Baaghi TV

Tag: india vs Pakistan

  • کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    کراچی پولیس آفس حملہ:وزیراعظم کا جام شہادت نوش کرنیوالوں کوشہداپیکج دینے کااعلان

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر حملے میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا ہے۔

    شہباز شریف نے کراچی پولیس آفس پر دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہید 2 پولیس، ایک رینجر اہلکار اور ایک سویلین کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی بھی کی جب کہ آپریشن میں جام شہادت نوش کرنے والوں کو شہدا پیکج دینے کا اعلان کیا۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ تینوں افواج، رینجرز، پولیس سمیت مشترکہ آپریشن میں شریک تمام فورسز کو خراج تحسین کرتا ہوں، ایک گھنٹے طویل آپریشن میں فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مستعدی کا مظاہرہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ آپریشنل تیاری، پولیس کی استعداد میں اضافے پر فوری توجہ دینا ہوگی، دہشتگردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے پوری ریاستی قوت اور اشتراک عمل کو بروئے کار لانا ہو گا۔وزیراعظم نے حملے کے زخمیوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    یاد رہے کہ کل شامکراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

     

     

    ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    کراچی:کراچی پولیس آفس میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے ناکام حملے میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ پولیس آفس کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔کلیئرنس آپریشن میں شریک اہلکاروں نے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے بعد اللہ اکبر کے بلند نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ آپریشن کے دوران رینجرز کے سب انسپکٹر تیمور اور پولیس اہلکار غلام عباس سمیت چار افراد شہید ہوئے تھے، جب کہ انیس زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں میں رینجرز کے لیفٹیننٹ کرنل جواد، ایس ایس یو کے ڈی ایس پی حاجی عبد الرزاق بھی شامل ہیں۔

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی میں پولیس آفس پر حملے میں شہید ہونے والے رینجرزکے سب انسپکٹر تیمور کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔ رینجرز ہیڈ کوارٹر میں وزیراعلیٰ سندھ، کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سميت دیگر افسران نے شرکت کی۔ شہید کی میت تدفین کیلئے شجاع آباد ملتان روانہ کردی گئی

    ڈی آئی جی سیکیورٹی مقصود میمن کے مطابق تین دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، سندھ پولیس ایسے حملوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے۔

    کراچی پولیس چیف آفس پر حملے کے بعد آپریشن میں ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی۔ ایک کا تعلق لکی مروت اور دوسرے کا شمالی وزیرستان سے ہے۔دہشت گرد شام سات بجے کے قريب پولیس کی وردیوں میں عقبی راستے سے پولیس آفس ميں داخل ہوئے۔ دہشت گردوں کے پاس نیلے رنگ کے بیگز موجود تھے۔ کھجوریں اور چنے لے کر آئے تھے۔ پاک افواج کے کمانڈوز، رینجرز اور پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا۔

    کرائم سین یونٹ نے دہشت گردوں کی گاڑی کا معائنہ مکمل کرلیا۔ سفید رنگ کی گاڑی سے دومیگزین بھی ملے ہیں۔ گاڑی سے بی ایس آر چھ سو چھتیس نمبرکی ایک اور نمبرپلیٹ ملی۔ کار نمبر اے ایل ایف زیرو فور تھری جس شہری کے نام پر رجسٹرڈ ہے وہ گاڑی بیچ چکا ہے، جس نے خریدی اس نے بھی آگے بیچ دی۔ مگر نئے مالک نے اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروائی۔ گاڑی کے چوری ہونے یا چھینے جانے کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر مرحوم کے بلند درجات اور اہل خاندان کے صبرکے لیے دعا کی اورکہا کہ سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کے اہل خانہ کا ہر طرح خیال رکھے گی۔سندھ حکومت شہید سب انسپکٹر کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعد شہید سب انسپکٹر کی میت آبائی علاقے ملتان شجاع آباد روانہ کردی گئی، جہاں آبائی قبرستان میں شہید کو سپرد خاک کردیا جائے گا۔

