Baaghi TV

Tag: international news

  • انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پرصدر پاکستان کی ایران کو مبارکباد

    انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پرصدر پاکستان کی ایران کو مبارکباد

    صدر مملکت عارف علوی صدر مملکت نے ایران میں انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پر ایران کو مبارکباد دی ہے-

    باغی ٹی وی: صدرمملکت نے ایران کے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مبارکباد کا خط لکھا جس میں عارف علوی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

    خط میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اورایران کے برادرانہ تعلقات،لسانی،تقافتی اورمذہبی بنیادوں پر استوار ہیں،پاکستان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوں میں ان کی روابط کو مزید مضبوط بنانے کیلئے عزم ہے-

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے خط میں سید علی خامنہ ای اور ایران کے عوام کی خوشحالی اور فلاح کیلئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا-

    ایران میں 1979ء میں برپاشدہ انقلاب کی 44 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہےرئیسی کی سخت گیرحکومت کواس وقت نوجوان مظاہرین کی جانب سے سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے اور وہ ان کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    انہوں نے اس حوالے سے تقریرمیں ’’دھوکے بازنوجوانوں‘‘سے اپیل کی کہ وہ توبہ کریں تاکہ انھیں ایران کے سپریم لیڈر کی طرف سے معاف کیاجاسکے انہوں نے کہا کہ اگریہ نوجوان توبہ کرتے ہیں توانھیں ایرانی عوام کھلی بانہوں سے گلے لگائیں گے-

    اے این ایف کی منشیات کیخلاف مختلف شہروں میں کارروائیاں

    ہفتہ کے روزحکومت مخالف ہیکروں کی جانب سے ٹیلی ویژن پران کی براہِ راست تقریرقریباً ایک منٹ کے لیے انٹرنیٹ پرروک دی گئی۔اس دوران میں ایرانی حکومت مخالف ہیکروں کے ایک گروپ کی سکرین پرایک لوگو نمودار ہوا جس کا نام’’عدلِ علی‘‘(جسٹس آف علی) ہے۔ ایک آواز’’اسلامی جمہوریہ کی موت‘‘ کے نعرے لگا رہی تھی۔

    ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ مہساامینی کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کےبعد سےملک گیر مظاہرے جاری رہے ہیں سکیورٹی فورسز نے مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کیا ہے۔یہ احتجاجی تحریک 1979 کے انقلاب کے بعد سے اسلامی جمہوریہ کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے۔

    انقلاب کی سالگرہ کے موقع پرعام معافی کے ایک حصے کے طور پر، ایرانی حکام نے جمعہ کوجیل میں قید باغی فرہاد میسامی اور ایرانی نژادفرانسیسی ماہر تعلیم فریبہ عادل خواہ کو رہا کردیا تھا۔گذشتہ اتوارکوسپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے حکومت مخالف مظاہروں میں گرفتار کیے گئے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا۔

    ٹانک میں تھانہ گومل پر دہشتگردوں کا حملہ،بنوں میں سی ٹی ڈی نے کارروائی تین دہشتگرد…

    انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا کا کہنا ہے کہ جمعہ تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 528 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں 71 نابالغ بھی شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 سرکاری سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ 19,763 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • ترکیہ:زلزلے کے بعد لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار

    ترکیہ:زلزلے کے بعد لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار

    انتاکیہ: ترکیہ میں زلزلے کے بعد لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی:ترکیہ کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ ہے کہ ترکیہ میں خوفناک زلزلے کے بعد ترک حکام نے لوٹ مار کے الزام میں 48 افراد کو گرفتار کر لیا ہے ترک وزارت انصاف کے مطابق گرفتار افراد پر زلزلہ متاثرین سے لوٹ مار اور فراڈ کرنے کا الزام ہے۔

    خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق مشتبہ افراد کو 8 مختلف صوبوں میں پیر کے روز 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد لوٹ مار کی تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    زلزلے سے متاثرہ ترکیہ کے شہر انتاکیہ میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے جدوجہد کرنے والے رضاکاروں نے کہا ہے کہ لوٹ مار اور حفظان صحت کے مسائل ان کے مشکل کام میں اضافہ کر رہے ہیں ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے پیر کے روز زلزلے کے بعد شہر سے گاؤں کے لیے نکلنے سے پہلے لوٹ مار ہوتی دیکھی۔

    مہمت بوک نے بتایا کہ وہ زلزلے کے بعد انتاکیہ واپس آیا ہے اور ایک منہدم عمارت میں کام کرنے والے ساتھی کی تلاش کے دوران دیکھا کہ لوگ دکانوں اور کاروں کی کھڑکیوں اور باڑوں کو توڑ رہے تھے۔

    جنوب مشرقی صوبے سنلی عرفا سے تعلق رکھنے والی ایک اور ریسکیو اہلکار گیزم نے کہا کہ اس نے انتاکیہ میں چار دنوں میں لٹیروں کو دیکھا ہے اس نے کہا ہم زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے کیونکہ زیادہ تر لٹیروں کے پاس چاقو ہوتے ہیں، لوگوں نے ایک لٹیرے کا پیچھا کیا جو کہ پکڑا گیا-

