Baaghi TV

Tag: india vs Pakistan

  • لاہور قلندر کا ہاکی کے مستقبل کا بیڑہ اٹھانے کا اعلان

    لاہور قلندر کا ہاکی کے مستقبل کا بیڑہ اٹھانے کا اعلان

    لاہور قلندر نے ہاکی کے مستقبل کا بیڑہ اٹھانے کا اعلان کردیا-

    باغی ٹی وی: کراچی کے عبدالستار ہاکی اسٹیڈیم میں نیوز کانفرنس کے دوران لاہور قلندر نے ہاکی کی بحالی کا پلان پیش کردیا، پریس کانفرنس میں وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے کھیل ارباب لطف، پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل حیدر حسین، لاہور قلندر کے کپتان شاہین شاہ افریدی، ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور قلندر سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید، سیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز حافظ عبدالہادی بلو، پی ایچ ایف کے چیئرمین سلیکشن کمیٹی اولمپیئن کلیم اللہ، ارکان سلیکشن کمیٹی اولمپیئن ناصر علی، اولمپیئن شکیل عباسی سمیت دیگر ارکان، اولمپیئن حنیف خان، پی ایچ ایف کے چیف کوآرڈینیٹر پاکستان ہاکی فیڈریشن کراچی کیمپ میجر ریٹائرڈ شاہنواز علی پنجاب ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری رائے عثمان اکبر کھرل، سندھ ہاکی ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اکبر قائم خانی، کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے چیئرمین گلفراز احمد خان سمیت دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

    عاطف رانا نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پیلئر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کراچی لاہور سیریز سے قبل کراچی کی ٹیم کے لئے 17 فروری کو اوپن ٹرائلز کا انعقاد کے ایچ اے اسپورٹس کمپلیکس میں کیا جائے گا، جس کے بعد لاہور میں ٹرائلز ہونگے، قومی کھیل کو نیا خون دینے کے لئےشہرشہر ٹیلنٹ ہنٹ کا انعقاد کریں گے، کرکٹ کی طرح ہاکی کے لئے پورے پاکستان سےنوجوان منتخب کرنےکےبعد ہائی پرفارمنس سینٹر میں انہیں تربیت فراہم کریں گے، کوشش ہے کہ 22 سے 25 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں بنائیں، منتخب کھلاڑیوں کو تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں تاہم ٹیلنٹ غریب آدمی کے پاس ہے-

    عاطف رانا نے کہا کہ حیدر حسین اور حکومت سندھ کے ساتھ مل کر ہاکی کی بحالی کے پروگرام کا مقصد قومی کھیل کی خدمت ہے، شاہین شاہ آفریدی ہاکی کے لئے لاہور قلندر کے برانڈ ایمبیسڈر کے طور پر کام کریں گے، سندھ حکومت کی جانب راغب کرنے میں حیدر حسین کے ساتھ صوبائی وزیر سعید غنی کا کردار بہت اہم ہے-

    اس موقع پر وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی ارباب لطف اللہ نے کہا لاہور قلندر اور حیدر حسین کا پلان جاننے کے بعد نفع نقصان کا سوچے بغیر قومی کھیل کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا، سندھ حکومت ہاکی کی بحالی کے لئے حیدر حسین کے ساتھ کھڑی ہے، ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے تاہم اب اسے سب بھول چکے ہیں، جس کھیل کو سب نے بھلا دیا اسے سندھ حکومت نے یاد رکھا ہے، ضرورت پڑی تو ہاکی کے لئے حکومت پنجاب سے بھی بات کریں گے، عبدالستار ہاکی اسٹیڈیم کی تعمیر نو کے لئے پہلے مرحلے میں چالیس کروڑ روپے جاری کرنے کے لئے محکمہ فنانس کو خط لکھ دیا ہے-

    لاہور قلندر کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے، لاہور قلندر کا پلان بہت زبردست ہے، ہاکی لیجنڈ کے ساتھ مل کر قومی کھیل کی بحالی کے لئے کام کرنے کا خواہشمند ہوں-

    لاہور قلندر کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس سینٹر سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے کہا کہ ٹیمیں غیر ملکی کوچز سے نہیں سسٹم سے بنتی ہیں، ہاکی کے لئے بہترین کوچز کا انتخاب کریں گے، کوچنگ مختلف مراحل سے گزرنے کا نام ہے، کھلاڑیوں کو فوکس، بہترین فوڈ اور پریکٹس کی سہولت مل جائے تو وہ خود بخود اسٹار بن جاتا ہے۔

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا معاملہ:گورنر پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور: گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

    باغی ٹی وی : گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی جانب سے ایڈوکیٹ شہزاد شوکت نے سنگل بینچ کے فیصلے کی تشریح کے لیے درخواست دائر کی۔

    درخواست گزار کے مطابق سنگل بینچ نے الیکشن کمیشن کو تاریخ سے متعلق گورنر سے مشاورت کا حکم دیا ہے لیکن گورنر کے پاس ایسا کوئی آئینی اختیار نہیں جبکہ گورنر نے اسمبلی تحلیل پر دستخط ہی نہیں کیے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل گورنر پنجاب نے صوبے میں الیکشن کے حکم کی وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن وفد نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمن سے گورنر ہاؤس پنجاب میں ملاقات بھی کی تھی اس موقع پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب بھی موجود تھے، جنہوں نے صوبے میں انتظامی اور امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی تھی۔