    کراچی:بیٹی نے 14 سال بعد باپ کے قاتل کو تلاش کرکےدوبئی میں گرفتار کروا دیا

    یاد رہے کہ کل رات کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی حملہ: آئی جی سندھ نےچند گھنٹے قبل سی پی او کی سکیورٹی سخت کرائی

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ایس ایس یو، رینجرز کی کوئیک رسپانس فورس سمیت سیکیورٹی ادارے کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کیا، ساڑھے 3گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا

  • ملک بھر میں شب معراج آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب معراج آج انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جائے گی

    ملک بھر میں شب معراج آج شب ِہفتہ 18 فروری کو انتہائی عقیدت اور احترام سے منائی جائے گی، اس موقع پر خصوصی محافل میں واقعہ معراج کی فضیلت بیان کی جائے گی۔

    ستائیس رجب کی شب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج کا شرف عطا کیا گیا، جب حضرت جبرائیل براق لے کر نبی آخرالزماں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسولﷺ ، آپ کا رب آپ سے ملاقات چاہتا ہے، حضواکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر سوار ہوئے۔

    اس مقدس سفر کے دوران آپﷺ مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ کو آسمانوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرانے کے لئے لے جایا گیا، وہاں رسول اکرمﷺ کو جنت اور دوزخ بھی دکھائی گئی۔ آپﷺ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی کرائی گئی، اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی ۔

    شب معراج کے موقع پر ملک بھر میں مساجد کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے، آج رات مساجد میں خصوصی محافل اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے، لوگ نوافل ادا کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں، علمائے کرام واقعہ معراج اور اس کی فضلیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔

  • زرداری پر قتل کی سازش کا الزام،شیخ رشید پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

    زرداری پر قتل کی سازش کا الزام،شیخ رشید پرفردجرم عائد کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد :سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق کیس میں عدالت نے شیخ رشید پر فردجرم عائد کرنے کیلئے 2مارچ کی تاریخ مقرر کردی۔سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف عمران خان کے قتل کی سازش سے متعلق کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے کی ، اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کیخلاف چالان پیش کردیا۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نےتھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست واپس کردی ، جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ یہ درخواست سیشن جج کی عدالت میں جمع کرائیں ،میرا اختیار نہیں ہے ، عدالت نے شیخ رشید پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 2مارچ کی تاریخ مقرر کردی ۔

    دوران سماعت شیخ رشید نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک کانفرنس میں شریک ہونا ہے ، پندرہ مارچ کی تاریخ دے دیں ، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے آرڈرز ہیں ، چالان آگیا ہے ،لمبی تاریخ نہیں دے سکتے ، عدالت ٹرائل شروع ہوجائے تو پھر دیکھ لیں گے ۔

    شیخ رشید کی لال حویلی کا ایک اور یونٹ ڈی سیل

    اسی حوالےسے بات کرتے ہوئےسابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے موجودہ حکومت کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، اب صرف سپریم کورٹ ہی پاکستان کو بچا سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ 2 تاریخ کو فرد جرم عائد کی جائے گی ، اللہ نہ دبائے تو شیخ رشید کبھی نہیں دبے گا، یہ ان لوگوں کے جہاز استعمال کرتے ہیں جنہوں نے عوام کا خون چوسا ہے، انہوں نے یہاں مجھے دھکا دے کر گرایا، مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئیں، منہ پر کپڑا ڈالا گیا، 16 بار وزیر رہا ہوں، پھر بھی باہر نکل کر ان کو معاف کردیا، میں نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، یہ شیخ رشید کو نہیں جانتے ۔

    سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ الیکشن سے بھاگ رہے ہیں ، انہوں نے طے کرلیا ہے کہ مرکز اور صوبے کے الیکشن اکٹھے کرائیں گے، اب صرف سپریم کورٹ ہی پاکستان کو بچا سکتی ہے ، امید ہے سپریم کورٹ الیکشن کرائے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ ان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ عمران خان کو ختم کرو، آصف زرداری چوروں اور کرپٹوں کا بادشاہ ہے ، امید ہے سپریم کورٹ نیب کے چوروں کو نہیں چھوڑے گی۔

  • دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    واشنگٹن:امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں ہے، اسےرکنا چاہیئے۔امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کی جانب سے17 فروری بروز جمعہ کو جاری بیان میں کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کےحملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کراچی پولیس آفس پر دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی چیز کا جواب نہیں، اسے رکنا چاہیے۔ اس موقع پر نیڈ پرائس نے دہشت گردی میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    دوسری جانب کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں متاثرہ علاقے میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کر دی۔اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، متاثرہ علاقے میں جانے سے گریز کریں، دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔

    کراچی دہشت گردی: ملتان کا رینجرز سب انسپکٹر اور لاڑکانہ کا پولیس ہیڈ کانسٹیبل بھی…

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے میں دو پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔

  • ہم لوگ تیرے شہر میں  خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے  ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے

    تسنیم کوثر

    پاکستان کی نامور ادیبہ اور شاعرہ

    18 فروری 1957 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ ،شاعرہ ،مصنفہ،افسانہ نگار، خواتین اور بچوں سمیت انسانی حقوق کی جدوجہد کی اہم رہنما محترمہ تسنیم کوثر صاحبہ 18 فروری 1957 میں ساہیوال پنجاب( پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام قاضی نسیم الدین اور والدہ محترمہ کا نام منور جہاں بیگم ہے ۔ وہ اپنے 8 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں ۔ ان کے خاندان کے بڑے دہلی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ تسنیم کوثر نے پرائمری سے انٹر تک اوکاڑہ میں تعلیم حاصل کی جبکہ ایم فل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ تسنیم صاحبہ اپنے خاندان میں پہلی اور واحد ادیبہ اور شاعرہ ہیں ۔ شعر و ادب کا شوق انہیں زمانہ طالب علمی سے ہی پیدا ہوا اور اسکول و کالج کے زمانے سے لکھنا شروع کیا۔ شاعری کی ابتدا میں انہوں نے اپنے کلام محشر زیدی صاحب کو دکھائے۔ ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ایک شعری مجموعہ "سرگوشی” اور 4 نثری کتابیں ہیں۔ تسنیم کوثر صاحبہ ایک ترقی پسند خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ امن اور انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان میں کی جانے والی جدوجہد میں فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے 30سال تک پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی علمبردار عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے ساتھ مل کر کام کیا وہ اس دوران عاصمہ جہانگیر کے انسانی حقوق کے ادارے اے جی ایچ ایس لیگل ایڈ سیل کی میڈیا کو آرڈینیٹر رہیں۔ انہوں نے بچوں سے زیادتی اور خواتین پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں پر فیکٹ فائنڈنگ کیسز کیے اس کے علاوہ برن دکٹمز پر بھی فیکٹ فائنڈنگ کی اور اس موضوع پر آرٹیکلز بھی لکھے۔ جلسوں،جلوس، ورکشاپس اور سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ سائوتھ ایشیا ہیومن رائٹس کی ممبر کی حیثیت سے امن وفد کے ساتھ بھارت کا دورہ کیا اس کے علاوہ ملائیشیا، مصر اور سعودی عرب کے بھی دورے کیے۔ تسنیم صاحبہ اس وقت روٹری انٹر نیشنل کے ساتھ منسلک ہیں اور روٹری کلب شادمان لاہور کی صدر ہیں ۔ وہ وہ تعبیر ادبی فورم کی چیئرپرسن ہیں جس کے زیر اہتمام متعدد پروگراموں کا انعقاد کرا چکی ہیں۔ وہ اپنے ملک اور بیرون ممالک میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں ۔ وہ اہل زبان ہیں اردو ان کی مادری زبان ہے جبکہ پنجابی اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور حاصل ہے۔ تسنیم صاحبہ کی 1980 میں اپنے خالہ زاد آصف صدیقی صاحب سے شادی ہوئی جن سے انہیں ماشاء اللہ 3 بچے پیدا ہوئے جن میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں ۔ تسنیم صاحبہ کو ہر اچھا شعر پسند ہوتا ہے خواہ وہ کسی نوآموز شاعر یا شاعرہ کا ہی کیوں نہ ہو تاہم وہ میر تقی میر کی مداح ہیں۔
    تسنیم کوثر صاحبہ اب تک کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکی ہیں اور متعدد اداروں سے وابستگی ہے اور ان کی اب تک شائع شدہ تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تعلیم:ایم فل اردو
    ممبر:ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان
    ملازمت: اے جی ایچ ایس لیگل
    ۔ ایڈ سیل کوآرڈینیٹر
    ۔ پیرا لیگلز ،وائیلنس
    ۔ اگینسٹ وومن،چائلڈ ابیوز
    ۔ پریزیڈنٹ روٹری کلب آف
    ۔ لاہور شادمان لاہور
    ۔ 2021۔2022
    ۔ ورکنگ پولیو مانیٹرنگ ٹیم
    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ
    ۔ (2)ساحر لدھیانوی ایوارڈ
    ۔ (3)قتیل شفائی ایوارڈ
    ۔ (4)روشن اسکول ایوارڈ
    ۔ (5)مادل ٹاؤن لیڈیز کلب ایوارڈ
    ۔ (6)حسان بن ثابت ایوارڈ
    زبان:اردو،پنجابی
    اصناف: سفرنامہ، شاعری، افسانے
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کہانی ان دنوں کی
    ۔ (سفرنامہ انڈیا)
    ۔ (2)سرگوشی
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (3)چبھن
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (4)جہاں رحمت برستی ہے
    ۔ (سفر نامۂ حجاز)
    ۔ (5)مجھے اس دیس جانا ہے
    ۔ (سفر نامۂ ملائیشیا)
    ۔ (6)چابی سے بندھی عورت
    ۔ (افسانوی مجموعہ)
    ۔ (7)محبت کا دوسرا کنارہ
    ۔ (شعری مجموعہ)

