Baaghi TV

Tag: india vs Pakistan

  • آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردیں، جلد ہی معاہدہ ہوجائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جلد ہی معاہدہ ہوجائے گا، عالمی مالیاتی ادارے نے غریبوں کیلئے سبسڈی کا کہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے سے معاہدے کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہوگی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی مالیاتی بجٹ پاس ہوچکا ہے، جس میں تمباکو، لگژری آئٹمز پر ٹیکس لگائے ہیں، زیادہ تر ٹیکس پُرتعیش اشیاء پر لگائے گئے، منی بجٹ میں کوشش کی گئی کہ غریب پر اثر نہ پڑے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردیں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات آخری مراحل میں ہیں، امید ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے سے معاملات اگلے چند روز میں طے ہوجائیں گے، اس معاہدے کے نتیجے میں مزید مہنگائی ہوگی، آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ گردشی قرضہ کم کریں، عالمی ادارے نے ہماری بعض سبسڈیز کو کم کروایا ہے، آئی ایم ایف نے غریبوں کیلئے سبسڈی کا کہا ہے۔

    وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کچھ مشکلات آئیں گی، مخلوط حکومت عوام کے تعاون سے ملک کو مشکلات سے نکالے گی، ملک کو آگے بڑھنا ہے ہے تو اجتماعی کاوشیں کرنا ہوں گی۔

    تمام وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور مشیران نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تمام وزراء گیس، بجلی اور ٹیلی فون کے بل اپنی جیب سے ادا کریں گے کابینہ ارکان کے زیر استعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جارہی ہیں، جنہیں نیلام کیا جائے گا۔وزراء کو ضرورت کے تحت سیکیورٹی کی صرف ایک گاڑی دی جائے گی، وزراء اندرون و بیرون ملک اکنامی کلاس میں سفر کریں گے، معاون عملے کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بیرون ملک دوروں کے دوران کابینہ کے ارکان 5 اسٹار ہوٹلز میں قیام نہیں کریں گے۔تمام وزارتوں، ڈویژن، متعلقہ محکموں اور ذیلی ماتحت دفاتر اور خود مختار اداروں کے جاری اخراجات میں 15 فیصد کٹوتی کی جائے گی، پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران (سیکریٹریز) اپنے بجٹ میں ضروری رد و بدل کریں گے۔

    جون 2024ء تک تمام پرتعیش اشیاء کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ہر طرح کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی۔سرکاری افسران کو صرف ناگزیر نوعیت کے بیرون ملک دوروں کی اجازت ہوگی، اکانومی کلاس میں سفر کریں گے، معاون عملہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    وفاقی حکومت کی وزارتوں اور ڈویژن میں تعینات سینئر افسران سے سرکاری گاڑیاں واپس لی جائیں گی جو پہلے ہی کار مانیٹائزیشن کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔سرکاری افسران کے پاس موجود سیکیورٹی گاڑیاں بھی واپس لی جائیں گی۔وزیر داخلہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کیس کی بنیاد پر سیکیورٹی گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔

    کابینہ کا کوئی رکن، عوامی نمائندہ یا سرکاری افسر لگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔سفر اور قیام و طعام کے اخراجات میں کمی کیلئے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی حکومت کے اندر کوئی نیا شعبہ نہیں بنایا جائے گا، آئندہ 2 سال تک کوئی نیا یونٹ (ڈویژن، سب ڈویژن ضلع یا تحصیل کی صورت میں) نہیں بنایا جائے گا۔

