Baaghi TV

Tag: india vs Pakistan

  • کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے قریب کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ایس پی بارکھان نے جیو نیوز کو بتا یا کہ بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے نواح میں واقع کنویں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ لاشوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے لگ بھگ ہیں ،تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے جبکہ خاتون کے چہرے کو تیزاب ڈال کر مسخ کیا گیا ہے۔

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو اسپتال بارکھان منتقل کردی ہیں جہاں ان کا طبی معائنہ کر کے رپورٹ تیار کی جائے گی۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • پی سی بی چیئرمین کی ناعاقبت اندیشی:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    پی سی بی چیئرمین کی ناعاقبت اندیشی:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاک افواج پولیس اور دیگر قومی سلامتی کے ادارے داخلی اور سلامتی اور امن و امان کے لئے جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی حالات کی وجہ سے ملک میں غیر یقینی صورتحال ہے ایک طرف ملک میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں بشمول حکمران جماعت سلیکٹڈ سے لے کر امپورٹڈ کی کہانیاں عوام کو سنا رہی ہیں۔ سلیکٹڈ کو لانے والے کون تھے اور امپورٹڈ کو لانے والے کون ہیں؟ جبکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اس زہریلے پروپیگنڈے سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔

    بھارتی ٹی وی چینلز پاکستان کو اور پاک فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارت کا اصل نشانہ پاک فوج ہے پاکستانی عوام میں اس تاثر کو اجاگر کیا جا رہا ہے جس فوج کے لئے عوام جان دینے پر تیار ہیں وہ ملکی سلامتی کے لئے کم اور حکومتیں بنانے اور حکومتیں گرانے میں لگی ہے بھارت کو یہ موقع ہماری سیاسی جماعتیں بشمول حکمران فراہم کر رہے ہیں۔ جبکہ انہی جماعتوں سے منسلک سوشل میڈیا بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے تاہم بھارت یہ بھول گیا ہے کہ پاکستانی قوم اپنی افواج سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہے اور اس طرح کے کئی پروپیگنڈے پہلے بھی ہوتے رہے عوام کی اکثریت نے کبھی اس قسم کے پروپیگنڈے کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔ تاہم ملکی سیاستدانوں بشمول حکمرانوں کو اس ملک اور بائیس کروڑ عوام کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے پاک فوج کو نشانہ بنا کر آپ کس کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بھارت سمیت بعض عالمی سیاسی کھلاڑی پاکستان میں امن و امان کی فضا کو مخدوش ہی دیکھنا چاہتے ہیں ایک کمزور پاکستان ان کے مفاد میں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ محب وطن اور محب قوم شخصیات اور عناصر کو چھانٹ چھانٹ کر اہم عہدوں اور ذمہ داریوں پر تعینات کیا جائے اور وطن عزیز کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    گزشتہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے جس بے حسی اور سنگدلی اور ناعاقبت اندیشی کے ساتھ ٹویٹ پر قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پی ایس ایل کی بین بجانے کا عزم کیا قومی خزانے پر پلنے والے خودساختہ نام نہاد دانشور کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی سلامتی کے پیش نظر اس نام نہاد دانشور کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی وزارت اور اپنے والد (مرحوم) خواجہ صفدر کی یاد تازہ کر دی۔

  • کراچی پولیس آفس حملےکی تحقیقات میں پیشرفت ،مشتبہ گرفتارافراد کی تعداد10 سے زائد

    کراچی پولیس آفس حملےکی تحقیقات میں پیشرفت ،مشتبہ گرفتارافراد کی تعداد10 سے زائد

    کراچی:پولیس آفس حملے کی تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 10سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا,تحقیقاتی ادارے کراچی، ملتان اور پشاور میں پولیس پر ہونے والے حملوں کی کڑیاں جوڑنے لگے، قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعہ کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پشاور پولیس لائن پر حملہ جمعہ کو کیا، کراچی پولیس پر حملے کیلئے بھی جمعہ کے روز کا انتخاب کیا گیا، دہشت گردوں کا ہدف صرف پولیس تھی۔

     

    ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے گلستان جوہر کے علاقے میں کارروائی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو حراست میں لے لیادہشت گردوں کے سہولت کار سے تفتیش کی جاری ہے۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    قبل ازیں کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے-

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

     

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

     

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

     

    واضح رہے کہ جمعہ 17 فروری کو کراچی میں پولیس چیف آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ حملے میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئےسیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے جبکہ ایک خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہواڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 19 زخمی ہوئے، جن میں 7 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔

  • اسلام آباد یونائیٹڈ کو بھی شکست؛ پی ایس ایل 8میں ملتان سلطانز نے فتح کی ہیٹرک ٹرک کرلی

    اسلام آباد یونائیٹڈ کو بھی شکست؛ پی ایس ایل 8میں ملتان سلطانز نے فتح کی ہیٹرک ٹرک کرلی

    ملتان:پی ایس ایل 8 میں ملتان سلطانز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ہرا کر مسلسل فتوحات کی ہیٹرک کرلی ہے۔ملتان میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ اور مقرر 20 اوورز میں 190 رنز بنائے۔

    جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ 138 رنز ہی بناسکی، اس طرح ملتان سلطانز نے52 رنز سے فتح اپنے نام کی۔

     

    ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز 4 وکٹوں کے نقصان پر 190 رنز اسکور کیے۔

    سلطانز کی جانب سے اوپنر شان مسعود جلد وکٹ گنوا بیٹھے تاہم کپتان محمد رضوان اور رائلی روسو نے 91 رنز کی پارٹنرشپ قائم کرکے ٹیم کی پوزیشن مستحکم کردی، رضوان 38 گیندوں پر 50 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ روسو 36 رنز بناکر نمایاں رہے۔

     

     

    چوتھی وکٹ کی شراکت میں ڈیوڈ ملر اور کیرون پولارڈ نے 78 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی تاہم ملر 52 رنز بناکر فہیم اشرف کا شکار بنے، دیگر کھلاڑیوں میں پولارڈ 32 جبکہ خوشدل شاہ 3 رنز بناکر نمایاں رہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے ٹام کرن، فہیم اشرف، شاداب خان اور رومان رئیس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

    دوسری جانب پاکستان سپر لیگ میں آج ڈبل ہیڈرز مقابلے ہوں گے، دوسرے میچ میں لاہور قلندرز کو کراچی کنگز کا چیلنج درپیش ہوگا۔لاہور قلندرز نے ایک میچ کھیلا جس میں فتح سمیٹی ہے جبکہ کراچی کنگز کو مسلسل 3 میچوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

  • اسلام آباد یونائیٹڈ کا ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا ملتان سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ

    ملتان: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن کے ساتویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی :ملتان میں کھیلے جارہے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ کوشش ہوگی سلطانز کو ہوم گراؤنڈ پر شکست دیکر پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ کریں۔

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ ٹیم کمبنیشن اچھا ہے بڑا ٹارگٹ دیکر میچ میں کامیابی سمیٹنا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان سپر لیگ میں دوسرے میچ میں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز میدان میں اتریں گی لاہور قلندرز نے ایک میچ کھیلا جس میں فتح سمیٹی ہے جبکہ کراچی کنگز کو مسلسل تین میچزمیں شکست کا سامنا رہا-

  • نادرا کی درخواست پرگوگل پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دی گئیں

    نادرا کی درخواست پرگوگل پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دی گئیں

    اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی درخواست پر گوگل نے اپنے پلے اسٹور سے 14 ایپلیکیشنز ہٹا دیں۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹ کے مطابق نادرا نے پاکستانی شہریوں کی معلومات کی خلاف ورزی کا معاملہ الفابیٹ کی زیر ملکیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ اٹھایا تھا نادرا نے’گوگل پلے اسٹورز پر موجود ایپلیکیشنز کی جانب سے شہریوں کی ذاتی معلومات اور ان کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر‘ گوگل کو خط لکھا۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    خط میں کہا کہ پاکستانی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا آپ کے پلیٹ فارم اور گوگل پلے سٹور پر دستیاب مختلف ایپلی کیشنز کے ذریعے غیر قانونی طور پر فروخت یا شیئر کیا جا رہا ہے،جس سے پاکستان کے باشندوں کی رازداری کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ ڈیٹا چوری ہو رہا ہے جو پاکستان کی وفاقی حکومت کا ہے۔

