Baaghi TV

Tag: Imran Khan

  • ریحام خان نے کپتان کو اچانک اہم پیغام بھجوا دیا، ملکی سیاست میں نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا

    ریحام خان نے کپتان کو اچانک اہم پیغام بھجوا دیا، ملکی سیاست میں نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا

    اسلام آباد: ریحام خان نے عمران خان کی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ مہربانی فرماکر کافی کی ایک بریک لیں اور ہمیں بھی کافی کی بریک لینے دیں.

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میں اس حکومت کی مزید ناکامیوں کو برداشت نہیں کرسکتی، روز ہی کوئی نہ کوئی فضول بریکنگ نیوز آجاتی ہے. ساتھ ہی ریحام خان نے عمران خان کی حکومت کو مشورہ دیا کہ مہربانی فرماکر کافی کی ایک بریک لیں اور ہمیں بھی کافی کی بریک لینے دیں. انہوں نے یہ ٹویٹ مسلم لیگ ن کی قائد مریم نواز کی گرفتاری کے بعد کیا.

    واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی قائد مریم نواز کو نیب نے آج گرفتار کرلیا ہے. مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل کے احاطے سے گرفتار کیا گیا. گرفتاری کیخلاف ن لیگی کارکنان کا سخت ردعمل سامنے آرہا ہے، تاہم اب عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی مریم نواز کے حق میں ٹویٹ کردی ہے.

  • امریکی ڈالر حیرت زدہ حد تک گر گیا، عمران خان کی پہلی بڑی فتح

    امریکی ڈالر حیرت زدہ حد تک گر گیا، عمران خان کی پہلی بڑی فتح

    اسلام آباد: پاکستانی روپے میں مسلسل آتھ روز سے بہتری دیکھنے میں آرہی ہے.

    تفصیلات کے مطابق پچھلے آٹھ روز سے مسلسل پاکستانی روپے میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جبکہ امریکی ڈالر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے. یہ خبر پاکستانی معیشت کی بہتری کیلئے بہت اچھی ہے، اس حوالے سے بزنس مین اور معیشت کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی معیشت میں مزید بہتری آئے گی. روپے میں بہتری کی خبر کو عمران خان کی فتح قرار دیا جارہا ہے. جبکہ دوسری جانب سرحد کے دوسری پار بھارت میں آرٹیکل 35 اے اور 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی معیشت ڈوب گئی ہے. بھارت میں ڈالر ڈیڈھ روپے مہنگا ہوا ہے اور وہاں کی اسٹاک مارکیٹ کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں.

  • کیا بھارت پر حملہ کردوں؟ وزیراعظم کے اعلان سے پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

    کیا بھارت پر حملہ کردوں؟ وزیراعظم کے اعلان سے پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران احمد خان نیازی نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ "شہباز شریف آپ بتائیں کیا بھارت پر حملہ کردوں”؟

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں جوائنٹ سیشن کا اجلاس ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث کی گئی. اس موقع پر شہباز شریف کی تقریر ختم ہونے کے بعد عمران خان نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے سوال کیا کہ "شہباز شریف آپ بتائیں کیا بھارت پر حملہ کردوں”؟ اس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ "میں نے ایسا نہیں‌ کہا، میں کہہ رہا ہوں کہ آپ قوم کو اعتماد میں لیں” دوسری جانب عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ آخری خون کے قطرے تک لڑیں گے، کشمیر کا تنازعہ حل ہونے سے برصغیر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا.

    واضح رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کرکے کشمیر کی خود مختاری ختم کردی تھی جس پر آج پارلیمنٹ میں بحث ہوئی.

  • اچانک ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم کی ایوان میں دوڑیں لگ گئیں

    اچانک ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم کی ایوان میں دوڑیں لگ گئیں

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران احمد خان نیازی اپنی تقریر مکمل کرکے ایوان سے چلے گئے.

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت اور تقریر کی. عمران خان نے اپنی تقریر مکمل کرنے کے بعد صرف اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تقریر سنی جبکہ شہباز شریف کی تقریر مکمل ہونے کے بعد عمران خان وہاں سے چلے گئے. اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ عمران خان نے صرف اپنی تقریر مکمل کی اور چلے گئے، انہیں سب کی بات سننا چاہیئے تھی. اس موقع پر بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آخری بار بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ عمران خان اپنی تقریر مکمل کرکے چلے گئے تھے جو اچھی روایت نہیں ہے.

    واضح رہے کہ آج قومی اسمبلی میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے جہاں بھارتی جارحیت کا جواب دیا جارہا ہے.

  • کشمیر 3 حصوں میں تقسیم کرنا عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی، نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    کشمیر 3 حصوں میں تقسیم کرنا عمران خان کی دیرینہ خواہش تھی، نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    لیہ: سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھا تو کہا تھا کشمیر کے تین حصے ہونے چاہیے آج ہندوستان نے کشمیر کے تین حصے کردیئے ہیں.

