Baaghi TV

Tag: india

  • قانون نے امریکہ کو بھی حافظ محمد سعید کی حمایت پر مجبور کردیا

    قانون نے امریکہ کو بھی حافظ محمد سعید کی حمایت پر مجبور کردیا

    امریکی حکام اليس جی ويلز نے بھارت کو جواب دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی حافظ محمد سعید کو ذاتی اکائونٹ سے رقم نکلوانے کی اجازت دینا قانونی عمل ہے.

    کرفیو کے باوجود کشمیری پاکستان اور عمران خاں کے حق میں نعرے لگاتے رہے

    تفصیلات کے مطابق اليس جی ويلز نے بھارت کو حافظ محمد سعید کے اکاؤنٹس سے متعلق معاملے پر جواب دیدیا. بھارت نے امریکہ سے سوال کیا تھا کہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے حافظ محمد سعید کو اکاؤنٹس تک رسائی دینے کے فیصلے کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ تاہم اب امریکی حکام اليس جی ويلز نے بھارت کو جواب دیا ہے کہ حافظ محمد سعید کو ذاتی اکائونٹ سے رقم نکلوانے کی اجازت دینا قانونی عمل ہے. اليس جی ويلز نے کہا کہ یہ مثبت قدم ہے اور بالکل قانونی عمل ہے.

    مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کر لی

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے حالیہ فیصلے میں حافظ محمد سعید کو ان کے ذاتی اکائونٹ سے رقم نکلوانے کی اجازت دیدی ہے. دوسری جانب حافظ محمد سعید ابھی بھی قید ہیں انہیں اسی سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا.

    نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 3 زخمی

  • مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    آپ کو یہ جاننے کیلئے یہودی ہونا ضروری نہیں کہ زمینی تنازعات کے باعث ملکوں کے درمیان خطرناک تشدد پیدا ہوسکتا ہے. حال ہی میں ایسا ہی مسئلہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دیکھنے کو آیا ہے، جس سے دنیائی آبادی کا پانچواں حصہ خطرے میں ہے، اور اس مسئلہ کا حل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے.

    اسرائیل بننے سے ایک سال قبل کشمیر نام کی ریاست وجود میں آئی. 1947 (کشمیر بننے کے پہلے دن) سے ہی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ دیکھنے کو مل رہا ہے. کچھ عرصہ پہلے 5 اگست کو بھارت نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرکے اس کی خصوصی حیثیت چھین لی.

     ٹرمپ نے مودی سے کیا کہا، خبر آ گئی

    کشمیر ایسا نازک مسئلہ ہے جس کے حل کیلئے امریکہ، اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت نے ہمیشہ سے ہی بہت کوشش کی ہے. اگر اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ دو ملک کبھی بھی طاقت کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے.

    دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی باعث خوف ہے. گزشتہ ماہ بھی جب ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان سے ملے تھے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی.

    اس مسئلہ پر امریکہ ایک انتہائی پچیدہ پوزیشن پر کھڑا ہے. ہم (امریکیوں) نے شروع سے ہی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تجارتی اور سلامتی اتحاد قائم کیے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کروائے.

    امریکہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ وہ بھارت کو اس بات پر راضی کرے کہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ہٹائے، کیونکہ ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے. دیرینہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہوگا اور مذاکرات کی گنجائش پیدا ہوگی۔

    ٹرمپ مودی کی تعریف نہیں ، تضحیک کر رہا ہے، آخر بھارتی میڈیا کو بھی پتہ چل ہی گیا

    مزاکرات کا سب سے زیادہ فائدہ ان 12 ملین کشمیریوں کو ہوگا جو اس وقت کشمیر میں‌ بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں. ان کشمیریوں کی حالت زار پر توجہ دی جانی چاہئے اور اقوام متحدہ جیسے متعدد بین الاقوامی ادارے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کرنی چاہیئے.