    خط میں کہا گیا کہ یہ ایپلیکیشنز نادرا کے نام اور پروڈکٹس کو غیر قانونی اور دھوکا دہی سے استعمال کر کے صارفین کو یہ تاثر دے کر فریب دے رہی ہیں کہ ایپیلیکشنز کسی نہ کسی طریقے سے نادرا سے باضابطہ طور پر منسلک، مجاز یا آپریٹ ہو رہی ہیں۔

    ملکی مسائل کے حل کی کوئی بات کوئی نہیں کررہا،ایک دوسرے پر الزامات لگانے پر مصروف ہیں،شاہد خاقان

    یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ گوگل کی نقالی سے متعلق پالیسی صارفین کو کسی اور کی نقالی کرنے کی اجازت نہیں دیتی، نادرا نے کمپنی کو آگاہ کیا کہ ’کچھ ایپس نادرا کی نقالی کر رہی ہیں یا یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنے صارفین کو نادرا کی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے کی اجازت رکھتی ہیں‘ اور یوں پاکستانی شہریوں سے ذاتی معلومات حاصل کررہی ہیں،ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جائے، جس سے پاکستان کے لیے سنگین سیکیورٹی مضمرات ہو سکتے ہیں-

    چیئرمین نادرا طارق ملک نے بتایا کہ نادرا کے خط کے جواب میں گوگل نے ایپ سٹور سے 14 ایپلیکیشنز کو ہٹا دیا ہے،2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے رضاکارانہ طور پر شہریوں کے ذاتی ڈیٹا تک ’سپر رسائی‘ کو ترک کر دیا تھا اور اسے نادرا کے ملازمین کے لیے بھی ناقابل رسائی بنا دیا تھا۔

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا بیس اتھارٹی نے اپنے انفارمیشن سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو بھی بحال کردیا تھا، جو اس سے قبل 2014 میں ان کے ادارہ چھوڑنے کے بعد غیر فعال کر دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب نادرا کے اعلامیہ کے مطابق اتھارٹی نے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کیلیے صارفین کا موبائل نمبر ریکارڈ میں لازمی شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا-

  • کراچی:دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی،3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے:مقدمہ درج ہوگیا

    کراچی:دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی،3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے:مقدمہ درج ہوگیا

    کراچی:پولیس آفس پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد پانچ تھی ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر واقع پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

    حملے کا مقدمہ صدر انسپکٹر خالد حسین میمن کی مدعیت میں سی ٹی ڈی سول لائنز تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں 3 ہلاک سمیت کالعدم تحریک طالبان ( ٹی ٹی پی ) کے 5 دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات سمیت سنگین نوعیت کی دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق کالعدم تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، دہشت گردوں کو غیر ملکی قوتوں کی مدد بھی حاصل تھی، حملے میں کراچی پولیس آفس کو شدید نقصان پہنچا۔

    درج ایف آئی آر میں 2 سہولت کار بھی نامزد کیے گئے ہیں، جب کہ مقدمے کی تفتیش سی ٹی ڈی کے انسپکٹر عرفان احمد کریں گے۔ ایف آئی آر میں 2 دہشت گردوں کی نشاہدی کی گئی ہے، جو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور جنہوں نے کے پی او کی نشاندہی کی۔ دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی، جب کہ 3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے۔

    مقدمے کے مطابق شام 7 بج کر 15 منٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ، 7 بج کر 20 منٹ پر قانون نافذ کرنے والے اہل کار موقع پر پہنچے، ڈی آئی جی جنوبی عرفان بلوچ کی سربراہی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ترتیب دیا گیا۔ایک دہشت گرد نے تیسری منزل پر خود کو دھماکے سے اڑایا جب کہ ایک دہشت گرد چوتھی منزل پر سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا اور تیسرا دہشت گرد چھت پر فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنا۔