    سنگل ٹریژری اکاؤنٹ قائم کیا جائے گا، جس پر وفاقی وزارت خزانہ نے کام شروع کردیا، اس پر فوری طور پر عملدرآمد ہوگا۔بجلی اور گیس کی بچت کیلئے گرمیوں میں دفاتر کھولنے کا وقت صبح ساڑھے 7 بجے رکھنے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کم توانائی سے چلنے والے برقی آلات کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سرکاری ملازمین اور حکومتی اہلکاروں کو ایک سے زائد پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ ماضی قریب میں دو دو، چار چار پلاٹ دیئے جاتے تھے، اب ایسا نہیں ہوگا۔وفاق اور صوبوں میں انگریز دور کے سرکاری گھروں میں پولیس اور سرکاری افسران، وزراء شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں، ایسے گھر کئی ایکڑوں پر مشتمل ہیں، جنہیں بیچ کر قوم کیلئے اربوں کھربوں روپے حاصل کئے جائیں گے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہیں کوئی گھر میسر نہیں، دوسری طرف اشرافیہ کئی کئی ایکڑ پر محیط گھروں میں رہتے ہیں۔ایسے گھروں میں رہنے والے سرکاری افسران و اہلکاروں کیلئے بہترین سہولیات سے آراستہ ٹاؤن ہال بنائیں جائیں گے، جس کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی پلان تیار کرے گی۔

    تمام وزارتوں میں حکومتی تقاریب میں آئندہ سنگل ڈش کی پابندی ہوگی، وفاقی کابینہ سمیت دیگر میٹنگز میں صرف چائے اور بسکٹ سے تواضع کی جائے گی، تاہم غیر ملکی مہمانوں کیلئے یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، وہاں بھی سادگی کو اپنایا جائے گا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان کے چیف جسٹس اور تمام ججز، چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور دیگر عدالتوں کے ججز، تمام وزرائے اعلیٰ سے درخواست ہے کہ اپنے اداروں اور حکومت میں اسی نوعیت کے فیصلے بروئے کار لائیں، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اس سے ہونیوالی بچت پاکستان کے غریب عوام کا حق ہے، اس میں جتنی کاوش کی جائے کم ہوگی۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کے طول و عرض میں اخوت، بھائی چارے اور ایثار کا پیغام جائے گا، اس پر من و عن عمل پیرا ہوگئے تو اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگوں سے بھی کہیں گے کہ اس میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی بچت کے پروگرام پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوا، وفاق اور صوبوں میں پیغام دیں گے کہ اس پر عملدرآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو رات ساڑھے 8 بجے کے بعد مارکیٹس، شاپنگ مالز کی بجلی کاٹنے کا اقدام کریں گے۔

  • دُلہا اور دلہن کی ولیمے کے روز خون میں لت پت لاشیں برآمد

    دُلہا اور دلہن کی ولیمے کے روز خون میں لت پت لاشیں برآمد

    رائے پور: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں شادی کے اگلے روز نوبیاہتا جوڑے کی کمرے سے خون میں لت پت لاشیں ملی ہیں۔ بھارتی میڈیا کےمطابق 22 سالہ کہکشاں بانو اور24 سالہ اسلم کی شادی دو روز قبل بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ رخصتی کے بعد اہل خانہ نوبیاہتا جوڑے کو ان کے نئے گھر چھوڑ گئے تھے۔

    تیسرے روز ولیمہ تھا اور اسی کی تیاری کے سلسلے میں اہل خانہ پہنچے تو بار بار دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا جس پر کھڑکی توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے تھے تو نوبیاہتا جوڑا خون میں لت پت پڑا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دلہن کے جسم پر چھریوں کے وار ہیں جب کہ دلہا کا گلا کٹا ہوا ہے۔ کمرے کی حالت سے لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا تھا۔ آلہ قتل بھی مل گیا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ کمرے کے اندر کسی تیسرے شخص کے داخل ہونے کے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ تمام دروازے ار کھڑکیاں اندر سے بند تھے اور کوئی اور بھی راستہ اندر آنے کے لیے نہیں تھا۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں بالکل اندازہ نہیں کہ دونوں کے درمیان ایسا کیا اور کیوں ہوا۔