    اجلاس میں فیصلے کی تشریح اور وضاحت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ گورنر پنجاب لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے اور سنگل بنچ کے فیصلے کے قانونی دائرہ کار کو چیلنج کریں گے۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گورنر لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی تشریح کی درخواست کرتے ہوئے پوچھیں گے کہ الیکشن تاریخ سے متعلق فیصلہ کیسے گورنر پنجاب پر لاگو ہوتاہے۔

    واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے اور گورنر سے مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

  • معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    معروف صحافی رانا مبشر نے نجی خبررساں ادارے کو خیرباد کہہ دیا

    معروف صحافی اور اینکر رانا مبشر نے حال ہی میں شروع ہونے والے سنو ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : معروف صحافی اور اینکر پرسن نے نجی خبررساں ادارے سنو ٹی وی کو خیرباد کہہ دیا جس کے بعد وہ سنو ٹی وی کو چھوڑنے والے پہلے اسٹاف ممبر بن گئے ہیں۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں آج نیوز سے ساؤتھ ہیڈ کے طور پر نئے چینل میں شمولیت اختیار کی سنو میں انہوں نے جوائنٹ سیشن اور بارکاس کے پروگراموں کی میزبانی کی۔

    اینکر پرسن رانا مبشر کے چینل چھوڑنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

     

    سی سی پی او لاہور تبادلہ کیس: چیف الیکشن کمشنر کو عدالت نے طلب کر لیا

  • سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد دلشاد کلانچوی

    سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد دلشاد کلانچوی

    سرائیکی کے ممتاز ادیب، شاعر، دانشور، محقق اور استاد

    یوم وفات: 16 فروری 1997 بہاولپور

    دلشاد کلانچوی کے والد وادیٔ سون کے گاؤں سبھرال کے اعوان تھے۔ حصولِ تعلیم کیلئے ریاست بہاول پور آئے اور پھر یہیں کے ہوگئے۔ دلشاد کلانچوی کا اصل نام عطا محمد تھا، وہ 24 مئی 1915ء کو بستی کلانچ والا میں پیدا ہوئے پروفیسر دلشاد کلانچوی نےطویل عرصہ سرائیکی علاقے کے کالجوں اور یونیورسٹی میں پڑھایا ۔ ایک زمانے میں اس خطے کا ہر دوسرا تیسرا گریجویٹ ان کا شاگرد ہوتا تھا ایس ای کالج بہاولپور میں طالب علمی کے دوران ان کی ایک نظم اس وقت کے اہم ادبی جریدے مولانا صلاح الدین احمد کے’’ ادبی دنیا ‘‘میں میراجی نے تعریفی نوٹ کے ساتھہ شائع کی تھی۔

    ملازمت کے دوران تین چار اردو ، انگریزی کتابیں لکھیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تصنیف و تالیف اور تحقیق میں مصروف ہوگئے۔ سرائیکی اردو اور اردو سرائیکی لغت اور قرآن کے سرائیکی ترجمے سمیت ستر کے قریب کتابیں شائع ہوئیں۔ دو کتابوں پر اکادمی ادبیات سے اور ایک کتاب پر حکومت پنجاب سے سال کی بہترین کتاب کے انعامات ملے۔

    تصنیف و تالیف کا شوق ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوا۔ ایک بیٹی مسرت کلانچوی کی 10 کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ دوسری بیٹی اختر صباح اور بیٹے جمشید اقبال اعوان کلانچوی تین تین اور پوتے عون محمد اور نواسے امروز اسلم بھی ایک ایک کتاب کے مصنف ہیں۔

    پروفیسر دلشاد کلانچوی کی کتابیں
    سرائیکی

    سوکھے ترجمہ آلا قرآن مجید (قرآن مجید کا سرائیکی ترجمہ)
    چنگا بال اقبال (اقبالیات)
    کون فرید فقیر (اقبالیات)
    ساڈا بخت اقبال (اقبالیات)
    سارے سگن سُہا گڑے (ناول)
    کلام کلانچوی(شاعری)
    غالب دیاں غزلاں (غالب کی غزلیات کا سرائیکی ترجمہ)
    ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوع کا سرائیکی ترجمہ)
    توبہ زاری (ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوح کا سرائیکی ترجمہ)
    سرائیکی گُل پُھل (مضامین)
    ضلع بہاول پور (تاریخ)
    کون فرید فقیر (فریدی شناسی)
    فریدیات (کلام فرید کا تنقیدی مطالعہ)
    سرائیکی زبان تے ادب (تنقید)
    سرائیکی باغ و بہار (تنقید)
    فرید کافیاں (منتخب کلام فرید کا ترجمہ و تشریح)
    فریدی ڈوہڑے (فریدی شناسی)
    چار سرائیکی صوفی شاعر (تنقید)
    قدیم سرائیکی شاعر تے ادیب (تنقید)
    بہاول پور دی تاریخ تے ثقافت (تاریخ و ثقافت)
    چنگیر (بچوں کے نظمیں)
    لغات دلشادیہ -اول (لسانیات)
    لغات دلشادیہ -دوم (لسانیات)
    سرائیکی لسانیات (لسانیات)
    سرائیکی شاعری دے اوزان تے قوافی (فن شعر و شاعری)
    سرائیکی ادب دی چنگیر (تنقید)
    قرآن مجید آپڑیں متعلق کیا آہدے؟ (اسلام)
    انارکلی تے اقتدار دی ہوس (امتیاز علی تاج کے ڈرامے انارکلی کا سرائیکی ترجمہ)
    چالیھ حدیثاں (سرائیکی ترجمہ احادیث)
    خواباں وچ خیال (محمد حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال کا سرائیکی ترجمہ)
    خیابانِ خرام (خرم بہاولپوری کے سرائیکی کلام کی ترتیب و تدوین)
    رات دی کندھ (ڈرامے، افسانے)
    قصے تے پِڑ قصہ (میر امن کی باغ و بہار کا سرائیکی ترجمہ)
    مثنوی دلبہار (میر حسن کی مثنوی سحر البیان کا سرائیکی ترجمہ)
    نور نامہ (ترتیب و تدوین)
    معراج نامہ (ترتیب و تدوین)
    نعتیہ سی حرفی (شاعری)
    رسول کریم دے معجزے (مولانا سعید احمد دہلوی کی کتاب معجزات رسول کا سرائیکی ترجمہ)
    سرائیکی مطالعہ دے سو سال (ڈاکٹر کرسٹوفر شیکل کی کتاب کا سرائیکی ترجمہ)

