Baaghi TV

Tag: india

  • جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار۔

    اصل نام آؤسیف ایلیکزینڈرووچ بروڈسکی تھا ایک روسی نژاد امریکی شاعر اور مضمون نگار تھے 24 مئی 1940 میں پیدا ہونے والے جوزف بروڈسکی{Joseph Brodsky} لینین گراڈ کے ایک روسی یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک ممتاز اورقدامت پسند ربانی خاندان، شورر (شور) سے تھا۔ اس کے ددھیال کا تعلق جوزف بین اسحاق بیخور شور سے ہے۔ اس کے والد ، الیکزینڈر بروڈسکی ، سوویت بحریہ میں ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھے ، اور ان کی والدہ ، ماریہ والپرٹ بروڈسکایا ، ایک پیشہ ور ترجمان تھیں جن کے کام سے اکثراس خاندان کی کفالت میں مدد ملتی تھی۔ وہ فرقہ وارانہ اپارٹمنٹ میں رہتے تھے ، ان کی زندگی بچپن کا حصہ غربت اورپسماندگی میں گزرا۔ بچپن میں بروڈسکی لینین گراڈ کے محاصرے سے بچ گئے جہاں وہ اور اس کے والدین فاقوں اور بھوک سے مر گئے اور ان کی ایک خالہ بھوک سے مر گئی۔ بعد میں وہ محاصرے کی وجہ سے مختلف صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوگئے۔ بروڈسکی نے تبصرہ کیا کہ ان کے بہت سارے اساتذہ سامی { یہودی} مخالف ہیں اور انہیں ابتدائی عمر سے ہی اختلاف کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ “میں نے لینن کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں پہلی جماعت میں تھا ، اس کے سیاسی فلسفے یا عمل کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ ان کی ہر جگہ کی تصویروں کی وجہ سے۔”

    ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے جوزف بروڈسکی “ایک غیر مہذب بچہ” تھا جو اپنے اسکول میں لڑنے جھگڑنے والا بچی جانا جاتا تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں بروڈسکی نے اسکول چھوڑ دیا اور کامیابی کے بغیر سب میرینرز اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ ملنگ مشین آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعدازاں ، معالج بننے کا فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے کرسٹی زندان میں اور سلائی کرنے کا کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں میں ، جہاز کے بوائلر روم میں ، اور ارضیاتی اسفار کی متعدد ملازمتیں رکھی۔ اسی وقت ، بروڈسکی نے خود تعلیم کے ایک پروگرام میں مشغول کیا۔ انہوں نے پولش بولنا سیکھا ،تاکہ وہ پولینڈ کے شعراء جیسے Cesesła Miłosz ، اور انگریزی کے کاموں کا ترجمہ کرسکیں تاکہ وہ جان ڈونی کا ترجمہ کرسکیں۔ راستے میں ، اس نے کلاسیکی فلسفہ ، مذہب ، خرافات ، اور انگریزی اور امریکی شاعری میں گہری دلچسپی حاصل کرلی۔

    جوزف بروڈسکی کو شمالی روس کے ایک مزدور کیمپ میں پانچ سال قید کی 18 ماہ قید کے بعد 1972 میں سوویت یونین سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ جوزف بروڈسکی کے مطابق ادب نے اس کی زندگی کو گھیر لیا۔ انہوں نے کہا ، “میں ایک عام سوویت لڑکا تھا۔ “میں اس نظام کا آدمی بن سکتا تھا۔ لیکن کسی چیز نے مجھے الٹا کردیا: [فیوڈور دوستوفسکی] انڈر گراؤنڈ سے نوٹس پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں کیا ہوں۔ میں برا ہوں۔”

    بروڈسکی نے سوویت حکام کی سختیوں اور پابندیوں کے بعد امریکہ چلے گئے۔ اور 1972 میں سوویت یونین سے اور بقول ان کے “ہجرت کی” سختی سے نصیحت ہوئی ۔ ڈبلیو ایچ آڈن اور دوسرے حامیوں کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ میں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ماؤنٹ ہولیوک کالج ، اور ییل ، ​​کولمبیا ، کیمبرج ، اور مشی گن سمیت یونیورسٹیوں میں تعلیم وتدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر آندرے رنچین کے مطابق: “بروڈسکی وہ واحد جدید روسی شاعر ہے جس کے جسمانی کام کو پہلے ہی کانونائزڈ کلاسک کا اعزازی خطاب دیا گیا ہے ۔ بروڈسکی کا ادبی تخصیص ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ کسی بھی دوسرے ہم عصر روسی مصنف کو اس طرح کی متعدد یادداشتوں کا ہیرو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کسی اور کے پاس اتنی ساری کانفرنسیں ان کے لیے وقف نہیں تھیں”۔

