Baaghi TV

Tag: inestigation

  • سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست میں مذاکرات ہی امید کی کرن ہے:-تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کے ایشوز کیا ہیں؟ وہ کس کرب میں مبتلا ہیں؟ انہوں نے جینا ہے ،روزانہ روٹی کا انتظام کرنا ہے، علاج اور بچوں کو تعلیم دلوانی ہے ۔زندگی کی ضروریات کے حصول کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ عوام کو نہ تو آئین اور نہ ہی قانون کی پیچیدگیوں سے دلچسپی ہے نہ سوشل میڈیا کی نورا کشتیوں ،کردار کشیوں سے کوئی غرض ہے ۔ان کے روزانہ کے بنیادی مسائل ہر روز ان کی چوکھٹ پر دستک دیتے ہیں سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں اور الزام تراشیاں کتنی ہی بڑھتی چلی جائیں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کیا کمال کا اتفاق ہوتا ہے۔

    آمدہ قومی انتخابات کے لئے سیاسی نورا کشتیاں جاری ہیں آج کی مہنگائی کا ملبہ کسی ایک سیاسی جماعت پر نہیں ڈالا جا سکتا اس کے ذمہ دار سابقہ حکومت سے ہٹا کر ایک دوسرے کی آڈیو ، ویڈیو پر تبصروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور آج کی اس سیاست میں اداروں معزز ججز صاحبان کو بھی نہیں بخشا جا رہا ۔حیرت ہے ملک و قوم کو مسائل کے گرداب میں پہنچا کر آج ایک دوسرے پر گھٹیا اور غلیظ زبان سمیت آڈیو اور ویڈیو کے گندے کھیل شروع کر دیئے گئے ہیں۔ ان حرکات سے پاکستان بطور ریاست اور اس ریاست کے مستقبل نوجوانوں کا کیا ہوگا؟ اج کے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں جس گھوڑے پر سوار ہیں ان کی ان حرکتوں سے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔

    فیصلہ ساز اداروں کو وطن عزیز اور عوام کی خاطرہ موجودہ شور شرابے معاشی اور ایک مقروض ملک کی خاطر نواز شریف، عمران خان، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اس ملک و قوم کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کروانے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضد، انا اور ہٹ دھرمی کو دفن کرنا ہوگا ملک کے بہتر مستقبل اور ملک کے وسائل پر بھرپور توجہ دینا ہوگی اس ملک و قوم کی نوازشریف ، عمران خان اور بلاول بھٹو سمیت دوسری جماعتوں کو تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوازشریف کسی ولی یا فرشتے کا نام نہیں اور نہ ہی عمران خان کسی ولی یا فرشتے کا نام ہے اور نہ دیگر خداراہ اس ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لئے فیصلہ ساز ادارے اپنا کردار ادا کریں اور سیاسی جماعتیں بھی اس ملک پر رحم کریں سیاسی عدم استحکام، معاشی گراوٹ سماجی انتشار کیا اس ملک کا مقدر ہیں؟

  • الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا،جبکہ وہ وقت مانگ رہا ہے،ایسانہیں ہوسکتا: سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے اور وہ اس کے لیے بھی مزید وقت مانگ رہا ہے۔

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    سپریم کورٹ میں سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کے کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کی طلبی سے متعلق استفسار کیا اس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی طبیعت ناساز ہے۔

    دورانِ سماعت جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سے تقرر و تبادلے کے لیے رابطہ کس نے کیا؟ الیکشن کمشنر الیکشن ایکٹ کی کس شق کے تحت خود ہی یہ حکم دے سکتے ہیں کہ تقرر و تبادلے کردو؟

    عدالت نے کہا کہ انتخابات کو 90 دن میں ہونا ہے، ہر گزرتے وقت کے ساتھ 90 دن ختم ہور ہے ہیں، الیکشن کمیشن آخر کر کیا رہا ہے؟

    سماعت کے دوران سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی جانب سے بار بار بولنے پر جسٹس منیب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بات کرنے کے دوران مجھے ٹوکنے کی جرات نہ کریں۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ مجھے بنیادی قانون معلوم ہے، اس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ بنیادی قانون پتا ہونے سے آپ وکیل نہیں کہلائیں گے۔

    عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا واحد کام انتخابات کرانا ہے، 90 روز ختم ہونے کو ہیں اور الیکشن کمیشن مزید وقت مانگ رہا ہے، الیکشن کمیشن کا کام ہی شفاف الیکشن کرانا ہے، اس کے لیے بھی وقت مانگ رہے ہیں۔