    اردو

    اقبال شناسی اور ایجرٹن کالج میگزین (اقبالیات)
    اقبال اور اس کی اردو شاعری پر ایک نظر (اقبالیات)
    آؤ مجھے پہچانو (بچوں کے لیے نظمیں)
    نیا ستارا (بچوں کے لیے نظمیں)
    مثنوی یوسف زلیخا (عبد الحکیم اُچوی کی مثنوی کا نثری اردو ترجمہ)
    اصطلاحات معاشیات (درسی کتاب)
    نظریات معاشیات (درسی کتاب)
    انتخاب دیوان خواجہ غلام فرید (منتخب کافیوں کا اردو ترجمہ)
    سرائیکی اور اس کی نثر (تحقیق)

    انگریزی

    Descriptive Economic of Bharat & Pakistan
    Economic Terms
    Intermediate Economics (Made Easy)

    نمونۂ کلام

    —نظم —
    علامہ اقبال کی یاد میں
    اے کہ ترا وجود ہے باعث فخر ادبیات اے کہ ترا دماغ ہے مایہ صد تخیلات
    اے کہ ترے سخن میں ہے رنگ کلام سامری اے کہ ترے نفس سے ہے جاگی خدا کی کائنات
    اے کہ تری نگاہ میں مصر و حجاز و جنیوا شام ہے یا ہے قرطبہ روم و فرنگ و سومنات
    اے کہ تری خودی ہی ہے راز حیات جاوداں اے کہ تری شہنشہی رشک ملوک شش جہات
    اے کہ ترا یہ فلسفہ درس و پیام و ذکر و فکر اے کہ یہ درد و سوز و غم مظہر راز قومیات
    اے کہ رموز بے خودی تیرے قلم کی رازدار اے کہ طریق رند و شیخ تیرے رموز و نظریات
    اے کہ ترا مقام ہے چاند ستاروں سے بھی دور اے کہ ترا قیام ہے جائے دل و تصورات
    اے کہ غلام غیر کی تو نے نگاہیں پھیر دیں بندہ حُر کے سامنے رکھ دئیے سب مشاہدات
    اے کہ ترے لیے اگر کارِ جہاں دراز تھا ہم سے کیوں جلد موڑ لی تونے نگاہِ التفات

    اعزازات
    کون فرید فقیر پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے 1983ء میں خواجہ فرید ایوارڈ دیا گیا سرائیکی زبان تے ادب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے 1988ء میں خواجہ فرید ایوارڈ دیا گیا بہاولپور دی تاریخ تے ثقافت پر حکومت پاکستان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت جانب سے 1989ء میں جام درک ایوارڈ دیا گیا 1998ء میں خواجہ غلام فرید کے صد سالہ جشن کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے خواجہ فرید اور ان کے کلام کی تشریح و ترجمہ پر خواجہ فرید میڈل بعد از مرگ دیا گیا۔

  • زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پائوں پھیلائوں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    بشیر بدر

    اصل نام سید محمد بشیر،ڈاکٹر 15فروری 1935ء ء کو کان پور میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ایم اے کے امتحان میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ’’رادھا کرشن‘‘ ایوارڈ ملا۔’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تقرر ہوا۔ بعد میں میرٹھ یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’اکائی‘، ’آسمان‘،’امیج‘، ’آہٹ‘، ’اللہ حافظ‘، ’آمد‘، ’بیسویں صدی میں اردو غزل‘، ’کلیات بشیر بدر‘ بھی شائع ہوگئی ہے۔ آپ کی غزلوں کا انتخاب ہندی میں ’’تمہارے لیے ‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ اردواکیڈمی یوپی اور بہار اردو اکادمی نے ان کی کتابوں پر انعام دیا ہے ۔ میراکادمی نے ان کو ’’امتیاز میر‘‘ پیش کیا ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:170

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چہرا ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
    کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتہ نہیں
    شدت کی دھوپ، تیز ہواؤں کے با وجود
    میں شاخ سے گرا ہوں نظر سے گرا نہیں
    آخر غزل کا تاج محل بھی ہے مقبرہ
    ہم زندگی تھے ،ہم کو کسی نے جیا نہیں
    جس کی مخالفت ہوئی مشہور ہو گیا
    ان پتھروں سے کوئی پرندا گرا نہیں
    تاریکیوں میں اور چمکتی ہے دل کی دھوپ
    سورج تمام رات یہاں ڈوبتا نہیں
    کس نے جلائیں بستیاں،بازار کیوں لٹے
    میں چاند پر گیا تھا مجھے کچھ پتہ نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے
    بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے

    اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
    تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

    کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
    اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے

    مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
    خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

    اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
    اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے

    تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا
    وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
    بڑی آرزو تھی ملاقات کی

    ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
    عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

    یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
    مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

    مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
    کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

    بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
    جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

    تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
    یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
    یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

    ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
    دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

    خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
    بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

    سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
    اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

    گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
    بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

    تم محبت کو کھیل کہتے ہو
    ہم نے برباد زندگی کر لی

    حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
    جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

    اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
    پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

    اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
    مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

    اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
    لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

    گفتگو ان سے روز ہوتی ہے
    مدتوں سامنا نہیں ہوتا

    نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں
    چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

    بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
    نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

    ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
    تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

    اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
    انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

    شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
    جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

    عاشقی میں بہت ضروری ہے
    بے وفائی کبھی کبھی کرنا

    آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

    بھول شاید بہت بڑی کر لی
    دل نے دنیا سے دوستی کر لی

    میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
    یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

    وہ چہرہ کتابی رہا سامنے
    بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

    دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
    تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

    تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
    مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

    اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
    تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

    جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
    کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

    پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
    خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

    محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
    کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

    اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
    جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

    کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
    اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

    عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
    میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

    سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
    آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

    ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
    جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

    اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
    ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

    بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام
    مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

    خدا ایسے احساس کا نام ہے
    رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

    رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر
    عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    دل کی بستی پرانی دلی ہے
    جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

    تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
    مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

    کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
    تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

  • اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    اکبر الہ آبادی

    اکبر کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی ۔

    لسان العصراکبرالہ آبادی(سیداکبرحسین رضوی (1921-1846)الہ آباد کےقصبےبارہ میں پیدا ہوئےطنزیہ اورمزاحیہ شاعری کےلیے مشہور اکبرکی ملازمت عرضی نویسی سےشروع ہوکروکالت،پھرسیشن جج کےعہدےپرختم ہوتی ہے ۔ان کادورنوآبادیاتی دورہے،اورشاید یہ اس دور کا ہی اثر تھا، جس نےداغ اور امیر مینائی کے رنگ میں روایتی غزل کہنے والے اکبر کی شاعری کا اندازہی بدل دیا۔ ان کی شاعری اسی بدلے ہوئے رنگ کی شاعری ہے جس میں اکبر کا عہد سانس لیتا ہے-

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    شاعری سے قطع نظر اگر اکبر کی زندگی یا شخصیت کی بات کریں تو ایسے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں،جن پر مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاًاکبر نے دو شادیاں کیں، اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ دوسرے 1898میں برطانیہ حکومت سے ’خان بہادر‘کا خطاب لیا،پھر 1903میں اپنی دوسری بیوی کے بیٹے سید عشرت حسین رضوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا، جہاں ان کے بیٹے نے 3 سال کی پڑھائی کوختم کرنے میں 7سال لگا دیے اور واپس اس وقت آئے جب اکبر نے انھیں خرچ دینےسے منع کر دیا، خود اکبر نے اپنے ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کیاہے-

    عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
    کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

    ان سوالات کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن یہ بات شاید اس سے زیادہ اہم ہے کہ ان کی شاعری ہندوستان میں بہہ رہی لندنی ہوا سے پھیلنے والے امراض کی صرف نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دیر پا اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے-

    افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
    شاخ گل تر سوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
    ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبر
    ہم تو گنگا ہی پہ مار کے آسن بیٹھے
    میں کہتا ہوں ہندو مسلمان سے کہ بھائی
    موجوں کی طرح لڑومگر ایک رہو

    اکبر کی شاعری اس انسان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہےجو غیرمعمولی ذہن رکھتا ہے۔وہ پرانی قدروں سے محبت بھی کرتا ہے اور زمانے کے مزاج کو بھی دیکھ رہا ہے،لوگوں کے متغیر کردارکودیکھ رہا ہےاوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ دے ،لیکن وہ اس کو چپ چاپ قبول کر لینے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا وہ انگریزی تہذیب پر ہنستا ہے ،طنز کرتا ہے ،اس کامذاق اڑاتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قدیم وجدید کی اس لڑائی میں نقصان صرف ہندوستانیوں کا ہی ہے-

    قدیم و ضع پہ قائم ہوں میں اگر اکبر
    تو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
    جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں
    تو اپنی قوم مچاتی ہے شور واویلا
    غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
    بلائے صحبت ِ لیلیٰ و فرقت لیلیٰ