  • جیل بھرو تحریک آئین کے تحفظ اورانتخابات کے لیے ہے:پرویز الٰہی

    جیل بھرو تحریک آئین کے تحفظ اورانتخابات کے لیے ہے:پرویز الٰہی

    لاہور:سابق وزیراعلیٰ پنجاب مرکزی رہنما پاکستان تحریک انصاف چوہدری پرویز الٰہی نےکہا ہےکہ جیل بھرو تحریک آئین کےتحفظ اورانتخابات کےلیےہے۔تفصیلات کےمطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی اعلان کردہ جیل بھرو تحریک کےمتعلق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا بیان سامنے آیا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اور کارکن رضاکارانہ گرفتاریاں پیش کرکے حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور حکومت جان لے الیکشن کرواکر ہی جان چھوٹنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی کال پر عوام اور پارٹی کارکن جیلوں میں جانے کے لیے تیار ہے جبکہ آئین سے کھیلنے والے حکمران اپنے لیے خود آرٹیکل 6 کی راہ ہموار کررہے ہیں۔

    پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ عوام عمران خان کے ساتھ ہیں یہی خوف پی ڈی ایم کو الیکشن سے روکے ہوئے ہے کہ آئین کے تحفظ کی جدوجہد میں قوم عمران خان کے ساتھ ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ رو چوہدری پرویز الہیٰ نے ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا ۔بعدازاں پاکستان تحریک اصاف میں شمولیت کے بعد ق لیگ کے رہنماؤں نے جیل بھرو تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے،اس حوالے سے رہنما زبیر احمد آغا، عبدالواسع خان آج کارکنوں کے ہمراہ شارع قائداعظم پہنچیں گے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک کا پہلا مرحلہ آج لاہورسےشروع ہوگا، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز اور ولید اقبال سمیت 200 پارٹی کارکنوں نے گرفتاری دے دی ہے،پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اپنے چیئرمین کی ہدایت پر جیل جانے کی بھرپور تیاریاں کر لی ہیں۔

    زمان پارک میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہے۔خواتین کارکنان بھی عدالتی گرفتاری کے لیے تیار ہیں۔

  • اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کوجلد مکمل کیا جائے:وزیراعظم شہبازشریف

    اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کوجلد مکمل کیا جائے:وزیراعظم شہبازشریف

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر آج جائزہ اجلاس منعقد ہوا.

    اجلاس میں وزیرِ اعظم نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کیں. وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے سی ڈی اے نے 10 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے جس سے سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ، سیوریج کا نظام اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.

    اجلاس کو بارہ کہو بائی پاس، 7th ایونیو انٹرچینج، مارگلہ ایونیو، 11th ایونیو، IJP روڈ، اسلام آباد ایکپریس وے، اور پارکنگ پلازہ کے جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ بارہ کہو بائی پاس پر 24 گھنٹے کام جاری ہے. وزیرِ اعظم نے بارہ کہو بائی پاس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ بارہ کہو بائی پاس عوامی نوعیت کا اہم منصوبہ ہے جس کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں کیا جائے گا. اجلاس کو بتایا گیا کہ 7th ایونیو انٹر چینج اور مارگلہ ایونیو منصوبے مکمل ہوچکے ہیں. IJP روڈ کا توسیعی منصوبہ 23 مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا. مزید برآں 11th ایونیو اور اسلام آباد ایکسپریس وے کا فیز ون رواں سال کے وسط جبکہ بلیو ایریا پارکنگ پلازہ اور ایکسپریس وے کا فیز ٹو رواں سال کے آختتام تک مکمل کرلئے جائیں گے.

    اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے فیڈر روٹس اور بس ٹرمینل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ سی ڈی کی جانب سے بین الاقوامی معیار کا ایک نیشنل بس ٹرمینل اور 3 سیٹلائٹ ٹرمینل بنائے جائیں گے جس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری ہوگی. اسکے علاوہ 90 دن میں بسوں کے 13 فیڈر روٹس شروع کئے جا رہے ہیں جبکہ چار فیڈر روٹس اس وقت کام کر رہے ہیں. اسلام آباد کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ کے قریب لوگ معیاری سفری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں.

    وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں پارکنگ کے مسائل کے حل کیلئے سی ڈی اے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا. مزید برآن سی ڈی اے F8, F10, G9, 1-8 اور بلیو ایریا میں پارکنگ پلازے بنا رہی ہے. 5000 گاڑیوں کی پارکنگ کی استعداد سے یہ پارکنگ پلازے شہر میں پارکنگ کے مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے.

    چیئرمین سی ڈی اے نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے رہائشی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی. وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ ان منصوبوں کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے ان میں بہترین سہولیات میسر کی جائیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں. ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے نظام کو شفاف اور خودکار بنایا جائے. منصوبوں کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل قبول نہیں کیا جائے گا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سابقہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، سابقہ ارکانِ اسمبلی حنیف عباسی، انجم عقیل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ہے

  • ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانے کی استدعا مسترد

    ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد:ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانےکی استدعا مستردکردی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نےممنوعہ فنڈنگ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو28فروری کوبینکنگ کورٹ کےروبرو پیش ہونےکاحکم دےدیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی اورجسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل 2 رکنی بینچ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کے لئے اپیل پرسماعت کی۔دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹروں کے مطابق زائد العمری کے باعث زخم بھرنے کا عمل سست ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں زخموں کے اصل ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا، یہ اعتراض عمران خان کیلئے کافی ڈسٹربنگ (پریشان کُن)تھا۔عمران خان کے وکیل کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ناکافی ہے، عمران خان کو صرف ٹانگ میں تھوڑا سا کھنچاؤ ہے۔

    جس پر جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں یہ زخم اصل نہیں،میڈیکل رپورٹس جعلی ہیں؟،اگر آپ زخم کے میرٹس پر جارہے ہیں تو پھر میڈیکل بورڈ بنانا ہوگا، ُس بورڈ کی رپورٹ آنے تک پھر عمران خان ضمانت پر رہیں گے، وہ ایک پیشی کا استثنیٰ مانگ رہے ہیں آپ 6 ماہ کا دلوانے لگے ہیں۔

    جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کو ان ہی میڈیکل رپورٹس پر 9 بار استثنیٰ ملا۔دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان ابھی تک کیس میں شامل تفتیش بھی نہیں ہوئے۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے سامنے شامل تفتیش ہونے کی ہمیشہ رضامندی دکھائی، ایف آئی اے کو کہتے رہے کہ آکر تفتیش کر لیں مگر یہ نہیں آئے، یہ 25 فروری کو پیشی کا کہہ رہے ہیں ہم 3 مارچ کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 28 فروری کے روز بینکنگ کورٹ پیشی کا حکم دے دیا۔ 28 فروری تک عمران خان کی ضمانت کے فیصلے پر حکم امتناع برقرار رہے گا۔

    یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر عمران خان کی درخواست ضمانت منسوخ کردی تھی۔عمران خان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر اعلیٰ عدلیہ کا 2 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

  • سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے          معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کے لئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔سائفر تحقیقات کے لئے اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقاربھٹہ، سید طارق بدر اور نعیم الحسن نے دائر کی تھی، رجسٹرار سپریم کورٹ نے اپیلیں اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کر دی تھیں، درخواست گزاروں نے رجسٹرار آفس کے اعترضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواستوں پر عائد اعتراضات کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فارن افیئرز ڈیل کرنا عدالت کا کام ہے ؟ جس وقت ساٸفر سامنے آیا وزیراعظم کون تھا؟ جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، عمران خان نے بطور وزیر اعظم سائفر جلسے میں لہرایا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ بطوروزیراعظم عمران خان کےپاس تحقیقات کروانے کے تمام اختیارات تھے، کیا بطور وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر تحقیقات کا کوئی فیصلہ کیا؟ وزیراعظم کے ماتحت تمام اتھارٹیز ہوتی ہیں، اس سائفر کے معاملے میں عدالت کیا کرے؟۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سائفر سے آپ کی اور میری زندگیوں پر کیا اثر پڑا ؟ اس کیس میں بنیادی حقوق کا کوئی معاملہ نہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اگر چاہے تو دنیا بھر کے ساٸفر پبلک کر سکتی ہے، کوٸی دوسرا ایسا کرے گا تو سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔فاضل جج صاحب نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ایگزیکٹو کے معاملات میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے۔وکلا کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کیلئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔

  • کے پی میں انتخابات کیلیے دائر درخواست پرالیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل سے جواب طلب

    کے پی میں انتخابات کیلیے دائر درخواست پرالیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل سے جواب طلب

    پشاور: خیبر پختون خوا میں 90 دن میں انتخابات کے لیے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 فروری تک جواب طلب کرلیا۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈوکیٹ جنرل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ صدر پاکستان نے 9 اپریل کی تاریخ کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ رٹ غیر موثر ہوگئی ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ صدر نے تاریخ دے دی یہ بات کی بات ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں لیکن ایک تاریخ آ گئی ہے اور مزید دوسری تاریخ ابھی نہیں دی جا سکتی تاہم ہم اس ضمن میں وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کریں گے کہ کیا وہ صدر کے احکامات پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔

    جسٹس ارشدعلی نے کہا کہ اب تو صدر صاحب نے تاریخ دی ہے، دو تاریخ تو نہیں ہوسکتی۔ ہم اب الیکشن کمیشن سے پوچھیں گے کہ اب کیا ہوگا، ہم نے الیکشن کمیشن سے شیڈول طلب کیا ہے اور یہ شیڈول دیں گے۔عدالت میں موجود الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا اور ہم نے مشاورت نہیں بلکہ ہم نے اختلاف کیا، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن صدر سے کسی طرح اختلاف کرسکتا ہے؟

    عدالت نے اگلی پیشی پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔

  • گندم اورآٹے کی قیمتیں پھربڑھنے کا امکان

    گندم اورآٹے کی قیمتیں پھربڑھنے کا امکان

    لاہور: پنجاب میں محکمہ خوراک نے نگراں حکومت کو سرکاری گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے لیے 4 تجاویز ارسال کردیں۔تجاویز میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت میں730 سے1100 روپے فی من تک اضافے کا کہا گیا ہے جب کہ 20 کلو سرکاری آٹے کی پرچون قیمت میں 360 سے625 روپے تک اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔

    صوبے میں سرکاری گندم کی موجودہ قیمت 2300 روپے فی من مقرر ہے جب کہ 20 کلو سرکاری آٹے کے تھیلے کی موجودہ قیمت 1295 اور 10 کلو قیمت 648 روپے ہے۔

    محکمہ خوراک نے گندم کی نئی قیمت فروخت 3030 روپے اور 20 کلوسرکاری آٹے کی قیمت 1655 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ گندم کی نئی قیمت 3150 روپے اور سرکاری آٹا تھیلا قیمت 1740 روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی ارسال کی گئی ہے۔

    تجاویز کے مطابق گندم کی نئی قیمت3300 روپے اور سرکاری آٹے کے تھیلے کی قیمت1848 روپے مقرر کرنے کا کہا گیا ہے۔ گندم کی قیمت فروخت 3400 روپے اور سرکاری آٹے کی قیمت 1920 روہے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں گندم کی موجودہ قیمت 2300 روپے برقرار رکھتے ہوئے سرکاری آٹے کے تھیلے کی نئی قیمت 1134 روپے تجویز کی گئی ہے۔

    نگراں کابینہ پیش کردہ تجاویز میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی ممکنہ نئی امدادی قیمت 4ہزار ہونے اور اوپن مارکیٹ کی قیمت کا فرق کم کرنے کے لیے اضافہ ناگزیر ہے۔

  • پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    کراچی: پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمیں کوخوشخبری سنادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ خوشخبری ان ملازمین کےلیے ہے جوبہتر اور مستقل روزگار کے تلاش میں امید رکھتے تھے ،اس حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرزکی تنظیم کی طرف سے ایک تقریب کاانعقاد بھی کیا گیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں‌اہم شخصیات کو دعوت نامے بھی بھیجے جارہےہیں اور ان کو اس اہم تقریب میں شمولیت کی دعوت بھی دی جارہی ہے،ایک ایسا ہے دعوت نامہ پروفیسرقادرخان مندوخیل کے نام بھیجا گیاہے جوکہ ملازمین کی فلاح وبہبود کےلیے پہلے ہی کوشاں ہیں ،

    اس دعوت نامے میں‌کہا گیا ہے کہ 26 فروری بروز اتوار سول ایوی ایشن کلب سٹارگیٹ کے نزدیک ایک تقریب ہورہی ہے جس میں‌ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعوکیا جاتا ہے ، یہ تقریب زیادہ طویل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹوں پر مشتمل ہوگی اور دوپہرایک بجے شروع ہوجائے گی ،

    اس دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اس تقریب میں غیرمستقل ، کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز اوردیگرغیرمستقل ملازمین کو مستقل کیے جانے کے حوالے سے اہم اعلان متوقع ہے اورآپ ملازمین کی بحالی ترقی اورخوشحالی کے لیے کوشاں ہیں آپ کی آمد ہمارےلیے باعث مسرت ہوگی

  • نپولین کا انجام یاد رکھیں:میکرون کو ماسکو کی دھمکی

    نپولین کا انجام یاد رکھیں:میکرون کو ماسکو کی دھمکی

    پیرس:ماسکو نے فرانس کے صدر امانوئل میکرون سے خطاب میں کہا ہے کہ جب آپ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو نپولین کا انجام یاد رکھئے گا۔یوکرین کی جنگ میں روس کی شکست کے بارے میں فرانس کے صدر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو کو نپولین بوناپارٹ کا انجام آج بھی یاد ہے۔

    ماسکو نے اتوار کو "یوکرائن کی جنگ میں روس کی شکست” کے بارے میں امانوئل میکرون کے الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو نپولین بوناپارٹ کا انجام اب بھی یاد ہے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر پر کریملن کے بارے میں فریبکارانہ سفارت کاری کا الزام عائد کیا۔فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے ہفتہ وار جریدے Le Joguenal de Dimas) ) سے انٹرویو میں کہا کہ پیرس بھی چاہتا ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں شکست ہو لیکن ان کے ملک کا موقف کبھی بھی روس کو کچلنے یا اس کی سرزمین پر حملہ کرنے کا نہیں رہا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ فرانس کی شروعات میکرون سے نہیں ہوئی اور نپولین کی باقیات، جن کا قومی سطح پر احترام کیا جاتا ہے، پیرس کے وسط میں باقی ہیں۔” فرانس اور روس کو اس کو درک کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمومی طور پر میکرون مضحکہ خیز ہیں، ان کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب، روس میں حکومت کی تبدیلی کے بارے میں بات چیت میں شامل رہا ہے، جبکہ میکرون نے بارہا روسی قیادت سے ملاقات کی کوشش کی ہے۔

    22 جون 1812 کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے مسلح فوج کے ساتھ روس پر حملہ کیا لیکن اسے جان لیوا سردی، بیماری اور بھوک کا سامنا کرنے کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑا تھا۔ اس ذلت آمیز شکست کے بعد، جس کے نتیجے میں ہزاروں فرانسیسی فوجی مارے گئے، وہ مزید حملوں کی تیاری کے لیے واپس پیرس چلا گیا لیکن حریف ممالک نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرانسیسی فوج پر حملہ کر کے فرانسیسی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