فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا میں کمی کے باعث مختلف ملکوں کے درمیان ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ ساؤتھ افریقہ اور پاکستان کو بھی اِن مواقعوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ساؤتھ افریقہ کو ٹورازم کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا چاہیے۔ یہ بات ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے فیصل آباد وومن چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کے دورے کے دوران فی میل انٹر پرینورز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان گورنمنٹ کی ”Look Africa“کی پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستانی خواتین کو ساؤتھ افریقہ میں کاروبار ی خواتین سے روابط بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گو پاکستان ٹیکسٹائل میں جدید مہارت رکھتا ہے مگر غیر روایتی منڈیوں میں زیادہ ٹریڈ کا پوٹینشل موجود ہے اور ان پر ان کا فوکس ہونا چاہیے تاکہ غیر روایتی اشیاء کو برآمد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں قدرتی حسن اور برف سے ڈھکی پہاڑوں کا حسین منظر دستیاب ہے اور ہمیں اس پوٹینشل کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانا چاہیے۔ فیصل آباد وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے روڈ میپ کا تفصیل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فیصل آباد وومن چیمبر کا ایک وفد ساؤتھ افریقہ بھیجنا چاہتی ہیں تاکہ وہاں کی کاروباری خواتین سے ملاقات کر کے باہمی تجارت کے مواقع حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے ہائی کمشنر سے امید ظاہر کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ڈیلی گیشن کے سلسلہ میں مدد کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا زیادہ سے زیادہ فوکس وومن انٹر پرینوئرشپ ڈویلپمنٹ بڑھانا ہے اور اس سلسلہ میں 15نومبر کو آل پاکستان وومن پریزیڈنٹس کی کانفرنس بھی منعقد کر رہی ہیں۔ نائب صدر محترمہ فرحت نثار نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سینئر نائب صدر محترمہ صوبیہ عقیل، محترمہ شمع احمد اور دیگر خواتین بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
Tag: Imran Khan

کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والی دو طرفہ تجارتی کوششوں کو نئے جذبے سے شروع کیا جائے گا. میتھو تھو زالی ہائی کمشنرجنوبی افریقہ
فیصل آباد (عثمان صادق) کرونا کی وجہ سے تعطل کا شکار ہونے والی دو طرفہ تجارتی کوششوں کو نئے جذبے سے شروع کیا جائے گا تاکہ دونوں ملکوں کے پوٹینشل کے مطابق تجارت کو بڑھایاجا سکے۔ یہ بات جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر میتھو تھو زالی ماڈی کیزا نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے پاکستان کی ”Look Africa“پالیسی کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کا مشترکہ کمیشن کلیدی کردار ادا کر رہا تھا مگر کرونا کی وجہ سے سارا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اَ ب ہم نے دوبارہ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں اور توقع ہے کہ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے نوجوانوں کو قریب لانے کیلئے مختصر اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ پائیدار بنیادوں پر باہمی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ ویزا کے بارے میں مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ سنجیدہ کاروباری افراد کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا مگر بدقسمتی سے ایجنٹوں کے ذریعے جنوبی افریقہ آنے والوں کی ایک بڑی تعدادواپس نہیں جاتی جس کی وجہ سے اُن کے ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد بتدریج بڑھ رہی ہے اور اس وجہ سے ہمیں ویزوں کے اجراء میں زیادہ احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری افراد ویزے کے سلسلہ میں براہ راست اُن کے دفتر سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ اُن کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے سلسلہ میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور دونوں ملکوں کے چیمبرز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کی تجویز کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سلسلہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کرونا کے بعد اَب حالات کافی بہتر ہیں اور ہمیں اس صورتحال سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر آ ف کامرس اینڈانڈسٹری کا مختصر تعارف پیش کیا اور کہا کہ یہاں قائم ہونے والے جدید