    سوویت یونین چھوڑنے سے پہلے ، بروڈسکی نے اپنے پسندیدہ روسی شاعر انا اخماٹووا کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ جلاوطنی کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ ، جہاں اس نے بروکلین اور میساچوسٹس میں قیام کیا۔ ۔ان کے دوست شاعر سیمس ہینی کے مطابق ، وہ “مبہوت ، محنتی اور ایک خاص مقدار میں خلوت میں رہتے تھے۔”

    بروڈسکی نے اپنی نسل کے سب سے بڑے روسی شاعر کے طور پراپنی ادبی حیثیت کو منوایا، نو شعری مجموعوں کے ساتھ ساتھ مضامین کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ، اور 1987 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ انگریزی ترجمے میں ان کی شاعری کی پہلی کتاب 1973 میں شائع ہوئی۔جو فکریہ اور شاعرانہ شدت کے ساتھ ایک نئی شاعرانہ حساسیت کا حامل تھا۔

    کولمبیا یونیورسٹی اور ماؤنٹ ہولیوک کالج میں درس و تدریس کے علاوہ ، جہاں انہوں نے پندرہ سال تک درس دیا ، بروڈسکی نے 1991 سے 1992 تک ریاستہائے متحدہ کے شاعر لاریوٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں ، انہوں نے امریکی شاعری اور خواندگی پروجیکٹ کو ڈھونڈنے کے لئے اینڈریو کیرول کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ایک نان نفع تنظیم ، جوجوزف بروڈسکی کے الفاظ میں ، “ثقافت کو امریکی ثقافت کا ایک زیادہ مرکزی حصہ بنانے کے لئےہے “۔

    جوزف بروڈسکی، جان ڈون سے لے کر آڈن تک انگریزی مابعد الطبعیاتی شعرا سے بہت متاثر تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر مصنفین جیسے ٹامس وینکلووا ، آکٹیوو پاز ، رابرٹ لوئل ، ڈیرک والکوٹ ، اور بینیٹاٹا کریری کی تحریروں سے بھی استفادہ حاصل کرتے رہے۔

    جوزف بروڈسکی 28 جنوری 1996 کو اپنے بروکلین اپارٹمنٹ میں دل کا دورہ پڑنے سے 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ وینس اٹلی میں Isola di San Michele کے قبرستاں میں دفن ہوئے۔

    جوزف بروڈسکی کی ایک نظم

    بیلفاسٹ دھن {Belfast Tune}
    یہاں ایک خطرناک شہر کی لڑکی ہے
    وہ اپنے سیاہ بالوں کو مختصر تراشتی ہے
    تاکہ اس کی کم تعداد کو خوفزدہ کرنا پڑے
    جب کسی کو تکلیف ہو۔
    وہ اپنی یادوں کو پیراشوٹ کی طرح جوڑتی ہے۔
    اس نےاسے گرا دیا ، وہ کوئلےجمع کرتی ہے
    اور گھر میں سبزیوں کو پکاتی ہے: وہ گولی چلاتے ہیں
    یہاں وہ کھاتے ہیں جہاں
    آہ ، ان حصوں میں کہیں زیادہ آسمان ہے ، کہیں ،
    زمین۔۔ لہذا اس کی آواز کی آواز
    اور اس کے گھورنے سے آپ کی ریٹنا پر بھورے رنگ کی طرح داغ پڑتا ہے
    جب آپ سوئچ کرتے ہو تو بلب
    نصف کرہ ، اور اس کے گھٹنے کی لمبائی کا بٹیر
    اسکرٹ کو پکڑنے کے لئے اسکرٹ کا کٹ ،
    میں نے اس کو یا تو پیار کیا تھا یا قتل کیا ہے یا اس کا خواب دیکھا ہے
    کیونکہ یہ قصبہ بہت چھوٹا ہے۔

    ترجمہ احمد سہیل

  • جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    جان اپڈائیک: امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری

    پیدائش: 18 مارچ 1932
    انتقال: 27 جنوری 2009

    امریکا کے صف اول کے ناول نگار اور لکھاری۔ اپنے ناولوں میں انھوں نے عام امریکیوں اور خاص طور چھوٹے شہروں میں رہنے والے متوسط طبقات کی زندگیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ انھیں کئی پلِٹزر پرائز سمیت کئی ادبی انعامات سے نوازا گیا۔ وہ 60 سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے۔

    جان اپڈائیک نے امریکا میں ایک ایسے شخص کی زندگی پر بھی ناول لکھا جس کا باپ مسلمان تھا مگر اپنی امریکی بیوی کو چھوڑ گیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے نیوجرسی کے پس منظر میں مذہبی انتہاپسندی کو بھی اپنے ایک ناول کا موضوع بنایا۔ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

  • اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر؛ عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے.