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں،زلزلے سے ترکیہ میں 6 ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں، جس کے بعد عمارتوں کی ناقص تعمیرات پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے-

    پمز اسپتال سے ڈاکٹرز کی 10رکنی ٹیم ادویات کیساتھ ترکیہ روانہ

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام زلزلہ میں ہلاکتوں کی تعداد29ہزارسے تجاوزکرگئی ہے شام میں زلزلے سے 4 ہزار500سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ترکیہ میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ساڑھے24 ہزارسے زائد ہوگئی ہے-

    عالمی ادراہ صحت کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں 2 کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہوئے جب کہ انہوں نے متاثرین کےلیے 4 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کی فوری امدادکی اپیل بھی کی ہے۔

    زلزلہ متاثرین کیلئے عالمی برادری کی جانب سے امدادی سامان بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان سے بھی آج ترکیہ کیلئے امدادی سامان کی ایک اور کھیپ روانہ کر دی گئی ہے این ڈی ایم اے کے مطابق 4.7 ٹن امدادی کھیپ ترکیہ روانہ کر دی گئی ہے ،سامان میں 1420 کمبل،26موسم سرما کے خیمے شامل ہیں،امدادی سامان پی آئی اے کی پروازپر ترکیہ روانہ کیا گیا-

    خواتین کے قومی دن پر وفاقی وزیرشیری رحمان کا پیغام

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
    موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

    برج نارائن چکبست 19 جنوری 1882 کو فیض آباد میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام پنڈت برج نارائن چکبست تھا لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی. 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔

    9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ کسی استاد کو کلام دکھایا نہ کوئی تخلص رکھا. چکبست اُن کی گوت تھی، کہیں کہیں اس کا استعمال کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ بعد میں قومی نظمیں لکھنے لگے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ چکبست کا مجموعہ کلام ‘‘صبح وطن ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

    12 فروری1926ء کو ایک مقدمے کی پیروی کیلئے بریلی گئے. لکھنؤ واپسی آنے کیلئے بریلی ریلوے سٹیشن پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پر ہی انتقال ہوگیا۔

    ان کے کچھ اور اشعار :

    دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
    آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼٔ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ

    دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
    کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

    چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
    ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا

    سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
    میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا

    ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
    تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

    ہم اسیروں کی دعا ہے کہ چمن سے اک دن
    دیکھتے خانہ صیّاد کا ویراں ہونا

    ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﺍ ﮨﻮﺗﺎ

  • عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عدیلہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: عدیلہ سلطان ; 23 مئی 1826 – 12 فروری 1899) ایک عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ اور مخیر حضرات تھیں۔ وہ سلطان محمود دوم کی بیٹی اور سلطان عبدالمجید اول اور عبدالعزیز کی بہن تھیں۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان 23 مئی 1826 کو پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام سلطان محمود دوم تھا اور اس کی والدہ زرنیگر حنیم تھیں۔ 1830 میں اپنی والدہ کی موت کے بعد، جب وہ چار سال کی تھیں، انہیں اپنے والد کی سینئر ساتھی، نیوفیدان کدن کی دیکھ بھال سونپ دی گئی۔

    عدیلہ کی تعلیم محل میں ہوئی تھی۔ اس نے قرآن، عربی، فارسی، موسیقی اور خطاطی کے اسباق لیے۔ اس نے خطاطی کے اسباق ابوبکر ممتاز افندی کے ساتھ حاصل کیے، جو اس دور کے سب سے مشہور خطاط تھے۔ اس نے حاصل کردہ تعلیم کے ساتھ، اپنی حساس شخصیت کے ساتھ مل کر، اس نے نظمیں لکھیں، ایسا کرنے والی واحد شہزادی بن گئی۔

    1839ء میں اس کے والد کی وفات کے بعد، جب وہ تیرہ سال کی تھیں، اس کے بڑے سوتیلے بھائی، نئے سلطان عبدالمجید اول نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

    شادی
    ۔۔۔۔۔
    1845ء میں، اس کے بھائی سلطان عبدالمجید نے اس کی شادی دامت مہمت علی پاشا سے کرائی، جو شاہی اسلحہ خانے میں بطور مشیر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہیمسین میں پیدا ہوا، وہ گلتا کے چیف آغا، ہاکی عمر آغا کا بیٹا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں استنبول آیا، جہاں اس نے اپنا بچپن اینڈرون میں گزارا۔

    شادی کی تیاریاں 24 مارچ 1845ء کو شروع ہوئیںاور شادی کا معاہدہ 28 اپریل کو مقدس آثار کے اپارٹمنٹ، توپکاپی پیلس میں مکمل ہوا۔ تقریب کی انجام دہی کے بعد، طوطے کو دارصاد آغا لایا گیا جہاں سے اسے توفانی گلی سے کران محل لے جایا گیا۔ شادی کی تقریبات اگلی گرمیوں تک موخر کر دی گئیں۔ یہ شادی فروری 1846ء میں ہوئی اور پورا ہفتہ چلی۔ تقریبات کے آخری دن، عدیلہ کو دفتردربار میں واقع نیستا آباد محل لے جایا گیا۔ یہ محل کسی زمانے میں سلطان مصطفٰی ثالث کی بیٹی ہاتیس سلطان کا تھا۔