    اکبر اپنے دور میں اتنے مقبول شاعر تھے کہ ان کے اشعار عوام میں ضرب المثل بن گئے تھے۔عموما ًانھیں رجعت پسند کہا جاتا ہے ، لیکن اکبر اپنی شاعری میں ایسےشخص نظر آتےہیں جوبدلتی ہوئی قدروں پر گہری نظررکھتاہے اوراسی وقت ان تبدیلیوں کی آہٹ کو بھی سن رہا ہے جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والا تھا۔اکبرنوآبادیاتی سیاست اوراس کے مضر اثرات کو بھی سمجھ رہے تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں کھل کر ہواہے۔ جب اکبر جوڈیشل سروس میں تھے اس وقت بھی ان کی شاعری میں حکومت کے خلاف شدیداحتجاجی بیانیہ اپنی راہ بنا رہا تھا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس پر طنز و مزاح کا شوخ رنگ چڑھا دیا تھا-

    نیٹو نہیں ہو سکتے جو گورے تو ہے کیا غم
    گورے بھی تو بندے سے خدا ہو نہیں سکتے
    یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
    ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

    ان کی شاعری کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اپنےثقافتی اقدار کا ایسا مرثیہ کوئی ’رجعت پسند‘ہی پڑھ سکتا ہے،جو نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر مر رہی تھی-
    اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
    ٹکٹی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
    اس قوم سے وہ عادت دیرینہ طاعت
    بالکل نہیں چھوٹی ہے مگر چھوٹ رہی ہے

    اکبرکی شاعری میں ریل، انجن،موٹر،ایروپلین ،کمپ (Camp)،پمپ،جیسی دوسری ‘جدید’اشیا کاعلامتی استعمال،ان کی پس نوآبادیاتی (Postcolonial) فکر کا علامیہ ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ان تمام اشیاکو ایسی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے جو ہندوستان کی ترقی کے نام پر نوآبادیاتی نظام کے استحکام سے عبارت تھیں۔

    آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انگریزوں نے اگر ہندوستان میں ریل چلائی تو اس کے پیچھے ان کا مقصد ہندوستان کی ترقی نہیں بلکہ ان اندرونی علاقوں تک رسائی حاصل کرنا تھی،جہاں خام مال کا ذخیرہ موجود تھا۔یہی خام مال برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب میں کیا اہمیت رکھتا ہے ، اس کوتاریخ کی کتابوں میں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ اس عمل نے ہندوستان کی صنعتی ترقی پر کیا اثر ڈالا یہ بات بھی اب چھپی نہیں۔

    نوآبادیاتی دور میں یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا، جبکہ اس وقت ہر کوئی آسانی سے’ نوآبادیاتی چکر‘ کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نقطہ نظر کو دھیان میں رکھ کر جب ہم اکبر کی شاعری سے معاملہ کرتے ہیں تو نوآبادیاتی ڈسکورس کے خلاف اکبر کا احتجاج اتنا سطحی نہیں لگتا جتنا باور کرایا جاتا ہے۔اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند تھے اورجدید تعلیم کے خلاف تھے۔حالاں کہ اکبر اس وقت بھی نوآبادیاتی نقاب کے پیچھے چھپی سچائی کو جانتے تھے ،جب سر سید حالی اور آزاد مغربی تعلیم حاصل کرنے کو زندگی کا اول و آخر مقصد تسلیم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر پس نوآبادیاتی مطالعات کی ایک اہم آواز ہیں اور ان کی شاعری پس نوآبادیاتی ردعمل کا شدید بیانیہ ہے ؛
    مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
    اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

    اکبر جانتے تھے کہ انگریز ہندوستانی ذہن کو ناکارہ بنا رہا ہے۔جدید تعلیم اور تہذیب کے نام پر جو چیزیں ہمیں دکھا رہا ہے ، ان کا تعلق صرف اور صرف اس کا ذاتی مفاد ہےاور کچھ نہیں۔اکبر اوردوسرے لوگ اپنی جو پہچان مذہب میں تلاش رہے تھے وہ بھی نوآبادیات کے’محدودو تشخص’ کی ایک چال کہی جا سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اکبر نوآبادیاتی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے تھے۔نظم ‘برق کلیسا’ میں شامل ان کے ان ا شعار میں چھپے طنز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے-

    مجھ پہ کچھ وجہ عتابا آپ کو اے جان نہیں
    نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
    میرے اسلام کو اک قصہ ماضی سمجھو
    ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

    حسن عسکری نے اکبر کو اردو کا ’جدید ترین شاعر‘ کہا ہے تو شمس الرحمن فاروقی انھیں پہلے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جنھوں نے نوآبادیات کی حقیقت کو بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا-

    اکبر پہلے شخص ہیں جن کو بدلتے ہوئے زمانے ،اس زمانے میں اپنی تہذیبی اقدار کے لئے خطرہ، اور انگریزی تعلیم و ترقی کو انگریزی سامراج کے قوت مند ہتھیارہونے کا احساس شدت سے تھا اور انہوں نے اس کے مضمرات کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس معاملے میں مہاتما گاندھی اور اقبال بھی ان کے بعد ہیں۔

    مزید لکھتے ہیں؛’مغربی تہذیب کے لئے اکبر نے بعض الفاظ وضع کئے مثلاًبرگڈ(Brigade)،کمپ (Camp)،توپ ،انجن ،وغیرہ جو علامت کا حکم رکھتے ہیں اور جن کی کارفرمائی ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔برگڈ سے ان کی مراد وہ ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے وفادار تھے۔اور کیمپ سے ان کی مراد مغربی معاشرت تھی ۔

