Baaghi TV

Tag: Imran Khan

  • تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں،وکیل الیکشن کمیشن

    لاہور :الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسٹس جواد حسن نے درخوست پر سماعت کی آئی جی اور چیف سیکریٹری پنجاب لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے-

    چیف سیکریٹری نے کہا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں،عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گی عملدرآمد کے پابند ہیں، عدالت نے کہا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری سے ہمیں یقین دہانی چاہیے تھی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذرت کر لی وکیل نے کہا کہ جوڈیشری،چیف سیکریٹری، فنانس سب نے معذرت کرلی ہے، الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے، کیس صرف تاریخ سے متعلق ہے،تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں کیس میں فریق نہیں بنایا جاسکتا-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے،کیس میں صدر مملکت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا ،عدالت نےکہا کہ ایسا آرڈر جاری نہیں کریں گے جس پر عملدرآمد نہ کرا سکیں،درخواست میں وفاقی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا جس نے فنڈز جاری کرنے ہیں-

    وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ سے رابطہ کیا انہوں نے ججز دینے سے انکار کر دیا ،ملک میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر الیکشن کروانا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کو 40 بلین کی رقم مانگے کے باوجود ضمنی الیکشن کے لیے جاری نہیں کی گئی-

    جسٹس جواد حسن نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کے لیےا سٹاف بھی چاہیے ہوتا ہے،جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک دن نہ ہوں تو شفاف الیکشن نہیں ہو سکتے-

    گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست میں فیڈریشن اور وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق نہیں بنایا گیا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کرے تو پھر گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے، اگر گورنر اس پراسس کا حصہ نہ بنے تو پھر گورنر الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے ،کیس میں گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے، اس لیے الیکشن کی تاریخ دینے کا پابند نہیں-

    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے ، صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد از نماز جمعہ سنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 14 جنوری کو وزیر اعلیٰ کی جانب سے سمری پر دستخط کرنے کے 48 گھنٹے مکمل ہونے پرپنجاب کی صوبائی اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی تھی اس کے بعد گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے سے گریز کیا تھا۔

    چنانچہ پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا بیرسٹر علی ظفر کی وساطت سے دائر درخواست میں گورنر پنجاب کو بذریعہ سیکریٹری فریق بنایا گیا۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے فوری بعد گورنر کو الیکشن کا اعلان کرنا ہے، گورنر پنجاب الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہے جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے، 10 روز سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور گورنر پنجاب کی جانب سے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ گورنر اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائی کورٹ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے گورنر کو ہدایات جاری کرے۔

  • توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    توشہ خانہ کے بعد احتجاج کیخلاف کیس: آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت

    باغی ٹی وی: سیشن کورٹ اسلام آبادمیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلےکے بعد احتجاج کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جج راجہ جواد عباس حسن نے کیس کی سماعت کی جس میں عمران خان کی جانب سے وکیل بابر اعوان سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے ،ن لیگی رہنما اور مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا بھی سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر استثنی ٰکی درخواست دائر کی گئی –

    عدالت نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ ابھی بھی آپ نے لکھا ہے 20،25 روز لگیں گے ، وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ہے وہ یہاں اس لیے پیش نہیں ہو رہے –

    مقدمہ میں مدعی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ عمران خان انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن آج تک پیش نہیں ہوئے،مدعی مقدمہ محسن شاہ نواز رانجھا کی عمران خان کے لیے پمز کا بورڈ بنانے کی استدعا کی ہے-

    عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کہاجارہا ہے کہ لمبا ترین پلستر ہے لیکن ڈیڑھ سال سے پلیٹلیٹس سے لمبا نہیں ، عمران خان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے-

    ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ سول سائیڈ کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے، ہم سول کیسز میں روزانہ بیانات ویڈیو لنک سے لکھتے رہتے ہیں ،ضمانت قبل از گرفتاری کے کیس میں ایسا نہیں ہوتا-

    عمران خان کے وکیل نے طبی بنیادوں پر اپنے مؤکل کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی کی اس پر عدالت نے کہا کہ عمران خان کی زمان پارک سے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ پیدل چلتے نظر آئے۔

    عدالت نے آئندہ سماعت پر عمران خان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ عمران خان پیش ہوئے تو ٹھیک نہیں تو ضمانت قبل از گرفتاری پر آرڈر دے دیں گے-

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کیخلاف کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کو ذاتی حیثیت میں 29 مارچ کو طلب کرلیا-

  • شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی عدالت نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی: ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہےکہ آصف زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج ہوا، شیخ رشید کے مطابق عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق ان کے پاس شواہد موجود ہیں جو شیئر کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کو شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا گیا، شیخ رشید کا بیان بیرون ملک بھی نشر ہوا جس سے وہ انکاری نہیں۔

    عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرانسکرپٹ کے مطابق ثابت نہیں ہوتاکہ عمران خان نے شیخ رشید سے کوئی معلومات شیئر کی ہوں، شیخ رشیدکی عمران خان سے ملاقات ہوئی، ملاقات کی تفصیل دیے- بغیر آصف زرداری پر الزام لگایاگیا-

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شیخ رشید ایک طرف کہتے ہیں قتل کی سازش سے متعلق تمام معلومات ہیں لیکن پولیس سے شیئر نہیں کیں، شیخ رشید کے بیان سے دونوں سیاسی کارکنان میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ شیخ رشید سینئر سیاستدان ہیں اور ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سنجیدہ ہیں، شیخ رشید اپنے بیانات کے اثرات سے لاعلم ہیں، وہ ماضی میں بھی اس طرح کے غیرسنجیدہ بیان دے چکے ہیں۔

    عدالتی فیصلے میں شیخ رشید کی جانب سے الزام کو بار بار دہرانا ضمانت کی استدعا مسترد ہونے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہسابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر 2 فروری کو رات گئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    رواں ہفتے کے اوائل میں پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما راجا عنایت نے شیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

    شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔

    گرفتاری کے بعد انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

    دوسری جانب 3 فروری کو وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

    شیخ رشید کے خلاف کراچی کے موچکو، حب کے لسبیلہ اور مری کے تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی آر کو سیل کردیا گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ایک اور مقدمہ ہفتے کے روز تھانہ صدر میں پیپلز پارٹی کے کارکن کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں شیخ رشید پر امن و امان کو خراب کرنے اور جان بوجھ کر اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا  شرکت کا فیصلہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس :پی ٹی آئی کا شرکت کا فیصلہ

    اسلام آباد: تحریک انصاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کا پارلیمنٹ لاجز میں اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی نے پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی نے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی معطلی کےبعد عدالتی حکم موصول ہونے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ارکان کا کہنا ہےکہ عدالتی حکم ملنے سے قبل پارلیمنٹ آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

    اس سے قبل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکرکے مؤقف کےبعدپی ٹی آئی ممبران نےاپنا فیصلہ تبدیل کیا تھا اورعدالتی فیصلے کی روشنی میں ہی اسمبلی جانے کا فیصلہ کیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عدالت کے تحریری حکمنامے تک پی ٹی آئی ممبران کو اجلاس میں آنے سے روکنے کا کہا ہےاستعفوں کا معاملہ معطل کے بجائے کالعدم ہوتو ہی پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی میں واپس آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے سابق ممبرانِ اسمبلی پارلیمنٹ لاجز واپس جا رہے ہیں جبکہ 9 ممبران اب بھی مشاورت کے لیے سینیٹر شہزاد وسیم کے چیمبر میں موجود ہیں۔

    اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں اکٹھے ہوئے تھے یہ ارکان عدالتی تحریری فیصلہ ملنے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر قومی اسمبلی کے ایوان میں آنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 43 ارکانِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا الیکشن کمیشن کاحکم معطل کرتے ہوئے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے ریاض فتیانہ سمیت 43 ارکانِ اسمبلی نے اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور الیکشن کمیشن کی جانب سے استعفوں کی منظوری کے اقدام کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

  • عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں، تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے ہی سے ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: نیب قوانین میں ترامیم کے کیس میں دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک میں تمام مسائل کا حل عوام کے فیصلے سے ہی ممکن ہے،موجودہ حکومت کے قیام کو 8 ماہ ہو چکے ہیں،موجودہ پارلیمنٹ دانستہ طور پر نامکمل رکھا گیا ہے،موجودہ پارلیمنٹ سے ہونے والی قانون سازی بھی متنازع ہو رہی ہے- الیکشن کمیشن نے اسپیکر رولنگ کیس میں کہا تھا کہ نومبر 2022ء میں عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہوں گے۔

    سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم پر عمران خان کے حق دعویٰ نہ ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آرٹیکل 184 تھری پر محتاط رہے اس کے تحت کسی بھی درخواست پر قانون سازی کالعدم قرار دے گی تو معیار گر جائے گا۔ آرٹیکل 184 تھری کا اختیار عوامی معاملات میں ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ کیس کے حقائق مختلف ہیں۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے نیب ترامیم چیلنج کی ہیں۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلے پارلیمنٹ چھوڑنے کی حکمت عملی اپنائی۔ پی ٹی آئی نے پتا نہیں کیوں پھر پارلیمنٹ میں واپس آنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار عمران خان کوئی عام شہری نہیں ہیں۔ عمران خان کے حکومت چھوڑنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں عوام کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ عدالت بھی قانون سازی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ عدالت نے کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا بلکہ نیب ترامیم کے خلاف درخواست آئی ہے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت اس سے پہلے بھی ایک بار اپنے فیصلے پر افسوس کا اظہار کر چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی وزیراعظم آئے تھے، جو بہت دیانت دار سمجھے جاتے تھے۔ ایک دیانت دار وزیراعظم کی حکومت 58 ٹو بی کے تحت ختم کی گئی تھی آرٹیکل 58 ٹو بی ڈریکونین لا تھاعدالت نے 1993ء میں قراردیا کہ حکومت غلط طریقےسے گئی لیکن اب انتخابات ہی کرائے جائیں اب عمران خان اسمبلی میں نہیں ہیں اور نیب ترامیم جیسی قانون سازی متنازع ہو رہی ہے۔ اس کیس میں عمران خان کا حق دعویٰ ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ نہیں بنتا۔

    وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی بازی ہارنے کے بعد کوئی شخص پارلیمان سے نکل کر عدالت آیا ہو۔اس طرح سیاست کو عدلیہ میں اور عدلیہ کو سیاست میں دھکیلا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک شخص جب اقلیت میں ہے اور اس کے حقوق متاثر ہوں گے تو وہ عدالت کے سوا کہاں جائے؟۔ جو بھی ضروری ہے اس کا فیصلہ عوام کو کرنے دیں۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ انتخابات سے قبل قانون میں وضاحت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ چھوڑنے کے بعد ملک میں انتخابات کے لیے ہر کسی کو ایک سے زائد نشست پر انتخابات لڑنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت میں ایک شخص کو ایک ہی نشست پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ ایک سے زیادہ نشست سے انتخابات لڑنے سے ہار یا جیت کی صورت میں عوامی پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔

    چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے ایک سے زائد سیٹ پر انتخابات لڑے تھے۔ بلا مقابلہ نشست جیتی تو باقی انتخابات معمول کے مطابق ہوئے تھے۔

    وکیل نے کہا کہ یہ 1970ء سے پہلے کا معاملہ تھا۔ عوام نے بھٹو کے بلا مقابلہ جیتنے کی بھاری قیمت ضیا کے 11 سالوں کی صورت میں اتاری تھی۔ ایک عدالت جمہوریت نہیں بچا سکتی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 40 سال پہلے ایک بین الاقوامی اخبار میں آرٹیکل لکھا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق لوگ سیاستدانوں کو اپنی پہچان چاہتے ہیں نہ ہی ججز سے حکومت کرانا۔عدالت حکومت نہ کرے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کوئی حکومت کرنا نہیں چاہتی۔ عدالت ازخود نوٹس کے اختیار میں محتاط رہی ہے۔ سیاسی خلا عوام کے لیے کٹھن ہوتا ہے۔ جب سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو عدالت کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ عوام کرپشن سے پاک حکومت چاہتے ہیں۔

  • عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    عمران خان نااہلی کیس: عدالت نے نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی:مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کو کاغذات نام زدگی میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کو نااہل کرنے کی درخواست کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ نے کی،لارجر بینچ چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل ہے، لارجربینچ بنانےکا فیصلہ سنگل بینچ پر اعتراض کے بعد چیف جسٹس نے کیا تھا ۔

    دوران سماعت عدالت نے عمران خان کیخلاف درخواست گزار کی نئی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی درخواست منظور کر لی-

    درخواست گزار شہری محمد ساجد کےوکیل سلمان اکرم نےکہا کہ میں بھی کچھ دستاویزات جمع کراناچاہتا ہوں،عدالت کچھ وقت دیدے تاکہ میں بھی دستاویز ات جمع کروا دوں،عدالت نے عمران خان کی مزید دستاویزات جمع کرانے کی استدعا منظور کر لی-