    بعد ازاں عدالت نے 90 دنوں میں انتخابات نہ کرانے کے خلاف درخواست پر سماعت سے انکارکردیا اور سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ٹرانسفر کا کیس نمٹا دیا۔

  • پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    پنجاب میں انتخابات کیلئے سپیکر سبطین خان کے صدر کو خط پرمشاورت شروع

    لاہور:پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا جس کی نقول چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کو بھی بجھوائی گئی ہیں۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی جانب سے صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد میں نے گورنر پنجاب کو 90 روز کی آئینی مدت کے دوران انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخ کے تعین کی نشاندہی کی، الیکشن کمیشن نے بھی گورنر پنجاب سے انتخابات کی تاریخ کے تعین کا تقاضا کیا جس پر گورنر پنجاب نے جوابی خط میں موقف اختیار کیا کہ اسمبلی ان کے دستخطوں سے تحلیل نہیں ہوئی اس لیے آئینی طور وہ انتخابات کی تاریخ دینے کے پابند نہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ کے تعین کے احکامات صادر کیے، لاہور ہائی کورٹ کے احکامات پر گورنر اور الیکشن کمیشن کے مابین ناقابل جواز تاخیر کا مظاہرہ کیا گیا، آئینی فرائض کی انجام دہی اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں ناکامی آئین سے صریح انحراف ہے، آئین سے انحراف کی راہ روکنے کیلئے سربراہِ ریاست کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔

    سپیکر نے اپنے خط میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا آرٹیکل 57(1) آپ کو انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضے کی انجام دہی کے اختیارات سونپتا ہے لہٰذا آپ آئین سے مزید انحراف کی راہ روکنے کیلئے فوری طور پر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔

  • سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، خود کش بمبار ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، خود کش بمبار ہلاک

    چمن:سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کے دوران اہم دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔ ہلاک ہونے والا دہشت گرد خود کش جیکٹ پھٹنےسے مرا۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے اسپنکی میں خفیہ اطلاع پر جمعرات 16 فروری کو آپریشن کیا گیا۔

    آپریشن کے دوران خود کش بمبار نیک رحمان محسود عرف نیکرو ہلاک ہوگیا۔ خود کش بمبار فائرنگ کے تبادلے میں خودکش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہوا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ہلاک دہشت گرد لوگر ( افغانستان ) سے پاکستان آ یا تھا۔ ہلاک مذکورہ دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے جنگجوؤں عظمت اللّٰہ اور خیربان کا قریبی ساتھی تھا۔دہشت گرد ماضی میں سیکیورٹی اداروں پر کیے گئے متعدد حملوں میں بھی ملوث رہا تھا۔

    ادھررات کوپنجاب کے ضلع میانوالی کے علاقے کالا باغ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کی ٹیم پر دہشت گردوں کا حملہ، جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کا اہم کمانڈر ہلاک ہو گیا۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق کالاباغ میں دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی میانوالی کی ٹیم پرحملہ کیا، جس پر اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور بیس منٹ تک دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوا جس کی شناخت حبیب الرحمان کے نام سے ہوئی ہے جو کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کا اہم کمانڈر ہے جبکہ اُس کے دو ساتھی فرار ہوگئے، دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوف، خودکش جیکٹ اورٹی ٹی پی کے سٹیکرز برآمد ہوئے ہیں۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے واقعہ کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی سرگودھا میں درج کر لیا گیا ہے جبکہ فرار ہونے والے دو دہشت گردوں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیاتھا۔

  • کوئٹہ میں ایئرپورٹ روڈ پر ٹرالر نے چار افراد کو کچل دیا

    کوئٹہ میں ایئرپورٹ روڈ پر ٹرالر نے چار افراد کو کچل دیا

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں ایئرپورٹ روڈ پر ٹریفک حادثے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے ایئرپورٹ روڈ پر حادثہ ٹرالر کے بریک ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جس نے تیز رفتاری میں پہلے رکشے، موٹرسائیکل سوار اور راہگیر کو کچل دیا۔

    حکام کے مطابق واقعے میں رکشے میں سوار دو افراد جبکہ موٹرسائیکل سوار اور راہگیر بھی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کیلیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس نے موقع سے ٹرالر کے ڈرائیور کو گرفتار کر کے گاڑی قبضے میں لے لی۔

