Baaghi TV

Tag: Imran Khan

  • اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،بیرسٹرعلی ظفر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کئی روز سے جاری بحران آج ختم ہوا ہے، عدم اعتماد کے ووٹ کی کہانی کا سلسلہ ایک بار پھر آج ختم ہوا تا ہم دوبارہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو سکتی ہیں

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم واپس لے لیا،عدالت نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کردیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پرویز الہی نے حلف دیا تھا وہ کیس کی سماعت تک تھا ،یہ سب کو سمجھ آجانی چاہیئے کہ آئین سب سے اوپر ہے پرسنل سکورنگ نہیں ہونی چاہیئے ، وزیر اعلی اور کیبنٹ کے خاتمے کا نوٹیفکیشن سیٹ آسائیڈ کردیا گیا ہے گورنر پنجاب کو ان کی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنا حکم واپس لیا جو اچھی بات ہے سیاسی معاملات ایوانوں میں ہی حل ہونے چاہییے وزیر اعلی کا حق ہے کہ جب مرضی اسمبلی توڑ سکتا ہے اگر اعتماد کے ووٹ کی تحریک آجائے تو اعتماد کا ووٹ لینا ضروری ہوگا،

    وزیراعلی پرویزالہی کے وکیل علی ظفرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کے مطابق وزیر اعلی اور ان کی کابینہ آگئی ہے اسمبلیاں توڑنے کا جو حلف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے ۔گورنر نے اچھا کیا کہ غلطی مان لی پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آج آئین کی جیت ہوئی ہے عدالت نے کہا ہے کہ عدم اعتماد ہوگیا ہے تو وہ معاملہ ختم ہوگیا ہے گورنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا عدالت فیصلہ کرنے والی تھی گورنر نے نوٹیفیکیشن واپس لے لیا ہے اس کا مطلب گورنر نے غلطی مان لی ہے ،چیف سیکریٹری کے نوٹیفیکیشن کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے،عدالت کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے کے بعد اس پر مزید بات ہوسکتی ہے وزیراعلیٰ پنجاب اور کابینہ دوبارہ اپنی جگہ بحال ہوگئی ہے،اسمبلی تحلیل کرنا یا نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہے،جب اپوزیشن کے مطلوبہ ووٹ نہیں تھے تو انہوں نے عدم اعتماد واپس لی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

  • عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    عدم اعتماد، پرویز الہیٰ کیوں کامیاب ہوا؟ نواز شریف برہم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے میں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کامیاب ہو گئے ہیں.

    پرویز الہیٰ نے گزشتہ شب پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد ووٹ لے لیا، پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ حاصل کئے، اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا، ن لیگ جوڑ توڑ کر رہی تھی تا ہم ن لیگ کو کامیابی نہیں ہو سکی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ نے بیان دیا تھا کہ اب پنجاب حکومت تبدیل کروا کر ہی اسلام آباد جاؤں گا تا ہم وہ مشن میں کامیاب نہ ہو سکے، تحریک انصاف کی جانب سے 186 ووٹ پورے ہونے پر لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف نے اظہار برہمی کیا ہے اور پارٹی رہنماؤ‌ں سے رپورٹ طلب کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ نواز شریف ن لیگ کی صوبائی قیادت پر شدید برہم ہوئے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے استفسار کیا کہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کم از کم 7 ناراض اراکین پی ڈی ایم سے رابطوں میں ہیں ناراض اراکین کیسے ووٹنگ کے لئے پہنچ گئے انہیں مینیج کیوں نہیں کیا جا سکا۔ ن لیگ پنجاب کے صدر، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے نواز شریف اور مریم نواز کو معاملے پر ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے مریم نواز کی فوری وطن واپسی کی تجویز دے دی، رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ مریم نواز فوری وطن واپس نہیں آتی تو پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے، ضروری ہے کہ مریم نواز فوری وطن واپس آئیں اور پارٹی کو سنبھالیں،