    توپ ،استعماری قوت کے اظہار اور انجن اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہیں ۔‘عسکری صاحب نے بہت درست کہا ہے کہ’اکبر اس زمانے میں واحد شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور اکبر کے سوا کوئی ایسا نہ ہوا جو ’نشان‘کو ’علامت ‘کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ہو۔‘علامت کی اپنی اہمیت ہے جو معنوی سیاق کو وسعت عطا کرتی ہے۔ لیکن ہم ان الفاظ کو علامت کے علاوہ یوں بھی دیکھیں تو اس کی معنوی اہمیت کم نہیں ہوتی-

    ازراہ تعلق کوئی جوڑا کرے رشتہ
    انگریز تو نیٹو کے چچا ہو نہیں سکتے
    ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
    ہم ان سے کبھی عہدہ براہو نہیں سکتے

    انگریزوں کا مقصد ظاہر ہے ہندوستان کی ترقی کسی صورت نہ تھا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑا بہت فرق پڑبھی گیا ’ترقی‘کے خانے میں تو اسے ترقی قرار دینا نادانی ہے کہ یہ ترقی برسوں کے استحصال اور ہندوستان کی لوٹ پاٹ کے سامنے ’ترقی‘تو کسی بھی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ انگریزوں کی آمد اور ان کے دور حکومت میں ہندوستانیوں کا استحصال کسی بھی ’ترقی‘سے زیادہ بڑا اور افسوس ناک المیہ ہے۔ اکبر ان چیزوں سے باخبر تھے اور نئے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی تصویر یوں اتار رہے تھے-

    میری نصیحتوں کو سن کر وہ شوخ بولا
    نیٹو کی کیا سند ہے صاحب کہیں تو مانوں

    ‘نیٹو’اور ‘صاحب’کے درمیان کادوجاپن(otherness)اور اس کی پوری نفسیات کو اس ایک شعر میں اکبر نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔یہاں Hybridاشخاص کی وہ ذہنیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے تحت ان میں حاکم کا ‘دوجا’ رویہ (otherness) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی نظر میں اپنے ہندوستانی بھائی بہن ہی ‘نیٹو ‘(کالے)بن جاتے ہیں۔ایک شعر اورملاحظہ کریں-

    مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو تو اپنا کام کرتے ہیں
    مجھے حیرت تو ان پر ہے جو اس مٹنے پہ مٹتے ہیں

    اکبر نہ صرف حاکم کی سیاسی پالیسی، نوآبادیاتی بیانیہ اور اس کے پس پشت کام کر رہے عناصر سے واقف تھے بلکہ محکوم قوم کی نفسیاتی حالت کا بھی انھیں بخوبی اندازہ تھا۔یوں اکبر کا شعری بیانیہ پس نوآبادیات کی مستحکم آواز کہا جا سکتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم یا ترقی کے مخالف نہیں تھے بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کے متعلقات کے خلاف تھے۔ وہ طنز و مزاح کے بڑے اور غیر معمولی شاعر اسی لیے بھی ہیں کہ انہوں نے پس نوآبادیاتی بیانیہ کی شعری زبان دریافت کی اور اس میں ظلم وجبر کے علائم کو خلق کر دیا ۔یہ وہ شعری بیانیہ ہے جن میں تاریخی صداقتوں کی طرح تعصب نہیں ہے ،اپنوں کا درد ہے اور اس میں زندگی کر نے کا حوصلہ بھی-

    چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں
    بات وہ ہے جو پانیر میں چھپے

    ہماری تہذیب و ثقافت کے سارے تذکرے اب صرف کتابوں کی زینت ہو کر رہ گئےہیں۔ ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں ان کا گلا گھونٹا۔ دیکھیے اکبر کیا کہتے ہیں-

    ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
    لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
    بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
    زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
    گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
    کتابوں میں ہی دفن افسانہ جاہ و حشم ہوں گے

    اکبر کایہ شعری بیانیہ ہمارے زمانے کی سچائی ہے اور کئی زمانوں کی ہمعصر تاریخ بھی اس میں گویا ہے۔ نوآبادیات نے ہندوستان کی ہندوستانیت کو بدل دیا ۔ تہذیب و ثقافت کو مسخ کیا اور’کلچر‘کو نئے معنی دیے۔صرف یورپی کلچر’کلچر‘قرار پایا۔ہم آج بھی اس سے نبردآزماہیں اور تاریخی سیاق بدل جانے کے بعد بھی ان کے شعر بامعنی ہیں-

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    اس طرح کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اکبر کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    عشق نازک مزاج ہے بے حد
    عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
    حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

    جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
    ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
    لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

    آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
    مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

    رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
    ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

    لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

    الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
    کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

    میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
    علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

    بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
    تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

    بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
    محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

    آہ جو دل سے نکالی جائے گی
    کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

    لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
    نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
    میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

    خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
    یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

    ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
    بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
    حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

    اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
    وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

    دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
    چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

    جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
    مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

    بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
    پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

    مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
    شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

    محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
    نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

    عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
    ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
    جاگنا رات بھر مصیبت ہے

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
    کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
    سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

    بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
    بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

    سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
    پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

    جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
    ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

    ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
    مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
    مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

  • پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے پرجوش ہوں: ریسی ون ڈر ڈسن

    پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے پرجوش ہوں: ریسی ون ڈر ڈسن

