Baaghi TV

Tag: Imran Khan

  • اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    کراچی: پاکستان کے مشہور گلوکار اور اداکار علی ظفر نے پی ایس ایل 8 کے ترانے پر اپنا ردِعمل دے دیا۔پی ایس ایل کےمشہور ترانے’سیٹی بجے گی اسٹیج سجے گا‘ کے گلوکار علی ظفر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہےجس میں انہیں پی ایس ایل 8 کےترانے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    علی ظفر سے سوال کیا گیا کہ ہر پی ایس ایل ترانے کے بعد لوگ علی ظفر کو کیوں یاد کرتےہیں؟ جس کے جواب میں گلوکار کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کا پیار ہے، پی ایس ایل 8 کا ترانہ ابھی ریلیز ہی ہوا ہے، ہمیں اسے کچھ وقت دینا چاہیے۔

    علی ظفرنے پی ایس ایل 8 کے ترانے کے گلوکاروں عاصم اظہر، شے گل اور فارس شفی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان تینوں کے مداح ہیں وہ جو بھی چیز کرتے ہیں اچھی ہوتی ہے۔پی ایس ایل 8 کے ترانے کے بارے میں علی ظفر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک اسے باقاعدہ طور پر سُنا نہیں ہے مگر انہیں اُمید ہے کہ اچھا ہی ہوگا۔

    ساتھ ہی علی ظفر نے عوام کی محبت اور ترانے کیلئے ان کی خواہش پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان سُپر لیگ کے آٹھویں سیزن کا آغاز ہو چکا ہے اور اس مرتبہ سپر لیگ کا آفیشل ترانہ پسوڑی گرل شے گل، عاصم اظہر اور فارس شفی نے گایا ہے جو مداحوں کو خاص متاثر نہیں کر سکے تاہم مداح اب بھی علی ظفر کے گائے ہوئے ترانے کو پسند کرتے ہیں۔

  • نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    نیب ترامیم کیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت 21 فرفوی تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی،دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب قانون کے ساتھ کیا واضح نہیں ہے کہ کیسز منتقل ہو کر کہاں جائیں گے؟۔

    وفاقی حکومت کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ چئیرمین نیب کی سربراہی میں کمیٹی ہے جو کیسز کی متعلقہ فورمز پر منتقلی کا معاملہ دیکھ رہی ہے، برطانیہ میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاملے کا فیصلہ نا کرنا ہو تو اس کو کمیٹی میں بھجوا دیں، نیب آرڈیننس 2019 کے تحت 41 افراد بری ہوئے تھے۔

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کیس میں عدالت خود کو 2022 کی نیب ترامیم تک ہی محدود رکھے گی۔

    حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عمران خان کی درخواست میں حقائق درست انداز میں نہیں بتائے گئے، درخواست میں پٹشنر کو نیب ترامیم کا آئین کی شقوں سے متصادم کے متعلق بتانا ہوتا ہے، عمران خان کی درخواست میں ٹوٹل 47 قانونی سوالات ہیں، ان 47 قانونی سوالات میں صرف 4 میں نیب ترامیم کے ساتھ آئینی شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کے درخواست میں پہلے دو سوالات ضیا اور مشرف دور کے ریفرنڈم والے ہیں، نیب ترامیم کی درخواست میں 21 قانونی سوالات دراصل سوالات ہی نہیں ہیں، درخواست کے ان 21 سوالات میں کسی نیب ترامیم یا بنیادی حقوق کا حوالہ نہیں دیا گیا-

    دلائل میں وکیل نے مزید کہا کہ درخواست کے 16 سوالات میں نیب ترامیم کا حوالہ دیا گیا پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں بتائی گئی، درخواست میں 6 سوالات میں بنیادی حقوق بتائے گئے مگر نیب ترامیم نہیں درج کی گئیں، عمران خان نے درخواست میں امپورٹڈ سازش کا ذکر بھی کیا ہے، پچھلے کچھ دنوں کے اخبارات کے مطابق اب یہ امپورٹڈ سازش بھی ایکسپورٹڈ سازش بن چکی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے تو عمران خان کی درخواست کا فارنزک آڈٹ کر دیا ہےکیس کو جلد ختم کرنا چاہتےہیں، بہت سے اہم معاملات غور طلب ہیں ،کیس کی سماعت 21 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