    غزل

    معیار اپنا ہم نے گرایا نہیں کبھی
    جو گر گیا نظر سے وہ بھایا نہیں کبھی

    ہم آشنا تھے موجوں کے برہم مزاج سے
    پانی پہ کوئی نقش بنایا نہیں کبھی

    حرص و ہوس کو ہم نے بنایا نہیں شعار
    اور اپنا اعتبار گنوایا نہیں کبھی

    اک بار اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی بے رخی
    پھر اس کے بعد یاد وہ آیا نہیں کبھی

    تنہائیوں کا راج ہے دل میں تمھارے بعد
    ہم نے کسی کو اس میں بسایا نہیں کبھی

    تسنیم جی رہے ہیں بڑے حوصلے کے ساتھ
    ناکامیوں پہ شور مچایا نہیں کبھی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھروعدہ نہیں کرنا
    یہ وعدے ہم نےدیکھا ہے کہ اکثرٹوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر ضِد بھی نہیں کرنا
    اِسی ضِد سے یہ دیکھا ہے کہ ساتھی چھوٹ جاتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر تحفہ نہیں دینا
    یہ تحفے ہم نے دیکھا ہے بہت مجبور کرتے ہیں
    محبت ہم سے کرنی ہے
    تو پھر شکوہ نہیں کرنا
    کہ شکوے ہم نے دیکھا ہے دِلوں کو دورکرتے ہیں
    محبت کے حسیں لمحوں میں دل رنجور کرتے ہیں

    قطعہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھولوں کا چاندنی کا نگر یاد ہے ہمیں
    خوشیوں بھری تھی جس کی ڈگر یاد ہے ہمیں
    چاہت سے جس پہ لکھا تھا اِک دوسرے کا نام
    پیپل کا وہ گھنیرا شجر یاد ہے ہمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
    محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے کیسے گمان میں گزری
    زندگی امتحان میں گزری
    بند تھے جس کے سارے دروازے
    عمر ایسے مکان میں گزری

    تسنیم کوثر

  • کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی پولیس آفس حملہ؛ امریکا کی اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

    کراچی:کراچی پولیس آفس حملے کے بعد امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں ’متاثرہ علاقے‘ میں جانے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کردی۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ “امریکی سفارت خانہ کراچی کے (علاقے) صدر میں سینٹرل پولیس آفس پر حملے کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور مقامی حکام وقوعہ پر موجود ہیں”۔