    لاہور:پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل جنوبی افریقی کرکٹر ریسی ون ڈر ڈسن کا کہنا ہے پاکستان میں کھیلنا ایک چیلنج ہے اور اس چیلنج کیلئے کافی پرجوش ہوںانہوں نے کہا کہ کہ پاکستان سپر لیگ 8 میں ٹیموں کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں کافی سخت مقابلہ ہوگا ابتدائی دو میچز میں ہونے والے مقابلے نے اس کی ایک جھلک دکھا دی ہے۔

    جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ بالآخر پاکستان سپر لیگ کھیل پا رہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے دو بار منتخب ہونے کے باوجود بھی وہ کسی نہ کسی وجہ سے لیگ کھیلنے سے محروم رہ گئے تھے۔جنوبی افریقی کرکٹر نے کہا کہ یہاں پہلے ٹیسٹ سیریز کھیل چکے ہیں، گو کہ وہ مختلف بال کی کرکٹ تھی مگر اس سے کنڈیشنز کا اندازہ ہوگیا تھا کہ یہاں کس طرح بیٹنگ کرنی ہے۔

    ریسی ون ڈر ڈسن نے کہا کہ انہیں پاکستان پسند ہے اور یہاں کے لوگ کافی مہمان نواز ہیں، پہلے کووڈ ببل کی پابندیاں تھیں لیکن اس بار ان کے پاس موقع ہے کہ وہ لوگوں سے ملاقات کرسکیں۔ریسی ون ڈر ڈسن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی ٹیم جارح مزاج کرکٹ کھیلتی ہے، ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اسلام آباد کے برانڈ آف کرکٹ کےسانچے میں خود کو ڈھالیں، ٹیم کیلئے تسلسل کے ساتھ پرفارم کریں، ان کا کہنا تھا کہ انفرادی اہداف زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہیں، زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اس اسکواڈ کا حصہ ہوں جو ٹائٹل جیتیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہوگی کہ ذمہ داری کے ساتھ ٹورنامنٹ میں ایسی کارکردگی دکھائیں جس سے ٹیم کو فائدہ ہو۔

    ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹر نے کہا کہ پی ایس ایل میں تمام ٹیمیں مضبوط ہیں، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی ٹیم زیادہ اچھی ہوگی، ہر ٹیم کے پاس بہتر سے بہتر بولنگ اٹیک ہے اور اس صورتحال میں یہ لیگ بیٹرز کیلئے کافی چیلنجنگ ہوگی۔ریسی ون ڈر ڈسن نے مزید کہا کہ وہ پی ایس ایل کو ہمیشہ فالو کرتے رہے ہیں، دیگر پلیئرز سے بھی لیگ کے بارے میں بات ہوئی اور ہر کسی نے اس کو اعلیٰ معیار کی لیگ قرار دیا، یہاں ہر ٹیم کے پاس ایسے بولرز ہیں جو تسلسل کے ساتھ 140 کی رفتار سے بولنگ کرسکتے ہیں، ٹاپ کلاس اسپنرز اور اچھے بیٹسمین بھی ہیں، اس ٹورنامنٹ میں کافی سخت مقابلہ ہونا ہے جس کی جھلک ابتدائی دو میچز میں نظر آچکی ہے۔

    ایک سوال پر جنوبی افریقی بیٹسمین نے کہا کہ ماضی میں ہر لیگ کی چیمپئن ٹیم کے درمیان ہونے والا چیمپئنز لیگ زبردست ٹورنامنٹ تھا، اگر ایسا ٹورنامنٹ دوبارہ ہوا تو مزہ آئے گا، دنیا بھر کی لیگز کھیل کر پلیئرز کو فائدہ ہوتا ہے مگر ہر پلیئر کی ترجیح انٹرنیشنل کرکٹ ہی ہوتی ہے کیونکہ ہر کوئی اپنے ملک کیلئے کھیلنا چاہتا ہے، ضروری ہے کہ لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ میں توازن برقرار رہے

  • ملتان سلطانز کو جھٹکے پرجھٹکا لگ گیا

    ملتان سلطانز کو جھٹکے پرجھٹکا لگ گیا

    ملتان:پاکستان سپر لیگ 8 کے افتتاحی میچ کے بعد ہی ملتان سلطانز کی ٹیم کو بڑا جھٹکا لگ گیا، فاسٹ بولر شاہنواز دھانی انجری کا شکار ہوگئے، ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔پاکستان سپر لیگ 8 کا پہلا میچ پیر کو ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، افتتاحی میچ میں ہی ایک بڑا کھلاڑی انجرڈ ہوگیا۔

    ملتان سلطانز کے فاسٹ بولر شاہنواز دھانی 16ویں اوور کی آخری گیند پر سکندر رضا کا زور دار شاٹ روکنے کی کوشش میں انجرڈ ہوگئے، ان کے دائیں ہاتھ کی انگلی میں چوٹ لگی ہے۔رپورٹ کے مطابق گیند پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے شاہنواز دھانی کی دائیں انگلی پر گیند لگ گئی، ان کا ایکسرے کیا گیا جس میں شاہنواز کی انگلی میں فریکچر آیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ہاتھ میں شدید تکلیف ہے۔

