد تک موٹرسائیکل ریلی نکالی اور ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔ پولیس کے مطابق ریلی میں ریاست مخالف نعرے بازی کی گئی، کارکنوں نے کار سرکار میں مداخلت اور دفعہ 188 کی خلاف ورزی کی۔تاہم دوسری طرف راولپنڈی میں نو مئی کے پر تشدد واقعات میں ملوث مرکزی ملزم یونین کونسل 18 کے چئیرمین سجاد حیدر کو گرفتار کرکے تھانہ نیو ٹاون منتقل کردیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    برادر ممالک کے باہمی فائدے کیلئے تعلقات مزید فروغ دینے کی ضرورت. ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ

    ذرائع کے مطابق ملزم 9 مئی کو شمس آباد میں حساس ادارے کے دفتر کے گیٹ پر حملے کے بعد سے روپوش تھا۔ تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے سجاد حیدر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے سجاد حیدر کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ حملے کا مقدمہ تھانہ نیوٹاون میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہے۔

  • عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    تحریک انصاف کے سینئر وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے یا تو اس بل کو پاس کر دیں یا بغیر دستخط کیے واپس بھیج دیں۔ جبکہ شعیب شاہین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کہ صدر نے ٹویٹ سے واضح کیا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو واپس بھجوایا جائے، صدر مملکت کےا سٹاف نے انہیں بتایا بل واپس بھجوا دیئے گئے ہیں، صدر مملکت نے بل پر دستخط ہی نہیں کیے تھے، پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 75 کی رو سے یہ خلاف آئین ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے، صدر پاکستان نے اپنے ٹویٹ کےذریعے واضح کیا عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے،اس طرح قانونی طور پر ان دونوں بلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بل پاس کروانے یا واپس بھجوانے کا طریقہ آئین میں واضح ہے، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی مشاورت سے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے۔

    تاہم انکا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کی تصدیق کے بغیر بل پاس کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اصل سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہوتا ہے ، دوسری کاپی نہیں ہوتی۔ شعیب شاہین نے مزید کہا ہے کہ سائفر کوڈڈ شکل میں وزیراعظم، صدر اور آرمی چیف کو بھیجا جاتا ہے، اس کے بعد کیبنٹ کے پاس سائفر کو ڈی کلاسیفائیڈ کیا جاتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اس سائفر پر ڈی مارش کا حکم دیتی ہے۔

  • سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے  ملاقات متوقع

    سابق وزیر اعظم کی نواز شریف سے ملاقات متوقع

    مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے اور وہاں قائد مسلم لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات اور ان کی وطن واپسی کے حوالے سے مشاورت کے لئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف لندن پہنچ گئے جبکہ ذرائع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو بھی لندن طلب کیا ہے جو آئندہ دنوں میں پہنچیں گے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں قائدین کی ملاقات میں نواز شریف کی وطن واپسی سمیت دیگر ملکی سیاسی امور پرتبادلہ خیال کیا جائے گا اور آئندہ انتخابات میں اتحادی جماعتوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم میاں شہباز شریف پرائیوٹ ائیر لائن کے ذریعےلندن چلے تھے شہباز شریف کی نواز شریف سے آج رات لندن میں ملاقات متوقع ہے۔ جبکہ اس سے قبل نجی ٹی وی نے فیملی ذرائع کے مطابق دعویٰ کیا تھا کہ ان کے اہل خانہ میں سلیمان شہباز بھی شامل ہیں، سابق وزیراعظم شہباز شریف براستہ قطر لندن روانہ ہوئے ہیں۔

    فیملی ذرائع نے ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو تصدیق کرائی ہے کہ سابق وزیراعظم ستمبرکے وسط تک برطانیہ میں قیام کرینگے۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شہبازشریف اپنے اوراہلیہ کےعلاج کیلئے لندن جارہے ہیں، شہباز شریف لندن میں اپنا پہلے سے شیڈول چیک اپ کرائیں گے، شہباز شریف لندن قیام کے دوران پارٹی کی معمول کی سیاسی سرگرمیاں بھی دیکھیں گے۔

    پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سینئر نائب صدر ن لیگ مریم نواز پارٹی کی سیاسی مہم جاری رکھیں گی، نوازشریف کی وطن واپسی کا فیصلہ شہباز شریف اور سینئرقیادت ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریگی۔ جبکہ نواز شریف کی وطن واپسی تک مریم نواز پارٹی کی انتخابی مہم چلائیں گی، ستمبر کے پہلے ہفتے میں ن لیگ کی سینئر رہنما بھی نواز شریف سے ملنے لندن روانہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال، اسحاق ڈار، خواجہ آصف، عطاتارڑ اور ایاز صادق کی لندن روانگی متوقع ہے۔

  • صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل  قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

    احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

    تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