    تفصیلات کے مطابق لیہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھا تو کہا تھا کشمیر کے تین حصے ہونے چاہیے آج ہندوستان نے کشمیر کے تین حصے کردیئے ہیں. یاد رہے کہ بھارت نے آج آرٹیکل 35 اے اور 370 ختم کرکے نہ صرف کشمیر کی خود مختاری ختم کی بلکہ کشمیر کو تین حصوں میں بھی تقسیم کردیا ہے.

    دوسری جانب بھارتی فوج کی جانب معصوم کشمیریوں پر ظلم کا سلسلہ جاری ہے. اس ظلم کیخلاف پاکستان بھر میں ریلیوں کا انتظام بھی کیا جارہا ہے.

  • نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: ایسی خبر آگئی جس سے غریبوں کے چہرے کھل اٹھے

    نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: ایسی خبر آگئی جس سے غریبوں کے چہرے کھل اٹھے

    اٹک (اے پی پی) مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اٹک میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا دورہ کر تے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام موجودہ حکومت کا انقلابی قدم ہے.

    وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام موجودہ حکومت کا انقلابی قدم ہے. جس کی وجہ سے غریب طبقے کوسہولت حاصل ہوگی اور ان کو کم قیمت میں شاندار گھر میسر آئیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اٹک میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا دورہ کر تے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اٹک عشرت اللہ خان نیازی، اسسٹنٹ کمشنر اٹک جنت حسین اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ مشیر وزیراعظم پاکستان کو اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چار سو کنال اراضی نےا پاکستان ہاﺅسنگ پر وگرام کے لیے حاصل کی گئی اور محکمہ ہاﺅسنگ کے حوالے کر دی گئی ہے،سیکرٹری ہاﺅسنگ پنجاب اور ڈی جی ہاﺅسنگ نے بھی سائٹ کا دورہ کیا اور اس کو پرا جیکٹ کے لیے موزوں قرار دیدیا ۔حاصل کی گئی اراضی پر متعلقہ محکمہ جلد تعمیرات کا آغاز کر دے گا۔

  • تبدیلی کا کیک اور آدھی روٹی ۔۔ ایاز خان

    ایک ملک میں انہتائی کرپٹ حکمرانوں کی حکومت تھی ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت کا بازار گرم تھا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتے جاتے تھے ۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے ۔۔ عوام جتنا کماتے سب خرچ ہوجاتا۔بلکہ مقروض رہتے ۔
    وہاں ایک شخص جس نے ساری عمر کھیل کود میں گزاری تھی اور اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا۔۔لوگوں کی حالت اور حکمرانوں کی بے حسی پر کُڑھتا رہتا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نہ خود بادشاہ بن کر لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے جان چھڑائی جائے ۔ ۔اورپھر اُس نے لوگوں کو قائل کرنا شروع کردیاکہ وہ انہیں ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے گا۔۔جو دولت ان حکمرانون نے لوٹی ہے وہ واپس لا ئے گا ۔۔اور لوگوں اور غذائیت کی کمی کے شکاربچوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کو دے گا ۔پھر کیا تھا کہ لوگوں نے اس شخص کی بات پر یقین کرلیا۔اور کرپٹ حکمرانوں کو ہٹا کر اُسے حکمرانی دے دی گئی جب وہ شخص حکمران بنا تو کیادیکھتاہے کہ خزانہ تو خالی ہے بلکہ ملک کا دیوالیہ نکلا ہواہے۔
    پھر کیا تھا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں پر مقدمات بنے اور انہیں جیل میں ڈالا گیاکہ لوٹی دولت واپس دو۔۔مگر نہ دولت واپس آئی اور نہ ہی خزانہ بھرا۔۔ نئے حکمران نے اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ سر جوڑ لیا۔کچھ نے مشورہ دیا کہ دوست ملکوں سے قرض لیا جائے ۔او ر خزانہ بھر ا جائے تاکہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک مل سکیں ۔۔نیا حکمران کبھی اس ملک بھاگا کبھی اُس ملک بھاگا۔۔کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے لیا ۔۔مگر خزانہ بھر نا تو دور کی بات ۔کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوگیا۔۔پھر کیا تھا کہ فیصلہ کیاگیاکہ اُس آدمی کو لایا جائے جو پہلے حکمرانوں کو بھاری سود پر ر قم کا بندوبست کر کہ دیتاتھا۔اگرچہ نئے حکمران نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ۔وہ خود کُشی کرلے گا لیکن ایسے کام کبھی نہیں کرے گا جو پہلے والے حکمران کرتے آئے ہیں ۔۔مگر اُس نے تو عوام کو روٹی کی جگہ کیک کھلانے تھے ۔اس عظیم مقصد کے لےے اُس نے بھاری سود اور شرطوں سے بھرپور قرض بھی لے لیا۔۔لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آرہے تھے ۔۔کیونکہ خزانہ تھا کہ جتنا مرضی ڈالے جاﺅ بھر تاہی نہیں تھا ۔اور قرض تھا کہ آسمانوں کو چھونے لگا۔۔نئے حکمران نے بڑے بڑے معاشی پنڈت بلا لیے ۔۔اور اُن کے سامنے اپنا مدعا رکھا کہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک کیسے کھلایا جائے ۔کیونکہ ان حالات میں تو ممکن نہیں ۔