    وکیل درخواست گزارسلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عمران خان کو کیس کے میرٹ پر تحریری جواب جمع کرانا چاہئے، عمران خان پارٹی کے سربراہ ہیں ان کے خلاف کیس قابل سماعت ہے، عمران خان ممبر اسمبلی نہ بھی ہوں تو بھی کیس قابل سماعت ہیں، ان کو میرٹ پر جواب بھی ابتدائی جواب کے ساتھ ہی دینا چاہئے-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے خلاف نئی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست دائر کی گئی تھی،دستاویزات میں عمران خان کی 7 نشستوں سے ضمنی الیکشن میں کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی شامل تھانئی دستاویزات سے متعلق درخواست میں عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس سے متعلق پرانے فیصلے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    شہری محمد ساجد کی درخواست میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے کاغذات نامزدگی میں اپنی مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

  • مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے  کاحکم

    مری کی عدالت کا شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کاحکم

    الزامات کاکیس، مری کی عدالت نے شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا-

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو مری کی عدالت میں پیش کیا گیا، سول جج مری محمد ذیشان نے مری پولیس کی شیخ رشید کے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا-

    سماعت کے دوران عدالت نے شیخ رشید کو ریمارکس دیئے کہ آپ کوئی بیان دینے کی بجائےہدایات لے لیں-

    خیال رہے کہ شیخ رشیدکو تھانہ مری میں درج مقدمے میں گزشتہ روز اڈیالہ جیل سے مری منتقل کیا گیا تھا شیخ رشیدکے خلاف گرفتاری کے دوران پولیس سے مزاحمت اور اہلکار کی وردی پھاڑنےکے الزام میں مقدمہ درج ہے۔

    دوسری جانب شیخ رشید نے عدالت سے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ این اے 62 سے میں قلم دوات کے نشان سے لڑ رہا ہوں،جیل سے لڑوں گا یا رمضان میں الیکشن لڑوں گا،میری جیت سے پاکستان اور غریب عوام کی فتح ہو گی،میرے خلاف کوئی پرچہ نہیں،یہ سب فراڈ ہے، اس سب کے پیچھے ایک چہرہ ہے جس کو جلد ایکسپوز کریں گے-

  • خیبرپختونخوا ضمنی الیکشن: امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری

    خیبرپختونخوا ضمنی الیکشن: امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری

    پشاور: قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پرصوبہ خیبر پختونخوا کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی

    باغی ٹی وی :الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 8 نشستوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو ہونے جارہے ہیں جس کے لیے کاغذات نامزدگی کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری کردی گئی ہے۔

    فہرست کے مطابق پی ٹی آئی نے مستعفی ارکان ہی کو میدان میں دوبارہ اتارا جبکہ دوسری جماعتیں بھی آزمودہ امیدواروں ہی کو سامنے لائی ہیں ضلع خیبرسے باپ بیٹا اور کوہاٹ سے چچا بھتیجا بھی ضمنی الیکشن میں امیدوار ہیں۔

    فہرست کے مطابق این اے 4 سوات سے 9 امیدوار ، اے این 38 ڈی آئی خان سے 13، این اے 17 ہری پور سے 8، این اے 18 صوابی سے 11، این اے 31 کوہاٹ سے 9، این اے 25 نوشہرہ سے 9، این اے 43 خیبر سے 10 امیدوار سامنے آئے ہیں۔

    صوبے میں قومی اسمبلی کی خالی نشتوں پر ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف سے مستعفی ارکان اسمبلی دوبارہ میدان میں آئے ہیں، جن میں مرادسعید، اسد قیصر، پرویزخٹک، شہریار آفریدی، پیر نورالحق قادری، عمر ایوب اور عمران خٹک شامل ہیں جو ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ابتدائی فہرست کے مطابق پرویزخٹک کے بیٹے اسماعیل خٹک نے بھی کاغذات جمع کرائے ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر سے باپ بیٹا شاہ جی گل آفریدی اور بلاول آفریدی بھی امیدوار ہیں جب کہ کوہاٹ سے چچا بھتیجا بابر عباس آفریدی اور بابر عظیم آفریدی بھی امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

  • شیخ رشید  ضمانت کیس:عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا

    شیخ رشید ضمانت کیس:عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں شیخ رشید کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی :سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ شیخ رشید کے وکلا عبد الرازق ،انتظار پنجوتھہ ،پراسیکیوٹر عدنان اور مدعی مقدمہ عدالت میں پیش ہوئے-