    اسرائیل فلسطین کے مسئلہ کو بھولنا نہیں چاہیئے. کشمیر کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، زمین کا یہ ٹکڑا بین الاقوامی تنظیموں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے. پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ مدد کر رہا ہے، اور کوشش کر رہا ہے کہ خطہ میں امن قائم ہو. اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو جنگ بھی ہوسکتی ہے.

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    کشمیر کی طرح اسرائیل اور فلسطین کی صورتحال بھی "حل” ہونے سے بہت دور ہے اور دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کسی نقطہ نظر پر نہیں مل رہا. اس کے باوجود خطے میں امن مزاکرات سے ہی ممکن ہوگا. دونوں فریقوں کے درمیان یہ مسئلہ غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے ہی حل ہوگا. اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو بات جنگ کی طرف بھی جاسکتی ہے.

    دونوں ملکوں کو مسئلہ کے حل کیلئے صدرٹرمپ کی پیشکش کو فوری طور پر قبول کرنا چاہئے. سب سے پہلے موجودہ بحران کو ختم کیا جائے، پھر اس کے بعد باقاعدہ طور پر مزاکرات کیے جائیں. امریکہ جس نے شروع سے ہی دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کی ہے، اب بھی تاریخی کردار ادا کرنا چاہیئے. ایٹمی جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی.

    نوٹ: یہ کالم جیک روسن نے امریکی ادارے "دی واشنگٹن ٹائمز” میں‌ لکھا ہے.

  • درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!
    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟

    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہ بن سکے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ مصباح الحق نے سری لنکا کیخلا ف شیڈول ون ڈے سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان کر دیا ، قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہونگے جبکہ بابر اعظم نائب نائب کپتان ہونگے ، فحر زمان، امام الحق، بابر اعظم، حارث سہیل، عماد وسیم، شاداب حان، محمد نواز، محمد حسنین، وہاب ریاض،محمد عامر، عابد علی، افتحار احمد، قومی ٹیم کا حصہ ہو نگے ، شاہین شاہ آفریدی ڈینگی وائرس کے باعث سکواڈ حصہ نہیں ہونگے ، جبکہ حسن علی کمر کی تکلیف کے باعث سکواڈ کا حصہ نہیں ہیں ،


    سپورٹس جرنلسٹ احتشام الحق نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر حسن علی کے سکواڈ میں شامل نہ ہونے کی خبر شئیر کی جس پر ٹوئیٹر صارفین کے جواب بہت دلچسپ اور مزاخیہ تھے ، عدیل خان بنگش لکھتے ہیں "اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں”
    ، سید جیند لکھتے ہیں "حسن علی کو سلاجیت کی ضرورت ہے”،

  • مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن

    (ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
    مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
    ۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
    ۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
    ۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
    مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
    ۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
    ۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
    ۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
    ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
    سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
    مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
    تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
    جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
    جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
    اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
    متحدہ قومیت:
    جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
    متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
    متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
    مدینہ کی مثال:
    حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
    میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
    جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
    جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
    مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
    مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
    دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
    لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
    ….گومگو کا شکارمسلمان:
    مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
    سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
    ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
    مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
    مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
    عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
    ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
    آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
    تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
    مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
    باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
    مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
    بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
    ۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
    ۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
    ۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
    ۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
    ۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
    ۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
    ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
    آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
    (ترجمہ رانامحمدآصف)

  • سچن ٹنڈولکر نےاپنا پہلا میچ پاکستان کی جانب سے کھیلا تھا، خصوصی رپورٹ

    سچن ٹنڈولکر نےاپنا پہلا میچ پاکستان کی جانب سے کھیلا تھا، خصوصی رپورٹ

    بھارت کے سابق کرکٹر اور مایہ ناز بلےباز سچن ٹنڈولکر نے اپنا پہلا میچ پاکستان کی جانب سے کھیلا تھا. یہ بات 1987 کی ہے جب پاکستان کرکٹ‌ ٹیم بھارت کے دورہ پر آئی تھی. عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے.