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

  • گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا

    پرویز الٰہی کو ڈی نوٹی کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    گورنر کے وکیل منصور عثمان نے دلائل دیئے، وکیل گورنر نے کہا ہے کہ گورنر سے رابط ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے ،گورنر نے وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گورنر نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا ہے تو پھر معاملہ ہی ختم ہوگیا ہے ،آپ نے اپنی اسمبلی کے اندر یہ معاملہ حل کرلیا ہے جو اچھی چیز ہے ،سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگیا ہے،ہم تو چاہتے ہیں ایسے معاملات میں عدالت کی مداخلت کم سے کم ہونی چاہیے ،

    عدالت نے گورنر پنجاب کے وکیل کے جواب کے بعد فیصلہ لکھوانا شروع کر دیا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے کہا کہ عدالت نے گورنر پنجاب کیجانب سے وزیر اعلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم معطل کیا، پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی نے 12 جنوری کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، وزیر اعلی پنجاب نے آئین کے آرٹیکل 137 کے سب سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، اعتماد کے ووٹ کا نتیجہ گورنر پنجاب نے مان لیا ہے، گورنر کے وکیل منصور اعوان نے گورنر پنجاب کیجانب سے اسٹیمنٹ عدالت میں دی،معاملہ عدالت میں آنے پر اسمبلی فلور پر حل ہوگیا سارا کچھ آئین کے مطابق حل ہو گیا گورنر نے آئین کے مطابق آرڈر جاری کیا ۔پرویز الٰہی نے گورنر کے آرڈر پر اعتماد کا ووٹ لے لیا ۔اگر سپیکر گورنر کی ایڈوائس پر اجلاس میں معاملہ حل کر لیتے رواج ایسی صورت حال نہ ہوتی۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست نمٹا دی ،عدالت نے وزیر اعلی پنجاب اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہائوس میں جانے سے کسی کو بھی اندر جانےسے روکا جا سکتا،

    گیٹ پر سکیورٹی اسٹاف اور اسمبلی ارکان کے درمیان دھکم پیل ہوئی

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

  • گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا. لاہور ہائی کورٹ

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے اعتماد کے ووٹ کے نتائج پر مشتمل جواب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادیا، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا،اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ جسٹس عابدعزیزشیخ کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے گورنر پنجاب کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور کابینہ کو ڈی نوٹیفائیڈ کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسئلہ حل ہوگیا، 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیر اعلیٰ نے رات گئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔

    جسٹس عابد عزیز شیخ نے بیرسٹر علی ظفر سے استفسار کیا کہ کتنے ارکان تھے رات کو پنجاب اسمبلی میں؟جس پر علی ظفرنے بتایا کہ 186 ارکان نے پرویز الہٰی پر اعتماد کا اظہار کیا، 186 ارکان کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اسپیکرپنجاب اسمبلی نےاعتمادکےووٹ کےنتائج پرمشتمل جواب عدالت میں جمع کرادیا۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزرااسلم اقبال اور راجہ بشارت نےاعتمادکےووٹ کی قرار داد پیش کی ، بطوراسپیکر اعتماد کے ووٹ کے لئے نیا اجلاس بلاکر کارروائی کی، وزیراعلیٰ پنجاب کو 186 ارکان نے اعتماد کا ووٹ دیا، اکثریتی ووٹ لینے پر چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرارہیں۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر پنجاب کے اعتماد کے ووٹ کا مسئلہ حل ہوگیا، گورنر پنجاب کا اب اس پر اعتراض نہیں بنتا۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں اسمبلی کے معاملات میں گورنر مداخلت نہیں کرسکتا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ 19 دسمبر کے گورنر کے حکم کو پورا کر دیا ہے، اس پر نہیں جاتا کہ وہ حکم درست تھا یا نہیں۔ جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ ابھی ہم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہوتا، ٹی وی میں رات 8 سے 9 بجے میں بتا دیا جاتا ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا، یہ طریقہ بہت اسٹرینج ہے۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ ووٹ لے لیتے ہیں تو گراؤنڈ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، آپ نے آرٹیکل 137 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری
    نادیہ خان 38 ہزار ڈالرز گنوا بیٹھیں. اداکارہ نے دلچسپ واقعہ سنا کر حیران کر دیا
    جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ نے اس کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا، پھر آپ نے گورنر کے حکم پر اعتماد کا ووٹ لیا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے ریمارکس دیے کہ ہم پہلے ہی چاہتے تھے اسمبلی کا مسئلہ وہیں پر حل ہو، وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا اب دوسرے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں، پہلے حکم پر نہیں جاتے، دوسرے معاملے کو دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے تین سوال ہیں، پہلا گورنر کی تسلی، دوسرا ووٹنگ کے لئے مناسب وقت اور تیسرا سوال کیا رولز 22 کے تحت سیشن کے دوران اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔

  • قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس

    قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان
    چیف جسٹس آف پاکستان نے نیب ترامیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے کی، جس میں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترمیم کے وقت ارکان اسمبلی کی اکثریت نے منظوری دی۔ اس وقت 159 ارکان اسمبلی موجود تھے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سوال یہ ہے کہ قانون سازی کے وقت اپوزیشن کا ہونا ضروری ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ایسی کوئی پہلے مثال موجود ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے قانون سازی کو چیلنج کیا ہو؟۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میرے سامنے ایسا کوئی کیس نہیں جس میں رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کیا ہو۔ درخواست گزار نہ صرف رکن پارلیمنٹ ہے بلکہ ملک کا وزیر اعظم بھی رہا ہے۔میں اپنے دلائل میں درخواست گزار کی بدنیتی اور ذاتی مفاد کی بھی وضاحت کروں گا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیس میں نیب قانون کی بہتری دیکھ رہے ہیں۔ ضروری نہیں کہ قانون کو کالعدم ہی قرار دیا جائے۔ قانون کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ بھی عدالت کے پاس آپشن موجود ہیں۔ قانون کو آئین کے مطابق ہونے پر ہی آگے بڑھنا چاہیئے۔

    جٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر نیب ترامیم بنیادی حقوق سے متصادم ہوئیں تو ہی عدالت آپشنز پر غور کرے گی۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کوئی بھی ایسا قانون قائم نہیں رہ سکتا تو بنیادی حقوق سے متصادم ہو۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتیں سیاسی فیصلے کرنے کی جگہ نہیں ہیں۔ کیا عدالت متنازع معاملات پر فیصلے کرنے لگے تو کیا مزید تنازعات پیدا ہوتے ہیں؟۔اس کیس میں سیاسی تنازع بھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل میں کہا پاکستان بننے کے وقت سے کرپشن بیماری کی صورت میں موجود ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا معاشرہ کرپشن کی بیماری کا شکار ہے۔ عوامی مفاد اور انفرادی فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان توازن ہونا چاہیے۔سوال یہ ہے کہ عدالت نے آئین کا دفاع اور تحفظ کیسے کرنا ہے۔

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کا مطلب پاکستان کے عوام ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ فیصلہ کرنے میں عدالت کہاں اور کس حد تک جا سکتی ہے۔ پبلک آفس ہولڈرز قابل احتساب ہیں۔ اگر حالیہ نیب ترامیم سے احتساب کا معیار گرا ہوا ہے تو عدالت ان کو برقرار کیسے رکھ سکتی ہے؟۔ جب سے پاکستان بنا انسداد کرپشن قوانین بنے ہوئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ انسداد کرپشن قوانین کی وجہ ہی سے عوامی عہدیدار قابل احتساب ہیں۔ ہم نے سماجی یا سیاسی مسائل کو نہیں دیکھنا۔ اعتماد ہی تمام معاملات کا مرکز ہے۔ پبلک آفس کے لیے ڈاکٹرائن آف ٹرسٹ ضروری ہے۔ ججز بھی عوامی اعتماد کے ضامن ہیں۔ ججز بھی قابل احتساب ہیں۔ ججز پیسے کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایک معاملے میں فنڈز ملے وہ اسٹیٹ بینک میں جمع کرا دیے۔ آج بھی انتظار کر رہے ہیں کہ فنڈز استعمال ہوں۔ اگر سپریم کورٹ فنڈز کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر نہ ڈالتی تو آج بھی تنقید ہو رہی ہوتی۔ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ اعتماد بہت اہم ہوتا ہے۔ عدلیہ بھی پارلیمنٹ اور سیاستدانوں پر اعتماد کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہے مگر عوام کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ کچھ بنیادی لوازمات ہیں جس پر عدالت نے بھی عمل کرنا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 12 جنوری سہ پہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کر دی۔