    فیصلہ کیا گیا کہ لگان اتنا بڑھا دیاجائے کہ خزانہ بڑھ جائے اور کیک کی فیکٹریاں لگ سکیں ۔اور پھر فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوا۔۔ پھر کیا تھا کہ ہر کمانے والے پر جو پہلے ہی طرح طرح کے تاوان دیتاتھا۔نئے نئے لگان لگادیے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو چار روٹیاں کھاتا تھا ۔مہنگائی بڑھنے اور تاوان کٹنے سے دو روٹیوں پر آگیا۔۔جو دو روٹیاں کھاتا تھاایک ۔۔اور جو ایک روٹی کھاتا تھا ۔اسے مجبور کردیاگیاکہ وہ آدھی روٹی کھائے ۔۔۔رہی بات آدھی اور چوتھائی کھانے والوں کی تو انہیں بھی دو دو تین تین نوالے لگان میں دینے کا کہہ دیا گیا۔۔تاکہ ۔ اُن کے لیے کیک کا بندوبست ہوسکے ۔۔ اُن میں سے ایک مشیر ایسا بھی تھا جو سامنے تو نہیں آتا تھا لیکن فیصلے وہی کرتا تھا کہ کس وزیر کو لگانا ہے اور کسے ہٹانا ہے ۔اس مشیر کا چینی کا دھندہ تھااور چونکہ کیک بغیر چینی کے مکمل نہیں ہوسکتا تو مشیر نے کہا کہ اتنے کیک بنانے کے لیے بہت زیادہ چینی درکار ہوگی ۔اور لوگ سستے داموں چینی لے کر کھا جاتے ہیں ۔۔اس لیے اگر چینی پر بھی تاوان لگا دیا جائے تو اتنے پیسے اکٹھے ہوجائیں گے کہ مستقبل میں کیک بنانے کے لےے چینی وافر مقدار میں موجود ہوگی اور ضرورت پڑنے پر ان پیسوں سے درآمد بھی کی جاسکے گی ۔۔پھر کیا ہوا کہ چینی پر بھی لگان لگا دیاگیااور عوام کے بچوں کو جو پانی میں قطرہ بھر دودھ ڈال کر چینی ملا کر پلا یا جاتا تھا ۔۔وہ بھی ممکن نہ رہا۔۔۔حالات زرہ خراب ہوئے تو صنعتکاروں اور کاروباری حضرات جن کے منافعے زرہ کم ہوئے تو ۔انہوں نے مزدور نکالنے شروع کردےے ۔بچ جانے والوں کو کہا جانے لگا کہ دو دو تین تین لوگوں کا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور وہ بھی آدھی تنخواہ پرجب عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھی تو ملک کا حکمران آئے روز مجمع لگاتا ۔اور لوگوں کو کہتا کہ وہ ےہ سب اس لےے کررہا ہے تاکہ عوام روٹی کی بجائے ”کیک “ کھاسکیں اور بچوں کی نشو و نما اچھی ہوسکے ۔۔انہیں ےہ کچھ عرصہ برداشت کرنا پڑے گا۔۔اور کہتا کہ میں نے خود بھی محل میں رہنا چھوڑ دیاہے ۔۔اور اپنے خرچے پر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتاہوں ۔اس لےے صبر کریں ۔اور لگان دیں ۔
    مگر ےہ جھوٹے دلاسوں سے عوام کے پیٹ کہاں بھرتے ہیں اور ۔اور پھر کیا ”کیک “ کے انتظار میں لوگ کب تک آدھی روٹی پر گزارہ کریں ؟۔۔پھر کیا تھا کہ وہی کرپٹ حکمران جنہوں نے عوام کو بس روٹی تک محدود کر رکھا تھا اور عوام میں اُنکی جگہ نیا حکمران لابٹھایا ، نئے حکمران کے خلاف اکٹھے ہو نا شروع ہوگئے ۔اور عوام کو کہنے لگے ۔۔”دیکھا ہم تمھیں روٹی تو دیتے تھے ۔۔۔اس نئے حکمران نے تو تمھاری روٹی بھی آدھی کردی “۔۔۔اور پھر وہ سارے کرپٹ ملکر نئے حکمران کو ہٹانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔اور ساتھ ہی حکومت کو معیشت کو ٹھیک کرنے کے لےے معاہدوں کی پیشکش بھی کرنے لگے ۔۔۔۔
    کہانی ابھی جاری ہے !