    ادھرخان پور میں سردار گڑھ کے قریب تیزرفتار ٹرالر کی زد میں آکر 4 طالب علم جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق طلبا اسکول سے چھٹی کے بعد موٹر سائیکل پر گھر جارہے تھے۔ریسکیو ٹیم نے حادثے میں زخمی طالبعلم کو اسپتال منتقل کردیا جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    جبکہ گجرات میں سسرال میں ڈکیتی کرنیوالی بہو کو پولیس نے ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ایک خاندان نے اپنی بہو کیخلاف درخواست دی تھی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سسرال میں ڈکیتی کرنیوالی خاتون کو دیگر 4 خواتین اور ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے لوٹے گئے لاکھوں روپے مالیت کے زیورات اور نقدی بھی برآمد کرلی گئی ہے، مزید تفتیش بھی جاری ہے۔

  • کراچی؛ ڈکیتی مزاحمت پر 2 بچوں کا باپ اور 5 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی؛ ڈکیتی مزاحمت پر 2 بچوں کا باپ اور 5 بہنوں کا اکلوتا بھائی قتل

    کراچی: شہر قائد کے علاقے نارتھ کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر 2 بچوں کا باپ اور 5 بہنوں کے اکلوتے بھائی کو قتل کردیا گیا جبکہ واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق خواجہ اجمیر نگری تھانے کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر ٹو جمعرات بازار گراؤنڈ کے قریب ڈکیتی کی واردات کے دوران ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر فائرنگ کرکے 35 سالہ مزمل احمد ولد بشیر احمد کو قتل کردیا، مقتول شخص 2 بچوں کا باپ اور5 بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو ویلڈنگ کا کام کرتا تھا، واقعہ کے روز مقتول اپنی بڑی بہن سےفیملی کےہمراہ ملنےآیا ہوا تھا اور واپسی پرافسوسناک واقعہ پیش آگیا۔

    سعودی عرب سے کراچی پہنچے والا عمرہ زائر ائرپورٹ پر انتقال کرگیا

    مقتول مزمل کے اہلخانہ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سے فل الفور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، رات گئے خواجہ اجمیرنگری پولیس نے ڈکیتی مزاحمت پر مزمل کوقتل کرنے کے واقعے کامقدمہ الزام نمبر23/87 بجرم دفعہ 302/397 کے تحت مقتول کی بہن راحیلہ کی مدعیت میں نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے بیان کے مطابق ان کا بھائی مزمل پی آئی بی کالونی سے اپنی فیملی کے ہمراہ ان کے گھر آیا ہوا تھا اور واپسی کے لیے نکلا توایک موٹرسائیکل سوار ڈاکو نے انہیں روکا موٹر سائیکل پر میرے بھائی کی دوبچیاں اس کی بیوی اوربھانجی سوار تھی ڈاکونے میری بھابھی سے پرس چھین کر بھاگنے کی کوشش کی۔

    کراچی؛ ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں اندھی گولی سے زخمی دو سالہ بچہ دم توڑ گیا

    ملزمان کی جانب سے پرس گھسیٹنے کے باعث مقتول موٹرسائیکل اور بیوی بچوں سمیت زمین پر گرا ملزمان نے اچانک فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے، ملزمان کی فائرنگ سےبھائی کوگولی گردن پر لگی جوجان لیوا ثابت ہوئی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کا ایک خول ملا ہے کہ جبکہ پولیس نے ایک سی سی ٹی وی بھی حاصل کرلی ہے۔

  • سعودی عرب  سے کراچی پہنچے والا عمرہ زائر ائرپورٹ پر انتقال کرگیا

    سعودی عرب سے کراچی پہنچے والا عمرہ زائر ائرپورٹ پر انتقال کرگیا

    کراچی: سعودی عرب سے کراچی پہنچے والا عمرہ زائر حرکت قبل بند ہونے سے ائرپورٹ لاؤنج میں انتقال کرگیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافر صدیق احمد خان جمعرات کی دوپہر پی آئی اے کی پرواز پی کے 732 سے جدہ سے کراچی پہنچا تھا، مسافرکو امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچتے ہی دل کا دورہ پڑا جو جاں لیواثابت ہوا۔

    جناح ٹرمینل پر ڈاکٹرز کی ٹیم نے طبی معانہ کے بعد مسافر صدیق احمد خان کی موت کی تصدیق کردی، مسافر کی عمر 77 سال ہے اور وہ کراچی کے علاقے لانڈھی کا رہائشی ہے، سی اے اے کے ڈاکٹرز کی ٹیم نے ضابطہ کی کارروائی مکمل کر کے مسافر کی میت کو ورثا کے حوالے کردی۔

    ادھرکلفٹن بلال ہاؤس چورنگی کے قریب نجی ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا میں اندھی گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دو سالہ معصوم بچہ دم توڑ گیا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔

    پولیس کے مطابق 12 فروری کو بوٹ بیسن تھانے کے علاقے کلفٹن میں بلال ہاؤس چورنگی کے قریب نجی ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا میں سر میں اندھی گولی لگنے سے دو سالہ شیر خوار بچہ سید حسن سجاد ولد علی سجاد شدید زخمی ہو گیا تھا جسے کلفٹن کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

    بعد ازاں زخمی بچے کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بچہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ بچہ مکان نمبر بی 10 بلاک 2 چیپل سن سٹی اسکیم 33 کا رہائشی تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول بچہ اپنی فیملی کے ہمراہ شادی کی دعوت پر بلال ہاؤس چورنگی کے قریب واقع ریسٹورنٹ آیا تھا اور پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑی سے باہر آکر کھڑا ہوگیا تھا اسی دوران ایک آواز آئی جس سے بچے کے سرسے خون بہنا شروع ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق نامعلوم سمت سے آنے والی گولی بچے کے سر پر دائیں جانب سے لگی تھی جس سے بچہ شدید زخمی ہوگیا تھا، بوٹ بیسن پولیس نے سرکاری مدعیت میں قتل باالسبب کی تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔

  • جوان سالہ لڑکے  کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار

    جوان سالہ لڑکے کے قتل میں ملوث ملزمان گرفتار

    جوان سالہ لڑکے محمد رئیس کے اندھے قتل میں ملوث سفاک ملزمان گرفتار

    ترجمان پشاور پولیس نے کہا ہے کہ تھانہ رحمان بابا پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ موسم گڑھی میں واقع حجرہ علاقہ تھانہ رحمان بابا میں جاری پروگرام کے دوران کسی نے فائرنگ کرکے جوان سالہ لڑکے کو قتل کردیا ہے جبکہ پولیس نے نعش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا تھا.

    ترجمان نے مزید کہا کہ نوجوان کی شناخت محمد رئیس کے نام سے ہوئی ہے جس پر پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تھی اور ڈی ایس پی صدر سرکل محمد علی کی سربراہی میں ایس ایچ او تھانہ رحمان بابا آصف علی نے جدید سائنسی خطوط پر جامع تفتیش جاری رکھتے ہوئے متعدد مشکوک افراد سمیت مقتول کے قریبی دوستوں اور عزیز و اقارب کو بھی شامل تفتیش کیا.
    مزید یہ بھی پڑھیں
    اگرعوام کو پی ایس ایل کا ترانہ اچھا نہیں لگا تو بھائی حاضر ہے:علی ظفر
    ڈی آئی خان:کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو حادثہ۔،2 خواتین جاں بحق،25 افراد زخمی

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دوران قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کر مقتول کے قریبی چار دوستوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی شناخت محمد رفیق ولد محمد شفیق، جھانگیر ولد جاوید، فاروق ولد خیبر اور ملک مظہر ولد حاجی صنوبر سے ہوئی ہے، ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران مقتول محمد رئیس کے قتل کو منہ زبانی تکرار قرار دیا ہے جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے

  • کراچی؛ ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں اندھی گولی سے زخمی دو سالہ بچہ دم توڑ گیا

    کراچی؛ ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں اندھی گولی سے زخمی دو سالہ بچہ دم توڑ گیا

    کراچی: کلفٹن بلال ہاؤس چورنگی کے قریب نجی ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا میں اندھی گولی لگنے سے زخمی ہونے والے دو سالہ معصوم بچہ دم توڑ گیا، پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔

    پولیس کے مطابق 12 فروری کو بوٹ بیسن تھانے کے علاقے کلفٹن میں بلال ہاؤس چورنگی کے قریب نجی ریسٹورنٹ کے پارکنگ ایریا میں سر میں اندھی گولی لگنے سے دو سالہ شیر خوار بچہ سید حسن سجاد ولد علی سجاد شدید زخمی ہو گیا تھا جسے کلفٹن کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

    بعد ازاں زخمی بچے کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بچہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ بچہ مکان نمبر بی 10 بلاک 2 چیپل سن سٹی اسکیم 33 کا رہائشی تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول بچہ اپنی فیملی کے ہمراہ شادی کی دعوت پر بلال ہاؤس چورنگی کے قریب واقع ریسٹورنٹ آیا تھا اور پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑی سے باہر آکر کھڑا ہوگیا تھا اسی دوران ایک آواز آئی جس سے بچے کے سرسے خون بہنا شروع ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق نامعلوم سمت سے آنے والی گولی بچے کے سر پر دائیں جانب سے لگی تھی جس سے بچہ شدید زخمی ہوگیا تھا، بوٹ بیسن پولیس نے سرکاری مدعیت میں قتل باالسبب کی تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی۔پولیس کے مطابق مقتول بچے کے اہل خانہ نے مقدمہ درج کرانے سے انکار کیا تھا جس پر سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق مقتول بچے کو بڑے ہتھیار کی گولی لگی۔