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

     خواجہ سرا رمل علی اس وقت خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں،

  • کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    کپتان Vs اپوزیشن تحریر:ضیاء عبدالصمد

    18 اگست 2018 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن تھا کہ جب کرکٹ کی دنیا کا نامور کھلاڑی اور 1992 کے ورلڈ کپ کا فاتح کپتان یعنی عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا.یوں اگر دیکھا جاۓ تو وزیراعظم بنانا اتنا اسان تو نہ تھا تقریباً بائیس سال کی جدوجہد کے بعد اس مقام کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ کہ وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھا سکیں.

    حکومت میں آتے ہی عمران خان نے سو دن کی کارکردگی کا حدف اپنی نو منتخب کابینہ کو سونپ دیا۔جس میں مختلف طرح کے حدف مقرر کیے گے۔ جن میں سے کچھ حدف مکمل کرلیے اور بعض رہ گئے. سو روز مکمل ہوتے ہی حکومت کو اپوزیشن نے ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ۔اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو عدالتوں اور نیب کی جانب سے مختلف کیسوں کو سامنا کرنا پڑھ گیا۔ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بیٹی مریم نواز ، بیٹے حسن نواز اور حسین نواز ،بھائی شہباز شریف بھتیجے حمزہ شہباز یوں کہیں تو ن لیگ کی مرکزی قیادت مختلف کیسیز کا شکار ہوگئ

    اسی کے ساتھ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی قیادت جن میں سرفہرست سابق صدر پاکستان عاصف علی زرداری کو نیب ریفرنسز کا سامنا کرنا پڑا. خیر وقت کا پہیہ گھماتا رہا اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔

    کیونکہ آدھی سے زیادہ اپوزیشن تو جیل میں تھی حکومت کو کچھ سکون کا سانس آیا مگر اسی دوان مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا۔ ڈالر کا ریت آسمان سے باتیں کرنے لگا ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہوتی گئی کبھی آٹا کا بہران اور کبھی چینی کا بہران پیدا ہوجاتا۔ حکومت ایک مشکل سے نکلتی اور دوسری مشکل میں پھنس جاتی۔رہی صحیحی کثر covid-19 نے نکال دی پوری دنیا کو کرونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پوری دنیا کا نظام درہم برہم ہوگیا.
    پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگادیا گا۔حکومت کے لیے مشکل وقت تھا۔ لیکن اس وقت عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی ایک لیڈر ہیں انکو نے سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا جہاں جہاں وبا تشویشناک حد تک پھیل جاتی صرف اسی علاقہ میں 7 سے 14 روز کا لاک ڈاؤن لاگیا جاتا.
    اور ساتھ میں ہی احساس پروگرام سے ذرائع پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام چلایا گیا جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے مستحق خاندانوں کو 12 ہزار ہوۓ دیے گئے تاکہ انکے گھر کا نظام چل سکے۔ عمران خان کے انہی فیصلوں کو دنیا بھر میں سہرایا گیا.اور یہی وجہ تھی کے خطہ میں سب سے کم متاثر ہونے والا ملک پاکستان تھا۔

    اب بات کرتے ہیں جرنل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خطاب کی جہاں پہلی دفعہ اسلام و فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی یوں کہیں تو مسلمانوں کے دلوں کی آواز بلند کی گئی۔ کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس سے بڑھ کی کوئی چیز عزیر نہیں ہے گستاخانہ خاکوں کو روکا جاۓ۔جرنل اسمبلی میں حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے لیے اور ہمارے آخری نبی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی ناموس کی خاطر کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ فرد واحد عمران خان ہیں

    اب آتے ہیں موجودہ سیاسی صورتحال کی جانب اس وقت اپوزیشن کی تمام جماعتوں وزیراعظم کے خلاف اتحاد کرلیا ہے۔ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہتی ہے موجودہ وزیراعظم کسی نہ کسی طرح اتارنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن حکومتی اتحادیوں اور منحرف تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہے۔