    شاہنواز دھانی کا انجری کے باعث پی ایس ایل کے پورے ایونٹ سے باہر ہونے کا خدشہ ہے، ملتان سلطانز مینجمنٹ نے شاہنواز دھانی کے متبادل کھلاڑی کی تلاش شروع کردی۔رپورٹ کے مطابق ملتان سلطانز نے کارلوس بریتھ ویٹ کو بھی متبادل کے طور پر تیار رہنے کا کہہ دیا ہے، وہ پاکستانی ویزے کے منتظر اور یو اے ای میں موجود ہیں۔

    ادھر کل رات پاکستان سپر لیگ 8 کے افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک رنز سے ہرا دیا۔
    لاہور قلندرز نے جیت کیلئے ملتان سلطانز کو 176 رنز کا ہدف دیا تھا، جواب میں ملتان سلطانز نے مقررہ 20 اوور میں 174 رنز بنائے۔ ملتان سلطانز کے محمد رضوان نے 50 گیندوں پر 75 رنز بنائے۔

    اس سے قبل ملتان سلطانز نے لاہور قلندرز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر 175 رنز بنائے۔لاہور قلندرز کی جانب سے فخر زمان 66 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، مرزا بیگ نے 32 رنز بنائے، شائے ہوپ 19، کامران غلام 3، حسین طلعت 20 اور ڈیوڈ ویزے 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، سکندر رضا نے ناقابل شکست 19 رنز بنائے۔

    ملتان سلطانز کی جانب سے احسان اللہ اور اسامہ میر نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔لاہور قلندرز میں کپتان شاہین شاہ آفریدی کے علاوہ حارث رؤف، فخر زمان، طاہر بیگ، ڈیوڈ ویزے، سکندر رضا، حسین طلعت، شائے ہوپ، زمان خان، لیام ڈاسن اور کامران غلام شامل تھے۔
    کپتان محمد رضوان، شان مسعود، عثمان خان، ڈیوڈ ملر، کیرن پولارڈ، خوشدل شاہ، عقیل حسین، عثمان میر، سمین گل، شاہنواز دھانی اور احسان اللہ ملتان سلطانز ٹیم کا حصہ تھے۔

  • اسحٰق ڈارکےبعد عمران خان نے بھی عارف علوی سے رابطہ کرلیا،اصل کہانی بھی سامنے آگئی

    اسحٰق ڈارکےبعد عمران خان نے بھی عارف علوی سے رابطہ کرلیا،اصل کہانی بھی سامنے آگئی

    صدرمملکت عارف علوی سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی ملاقات ہوئی ہے،اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ صدرمملکت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر مذاکرات کیلئے حکومتی کوششوں کو سراہا۔

    ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ریاست ِپاکستان حکومت کیجانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے گی۔

    ادھرگورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن کی بے نتیجہ ملاقات کے بعد صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ڈاکٹر عارف علوی اور عمران خان کے درمیان پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ نا آنے پرمشاورت کی گئی۔ دونوں کے درمیان عدالتی فیصلے کے آئینی پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان کا کہنا ہے کہ انتخابات کی تاریخ نا دیکر حکومت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور گورنر کی جانب سے الیکشن کی تاریخ دینے میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور گورنر آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اس سے قبل گورنر پنجاب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ میاں بلیغ الرحمان نے آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنا قانونی حق استعمال کریں گے۔ پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے الیکشن کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اجلاس میں گورنر پنجاب سے الیکشن کی تاریخ پر مشاورت کےلیے ملاقات کا فیصلہ ہوا تھا۔

  • منی بجٹ کی منظوری ،پی ڈی ایم کی مجبوری،عارف علوی اوراسحاق ڈارکےدرمیان ختم ہوگئی دوری

    منی بجٹ کی منظوری ،پی ڈی ایم کی مجبوری،عارف علوی اوراسحاق ڈارکےدرمیان ختم ہوگئی دوری

    اسلام آباد:صدر مملکت نے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پراعتراضات اٹھا دیےصدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے منی بجٹ آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے پراعتراضات اٹھا دیے۔ذرائع کے مطابق حکومت آج ہی آرڈیننس جاری کرکے منی بجٹ نافذ کرنے کی خواہشمند ہے تاہم صدر مملکت نے آرڈیننس کے بجائے منی بجٹ بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر زور دیا ہے۔

    صدر مملکت کے اعتراضات کے بعد حکومتی ٹیم مختلف آپشنز پرغور کررہی ہے، حکومت صدر مملکت سے دوبارہ رابطہ کرسکتی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد صدر سے فوری آرڈیننس جاری کرنے کی درخواست کی جائیگی۔ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت آرڈیننس جاری نہیں کرسکتی، اگر حکومت مشترکا اجلاس کو ختم کرتی ہے تو اجلاس بلانے کےلیے دوبارہ صدر سے ہی رابطہ کرنا پڑے گا۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ صدرمملکت دوبارہ اجلاس نہیں بلائیں گے۔

    دوسری جانب صدرمملکت عارف علوی سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔اعلامیے کےمطابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے صدر مملکت کو آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ صدرمملکت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر مذاکرات کیلئے حکومتی کوششوں کو سراہا۔ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ریاست ِپاکستان حکومت کیجانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں پر قائم رہے گی۔

    ملاقات میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت ایک آرڈیننس جاری کرکے ٹیکسوں کے ذریعے اضافی ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے تاہم ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس اہم موضوع پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا زیادہ مناسب ہوگا۔ پارلیمنٹ کا سیشن فوری طور پر بلایا جائے تاکہ بل کو بلاتاخیر قانون بنایا جاسکے۔