کنگسٹن۔ (اے پی پی) آندرے رسل فٹنس مسائل کے باعث بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے ابتدائی دو میچز سے دستبردار ان کی جگہ جیسن محمد کو سکواڈ میں طلب کرلیا گیا.
سٹار ویسٹ انڈین آل راﺅنڈر آندرے رسل نے فٹنس مسائل کے باعث بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے ابتدائی دو میچز سے دستبرداری اختیار کر لی، ان کی جگہ جیسن محمد کو سکواڈ میں طلب کر لیا گیا ہے۔ کرکٹ ویسٹ انڈیز کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق رسل نے سلیکشن پینل سے بھارت کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے ابتدائی دو میچز میں عدم دستیابی ظاہر کی ہے اسلئے ان کی جگہ جیسن محمد کو سکواڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے، رسل کو ابتدائی طور پر ٹی ٹونٹی سکواڈ میں شامل کیا گیا تھا تاہم ان کی سیریز میں شرکت فٹنس سے مشروط تھی، وہ ورلڈ کپ کے دوران انجری کا شکار ہوئے تھے اور تاحال سو فیصد فٹ نہیں ہو سکے۔
لاہور: بھارتی دانشور اشوک سوین نے کہا ہے کہ مودی کشمیر کو ایسے ڈیل کر رہا ہے جیسے اسرائیل فلسطین کو ڈیل کرتا ہے لیکن درحقیقت بھارت اسرائیل نہیں ہے.
تفصیلات کے مطابق بھارتی دانشور اشوک سوین نے نریندر مودی اور بھارتی حکومت کی کشمیر میں جاری بربریت کیخلاف ٹویٹ کیا ہے. اپنے ٹویٹر پیغام میں اشوک سوین نے کہا کہ ودی کشمیر کو ایسے ڈیل کر رہا ہے جیسے اسرائیل فلسطین کو ڈیل کرتا ہے لیکن درحقیقت بھارت اسرائیل نہیں ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے پاس امریکہ کی کھلم کھلا سپورٹ ہے لیکن بھارت کے پاس نہیں ہے. ہندوازم اور یہودیزم میں بھی فرق ہے. اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اندرونی طور پر اسرائیل متحد ہے لیکن بھارت اندرونی طور پر متحد نہیں ہے.
پاکستان کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابی،افغانستان میں اربوں ڈالرز کی بھارتی سرمایہ کاری ضائع، بھارت افغان امن عمل سے باہر، وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے بھارت پریشان، افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا میں ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق اربوں ڈالر کی سرمایہ کار کے باوجود بھارت پورے افغان امن عمل میں نظر نہیں آرہا، نئی صورتحال کے مطابق پاکستان کو خطے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ رواں ہفتے پاکستان، امریکہ، روس اور چین کے ساتھ طالبان امن معاہدے کو حتمی شکل دے رہا ہے جس سے اسلام آباد کو افغان امن عمل میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ اس صورت حال میں بھارت کی موجودگی یا آواز برائے نام رہ گئی ہے جبکہ پاکستان نے اس موقع کو خطے کی جیوپولیٹکس میں مرکزی کردار منوانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اخبار کے مطابق اب امن عمل میں ہندوستان دکھائی دیتا ہے نہ ہی اس کے تحفظات کا کوئی نشان ملتا ہے۔ بھارت کو تازہ دھچکا اس وقت لگا جب افغانستان میں امریکی سفیر جان باس نے کہا کہ افغانستان میں 28ستمبر کو ہونے والے صدارتی الیکشن طالبان کے ساتھ امن مذاکرات مکمل ہونے تک موخر کیے جاسکتے ہیں۔ بھارت نے امریکی وزیرخارجہ مائک پومپیو کے دورہ دہلی کے دوران اس کی مخالفت کی تھی۔ اجیت دوول نے افغانستان میں وقت پر انتخابات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ بھارت نے اٹھارہ سال تک زیادہ تر افغان حکومت سے سرمایہ کاری کی۔ امریکہ چین اور روس کو ایک صفحے پر لانے میں کامیاب ہو چکا ہے اور گزشتہ ہفتہ پاکستان بھی امن عمل میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔بھارت سیکورٹی تحفظات کے باوجود اس عمل سے مکمل طور پر باہر ہو گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت سے قریب سمجھے جانے والے سابق افغان صدر حامد کرزئی دوحا اور ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے سہولت کار تھے۔دریں اثنا افغانستان کی موجودہ منتخب حکومت غیر معمولی دباؤ میں ہے۔
پاکستان اس پوزیشن سے مکمل طور پر مطمئن اورخوش ہے، امریکہ اور اسکے اتحادی سعودی عرب، امارات اور قطر پاکستان کی بھرپور امداد کررہے ہیں۔ چین اور پاکستان اصولی اتحادی ہیں۔ ٹرمپ کی طرف سے ٹویٹس کے باوجود اور تو اور آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کیلئے امدادی پیکج جاری کردیا ہے۔ جبکہ امریکہ، صدر دونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف متعدد ٹویٹس کے باوجود پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے واشنگٹن میں بھرپور استقبال کے لئے تیار ہے۔
بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں مون سون بارشوں کی وجہ سے شدید تباہی ہوئی ہے۔ کم و بیش سات ملین افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعدا د بھی 100سے زائد ہو چکی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سات ریاستوں میں سیلاب سے51افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔بھارتی صوبے آسام اور بہار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ دس دنوں میں کم و بیش ساڑھے چار ملین افراد محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔بارشوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ سڑکیں اور ریلوے لائنیں ڈوب چکے ہیں۔ آسام کے 30اضلاع حالیہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں چار ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ آسام میں 15افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طرح بہار کے 12اضلاع تباہی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اڑھائی ملین لوگوں نے نقل مکانی کی جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24ہو گئی ہے۔
دریں اثناء نیپال میں سیلاب کی وجہ سے 70افراد مارے جا چکے ہیں۔ دو ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیلاب متاثرین کی تعداد چالیس ہزارہے۔ جبکہ 16افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہر سال سیلاب آتے ہیں۔ 2017ء میں سیلاب کی وجہ سے بھارت،نیپال اور بنگلہ دیش میں کم از کم 80افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ فصلیں، جائیدادیں اور گھر تباہ ہو گئے تھے
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.
ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.
بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہیں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.
ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.
انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.
بھارتی باکسر نیراج گویت جن کا 12 جولائی کو سعودی عرب میں پاکستانی نژاد برطانوی باکسرسے مقابلہ تھا، کل رات ایک حادثے میں زخمی ہو گئے ہیں.
باغی ٹی وی لندن کے نمائندے مجتبی شاہ کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے بتایا کہ نیراج گویت سے ان کا مقابلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونا تھا تاہم وہ کل رات ایک حادثہ میں زخمی ہو گئے ہیں جس پر ان کا مقابلہ اب اسی دن ایک آسٹریلوی باکسر سے ہو گا جو دومرتبہ چیمپئین رہ چکے ہیں.
باکسر خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ ورلڈ کپ میں میرا انڈیا سے مقابلہ ہو اور میں بھارتی باکسر کو ہرا کر ورلڈ کپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بھارت کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لے سکوں تاہم افسوس کہ یہ نہیں ہو سکا.
واضح رہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر انڈین باکسر سے مقابلہ کیلئے بہت پرعزم تھے اور وہ اس سلسلہ میں بھرپور تیاری کر رہے تھے. انہوں نے جدہ میں کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی میں اس مقابلہ کی اجازت دینے پر سعودی ولی عہد کا بھی شکریہ ادا کای تھا اور وزیر اعظم عمران خان کو بھی دعوت دی تھی کہ وہ سعودی عرب آکر ان کا مقابلہ دیکھیں.
عامر خان اپنے پروفیشنل کیریئر کی38فائٹس میں عامر خان دو مرتبہ ورلڈ چمپیئن بننے میں کامیاب رہے اور اس دوران انہوں نے مارکوس میڈانا، ڈینی گارشیا، زاب جوڈھا، ساؤل الوریز جیسے باکسرز کا سامنا کیا ہے.
لوانا نے بطور ایک گلوکارہ اپنی کیریر کا اغاز کیا اور وہ اپنے اس کام میں بہت سنجیدہ ہیں
حال میں لوانا نے اپنے گانوں اور بھی بہت سے ویڈیو کلپ سماجھی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اور یوٹیوب پر اپلوڈ کی ہیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لوانا اپنےتین دن ایک بڑے پروگرام پر 50 ہزار یورو لگاتی ہیں اور وہ یہ رقم اپنے پروگرام کی پہلی رات میں ہی اپنی سریلی اواز سے لوگوں کا دل بہلا کر پورا کر لیتی ہیں .
لوانا کے ڈریکٹر کا کہنا تھا کہ لوانا یک اچھی گلوکارہ ہیں اور ہماری کمیابی کا سب کریڈیٹ لوانا کے والدہ کو جاتا ھے جو لوانا کو حوصلہ دیتی ہیں .
بھارتی فلموں کے سپرسٹار سلمان خان اب لیں گے بگ باس سیزن 13 کی سب سے زیادا فیس .سلمان خان پچھلے سیزن 10 سے بگ باس شو کی میزبانی کرتے اہ رہے ہیں.
سلطان کنگ خان کی ہی میزبانی کی وجہ سی اج بھارت کا سب سے مقبول شو بگ باس ہے.
بھارتی میڈیا کے مطابق اس سال بھی بگ باس کی میزبانی سلمان خان ہی کریں گے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی عمران خاننے اپنی فیس میں اضافہ کیا ہے.
سلمان خان پہلے ہر روز شو کی زینت نہیں تھے بنتے صرف ہفتے مہں دو دن دیا کرتے تھے لیکن اس دفعہ روز شو کرنے کے لیے 31کڑور معاوضہ لیں گے.
اس سیزن میں سلمان خان 13 ہفتوں تک نظر آئیں گے اور اس طرح وہ ٹوٹل 403 کروڑ روپے کمائیں گے جو گزشتہ برس سے کہیں زیادہ ہے۔