    وکیل عبد الرازق نے ضمانت کی درخواست پر دلائل دیئے،وکیل عبد الرازق نے ایف آئی آئی کا متن پڑھ کر سنایا،انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے مطابق شیخ رشید نے تیار کردہ سازش کے تحت بیان دیا۔ شیخ رشید پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان تصادم کروانا چاہتے ہیں۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت، عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    جج نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ دفعات کے مطابق شیخ رشید کے بیان کا اثر پوری قوم پر ہے، ایسا ہی ہے؟ ،آصف علی زرداری کہہ رہےہیں کہ بیان شیخ رشید نےنہیں دیا، عمران خان نے دیا،پولیس نے شیخ رشید کو بلایا معلومات کے حوالے سے تفتیش کی؟-

    وکیل عبدالرزاق نے کہا کہ انفارمیشن پولیس ریکارڈ میں موجود ہےجو شیخ رشید نے شئیر کردی-

    عدالت نے استفسار کیا کہ ٹرانسکرپٹ میں کہاں لکھاہےکہ عمران خان نے شیخ رشید کو قتل کی سازش کے حوالے سے بتایا؟شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان سے میٹنگ ہوئی جس میں قتل کی سازش کے حوالے سے آگاہ کیاگیا،اس اسٹیج پر صرف پولیس ریکارڈ کے مطابق فیصلہ کرنا ہے-

    شیخ رشید کی جان کو خطرہ، وکلا نے درخواست دائر کر دی

    جج نے استفسار کیا کہ کیا شواہد تھےجس پر شیخ رشید نے بیان دیا؟ انہوں نے تو کہا شواہد موجود نہیں،وکیل نے کہا کہ عمران خان نے ٹویٹ کیا کہ 2 بندوں کو آصف زرداری نے عمران خان کے قتل کرنے کے لیے رابطہ کیا-

    پراسیکیوٹر عدنان نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس معطل کیا، مقدمہ درج کرنے سے نہیں روکا۔ مقدمے کے دوران تفتیش کرناقانون کے مطابق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے روکابھی نہیں۔ شیخ رشید کے وکلا نے کیس سے ملزم کو خارج کرنے کے مطابق دلائل دیے، جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ وکیلِ ملزم کی جانب سے کیس سے خارج کرنے کے مطابق دلائل دیے ہی جاتے ہیں۔

    پراسیکیوٹر محمد عدنان نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی کہا کہ شیخ رشید نے جو جرم کیا اسکی سزا 7 سال تک ہے-
     شیخ رشید کے خلاف کراچی میں بھی مقدمہ درج

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے
    شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ عمران خان کے الزامات کی تحقیقات ہوتیں۔ پولیس فائل کے مطابق شیخ رشید نے کہا ہے کہ میں نے عمران خان کے بیان کا حوالہ دیا ۔ پہلی دفعہ ہو رہا ہے متاثرہ پارٹی کو ملزم بنا کر پرچے ہو رہے ہیں۔ رات کو بھی عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ دو بندوں کو آصف زرداری نے پیسے دے رکھے ہیں۔

    وکیل سردار عبدالرزاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہتک عزت کا کیس بن سکتا ہے۔ سب سے سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ عمران خان کو بھی شامل تفتیش کیا ؟۔ آپ نے عمران خان سے تفتیش نہیں کی ؟۔ کیا عمران خان سے پوچھا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں یا نہیں ؟۔

    تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شیخ رشید نے کہا میں نے صرف عمران خان کے بیان کا حوالہ دیا ہے، جس پر جج نے دوبارہ سوال کیا کہ پھر آپ نے عمران خان سے تفتیش کیوں نہیں کی ؟۔
    ہ شیخ رشید 73 سال کے ہیں کئی بیماریوں میں مبتلا 
    اس موقع پر مدعی مقدمہ کے وکیل نے عمران خان کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کردی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس طرح تو پھر عمران خان کے خلاف مبینہ الزام کا کیس بنے گا اور اس میں عمران خان کے خلاف سازش کا کیس نہیں بن سکتا۔

    عدالت نے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی پر جو مرضی بولیں عدالت میں قانون کی بات کریں۔اس سے پہلے غیر ذمے دارانہ گفتگو پر شیخ رشید کے خلاف کتنے مقدمے ہیں ؟، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس سے پہلے کوئی مقدمہ نہیں ہے۔

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا-

    شیخ رشید کے گھر بچے موجود تھے؟ ترجمان اسلام آباد پولیس کا ردعمل

  • پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    پنجاب الیکشن کی تاریخ سےمتعلق درخواست، گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب عدالت میں جمع

    لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرا دیا گیا-

    باغی ٹی وی: لاہور ہائیکو رٹ میں پنجاب الیکشن کی تاریخ سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،شہری منیر احمد کی درخواست پر گورنرپنجاب نےجواب جمع کرایا،گورنر پنجاب نے درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کرنے کی استدعا کر دی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے پی ٹی آئی کو کچھ دستاویزات متفرق درخواست کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی-

    لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں بارشوں کی پیشگوئی

    عدالت میں گورنر پنجاب کی طرف سے تحریری جواب جمع کرایا گیا،جواب میں درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا،تحریری جواب میں کہا گیا کہ گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا جائے-

    گورنر کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہےکہ وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل نہیں کی تو الیکشن کی تاریخ دینا گورنرکی ذمہ داری نہیں، جب گورنر اسمبلی تحلیل کرے تو الیکشن کی تاریخ دینا اس کی آئینی ذمہ داری ہے،گورنرکی جانب سے الیکشن کمیشن کے اختیار میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،گورنر آئین اور قانون کے مطابق فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ گورنر نےجواب دیا ہےکہ اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی اور اگر اسمبلی کی تحلیل انہوں نے نہیں کی تو تاریخ دینا ان کاکام نہیں۔

    جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ ہم نے قابل عمل حکم دینا ہے تاکہ عمل درآمد ہو، اب وقت ہی سب کچھ ہے، ہم کو منطق سے چلنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ لارجر بینچ کی ضرورت ہے یا نہیں۔

    کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب کے لیے وقت مانگ لیا، وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ میرا بطور وکیل کل ہی تقرر ہوا ہے، میں نےعدالت کے حکم بھی نہیں دیکھے اور جواب بھی تیار نہیں۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن 90 دن میں کرانے سے متعلق عدالتی نظائر بھی ہیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن ہم نےکرانے ہیں لیکن تاریخ گورنر نے دینی ہے، ضمنی الیکشن کی تاریخ الیکشن کمیشن نے دینی ہوتی ہے، لیکن جنرل الیکشن کی تاریخ دینے کے اختیار میں قانون مختلف ہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اسد عمر نے جو الیکشن کمیشن کے خط پر اعتماد کا اظہار کیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا الیکشن کمیشن نے گورنر کو خط لکھا،جسٹس جواد نے کہا کہ میرے سارے فیصلوں پر عملدرآمد ہوجاتا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آپ عملدرآمد کا کہہ رہے ہیں لیکن بہت سے مسائل ہیں-

    جسٹس جواد نے کہا کہ بتائیں کیا مسائل ہیں، میں نے گورنر کو الیکشن کا نہیں کہنا،اسی لیے تو الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے،الیکشن کمیشن کی انتخابات کروانا آئینی ذمہ داری ہے،یہ تو خوش آئند بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ تاریخ دی-

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اگر گورنر اور الیکشن کمیشن تاریخ نہ دیں تو صدر الیکشن کی تاریخ دے سکتاہے۔

    جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آپ نے یہاں صدر کو تو فریق نہیں بنایا، ہم نے یہاں دیکھنا ہے کہ تاریخ کون دے سکتا ہے، ابھی الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے سے انکار نہیں کیا،

    وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگرتاریخ کا اعلان ہوجائے اور الیکشن کمیشن اس پر عمل درآمدنہ کرسکے تو کیا ہوگا؟

    جسٹس جواد نے تحریک انصاف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ قابل عمل حکم کیا چاہ رہے ہیں، اس پر بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ الیکشن13 اپریل سے پہلے ہونا چاہیے، سوال تاریخ دینےکا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں عام انتخابات کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کردئیے گئےلاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے حوالے سے دائر متفرق درخواست پر سماعت ہوئی تھی عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 فروری کو جواب طلب کیا تھا-

    خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد…

    درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کےحلقوں کا ضمنی شیڈول جاری کردیا۔ عام انتخابات کا شیڈول جاری نہ ہونے سے حلقے کےووٹرز کااستحقاق مجروع ہورہا ہے۔ اسمبلیوں کی تحلیل کےنوے دن میں انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی کی تحلیل کےباوجود انتخابی شیڈول جاری نہ کرکے آئین سے انحراف کررہا ہے۔ صاف و شفاف انتخابات کےلئے انتخابی شیڈول کااجراء جمہوری اساس ہے۔آئین کےآرٹیکل 105 کےبرعکس گورنر بدنیتی کی بناء پر انتخابی شیڈول جاری نہیں کررہا۔ عدالت الیکشن کمیشن کو پنجاب کے لیے انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم دے۔

    کوہلو: بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ آج ہو گی