    اسی دورے میں‌ یعنی 1987 میں بمبئی کے بریبورن اسٹیڈیم میں ایک نمائشی میچ کھیلا گیا. پاکستان کی جانب سے جاوید میانداد اور عبدالقادر کو آرام کا موقع دیا گیا اور میچ نہیں کھلایا گیا. اسی نمائشی میچ میں سچن ٹنڈولکر جو کہ اس وقت صرف 13 سال کے تھے، انہیں پاکستان کی جانب سے فیلڈنگ کیلئے بھیجا گیا. لیکن یہ آفیشل طور پر سچن ٹنڈولکر کا ڈیبیو نہیں تھا، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سچن ٹنڈولکر نے پاکستان کی جانب سے اپنے کیرئر کا پہلا میچ کھیلا اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے ڈیبیو کیا. لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کی تاریخ کا عظیم بلےباز سمجھا جاتا ہے. وہ پہلے بلےباز ہیں جنہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں ڈبل سنچری اسکور کی. صرف یہ ہی نہیں ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ اسکور کرنے کا ریکارڈ بھی ٹنڈولکر کے پاس ہی ہے.

    دوسری جانب تاریخ میں صرف 3 کرکٹرز ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں جانب سے کرکٹ کھیلی. ان کھلاڑیوں میں عبدالحفیظ کردار، عامر الہیٰ اور گل محمد شامل ہیں.

  • آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    آگیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا ، تحریر محمد ہارون

    اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مسلمانوں کو کئی اسلام مخالف طاقتوں کا سامنا کرنا پڑا چاہے وہ مکہ کے کفار ہوں یا خیبر کے یہود لیکن اسلام اور مسلمانوں نے اپنا لوہا منوایا اور اللہ رب العزت نے اسلام کو سر بلندی عطا فرمائی. جب ہم اسلامی تاریخ میں درج عظیم قربانیوں اور مختلف جنگوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو جو دو باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں وہ یہ کہ اسلامی تاریخ میں دو قسم کی معرکہ آرائی ہوئی ہے ایک اسلام اور کفر کے درمیان اور ایک حق اور باطل کے درمیان ہوئی ہے،

    یہ بات سچ ہے کہ جب کربلا میں حق اور باطل کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمان گروہوں میں بٹے نظر آئے لیکن تاریخ اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جب جب اسلام اور کفر کے درمیان جنگ ہوئی تو مسلمان متحد تھے، مسلمانوں کے قدم کبھی لڑکھڑائے نہیں، مسلمانوں نے دین کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی. ذرا یاد کریں وہ بدر کا واقعہ جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی لیکن ایک ہزار کے لشکر پر حاوی ہو گئے. خندق میں بھوک پیاس برداشت کر کے خندق کھودی اور اپنے دشمنوں کو شکست دی. درِ خیبر کو شیرِ خدا نے ایک ہی لمحے میں اکھاڑ پھینکا. جب بڑے بڑے بادشاہ مسلمانوں کے نام سے کانپتے تھے اور بر صغیر میں یاد کریں 1965 کی جنگ کو جب دشمن فوج کے جرنیل صبح تک لاہور فتح کرنے کے دعوے کر رہے تھے تب اللہ نے ہماری مدد کی ہماری فوج کے جوانوں نے قربانیاں پیش کیں  ہماری عوام ہمارے لوگ دشمن کے خلاف نکلے اور آن کی آن میں جنگ کا نقشہ بدل گیا.

    مانا نہیں ہے ہم نے غلط بندوبست کو
    ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

    اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سے طاقت تھی جس نے مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ کون سی حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے مسلمان سب پر حاوی ہوگئے؟ وہ طاقت تھی ایمان کی وہ حکمت عملی تھی جہاد کی. آج ایک بار پھر اسلام کے مد مقابل کفر کھڑا ہے اور مسلمانو‍ں کو نقصان پہنچا رہا ہے تو پھر آج امت مسلمہ میں اتحاد نظر کیوں نہیں آتا؟ کیا ایمان کی وہ رمق باقی نہیں رہی؟ کیا حکمت عملی کمزور پڑ گئی؟ کیا آپ کو جہاد کا راستہ کارگر نظر نہیں آتا؟ اپنے آس پاس نظر دوڑائیے ایک طرف کشمیری ہیں جو 72 سال سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن کچھ نہیں ملا اور ایک طرف افغانستان کے لوگ ہیں جنہوں نے جہاد کا راستہ اپنایا اور دنیا کی ایک بڑی طاقت روس کے ٹکڑے کر دیے اور دوسری طاقت جو اس وقت خود کو سپر پاور کہتی ہے وہ بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے تو آپ ذرا غور کریں کہ کس عمل سے کس کو کیا ملا؟ احتجاج والے کامیاب ہوئے یا جہاد والے؟

    ہمارے ملک پاکستان میں لوگوں میں آج بھی کفار سے ٹکرا کر ان کو شکست دینے کا عزم، حوصلہ اور ہمت موجود ہے ہم سب اپنے سپہ سالار کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے کہ اب وہ کشمیر لے کر ہی رہے گی کیونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور شیر جب اپنی شہ رگ پر خطرہ محسوس کرے تو اس خطرے کو نیست و نابود کر دیا کرتا ہے اب ساری امت مسلمہ ہمارا ساتھ دے یا نہ دے لیکن ہم سب ایک پیج پر ہیں ہم مسئلہ کشمیر پر اپنی فوج اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں. ہماری حکومت سفارتی سطح پر بھارت کا چہرہ بے نقاب کر رہی ہے، ہماری فوج اور عوام جہاد کے لیے ہر دم تیار ہے اور اب یوں لگتا ہے کہ کشمیر کی آزادی کا وقت آ گیا.

    آ گیا ہے وقت اپنے خواب کی تعبیر کا
    فیصلہ ہونے کو ہے تم دیکھنا کشمیر کا

    تحریر : محمد ہارون

  • پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    پی ٹی ایم کی فنڈنگ پر کونسے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ؟

    14 ستمبر2019 کی رات ر شمالی وزیرستان کی تحصیل سپن وام میں افواج پاکستان کے ایک پٹرولنگ دستے پر مغربی سرحد سے آنے والے دہشتگردوں نے فائرنگ کی اور دھرتی کے چار سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ، یہ واقع بظاہر افغان انٹیلی جینس ایجنسی این ڈی ایس اور را کی سرحد پار سے کی جانے والی کاروائی لگتی ہے لیکن حقیقت میں اس کی کی کڑیاں اندرون پاکستان موجود غداروں سے بھی جا ملتی ہیں، اور ان اندرون ملک پائے جانے والے خطرات کا نام پی ٹی ایم ہے ،

    کچھ عرصہ پہلے پاکستانی عوام اس نظریے سے بے خبر اور شش و پنج میں مبتلا نظر آتے تھے کہ پاکستان کی قومی سالمیت میں پاکستان کے اندر سے بھی کوئی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے لیکن آج پاکستان اور خاص طور پر پشتون عوام یہ جان چکے ہیں کہ پاکستان دشمنی کے بیج پی ٹی ایم اور اس جیسی دوسری جماعتیں بو رہی ہیں ، جن کا ایجنڈا ہی یہی ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرکے پاکستان کو اندرونی انتشار میں مبتلا کر دیا جائے اور پاکستان بغیر کسی دشمن سے لڑے فنا ہو جائے، لیکن پاکستان کا نوجوان طبقہ اور پاکستان کے سائبر سپائڈرز اس بات سے کلی طور پر وقف ہیں کہ دشمن کیا چالیں چل رہا ہے،
    اس کی عکاسی ہمیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیکھنے کو مل سکتی ہے کہ کس طرح پاکستان کے نوجوان دشمن کے عزائم کو خاکستر کر رہے ہیں
    محمد قاسم صدیقی لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی یم را کہ ایجنڈا پر کام کر رہی ہے