    امریکی سفارتخانہ نے نے مزید کہا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ زیادہ احتیاط برتیں، (متاثرہ) علاقے میں (جانے) سے گریز کریں، اور دوستوں اور اہل خانہ کو اپنی حفاظت کے بارے میں مطلع کریں۔”
    جرمنی کا اظہارِ مذمت

    دوسری جانب جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹز نے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جانیں گنوانے والوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ جرمنی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    یاد رہےکہ کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ فیصل سے متصل کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد مارے گئے، ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ حکام کے مطابق 2 پولیس ایک رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 15 زخمی ہوئے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع صدر تھانے (کراچی پولیس آفس، ایڈیشنل آئی جی آفس) پر جمعہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کیا۔

  • کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو دہشت گردکون؟ شناخت ہوگئی۔

    کراچی:جمعہ کو کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ مقدس حیدر نے بتایا کہ حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ایک دہشتگردچوتھی منزل پر اور 2 چھت پر ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں میں سے ایک نے خود کو اڑایا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملہ کرنے والے دو مبینہ دہشت گردوں کی شناخت کفایت اللہ اور زالا نور کے نام سےہوئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکا کرنے والا دہشت گرد زالا نور ، شمالی وزیر ستان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارا گیا دہشت گرد کفایت اللہ لکی مروت کا رہائشی تھا۔تیسرے دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    دوسری طرف بم ڈسپوزل اسکواڈ(بی ڈی ایس) نے کراچی کے علاقے شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشتگروں کے حملے کی رپورٹ مرتب کرلی۔

    جمعہ کی شام کو کراچی پولیس آفس پر دہشتگروں کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوگئے جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی کارروائی میں 3 دہشتگرد مارے گئے اور عمارت کو تقریباً 4 گھنٹے بعد کلیئر کرالیا گیا۔

    بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کے جسم پر نصب 2 خودکش جیکٹس، 8 دستی بم اور 3 گرنیڈ لانچر ملے ہیں۔رپورٹ کے مطابق دستی بم ناکارہ حالت میں ملے، ممکنہ طور پر دہشت گردوں کی جانب سے پھینکےگئے دستی بم پھٹ نہیں سکے، دہشت گردوں سے برآمد خودکش جیکٹس 8 سے 10 کلو وزنی تھیں۔بی ڈی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت کے گراؤنڈ فلور سے چوتھے فلور تک سرچنگ کی گئی، خودکش جیکٹس میکینیکل طرز پر بنائی گئی تھیں،جیکٹس میں الیکٹرونک سسٹم نہیں تھا۔

  • ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو جیت کےلیے 211 رنز کا ہدف دے دیا

    ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو جیت کےلیے 211 رنز کا ہدف دے دیا

    ملتان:پشاور زلمی کی دعوت پر ملتان سلطان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بنائے۔ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں ہونیوالے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں میچ میں پشاور زلمی نے ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر

    ملتان سلطان کی جانب سے شان مسعود اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا بعدازاں شان مسعود 25 گیندوں پر 20 سکور بنا کر سلمان ارشاد کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

    لاہور قلندر کا ہاکی کے مستقبل کا بیڑہ اٹھانے کا اعلان

    محمد رضوان ایک چھکے اور 9 چوکوں کی مدد سے 42 گیندوں پر66 رنز بنا کر سفیان مقیم کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ ریلی روسو 2 چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے35 گیندوں پر 75 سکور بناکر سلمان ارشاد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔

    ٹاس جیتنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ بیسٹ الیون کو کھلانے کی کوشش کررہے ہیں، ہمارے پاس بولرز اچھے ہیں، پچ میں بولرز کو مدد ملے گی۔

    پشاور زلمی نے دلچسپ مقابلے کے بعد کراچی کنگز کو 2 رنز سے شکست دے دی

    ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پچ مختلف لگ رہی ہے،ٹاس کا فرق نہیں پڑتا اچھی کرکٹ کھیلیں گے،اگر ہم ٹاس جیت جاتے تو پہلے بولنگ کرتے۔