صنعتی علاقوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دوطرفہ تجارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہترین تعلقات کے باوجود ابھی تک ہماری باہمی تجارت لاکھوں میں ہے جسے اربوں تک ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر نے صنعتی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے مقامی تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں جس سے یہاں جدید اور ہائی ٹیک صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کا تجارتی وفد جنوبی افریقہ بھیجنے اور دونوں ملکوں کے سرکردہ چیمبرز کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں کی اہمیت پربھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے ملکوں میں سنگل کنٹری نمائشوں کا بھی تسلسل سے انعقاد کرنا چاہیے۔ اس موقع پر سوال و جواب کی بھی نشست ہوئی جس میں محمد فاضل، سہیل بٹ، انجینئر احمد حسن، انجینئر عاصم منیر اور دیگر شرکاء نے حصہ لیا۔ آخر میں سینئر نائب صدر عمران محمود شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ رانا محمد سکندر اعظم خاں نے صدر عاطف منیر شیخ کے ہمراہ جنوبی افریقہ کے ہائی کمشنر کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر وومن چیمبر کی صدر محترمہ نگہت شاہد، سابق صدر چوہدری محمد نواز اور رانا اکرام اللہ بھی موجود تھے۔

فیصل آباد میں چینی کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں
فیصل آباد(عثمان صادق) ضلع بھر میں چینی کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ محمد زبیر نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کرکے32ہزار کلو گھی،3سو بوری چینی قبضہ میں لیکر گودامز سیل اور دکانداروں کے خلاف مقدمات درج کرادیئے۔اسسٹنٹ کمشنر نے ملک ظفر 240موڑ کے گودام پر چھاپہ مار کر وہاں سے 32ہزار کلو گھی،3سو بوری چینی برآمد کرلی جبکہ شیخ اشرف کو سرکاری نرخوں سے زائد ریٹ پر چینی فروخت کرنے اورشیخ یعقوب غلہ منڈی کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ عوام الناس کو زائد نرخوں پر اشیائےخورونوش کی فراہمی کسی صورت قبول نہیں اور ذخیرہ اندوزوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ضلع کے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے گزشتہ روز مہنگے داموں چینی فروخت کرنے پرمزید 9 دکانیں سیل، 7دکانداروں کے خلاف مقدمات درج اورموقع سے 4۔افراد کو گرفتار کرادیا۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس مارکیٹوں وبازاروں میں سارا دن سرگرم رہے اورچینی مہنگے داموں فروخت کرنے والے گرانفروشوں کے خلاف کارروائی کی۔علاوہ ازیں 1876۔انسپکشنز کرکے پھل،سبزیاں،گوشت اورکریانہ کی اشیاء مہنگے داموں فروخت کرنے والے111 ناجائزمنافع خوروں کو پونے تین لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا۔

بہترین پاک نائیجیریا تعلقات کے پیش نظر دو طرفہ تجارت کو1 بلین ڈالر تک بڑھانے کی ضرورت ہے.محمد بیلو ابیوئے
فیصل آباد (عثمان صادق) بہترین پاک نائیجیریا سفارتی تعلقات کے پیش نظر دو طرفہ تجارت کو کم از کم 1بلین ڈالر تک بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کو انتہائی متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ بات پاکستان میں تعینات نائیجیریا کے ہائی کمشنر محمدبیلو ابیوئے نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور نائیجیریا کے درمیان انتہائی مضبوط اور مستحکم تعلقات ہیں مگر اس تناسب سے معاشی معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں معاشی تعلقات کے فروغ پر خصوصی توجہ دیناہو گی اور اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل کی صنعت نے زبردست ترقی کی ہے جبکہ پاکستان سے نائیجیریا کو ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کی برآمدات بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کے وفد کے آئندہ ماہ لاگوس میں ہونے والی نمائش میں حصہ لینے کاخیر مقدم کیا اور کہا کہ اس میں شرکت کرنے والوں کو ہر قسم کی سیکورٹی مہیا کی جائے گی۔ آئی ٹی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں نائیجیریا کے ہائی کمشنر نے کہا کہ آپ اس بارے میں پلان تیار کر کے اُن سے شیئر کریں تاکہ اس سلسلہ میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات شروع کئے جاسکیں۔ انہوں نے نائیجیریا کے قابل اعتبار اجناس برآمد کرنے والوں کی فہرست مہیا کرنے کا بھی یقین دلایاتاکہ پاکستانی درآمد کنندگان یہ اجناس نائیجریا سے درآمد کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، لاہور کے علاوہ فیصل آباد میں بھی نائیجیریا کا اعزازی قونصل جنرل مقرر کرنے کی تجاویز آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجر اس سلسلہ میں اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اس سلسلہ میں اپنی حکومت کے سامنے یہ تجویز پیش کر سکیں۔ انہوں نے فوڈ فلیور نائیجیریا برآمد کرنے کے بارے میں بھی متعلقہ افراد سے رابطوں کا یقین دلایا۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سینئر نائب صدر عمران محمود شیخ نے نائیجیریا کے ہائی کمشنر محمدبیلو ابیوئے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد او رفیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کا تعارف کرایا اور بتایا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل اس شہر کی شناخت ہے مگر یہاں کیمیکلز، فارما سوٹیکل، بیوریج، سوپ اور خوردنی تیل سمیت دیگر کئی شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور نائیجیریا میں بہترین تعلقات ہیں لیکن اِس کے تناسب سے ہماری دو طرفہ تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ انہوں نے کرونا کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی وجہ سے جب عالمی معیشت سکڑ رہی تھی پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی سے نہ صرف صنعتی، تجارتی اور برآمدی سرگرمیاں جاری رہیں بلکہ بے روزگاری کے مسئلہ پر بھی بخوبی قابو پایا گیا۔ نئے عالمی رجحانات کے مطابق افریقہ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افریقی ملکوں سے تجارتی تعلقات بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں نائیجیریا کے ذریعے دوسرے افریقی ممالک تک بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ درآمدی اور برآمدی اعداد وشمار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تجارتی توازن نائیجیریا کے حق میں ہے جبکہ فیصل آباد نائیجیریا کی کپڑے کی ضروریات کو بآسانی پورا کر سکتا ہے۔انہوں نے کرونا کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تاجروں کے درمیان زوم میٹنگز، تجارتی اطلاعات کے تبادلے، کیٹلاگ کی نمائش، دونوں ملکوں میں تجارتی معاہدے، سنگل کنٹری ایگزی بیشنز اور دونوں ملکوں کے چیمبرز کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخطوں پر بھی زور دیا۔ سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں محمد اظہر چوہدری، انجینئر احمد حسن، انجینئر عاصم منیر، محمد فاضل، خرم، محمد طاہر یعقوب اور دیگر ممبران نے حصہ لیا۔ آخر میں نائب صدر رانا فیاض احمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ جبکہ انجینئر احمد حسن نے سینئر نائب صدر عمران محمود شیخ کے ہمراہ نائیجیریا کے ہائی کمشنر کو فیصل آبا د چیمبر کی خصوصی شیلڈ پیش کی۔

گورنمنٹ سٹاف ٹریننگ کالج میں ”ڈپلومہ کے بعد کاروبار” کے موضوع پرسیمینار کا انعقاد
فیصل آباد (عثمان صادق) گورنمنٹ سٹاف ٹریننگ کالج میں ”ڈپلومہ کے بعد کاروبار” کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مائیکرو سافٹ سپیکرز کلب کے نائب صدرعلی آصف نے طالبعلموں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں کاروبار کی اہمیت سے آگاہ کیا۔انہوں نے تعلیم کے بعد کاروبار کرنے کے لئے رہنما اصولوں کا تفصیلی ذکر کیا۔انہوں نے اسوہ حسنہ کے مطابق کاروبار کے معیار کا اعادہ بھی کیا۔اس موقع پر تمام طلباء نے اس پروگرام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔تقریب میں پرنسپل کالج انجینیر مظہر عباس نقوی،ڈسٹرکٹ پلیسمینٹ آفیسرمحمد اصغر،کالج پلیسمینٹ آفیسررضوان اکرم ودیگر نے خطاب کیا۔

سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان
سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،
کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب ملکر نالائق حکومت کےخلاف نکلیں گے،ہم نے حکومت کومجبورکیا اپنےارکان اسمبلی ،اتحادیوں سے بات کرے،اگرآپ حفیظ شیخ کوکامیاب کراتے ہیں تو آپ آئی ایم ایف کاساتھ دے رہے ہیں،اسلام آباد کی سیٹ سےیوسف رضاگیلانی کوبھی کامیاب کرائیں گے،ضمنی الیکشن میں حکومت کی شکست سے پتا چل گیاعوام ہمارے ساتھ ہیں ،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آج منہگائی افغانستان اور بنگلا دیش سے بھی زیادہ ہے،عوام کے ساتھ ملکر عوامی حکومت بنائیں گے جو غریب کا خیال رکھے،سب کے لئے ایک قانون ہوگا تو پھرکرپشن ختم ہوسکتی ہے ،عمران خان اور پی ٹی آئی نے کرپشن کیخلاف نعرے لگائے ،کٹھ پتلی حکومت میں صلاحیت نہیں کہ حکومت چلا سکے،علیمہ باجی کی سلائی مشین میں بھی کرپشن ہے،بی آر ٹی ملک کا سب سے منہگا اور کرپشن سے بھرا پروجیکٹ ہے ٹرانسپرنسی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں کرپشن بڑھی ہے،پاکستانی عوام جمہوریت اور پی ڈی ایم کےساتھ ہیں،پی ڈی ایم اس نالائق حکومت کا مقابلہ کر رہی ہے،
بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے عوام کو نالائق و ناجائز حکومت سے بچائیں گے،پیپلزپارٹی نےخیبرپختونخوا کانام دے کر صوبے کوشناخت دلوائی،غریب عوام کو پی پی روزگار دلواتی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے روزگار چھین لیا، پاکستان پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں صدر زرداری میں ملک بھر میں روزگار دیئے گئے، نہ صرف روزگار دیا گیا بلکہ تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا،پنشن میں اضافہ کیا گیا، سرکاری ملازمین کوریلیف دیا ،سرحدوں پرلڑنےوالےجوانوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا،
بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق صدرآصف زرداری نے سی پیک منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، ہماری سوچ تھی گلگت سے بلوچستان تک چین کےساتھ معاشی ترقی کریں گے، نالائق حکومت سی پیک منصوبہ ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم نے سی پیک کی بنیاد عوام کی بھلائی کیلیے رکھی تھی ،پختونخوا کے عوام کو نالائق و ناجائز حکومت سے بچائیں گے،کوہاٹ کے عوام کے مسائل حل کریں گے، عوام کو نالائق اور نااہل حکمران سے چھٹکارا دلائیں گے، پیپلزپارٹی نے 73 کے آئین کو 18 ویں ترمیم کی صورت میں بحال کیا،نالائق حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے کی کوشش کی ،ہم مل کر روزگار میں اضافہ کریں گے
سینیٹ الیکشن سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گئی، دو اہم ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے
کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر سینیٹ پہنچے تھے۔ ان کے علاوہ کوہاٹ سے ہی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی امجد آفریدی بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ، وہ بھی آزاد حیثیت میں 2018 کا الیکشن جیتے تھے۔
پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا
نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟
سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ
سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا
اک زرداری سب پر بھاری، سینیٹ الیکشن سے قبل بڑا سرپرائیز دے دیا
سینیٹ الیکشن سے قبل بلاول نے خیبر پختونخواہ میں دو وکٹیں گرا لیں

احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان
لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔
ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔
اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات
پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کیلئے ایک اور بڑا اعزاز
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو دنیا کے 500 موثر ترین مسلمانوں کی لسٹ میں شامل کر لیا گیا اور ان کا نام سرفہرست رکھا گیا ہے
اردن کے رائل اسلامک سٹریٹیجیز سنٹر نے سال 2019 کیلئے موثر ترین اور کامیاب ترین مسلمانوں کی لسٹ جاری کی جس میں پاکستان کے پوسٹر بوائے عمران خان کو "مین آف دا ائیر” کا ایوارڈ بھی دیا گیا ،رائل اسلامک سنٹر کے چئیرمین عبداللہ شیفلر نے کہا کہ اگر مجھے اس ایوارڈ کے ونر کو 1992 میں نامزد کرنے کیلئے کہا جاتا تو میرا انتحاب تب بھی عمران خان ہوتے کیونکہ انہوں نے جس طرح پاکستان کو 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا تھا وہ کافی متاثر کن تھا ، اور عمران صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ خدمت خلق کے اعتبار سے بھی چیمپئن ہیں ، عبداللہ نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان میں اپنے بل بوتے پر کینسر ہسپتال بنوایا ، اور اب جس طرح اقوام عالم میں عمران خان اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ انتہائی متاثر کن ہے اور عمران خان سے بہتر "مین آف دا ائیر 2019” کے ایوارڈ کا حقدار کوئی نہیں،
مزید پڑھیں
امریکا چینی مسلمانوں کی حمایت کیوں کر رہا ہے ؟
پن بجلی کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
نیپرا کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس سال اگست میں پاکستان کی پن بجلی کی پیدوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اگست کے مہنے کے بعد پاکستان کی پن بجلی کی کل پیداور 5668 گیگا واٹ آورز تک پہنچ گئی،
تفصیلات کیمطابق پن بجلی میں پیدا ہونے اس اضافے کی بنیادی وجہ ماحول دوست اور سستی بجلی پیدا کرنے والے پروجکیٹس ہیں ، پن بجلی کی پیداور میں ہونے والے اضافے سے پیٹرول سے پیدا ہونے والی مہنگی بجلی کی ضرورت کم ہو گی اور صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے کا حکومتی خواب شرمندہ تعبیر ہو گا،