    مقدمے کے مطابق دہشت گرد صدر پولیس لائن کے قریب بنے فیملی کوارٹر کی عقبی دیوار پر لگی تار کو کاٹ کر داخل ہوئے، تین دہشت گرد ایک گاڑی میں پولیس صدر لائن پہنچے تھے، حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے سوشل میڈیا کے ذریعے قبول کی۔مقدمے کے مطابق حملے میں رینجرز اور پولیس کے چار جوان شہید ہوئے جبکہ اٹھارہ افراد زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ 17 فروری کی شام شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ حملے میں 3 سیکیورٹی اہلکار اور پولیس کا خاکروب بھی شہید ہوا تھا۔

  • پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں ،نوٹیفیکیشن جاری

    لاہور: آئی جی پنجاب پولیس عثمان انور نے پنجاب میں بڑے پیمانے پر پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریاں کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرد یا۔

    باغی ٹی وی: نوٹیفکیشن کےمطابق کیپٹن ریٹائرڈ عامرخان نیازی کو ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی جبکہ محمدعمران کو ایس ایس پی آپریشنز ملتان تعینات کردیا گیا جبکہ عزیز احمد کو ایس پی انویسٹی گیشن رحیم یارخان اور ضیا اللہ کو ایس پی انویسٹی گیشن سیالکوٹ جبکہ انعم فریال کو ایس پی انویسٹی گیشن سرگودھا تعینات کیا گیا۔

    آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خالد محمود تبسم کو ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ اور سید علی کو ایس ایس پی انویسٹی گیشن گوجرانوالہ تعینات کیا گیا ہے اسی طرح ارسلان زاہد کو ایس پی صدر ملتان، محمد نبی کو ایس پی صدر راولپنڈی تعینات کیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے تحت ایس پی سکیورٹی فیصل سلیم کو ایس پی راول ٹاؤن تعینات کیا گیا ہے جبکہ عثمان منیر سیفی کو ایس پی سول لائنز گوجرانوالہ تعینات کیا گیا ہے جبکہ غیور احمد کو ایس پی سٹی گوجرانوالہ اور رضوان طارق کو ایس پی صدرگوجرانوالہ تعینات کیا گیا ہے جبکہ خالد رشید کو سی ٹی او فیصل آباد تعینات کیا گیا ہے۔

  • دبئی سےڈھاکاجانیوالی پرواز میں مسافر دل کا دورہ پڑنےسےانتقال کرگیا

    دبئی سےڈھاکاجانیوالی پرواز میں مسافر دل کا دورہ پڑنےسےانتقال کرگیا

    کراچی:دبئی سے ڈھاکا جانیوالی غیر ملکی ایئر لائنز کی پرواز میں مسافر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا، جس کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، کپتان نے کراچی میں ہنگامی لینڈنگ کی تاہم مسافر کو بچایا نہ جاسکا۔سی اے اے حکام کے مطابق دبئی سے ڈھاکا جانیوالی غیر ملکی ایئرلائنز کی پرواز میں ایک مسافر کی طبعیت خراب ہوئی جس کے باعث کپتان نے کراچی ایئرپورٹ کے ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ کیا اور ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

    دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان کیساتھ ہیں:امریکا

    سول ایوی ایشن کے مطابق طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کی اجازت دی گئی اور مسافر کیلئے ڈاکٹرز اور ایمبولینس کا بھی انتظام کیا گیا تاہم لینڈنگ کے دوران ہی مسافر انتقال کرگیا۔

    مسافر

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی لینڈنگ کے بعد ڈاکٹرز نے مسافر کی جانچ کی اور بتایا کہ متوفی کو دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔سی سی اے کے مطابق انتقال کرنے والے مسافر کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا، جس کا جان شاب شیخ اور عمر 48 سال تھی۔

    کراچی پولیس آفس پرحملہ:تمام شہدا کے نمازجنازہ ادا،عمارت بھی کلیئرقراردی گئی

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی کراچی ایئرپورٹ پر سعودی عرب سے عمرہ کی سعادت حاصل کرکے آنیوالا مسافر امیگریشن کاؤنٹر پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا تھا۔