    آر کے خٹک لکھتے ہیں کہ کہ پی ٹی ایم کو افواج پاکستان نے مکمل طور پر کھول کر عوام کے سامنےرکھ دیا ہے ، اور اب عوام کو چاہیے کہ وہ ان غداروں کو اپنی صفوں سے پہچانیں اور ان کا صفایا کریں
    https://twitter.com/PrinceKhyber2/status/1173593529010008066
    علی حسن نے ایک گرافک شیر کی اور کہا کہ پی ٹی ایم قبائلی عوام کی تعمیرو ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،
    https://twitter.com/alihassanirb/status/1173586904413036545
    ہنس مسرور بادوی کہتے ہیں کہ میجر جنرل آصف غفور نے کئی بار پریس کانفرنسیں کی اور ٹھوس شواہد کے سساتھ پی ٹی ایم کی انٹرنیشنل فنڈنگ کو عوام کے سامنے رکھا ،
    https://twitter.com/hansbadvi/status/1173553119416000512

  • مقبوضہ کشمیر میں مودی کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے ، آصف غفور

    مقبوضہ کشمیر میں مودی کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے ، آصف غفور

    افواج پاکستان کے ادارہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے ایک بھارتی صحافی کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ہندوتوا کا پرچار کرنے والے بھارتی عوام کو احساس ہو گا کہ انہوں نے کس حکومت کا انتحاب کیا ہے ،
    بھارتی صحافی اشوک سوائن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاک فضائیہ کی ایک تقریب کی فوٹیج شئر کی جس میں بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا گیا تھا اور اشوک نے ساتھ لکھا کہ اگر افواج پاکستان کو اس چیز کا علم پہلے سے تھا کہ نریندر مودی الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان کارڈ استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کے ایف سولہ کو گرانے کا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے تو بھارتی الیکشن سے پہلے کیوں نہیں بتایا گیا ،
    https://twitter.com/ashoswai/status/1173149984633565184
    جس کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے 5 اپریل 2019 کی اپنی ٹویٹ شیر کی اور کہا کہ ہم نے کئی مواقع پر اس بات کو بھارتی عوام تک پہنچانے کی کوشش کی کہ مودی پاکستان کارڈ کھیل رہا ہے لیکن بھارتی سائڈ پر آپ جیسے سمجھدار لوگ بہت کم تھے جو حالات کو بھانپ لیتے ، بہرحال وقت بتائے گا کہ ہندوتوا کے پیروکاروں نے اپنے ملک کیلئے کن لوگوں کا انتحاب کیا ہے ، ہم پہلے بھی سچ اور حق پر تھے اور آئندہ بھی سچ کے ساتھ رہیں گے ، اور مودی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے یہ اس کے زوال کا آغاز ہے ،
    https://twitter.com/peaceforchange/status/1173281583522025473?s=08

  • انڈیا میں دو مینڈکوں کی طلاق کیوں کروائی گئی ؟

    انڈیا میں دو مینڈکوں کی طلاق کیوں کروائی گئی ؟

    پاکستان کے پڑوس ملک بھارت سے بت پرستی کے عجیب و غریب واقعات کی خبریں اکثر اوقات آتی رہتی ہیں ، جن میں ایسے واقعات بھی شامل ہوتے ہیں جو کہ انسانی عقل ماننے سے انکار کر دیتی ہے ، اسی طرح کا ایک واقع بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا ہے جہاں دو مینڈکوں کی طلاق کروا دی گئی جن کی شادی دو ماہ پہلے ہوئی تھی،
    تفصیلات کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں آج سے دو ماہ پہلے بارشیں نہ ہونے کے سبب شدید قحط کی صورتحال برپا تھی،جس سے چھٹکارا پانے کیلئے دو مینڈکوں کی شادی کروا دی گئی، یہ عمل ہندو مذہب کے بارشوں کے خدا اندرا کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا تھا ، لیکن بھوپال کی حالیہ صورتحال ایسی ہے کہ شدید بارشوں سے جل تھل ایک ہو گیا ہے اور اب بارشوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ہندو پنڈتوں نے ان دونوں مینڈکوں کی طلاق کروا دی گئی