    واضح رہے کہ خیال رہے کہ گزشتہ سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

    نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔

    قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔

    مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔

  • طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    طاقتورکو قانون کےنیچےلانے کی بڑھکیں لگانےوالا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے،مریم نواز

    لاہور: حفاظتی ضمانت کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کے لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کا کہنا ہے کہ طاقتور کوقانون کے نیچے لانے کی بڑھکیں مارنے والا عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: مریم نواز نے ٹوئٹر پربیان میں کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کا عدالت میں قانون کے سامنے پیش نہ ہونا اس ملک کے نظام عدل اور انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔


    اپنے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے، طاقتور کو قانون کے نیچے لاؤں گا کی بڑھکیں لگانے والا اس ملک کی عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے اور سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جنگل میں بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔

  • حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    حفاظتی ضمانت کیس: حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط،معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا.لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے حلف نامے اور وکالت نامے پر عمران خان کےمختلف دستخط کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی:اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا جسٹس طارق سلیم شیخ کے روبرو پیش ہوئے، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا،عدالتی مہلت گزر گئی لیکن عمران خان لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ ہوئے، حفاظتی ضمانت کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق ہدایات لے کر آرہے ہیں، کچھ وقت دے دیں جس کے بعد عدالت نے سماعت میں دوسری مرتبہ وقفہ کردیا اور سماعت کے لیے 2 بجے کا وقت مقرر کردیا۔

    2 بجےعمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل اظہر صدیق اور معالج ڈاکٹر فیصل سلطان عدالت میں پیش ہوئے وکیل اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ایک اور درخواست ضمانت دائر ہوئی ہے، ڈاکٹر سے میٹنگ ہوئی ہے، عدالت کے حکم پر عمل کے لیے تیار ہیں، ڈاکٹر طارق سلطان یہیں ہیں۔

    جسٹس طارق سلیم کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونہیں سننا شرط ہے کہ عمران خان پہلے عدالت میں پیش ہوں وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ دوسری درخواست ضمانت کا انتظار کرلیں اس پر عدالت نےکہا کہ اس کے انتظار کی ضرورت نہیں، آپ موجودہ درخواست پر دلائل شروع کریں۔

    جسٹس طارق سلیم نے عمران خان کے وکیل اظہر صدیق سے مکالمہ کیا کہ ابھی ایک مسئلہ ہے، درخواست، حلف نامے اورآپ کے وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط مختلف ہیں، دستخط کیسے مختلف ہوگئے۔

    عدالت کے استفسار پر وکیل نے کہا کہ مجھے وقت دیں، دیکھ لیتا ہوں، اس پر عدالت نے کہا کہ آپ ابھی دیکھ لیں،کسی نے یہ فراڈکی کوشش کی ہے، اس میں آپ کویا عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس دوں گا۔

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ میں موجودہ درخواست ضمانت واپس لینا چاہتا ہوں،عدالت نے عمران خان کے وکیل کی درخواست واپس لینے کی استدعا رد کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ درخواست واپس لینےکی اجازت نہیں دوں گاجب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔

    عدالت کےریمارکس پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دستخط مختلف ہونے پر جواب کے لیے وقت مانگ لیا جس پر عدالت نے کہا کہ معاملہ سنجیدہ ہے، نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس درخواست کو التوا میں رکھ رہے ہیں۔