    واضح رہے کہ ملتان سلطانز دو میچز کھیل چکی ہے جن میں سے اسے ایک میں فتح اور ایک میں شکست ہوئی ہے جبکہ پشاور زلمی نے ایک میچ کھیلا ہے اور اس میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    سکواڈ

    ملتان سلطانز: شان مسعود، محمد رضوان (کپتان)، ریلی روسو، ڈیوڈ ملر، کیرون پولارڈ، خوشدل شاہ، کارلوس براتھویٹ، اسامہ میر، عباس آفریدی، سمین گل، احسان اللہ۔

    پشاور زلمی: محمد حارث، بابر اعظم (کپتان)، صائم ایوب، ٹام کوہلر کیڈمور، بھانوکا راجا پاکسے، روومین پاول، وہاب ریاض، خرم شہزاد، سلمان ارشاد، سفیان مقیم، جیمز نیشم۔

  • گھر میں سب کیسے ہیں امی کیسی ہیں؟؟ترکیہ زلزلے:261 گھنٹےملبےتلےدبے رہنےوالےکابھائی کو جذباتی فون

    گھر میں سب کیسے ہیں امی کیسی ہیں؟؟ترکیہ زلزلے:261 گھنٹےملبےتلےدبے رہنےوالےکابھائی کو جذباتی فون

    انقرہ :ترکیہ اور شام میں خوفناک زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 38 ہزار سے تجاوز کر گئی،ترکیہ میں آنے والے زلزلے سے 261 گھنٹے ملبے تلے دبے رہنے والے شخص مصطفیٰ آوچی نے اپنے بھائی کو ملبے سے نکلنے کے بعد پہلی مرتبہ فون کال کی او گھر والوں کی خیریت دریافت کی۔

    ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے بعد سے اب بھی کئی افراد اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں ۔ عمارتوں کے ملبے کا ڈھیر ہے اور اس میں پیاروں کی تلاش بھی ایک بہت بڑا مرحلہ ہے۔ زندہ بچ جانے والوں کی اب بہت ہی مدہم سے امیدیں باقی ہیں۔ جن کے اپنے نہیں مل رہے ان کے لئے یہ مدہم امید ہی انکی زندگی ہے۔

    ترکیہ کے میڈیا ٹی آر ٹی ورلڈ نے ایک ویڈیو شیئر کی ۔جس میں 261 گھنٹے عمارت کے ملبے تلے سے بحفاظت نکل جانے والے شخص مصفطیٰ آوچی نے اپنی خیریت کے حوالے سے اپنے بھائی کو فون کال کی ۔

    اس فون کال پر دونوں بھائیوں کے درمیان جذباتی گفتگو ہوئی ۔

    مصطفیٰ : قدیر ؟؟

    قدیر : بھائی ؟؟ آپ کیسے ہو میرے پیارے بھائی ؟؟

    مصطفیٰ : میں ٹھیک ہوں کوئی مسئلہ نہیں ، میرے خیال سے میں ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ہسپتال میں ہوں ، یہ لوگ مجھے جب صحیح ہوگا یہاں سے کہیں اور بھیج دیں گے ۔ میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں ۔

    قدیر : کیا آپ عبدالقدیر کے بھائی ہو ناں ؟؟ بھائی مجھے خدا کے لئے بتا دو کہ آپ کہاں ہو ؟

    مصفطیٰ : گھر میں سب کیسے ہیں امی کیسی ہیں؟؟

    قدیر : بھائی سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ سب آپکا انتظار کر رہے ہیں ۔

    مصفطیٰ : اور تمہارے بچے

    قدیر : سب خیریت سے ہیں ہاں سب خیریت سے ہیں

    مصطفیٰ : کیا تم مجھے ان کی آوازیں سنا سکتے ہو کچھ دیر میں

    قدیر : بھائی میں راستے میں ہوں بھائی!
    میں بس یہاں پہنچنے والا ہوں بھائی

    مصطفیٰ : اللہ کا شکر ہے ۔ اسی دوران مصفطیٰ نے ریسکیو ورکر کے ہاتھ کو بوسہ دیا اورمعجزاتی طور پر261 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ بچ جانے پر اللہ کا شکر ادا کیا ۔