    دیکھا جاۓ تو حکومتی جماعت بھی دو واضع گروپ میں تقسیم ہوچکی ایک ترین گروپ اور دوسرا گروپ تحریک انصاف کے منحرف اراکین ھیں۔ترین گروپ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے اگر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اپنی کرسی سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ تبھی ترین گروپ وزیراعظم کو عدم اعتماد میں ووٹ دے گا۔دوسری جانب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی سندھ ہاوس میں قیام کرنے کی خیریں بھی منظر عام پر آگئیں سندھ حکومت کی جانب سے مکمل سہولت منحرف اراکین کو سپورٹ کی جارہی ہے۔ اپوزیشن کی مسلسل کوشش ہے کسی طرح عدم اعتماد کامیاب ہوجاۓ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو صدر اور وزیراعظم کون ہوں گے انکے ناموں کا علان بھی کردیا گیا یے۔ حکومت کے اہم اتحادی "ق لیگ” اور ” ایم کیو ایم ” سے بھی اپوزیشن کے مسلسل رابطے میں ہیں.

    عمران خان نے اس صورت حال اور عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور فل فور عوامی رابطہ مہم یعنی جلسوں ریلیوں کا آغاز کردیا. کپتان اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ شہر در شہر جارہے ہیں اور دیکھ رہیں اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو کیا عوام ان کے ساتھ ہے کے نہیں ؟؟
    کپتان ابھی تک تقریباً دس شہروں میں جلسے کرچکے ہیں یہ ماننا ہوگا کہ عوام اب بھی عمران خان پر اعتماد کرتی ہے۔

    اگر دیکھا جاۓ تو پوزیشن نے یہ سوچ کر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لاۓ ہوں گے. کہ وہ عوام میں انکی مقبولیت ختم ہوچکی ہے. مہنگائی آٹا چینی اور کھاد کا بہران ہے اب انکو وزیراعظم کی کرسی سے ہٹانا آسان ہوگا۔میرے تجزیہ کے مطالبق اپوزیشن نے عمران خان کے لیے اگلے الیکشنز میں کامیابی کا رستہ ہموار کردیا ہے۔ کیونکہ اس وقت مہنگائی کا جن بے قابو تھا۔ملک معاشی حالات سے دوچار تھا عمران خان اور انکی حکومت اس وقت ایک گہرے گڑھے میں پھنسل چکے تھے انکے لیے الکیش جیتنا اور دوبارہ حکومت بنانا ناممکن تھا لیکن اپوزیشن اسے ممکن بناتی نظر آرہی ہے۔

    کہا جاۓ تو اس وقت عمران خان کو کسی معجزہ کا انتظار تھا کہ وہ کسی طرح عوام میں اپنی قبولیت تو دوبارہ بحال کرلیں جو ہوگیا عمران خان نے فائدہ اٹھایا اور عوامی رابطہ مہم کا آغاز کردیا دیکھا جاۓ تو عمران خان دوبارہ اپنے عروج پر پہنچ چکے ہیں اسلام آباد کے کامیاب جلسے نے یہ ثابت کردیا.

    ڈٹ کے کھڑا ہے اب کپتان
    ٹھیک کرے گا سب کپتان

    الله پاک اس وطن عزیز کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین

    کالم نگار: ضیاء عبدالصمد
    جی میل: ziaabdulsamad18@gmail.com
    ٹویٹر اکاؤنٹ :@ZiaAbdulSamad

  • پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ دوست کھوسہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) سابق وزیر اعلی پنجاب وپاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ نیازی حکومت نے پارلیمنٹ میں روایات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں ہیں۔پیپلز پارٹی زبردستی کی اصلاحات قبول نہیں کرے گی،عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، اب تو الیکشن کمیشن نے بھی برملا کہہ دیا ہے الیکٹرانک مشینوں سے انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں ،نیازی سرکار ڈنڈے کے زور پر سیاہ قوانین پاس کروانے کے لیے سلیکٹرز کے پاو¿ں کیوں پکڑ رہی ہے۔ 2023کے الیکشن کو ہائی جیک کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری کی بھتیجی کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر،پی پی پی کے ڈویژنل و ڈسٹرکٹ میڈیا کووار ڈ ینیٹر محمد طاہر شیخ ،ٹکٹ ہولڈر چوہدری عمر دراز آزاد و دیگر جیالوں سے ملاقات کے دوران ملکی صورتحال پر گفتگو کے دوران کیا،سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ سلیکٹرز اور سلیکٹڈ نیازی پاکستانی قوم کے ساتھ ایک اور گھناو¿نا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں۔جو کہ تشویش ناک فعل ہے ِبحران خان کی حکومت نے اب قوم کو روٹی پکانے کیلئے گیس بھی دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، تین سالہ کارکردگی کا نچوڑ دن میں صرف تین بار گیس کی فراہمی کا اعلان ہے، یہ موسم سرما عمران خان کی حکومت اور سیاست کی تدفین کا موسم ثابت ہوگا،قوم ہر موسم سرما کو رہتی دنیا تک منحوس حکومت سے نجات کے موسم کے طور پر منائے گی،تبدیلی سرکار کے تمام دعوے اور وعدے پہلے بھی جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے اب بھی قوم کے ساتھ ایک سنگین فراڈ ہو گا، متنازعہ قانون سازی پیپلز پارٹی کو ہر گز قبول نہیں پیپلز پارٹی حکومتی سیاہ قانون سازی کے خلاف ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے گی ۔مرکزی رہنما ،سابق صوبائی و زیر صحت پنجاب بدر الدین چوہدری نے کہا کہ ، اناڑی کو گاڑی پر بٹھائےںگے تو خود بھی مرے گا گاڑی کو بھی تباہ کرے گا ،اگر گاڑی اناڑی نہیںچلا سکتا تو 22 کروڑ عوام کا ملک کیسے چلا سکتا ہے ، قوم پوچھتی ہے کہ تبدیلی لانے والوں کو عمران نیازی کی حکمرانی پسند آئی؟تین ٹائم گیس کی فراہمی کا اعلان بھی دھوکہ ہے، گیس آئے گی ہی نہیں، بجلی، پٹرول اور گیس مہنگی کرنے کے بعد سلیکٹڈ قوم سے سہولتیں بھی چھین رہا ہے، سردیوں میں گیس کی فراہمی سے انکار کرنے والی حکومت کو لوگ نکال باہر پھینکیں گے۔سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ2018 میں پی ٹی آئی حکومت کو لا کر ملک کا ستیاناس ، بیڑہ غرق کردیا گیا ہے ،جو بھی اشیا ئے خوردونوش لینے جاتا ہے وہ اس حکومت کو گالیاں نکال کر نہیں آتا ؟، اس مہنگائی نے عوام کاجینا محال کر دیا ہے ، کہ ، جس نے قوم کو ڈینگی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،،اس نے ہماری خارجہ پالیسی تباہ کر دی ہے ،دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے۔

  • فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد چیمبرآف کامرس میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا افتتاح

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین انٹر پرینوئر کی مصنوعات کی نمائشوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تشہیر سے نہ صرف خواتین کے کاروبار کا دائر ہ کار وسیع ہوگا بلکہ انہیں خریداروں سے براہ راست رابطوں میں بھی آسانی ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی سابق نائب صدر محترمہ شمع احمد نے مسزعقیلہ عاطف کے ہمراہ فیصل آباد چیمبر کے آڈیٹوریم میں پہلے وومن انٹر پرینوئر پراڈکٹس ایگزی بیشن کا ربن کاٹ کے افتتاح کرتے ہوئے بتائی۔ اس نمائش کا اہتمام فیصل آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے تناسب سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ دلانے کیلئے وومن چیمبر بھر پور کوششیں کر رہا ہے جس سے پورے معاشرے میں مثبت تبدیلی کے علاوہ معاشی ترقی کی رفتار کو بھی تیز کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے وومن چیمبر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں خواتین کی ترقی کیلئے اہم خدمات سر انجام دی ہیں جبکہ حکومت اور سٹیٹ بینک نے خواتین کو سرمایے کی فراہمی کیلئے کئی پالیسیاں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوان تعلیم یافتہ خواتین پر زور دیا کہ وہ وومن چیمبر کے پلیٹ فارم سے اپنے مسائل کی نشاندہی کریں تاکہ اُن کے حل کیلئے قومی سطح پر آواز بلند کی جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ مائکرو، چھوٹے اور درمیانے درجہ کا کاروبار کرنے والی خواتین کی مصنوعات کی تشہیر کیلئے قومی اور علاقائی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے فیصل آباد کی سرکردہ کاروباری خواتین کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ وہ ”ایک ٹیم اور ایک مقصد“ کے نعرے کے تحت کام کر رہی ہیں جن سے بہت جلد اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔انہوں نے اس نمائش کے انعقاد کے سلسلہ میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، نائب صدر محترمہ فرحت نثار، محترمہ عائشہ مسعود، محترمہ حنا بابر کی خدمات کو سراہا جبکہ فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی نمائش دیکھی اور خواتین کی مصنوعات کے معیار کو سراہا۔ خواتین کی بڑی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا جبکہ اس سلسلہ میں مصنوعی جیولری، فیشن ڈریسز، ہوم ٹیکسٹائل، جوتوں، فوڈ پراڈکٹس کے سٹال بھی لگائے گئے تھے۔

  • قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا.عبدالرزاق داؤد مشیروزیراعظم

    فیصل آباد (عثمان صادق) قومی معیشت کی بحالی کیلئے ایس ایم ای سیکٹر کو مزید متحرک کر دار ادا کرنا ہو گا جبکہ حکومت اس شعبہ کی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ بات کامرس اور سرمایہ کاری بارے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے ایس ایم ای بارے جامع پالیسی کی تشکیل کے سلسلہ میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں صنعت و پیداوار بارے وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کے علاوہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ انہوں نے مختلف چیمبرز اور تجارتی تنظیموں کی طرف سے اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی تجاویز کو سراہا اور کہا کہ حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ اس شعبہ کو ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ ملکی برآمدات میں نوے فیصد حصہ ایس ایم ای سیکٹر کا ہے مگر محدود وسائل سے کام کرنے والے اِن اداروں کا سرمایہ حکومتی ٹیکسوں کے چکر میں پھنس جانے سے انھیں مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس شعبہ کیلئے زیر و ریٹنگ کی سہولت بحال کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ انہیں پہلے ٹیکس دینے اور پھر اس کی واپسی کیلئے دفتروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایس ایم ای شعبہ کی مالی حیثیت کا بھی از سر نو تعین کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور یہی شعبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس شعبہ کے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ حکومت اِن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔

  • خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے

    فیصل آباد (عثمان صادق) خواتین کو معاشی دھارے کا متحرک اور پیداواری حصہ بنانے کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ نیا اور جدید ذریعہ ہے جبکہ فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کو اپنی ممبرز اور تعلیم یافتہ طالبات کو اس بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے۔ یہ بات محترمہ صفورا زینب نے وومن چیمبر کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ اور بزنس پر موشن دو الگ الگ شعبے ہیں اور ہمیں اِن کے فرق کو سمجھتے ہوئے اپنے مطلوبہ سیکٹر پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اِن سے بہترین نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ اِس کے ذریعے آن لائن میسر سہولتوں سے ہی اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے اور اِس مقصد کیلئے جگہ جگہ گھومنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس ذریعہ کے مؤثر استعمال سے ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر چھ سیکنڈ بعد ایک نیا اکاؤنٹ کھل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارٹ میسج استعمال کرنے والوں کی تعداد 4.4ارب جبکہ انسٹاگرام کے ایکٹو یوزر کی تعداد 1.7ارب ہے۔ اسی طرح روزانہ 95ملین تصاویر روزانہ اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ 53منٹ کے اوسط وقت میں 71فیصدملینلزاور 71فیصد امریکی بزنس مین اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے کہا کہ انہوں نے کاروباری خواتین کی آگاہی اور نوجوان طالبات کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینے کیلئے ایک جامع پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ بارے بھی آگاہی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے استعمال سے خواتین کواپنے کاروبار کیلئے مردوں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور وہ تمام کام از خود ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہی کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیا اور جدید ذریعہ ہے جس سے طالبات کو لازمی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی آگاہی تقریبات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ آخر میں نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ اس تقریب میں سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد، حنا خاں، ہما خالد اور دیگر خواتین نے بھی شرکت کی۔