    عدالت نے سماعت 4 بجے تک ملتوی کردی۔

  • عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ مملکت عارف علوی کو خط لکھا ہے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے صدرمملکت عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عوامی سطح پر نہایت ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔ منظر عام پر آنے والی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ اپنے حلف کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو ئے ہیں جنرل باجوہ نے صحافی سےاعتراف کیا کہ ’ہم عمران خان کو ملک کےلیےخطرہ سمجھتے تھے‘، جنرل باجوہ نےیہ بھی اعتراف کیا کہ ’عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو نقصان ہو گا‘ تحقیق کی جائے کہ جنرل باجوہ کے استعمال کیے گئے اس ’ہم‘ سے کیا مراد ہے؟

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    عمران خان نے صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ منتخب وزیرِ اعظم سے متعلق فیصلہ کریں، فیصلہ صرف عوام کا ہے کہ وہ کسے وزیرِ اعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں، جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین کے آرٹیکل 244 اور آئین میں تیسرے شیڈول میں درج حلف کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنی گفتگو میں نیب کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے شوکت ترین کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کرایا، جنرل باجوہ کا یہ دعویٰ بھی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے، آئین کے تحت افواجِ پاکستان وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈپارٹمنٹ ہے، آئینی نظم کے تحت سویلین حکام یا خود مختار ادارے فوج کے ماتحت نہیں۔

    عمران خان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی وزیرِ اعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز آرمی چیف کے حلف کی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس سوال کا جواب اہم ہے کہ جنرل باجوہ کیوں اور کس حیثیت و اختیار سے خفیہ بات ریکارڈ کرتے تھے۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ پر حکومت کی غیر جانبداریت کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی جنرل باجوہ نے اپنےحلف کےتقاضوں کو پامال کیا، انہوں نے 2 اپریل 2022ء کو سیکیورٹی کانفرنس میں روس و یوکرین جنگ پر حکومتی پالیسی سے متضاد مؤقف اپنایا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نشاندہی کر دوں کہ معاملے پر حکومتِ پاکستان کی پالیسی کو وزارتِ خارجہ اور متعلقہ ماہرین سمیت تمام فریقین میں مکمل اتفاقِ رائے سے مرتب کیا گیا، آئین کا چیپٹر دوم اور خاص طور پر آرٹیکل 243، 244 افواجِ پاکستان کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

    صدر عارف علوی سے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونے کے ناتے آپ کی آئینی ذمے داری ہے کہ آپ معاملے کا فوری نوٹس لیں، تحقیقات کے ذریعے تعین کیا جائے کہ آیا آئین کے تحت آرمی چیف کے حلف کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں؟-

    جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حلف کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی صدر مملکت کو ارسال کر دی گئیں۔

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

  • خیبرپختونخوا: ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے

    خیبرپختونخوا: ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے

    پشاور: خیبر پختونخوا میں ضمنی انتخابات سے قبل پولیس میں اعلیٰ سطح کے تبادلے شروع ،22 ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز تبدیل کردیے گئے-

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق ظہور بابر آفریدی کو ڈی پی او مانسہرہ تعینات کیا گیا ہے جبکہ ڈی پی او شانگلہ محمد عمران کا تبادلہ کرم میں کر دیا گیا ڈی پی او لوئر چترال ناصر محمود کو ڈی پی او نوشہرہ تعینات کیا گیا ہے –

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    اسی طرح ڈی پی او نوشہرہ محمد عمر خان گنڈا پور کو ڈی پی او ہری پور تعینات کرنے کے احکامات جاری ہوئے ہیں علاوہ ازیں ڈی پی او چارسدہ بھی تبدیل کردیے گئے ہیں –