    پولیس نے واقعے کے فوری بعد چند افراد کو حراست میں لیا تھا جنہیں پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا، پولیس حکام کا کہنا ہے واقعے کی تفتیش جاری ہے، جلد اصل ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

    یاد رہے کہ 10 فروری کو قیوم آباد کے پی ٹی انٹر چینج کے قریب اندھی گولی لگنے سے ہائی روف میں فیملی کے ہمراہ سوار 6 سالہ عبدالغنی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گا تھا۔ واقعے کو کئی روزگزرجانے کے باوجود پولیس اب تک ملزمان کا سراغ لگانے میں مکمل ناکام ہے۔ چند روزکے بعد اندھی گولیاں لگنے سے بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں پولیس تاحال کسی کو گرفتار نہیں کرسکی۔

  • آڈیو لیکس معاملہ: شوکت ترین کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    آڈیو لیکس معاملہ: شوکت ترین کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین پر غداری کے مقدمے میں ایف آئی اے نے مزید پیش رفت شروع کر دی۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزم شوکت ترین کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی گئی-

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اشتہاری قرار دینے کے بعد ایف آئی اے گرفتاری کے لئے اقدامات کرے گا۔ ملزم شوکت ترین کی گرفتاری کے لئے انٹرپول سے بھی مدد لی جائے گی۔

    شوکت ترین کی لیک آڈیو پر انکے خلاف مقدمہ درج ہے جس میں صوبائی وزرائے خزانہ تیمور جھگڑا اور محسن لغاری کو بھی نامزد کیا گیا ہے،یہ مقدمہ راولپنڈی کے رہائشی ارشد محمود کی مدعیت میں پیکا ایکٹ، 124a اور 505 پی پی سی کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے تینوں سابق وزرا پر آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    مقدمے میں 2 آڈیو کلپس کا ذکر ہے، جس میں شوکت ترین ہدایت دیتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ’’یہی لکھنا اور کچھ نہیں لکھنا‘‘۔آڈیو کے متن کے مطابق شوکت ترین نے کہا کہ ’’دیٹس آل ہم چاہتے ہیں کہ وہ جو ہے کہ ان سالوں کے اوپر پریشر پڑے‘‘۔یہ اپنا معاملہ کھنچ رہے ہیں اور ہمیں اندر کروا رہے ہیں۔ہمارے اوپر دہشت گردی کے مقدمے کروا رہے ہیں۔ یہ بالکل سپاٹ فری جارہے ہیں، وہ نہیں ہونے دینا ہم نے ۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق محسن لغاری نے کہا کہ کیا پاکستان بحیثیت ریاست اس کی وجہ سے نقصان اٹھا سکتا ہے؟ تو شوکت ترین نے کہا کہ سچ کہوں تو آپ کو معلوم ہے کہ جس طرح سے آپ کے چیئرمین اور باقی سب کے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے ریاست کو تکلیف نہیں ہو رہی۔

    مقدمے کے مطابق ملزم شوکت ترین نے واضح طور پر وزیر خزانہ سے کہا کہ خطوط لکھیں جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی متعلقہ وزارتیں فاضل بجٹ وفاقی حکومت کو واپس نہیں کریں گی۔ جس سے حکومت و آئی ایم ایف کے مابین جاری معاہدے شدید متاثر ہوں گے۔ دوران تفتیش ملزم شوکت ترین کو طلب کیا گیا اور مبینہ آڈیو کلپس کے مواد کے حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی۔

    متن میں مزید تحریر ہے کہ شوکت ترین تسلی بخش جوابات نہ دے سکے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم فوری معاملے سے متعلق حقائق کو چھپا رہا ہے۔ اس کے پیچھے اپنے ارادوں اور مقاصد کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔ مبینہ گفتگو و اس طرح کی کارروائیوں سے عوامی سکون میں خلل پڑ سکتا ہے اور ریاست کے ستونوں کے مابین صورتحال خراب پیدا ہو سکتی ہے ۔

    مقدمے کے متن کے مطابق پاکستان کی معاشی صورتحال کی وجہ سے ریاست کے ہر شہری کے لیے خوف، خطرے اور دھمکی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ مبینہ گفتگو کو ریاست کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