    اوکاڑہ سے مکہ حج کیلئے پیدل سفر کرنے والے عثمان ارشد ویزوں کی عدم فراہمی پر ایران رک گئے ہیں اور انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ؛ "وزیراعظم اور وزیر خارجہ صاحب میں بے تحاشہ مرتبہ گزارش کر چکا ہوں کہ میں اوکاڑہ سے مکہ پیدل حج کیلئے سفر کر رہا ہوں اور ویزوں کی وجہ سے ایران میں رکا ہوا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے عراق، کویت اور سعودیہ کا ویزہ دلوانے میں مدد فراہم کی جائے.”


    انہوں نے مزید کہا کہ؛ "صبح شام پاکستان میں صرف سیاست کی بات ہوتی ہے۔ سیاست کے علاوہ سب فضول ہے اور عوام بھیڑ بکریاں ہیں، جن کی سننے والا کوئی نہیں اور مثالیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دی جاتی ہیں کہ نہر کے کنارے کتا بھی مر گیا تو مجھ سے سوال ہو گا.”

    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    تاہم کچھ صارفین نے یہ اعتراض کیا کہ یہ کام تم نے پیدل سفر شروع کرنے سے پہلے کیوں نییں کیا اور یہ کہ کویت نے تو پہلے سے پاکستانیوں کے لیے ویزے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے جواب میں عثمان ارشد نے ویڈیو بیان میں ہی وضاحت کردی تھی کہ اگر میں پاکستان سے ویزے لیکر چلتا تو پھر چونکہ ان کی معیاد کمی ہوتی یا پھر انسان ہے کہ پیدل سفر میں زیادہ وقت اور حالات کا تعین نہیں ہوتا اس لیئے پہلے سے ویزے نہیں لیئے.

    تاہم بہت سارے صارفین نے حکومت وقت سے درخواست کی اس کی مدد کی جائے واضح رہے کہ عثمان ارشد سے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات بھی کی تھی اور وعدہ بھی کیا تھا مدد کا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے.

  • کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کزومبا رقص جو افریقہ سے دنیا بھر میں پھیلا

    کِزومبا رقص جیسے ایک موسیقی کی صنف ہے اور اس کی ابتدا انگولا، افریقہ سے 1984 میں ہوئی۔ کِزومبا کا مطلب ہے پارٹی ہے اور انگولا کے لوگوں میں بولی جانے والی زبان کا لفظ ہے. اور پھر یہ افریقہ سے پھیلتے پھیلتے پوری دنیا میں پھیل گیا لیکن یہ دور جدید میں زیادہ آسانی اور جلدی سے پھیلا کیوں کہ سوشل میڈیا پر اس رقص کو کافی پسند کیا گیا ہے.

    لیکن یہ رقص جیسے جیسے پھیلتا گیا ویسے ویسے اس میں اس فن کے ماہر رقاص نے اپنے حساب سے اسے اپڈیٹ یا تبدیل بھی کیا ہے لیکن اسی میں جتنی بھی تبدیلیاں ہوئی یا اسے بہتر بنایا گیا اس میں ہر نئے رقص اور پرانے رقص دونوں نے اپنے ناظرین کے دل محظوظ کرتا ہے. جبکہ اگر ہم آپ کو لفظی طور پر بتائیں تو اس میں دو لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ اور کمر پر ہاتھ رکھ ڈانس کرتے ہیں.
    https://twitter.com/nyameduwah/status/1616122668230807552
    بل افریکن ویب سائٹ کے مطابق؛ "کزومبا kizomba ایک ایسا رقص ہے جو جوڑے کو اس موسیقی سے مزید لطف اندوز ہونے کی اجازت دیتا ہے جس پر وہ رقص کر رہے ہیں جبکہ جوڑے کی قربت کے سبب سست اور جنسی حرکتوں کے ساتھ ایک انتہائی قریبی رقص بن جاتا ہے. جس میں مرد اور عورت کے درمیان بہترین معروف مہارت اور پیچیدگی کی ضرورت ہوتی ہے، یا زیادہ کھلا تیز قدموں، پاؤں کے کام اور چالوں کے ساتھ رقص کرنا انتہائی مزیدار ہوجاتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    خیال رہے کہ کزومبا ڈانس بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے اور اسے اکثر فلم جگت کافی پسند کرتے ہیں لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا بھر میں سب سے پسند کیا جانے والا رقص ہے ، دو محبت کرنے والوں کیلئے تو یہ بہت ہی پسندیدہ رقص ہے کیونکہ اکثر فلموں میں اس رقص کو ہیرو اور ہیروئین کے ذریعے دکھایا جاتا ہے.

  • افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی اپنے آنسو پر قابو نہ پاسکے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ کے والد اور اسے پرواز کرنے دو کتاب کے مصنف، تعلیم بارے متحرک کارکن ضیاء الدین یوسف زئی نے ایک پشتو میڈیا پلیٹ فام سے بات کررہے تھے جب افغانستان کی خواتین بارے ان پر حصول تعلیم پر پابندی کی بات آئی تو وہ جزباتی ہوگئے اور اپنے آنسو نہ روک پائے.


    اس انٹرویو میں انہوں نے پشتوں زبان میں بات کرتے ہوئے افغانستان کے مردوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ؛ "میں اپنے افغان پشتون بھائیوں سے ناراض ہوں کیونکہ انہیں خواتین اور اپنی بچیوں کے اس حقوق کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے اور حصول تعلیم پر لگی ان پابندیوں کیخلاف ان کا ساتھ دینا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر مرد و عورت کا برابر کا حق ہے لہذا ہم مردوں کو بھی ان خواتین کا ساتھ دینا چاہئے جن سے ان کا یہ حق چھینا گیا ہے.”

    صحافی ملک رمضان اسراء نے ضیاء الدین یوسفزئی کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پشتوں اور انگریزی میں لکھا کہ تعلیم بارے متحرک کارکن افغان خواتین اور بچیوں کی تعلیم بارے بات کرتے ہوئے اپنے آنسو پر قابو نہ رکھ سکا. اور انہوں نے مردوں سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے حصول تعلیم کیلئے دنیا بھر میں اپنی آواز بلند کریں.


    ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعا کی کہ؛ "خدا کرے کہ میری آواز تمام افغانوں اور پشتونوں کو سنائی دے اور وہ تعلیم، کام اور آزادی کے انسانی حقوق کی جدوجہد میں افغانستان کی بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی آواز کو ان کی آواز میں شامل کریں۔”

  • مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا
    سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی نئی کتاب ’’ نیور گیو این انچ: فائٹنگ فار دا امریکہ آئی لو‘‘ کا پوری دنیا میں چرچا ہے ۔ پومپیو کی یادداشتوں میں بہت سے سرپرائز موجود ہیں۔ اس کتاب نے بہت سے معاملات پر موجود معلومات کی روشنی میں امریکہ کے اندر اور باہر امریکی سیاسی حلقوں اور میڈیا کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

    اپنی یادداشتوں میں پومپیو نے سعودی عرب کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات امریکی میڈیا کو پریشان کر رہے تھے۔ پومپیو نے زور دے کر کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک مصلح ہیں جو اپنے وقت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر واقعی ایک تاریخی شخصیت ثابت ہوں گے۔

    اپنی کتاب میں پومپیو نے اکتوبر 2018 میں اپنے ریاض کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس چیز نے میڈیا کو گوشت کے مذبح میں سبزی خوری سے زیادہ پاگل پن کا شکار کردیا وہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے خود کو سعودی عرب جانے کا ٹاسک سپرد کئے جانے کے حوالے سے پومپیو نے بتایا کہ ایک طرح سے مجھے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ مجھ سے حسد محسوس کر رہے تھے کیونکہ میں ہی وہ تھا جس نے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک اور حقیقت سے دور رہنے والے دوسرے بزدلوں کو تکلیف پہنچائی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ خاشقیجی کا قتل اشتعال انگیز اور ناقابل قبول تھا لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ خاشقیجی ایک "صحافی” تھے۔ پومپیو نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے خاشقیجی کو "سعودی باب ووڈورڈ” بنا دیا تھا حالانکہ خاشقیجی ایک ایکٹوسٹ تھے۔

  • نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قبل کار میں ایک نوجوان کو جلا کر مار ڈالنے کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعہ جدہ میں پیش آیا تھا۔ مقتول بندر القرھدی کے مقدمہ کے وکیل اور مشیر عبد العزیز القلیصی نے بتایا ہے کہ بندر القرھدی کیس کا فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ القلیسی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا "اے اللہ، تیری ہی حمد ہے جب تک کہ تو راضی نہ ہو جائے، مقتول اور شہید بندر بندر القرھدی کا مقدمہ مدعا علیہ کے خلاف سزائے موت کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ اللہ کی طرف سے احسان ہے۔ ہم اس مقدمہ میں تعاون اور مدد کرنے والے ہر شخص کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقدمہ کے آغاز سے لیکر عدالت تک میں کام کرنے والے اپنے دفتر کے ارکان کا بھی شکرگزار ہوں۔
    https://twitter.com/ks2k_A/status/1618505964289724417
    العربیہ نیٹ کے مطابق مقتول کے والد طہٰ القرھدی بھی وکیل کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا کہ الحمد للہ، مجرم برکات کو سزا سنا دی گئی۔ یہ اس بہتر اور پاک ملک میں اللہ کا حق اور انصاف ہے۔ واضح رہے ڈیڑھ ماہ مواصلاتی ویب سائٹس کے کارکنوں نے ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی تھی جس میں ایک ایک نوجوان کو گلی میں چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ نوجوان پکار رہا تھا ’’ میں تو بہت پیارا ہوں‘‘۔ بندر کو اس کے دوست ورغلا کر لائے تھے اور جدہ میں ایک گاڑی میں اسے جلا دیا تھا۔

    اس وقت بندر کے والد طٰہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ میرا بیٹا بندر میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور میری اس سے آخری مرتبہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے ساتھ ایک برگر اور شوارما پر مشتمل کھانے کے طور پر لایا اور اسے اپنے کمرے کے دروازے پر لٹکا کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اپنی موت کی وجہ سے اپنے لٹکائے ہوئے کھانے کو کھانے واپس نہیں آسکا۔ اس کے دوست نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کو زندگی سے محروم کردیا۔

    انہوں نے کہا میرا بیٹا بندر اپنی مہربانی اور اچھے سلوک کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ 20 سال سے سعودی ایئرلائنز میں کام کر رہا تھا۔ وہ حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اسے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے پالا تھا اور اسے نیکی سے محبت کرنا سکھایا تھا۔ انہوں نے دکھ سے بھرے الفاظ میں کہا تھا کہ کام پر اس کا ساتھی وہی ہے جس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اور جو واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کے لیے غیر معمولی ہے۔ ہم نے اس سے قبل ایسے واقعے کے متعلق کبھی نہیں سنا۔

  • ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہےجو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: خود مختار ڈرون کومشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    اس کا فریم کاربن فائبر کا ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    سلمان خان کی نئی فلم ’کسی کا بھائی، کسی کی جان‘ کا ٹریلر جاری

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹےپیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن  ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا

    ممتاز جرمن فلسفی ،مستشرق ، ماہر اقبالیات اور شاعرہ ڈاکٹر این میری شمل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز جرمن اسکالر‘ ماہر اقبالیات‘ مستشرق اور اردو زبان کی پرستار ڈاکٹر این میری شمل 7 اپریل 1922 کو جرمنی کے شہر ایفرٹ میں پیدا ہوئیں ان کے والد صاحب کا نام انا شمل اور والدہ محترمہ کا نام پاؤل تھا۔ انہوں نے جرمنی کے شہر بون میں اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ہاروڈ اور بون یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ انہیں انگریزی عربی فارسی ترکی اور اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تحقیق اور تصوف اور اسلامیات و اقبالیات سے گہری دلچسپی تھی جبکہ پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، سرائیکی اور پنجابی زبانوں سے بھی گہری دلچسپی تھی وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی تھیں۔ وہ کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکیں مختلف کالجز اور کانفرنسز اور یونیورسٹیز میں لیکچرز دیتی رہیں ۔

    انہوں نے علامہ اقبال کی تصانیف” بانگ درا، پیام مشرق اور جاوید نامہ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے این میری شمل کو 3 ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ہلال امتیاز ستارہ امتیاز اور عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ شامل ہیں ۔