    علاوہ ازیں صاحبزادہ سجاد کو ڈی پی او شانگلہ تعینات کیا گیا ہے اور گریڈ 18 کے محمد ایاز کو ڈی پی او مہمند تعینات کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہونے جارہے ہیں جس کے لیے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    فہرست کے مطابق این اے 4 سوات سے 9 امیدوار ، اے این 38 ڈی آئی خان سے 13، این اے 17 ہری پور سے 8، این اے 18 صوابی سے 11، این اے 31 کوہاٹ سے 9، این اے 25 نوشہرہ سے 9، این اے 43 خیبر سے 10 امیدوار سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں قومی اسمبلی کی خالی نشتوں پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف سے مستعفی ارکان اسمبلی دوبارہ میدان میں آئے ہیں، جن میں مرادسعید، اسد قیصر، پرویزخٹک، شہریار آفریدی، پیر نورالحق قادری، عمر ایوب اور عمران خٹک شامل ہیں جو ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ابتدائی فہرست کے مطابق پرویزخٹک کے بیٹے اسماعیل خٹک نے بھی کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر سے باپ بیٹا شاہ جی گل آفریدی اور بلاول آفریدی بھی امیدوار ہیں جب کہ کوہاٹ سے چچا بھتیجا بابر عباس آفریدی اور بابر عظیم آفریدی بھی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

    ایف نائن پارک میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے 2 ملزمان ہلاک، پولیس ذرائع

  • آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    آمدن سے زائد اثاثہ جات :عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور

    لاہور: احتساب عدالت لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: احتساب عدالت لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی احتساب عدالت کی ایڈمن جج عظمیٰ اختر چغتائی نے درخواست پر سماعت کی۔

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گرفتاری کے خوف سے عبوری ضمانت آج صبح دائر کی تھی جس میں عثمان بزدار نے موقف اپنایا کہ پہلے نیب نے کہا تھا کہ عثمان بزدار کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے اور اب نوٹس بھیج دیا ہے۔

    عثمان بزدار نے استدعا کی کہ نیب نے مجھے کال اَپ نوٹس بھیج دیا ہے جس پر گرفتاری کا ڈر ہے لہٰذا عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

    عدالت نے نیب کو 27 فروری تک گرفتاری سے روکتے ہوئے عثمان بزادر کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر نیب حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ نیب لاہور نے کرپشن سمیت دیگر الزامات میں عثمان بزدار کو آج پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا۔

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

  • عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

    لاہور: اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت (اے ٹی سی) سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت پر وقفہ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عمران خان کی حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی، ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عمران خان کی جانب سے اپنا وکالت نامہ جمع کرایا۔

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز سے میٹنگ چل رہی ہے، سکیورٹی پر پارٹی تحفظات ہیں،2 گھنٹے میں پوری کوشش ہےکہ عمران خان کسی طرح پہنچ سکیں۔

    عمران خان کے وکیل کی درخواست پر عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا۔

    خیال رہےکہ گزشتہ روز انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جواد عباس نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج سے متعلق کیس میں عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کردی تھی ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی تھی-

  • عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    عمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آجائیں

    لاہور: ماہر قانون جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا ہے کہ اگرعمران خان چل نہیں سکتے تو ویل چیئر یا اسٹریچر پر عدالت آسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ عمران خان کی عدالت میں حاضری لازمی ہے، ورنہ انہیں ضمانت نہیں مل سکتی قانون سب کیلئے برابر ہوتا ہے، عمران خان اپنے اصولوں کے خلاف جا رہے ہیں۔

    جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں انہیں خود عدالت آنا چاہیے، اب عمران خان کیلئے کوئی بچت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو پیشی کے بغیر حفاظتی ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ عمران خان متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتےہیں، میڈیکل کے مطابق تین ہفتے تک عمران خان چل پھر نہیں سکتے لہٰذا میڈیکل گراؤنڈ پرحفاظتی ضمانت دےدیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ حفاظتی ضمانت کا قانون کیا ہے؟حفاظتی ضمانت میں ملزم کی پیشی ضروری ہے، زیادہ مسئلہ ہے تو ایمبولینس میں آ جائیں، قانون سب کیلئے برابر ہے، اصولی طورپر مجھے یہ درخواست خارج کردینی چاہیے لیکن رعایت دے رہا ہوں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عبوری ضمانت کے لیے عمران خان کو آج صبح 9 بجے تک عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دے دی ہے۔ اس سے قبل ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے گزشتہ رات 8بجے تک کا وقت دیا تھا تاہم عمران خان عدالت میں پیش نہ ہوئے ہیں۔