    ڈاکٹر شمل میری نے 19 سال کی عمر میں مملوک خاندان کے مصر میں خلیفہ اور قاضی کا مقام کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب” جاوید نامہ” کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ وہ جرمن‘ انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔ انہوں نے اقبال کے علاوہ سندھی زبان کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیات پیر علی محمد راشدی‘ پیر حسام الدین راشدی‘ غلام ربانی آگرو اور جمال ابڑوکی تصانیف کو بھی جرمن زبان میں منتقل کیا۔

    ڈاکٹر این میری شمل کی زندگی میں ہی حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ان کے نام سے موسوم کر دیا تھا جس پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متعدد بار مذاق میں کہا تھا کہ "پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا "۔ این میری شمل انگریزی اور جرمن زبان میں شاعری کرتی تھیں۔

    انگریزی اور جرمنی میں ان کے 2شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ تصوف اور اسلامیات سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ ان کی 100 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات پر مبنی "جبرائیل کے پر” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی این میری شمل کا 26جنوری 2003 کو جرمنی کے شہر بون میں انتقال ہوا۔

  • پنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا

    پنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا

    لاہور:پپنجاب کی نگراں کابینہ میں شامل وزراء نے حلف اُٹھالیا۔ گورنرپنجاب بلیغ الرحمان نے نگراں کابینہ سے حلف لیا۔پنجاب کی11 رکنی نگران کابینہ میں بلال افضل، ایس ایم تنویر، ڈاکٹر جاوید اکرم شامل ہیں۔

    ابراہیم مراد، تمکینت کریم، ڈاکٹر جمال ناصر، منصور قادر، وہاب ریاض، سید اظفر علی ناصر، عامر میر اور نسیم صادق نگران کابینہ کا حصہ ہیں۔

     

    ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں نگران کابینہ میں داخلہ، اطلاعات، خزانہ، قانون، فوڈ، ہیلتھ اور دیگر وزیر بنائے جائیں گے، ڈاکٹر جاوید اکرم کو صحت، امین وینس کو داخلہ، نسیم صادق کو محکمہ فوڈ کی وزارت دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔

     

    ادھرخیبر پختونخوا کی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا، کابینہ میں 15 وزرا کو شامل کیا گیا ہے۔مالا کنڈ سے تعلق رکھنے والے سابق آئی جی پولیس سید مسعود شاہ نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کے سمدھی ہیں۔

    صوبائی وزیر جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر کا تعلق پشاور سے ہے، وہ پشاور ہائیکورٹ کی جج اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور ممبر فرائض انجام دے چکی ہیں۔صوبائی وزیر بیرسٹر سانول نذیر کا تعلق بنوں سے ہے اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔شاہد خان خٹک کاروباری شخصیت ہیں اور ان کا تعلق نوشہرہ سے ہے۔ اے این پی کے ٹکٹ سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔

    پرویز الہیٰ کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست

    صوبائی وزرا تاج محمد آفریدی اور منظور آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔ منظور آفریدی کا تعلق جے یو آئی سے ہے جبکہ ان کا شمار مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔تاج محمد آفریدی سینیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں کی جانے والی ہنگامہ آرائی ذمہ دارکومعطل کردیا گیا

    پشاور سے تعلق رکھنے والے عدنان جلیل کاروباری شخصیت ہیں اور اے این پی کے مرحوم رہنما حاجی محمد عدیل کے صاحبزادے ہیں۔محمد علی شاہ کا تعلق سوات سے ہے اور ان کی مسلم لیگ ن سے وابستگی ہے۔ نگران کابینہ کے رکن معروف صنعت کار حاجی غفران کا تعلق ضلع صوابی سے اور یہ سابق گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان کے سمدھی ہیں۔

    صوبائی نگران وزیر فضل الہٰی بھی صنعتکار ہیں۔ صوبائی وزیر بخت نواز کا تعلق ضلع بٹگرام سے ہے اور یہ سابق صوبائی وزیر عالم زیب خان کے صاحبزادے ہیں۔اس کے علاوہ صوبائی وزیر خوشدل خان کا تعلق ضلع نوشہرہ سے ہے۔ عبدالحلیم قصوریہ بھی رکن صوبائی اسملبی رہ چکے ہیں۔بنوں سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے حامد شاہ مختلف سیاسی جماعتوں میں رہ چکے ہیں جبکہ شفیع اللہ خان کو بھی صوبائی وزیر بنایا گیا ہے۔