    عدالت نے گزشتہ روز رات کو سوا آٹھ بجے دوبارہ کیس کی سماعت کی جس میں عمران خا ن کے وکیل نے ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو ڈاکٹر نے چلنے سے منع کیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے ہیں۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ہم نے عمران خان کو چلنے کے لیے نہیں کہا ہے۔ اگر عمران خان چل نہیں سکتے ہیں تو سٹریچر پر عدالت آجائیں۔ اور ایمبولینس تو انکی اپنی ہے۔ اس موقع پر وکیل کی جانب سے عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی بھی درخواست کی گئی جو کہ عدالت کی جانب سے مسترد کردی گئی۔

    عدالت میں عمران خان کے دیگر وکلا میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ بھی پیش ہوئے اور بولنا چاہا تو ان کو جسٹس طارق سلیم شیخ نے روک دیا اور کہا کہ یہ ٹاک شو نہیں ہے اور عمران خان کی جانب سے پیش ہونے والے دیگر وکلا کو حکم دیا کہ آپ قانون پیش کریں۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ میری درخواست حفاظتی ضمانت کی ہے۔ ڈاکٹر نے عمران خان کو اجازت نہیں دی ہے، وہ زخمی بھی ہیں اور سکیورٹی ایشو بھی ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ اگر آپ اس کو واپس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں۔ عدالت نے کہا کہ سکیورٹی میں دلا دیتا ہوں۔

  • بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    بالآخر جمائما گولڈسمتھ نے بھی مان لیا کہ ٹیریان عمران خان کی ناجائز اولاد ہے

    آخرکار عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور دو بیٹوں کی مان جمائما خان نے ڈیلی میل کو انٹرویو میں مان لیا ہے کہ ٹیریان دراصل عمران خان کی بیٹی ہے جو ان کی ایک گرل فرنڈ سے ہے۔ تاہم اس حوالے سے اب سوشل میڈیا پر عمران خان پر کافی تنقید کی جارہی ہے کہ جمائما کا انٹرویو عمران خان کیلئے کافی ہے جبکہ یہ انٹرویو عمران نیازی پر وزیرآباد حملے کے بعد کا ہے۔

    ڈیلی میل کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان نے کہا کہ جب ان کو عمران خان پر حملے بارے فون کال پر بتایا گیا تو وہ ان کے بچوں بارے پریشان ہوگئی اور ان کا دھیان قاسم اور سلیمان کے ساتھ اس لڑکی ٹیریان کی طرف بھی گیا جو عمران خان کی ان کی گرل فرینڈ سے ناجائز اولاد ہے.


    تاہم عمران خان کے ناقدین کا خیال ہے کہ جمائما خان کا یہ انٹرویو اس کیس کیلئے بھی کافی ہے جو اس بارے میں اسلام آباد کی عدالت میں چل رہا ہے کہ تاہم اس بارے میں عمران کے حامی یہ دفاع کررہے ہیں کہ یہ انٹرویو جو ہے وہ واقعی جمائما نے دیا مگر ایسی بات انہوں نے نہیں کہی بلکہ اخبار نے ہیڈ لائٹ کے نیچے سب ہیڈ لائن میں لکھی جو بطور تعارف شاید لکھی گئی تھی،
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بچی کی مبینہ خودکشی؛ اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے
    برطانوی ائیرلائن نے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن بند کردیا
    نگران حکومت نے تونسہ شریف کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا گیا
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    لیکن سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اب اس میں پہلے بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ عمران خان کا اس بارے دفاع کیا جائے کیونکہ ان کی ویڈیوز اور آڈیوز بھی اب تو لیک ہوچکی ہیں لہذا اس ناجائز اولاد جس کو عمران تسلیم نہیں کرتے مگر یہ ایک حقیقت ہے.