    شادی کے بعد، محمد علی پاشا بحری بیڑے کا کمانڈر بن گیا، اور پانچ مرتبہ اس عہدے پر فائز رہا، اور اس کے بعد ایک مختصر عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہا۔ گرینڈ وزیر اپنے بھائی سلطان عبدالمجید کو۔ دونوں کے ایک ساتھ چار بچے تھے، ایک بیٹا سلطان زادے اسماعیل بے، اور تین بیٹیاں، حیریئے حنِمسلطان، سِدیکا حنِمسلطان، اور ع لیے حنِمسلطان۔ اس کا انتقال 1868 میں اپنے چھوٹے سوتیلے بھائی سلطان عبدالعزیز کے دور حکومت میں ہوا۔ ان کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی بیٹی، ہیری 1846 میں پیدا ہوئی، جو اپنے والد کے ایک سال بعد 1869 میں انتقال کر گئی۔
    مذہب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان ایک مذہبی خاتون تھیں۔ تقریباً 1845ء میں، وہ شیخ شمنولو علی آفندی کی پیروکار بن گئیں اور نقشبندی صوفی حکم کی رکن بن گئیں۔ اس نے نیست آباد محل میں شیخوں اور درویشوں کی میٹنگیں منعقد کیں، جو غریب لوگوں کے لیے ایک قسم کے ایپلیکیشن بیورو کے طور پر کام کرتی تھیں جو ان کی ضروریات شہزادی کو بتاتی تھیں۔
    موت
    ۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان کا انتقال 12 فروری 1899 کو تریپن سال کی عمر میں ہوا، جو محمود کا آخری زندہ بچ جانے والا بچہ تھا۔ انہیں ایوپ، استنبول میں اپنے شوہر کے مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔

  • افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان کے وہ پہلے تین طالبان جنہوں نے تاریخ میں پہلی بار بطور پائلٹ اپنے سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیئے ہیں جبکہ ان تینوں کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اساد نامی صارف نے لکھا کہ "طالبان نے جہاز اڑانے کیلئے تین طالبان پائلٹس کیلئے پہلی بار سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا ہے.” جبکہ یہ تصویر اب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی ہے اور صارفین نے مختلف کمینٹ کیئے ہیں.


    ایک صارف نے طالبان کی بچوں کی گاڑیاں چلانے والی ویڈیو میں سے تصویر نکال کر تبصرہ کیا کہ کیا ایسے لوگوں کو سرٹیفیکیٹ دی گئی ناصرف اس نے بلکہ بہت سارے صارفین نے تنقید تاہم بہت سارے ایسے بھی ہیں جنہوں اس چیز کو سراہا ہے کہ یہ طالبان کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے اور اسے سراہا جانا چاہئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے


    ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ طالبان کو چونکہ اب یہ سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے تو کیا یہ جہاز اڑانے کے بعد اسے لینڈ بھی کر پائیں گے؟ لیکن امید ہے کہ یہ لوگ بھارے کے اوہر سے نہیں اڑان بھریں گے. ایک اور صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ اب امریکہ کی مدد کرے اور امید ہے کہ دنیا اب نائین الیون جیسے تجربے سے نہیں گزرے گی.

    صارف نوید نے کہا کہ طالبان کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان کچھ نہیں جانتے یہ ان نوجوان طالبان کا پائلٹس کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ان کے ناقدین کے منہ پر تمانچہ ہے.

  • ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ترکیہ اور شام کے آٹھ لاکھ 74 ہزار زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سات کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی رقم فراہم کرنے کی اپیل کی ہے. خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایف پی کی جانب سے جمعے کی اپیل کے بعد اقوام متحدہ نے شام میں امدادی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ترکیہ میں گھروں سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ 90 ہزار جبکہ شام میں دو لاکھ 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اور اس میں چار ہزار 500 تارکین وطن بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے اس زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور یوں یہ اس خطے میں صدی کا بدترین زلزلہ ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ چار دونوں میں ترکیہ اور شام میں ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو خوراک فراہم کی گئی ہے۔
    ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت خوراک کی ہے۔ وہاں کھانا تیار کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بیان کے مطابق ’شام کے شورش زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کافی مشکلات کا شکار ہے۔ وہاں ڈبلیو ایچ او اب تک 43 ہزار افراد تک پہنچ سکا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اردو نیوز نے اے ایف پی کے مطابق لکھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے دفتر نے جمعے ہی کو کہا ہے کہ شام کے زلزلے سے متاثر علاقے میں موجود افراد کی مدد کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ اقوام متحدہ کے رائٹس آفس کی ٹوئٹ کے مطابق ’چیف وولکر ترک نے شام میں فوری جنگ بندی، انسانی حقوق کے احترام اور اس حوالے سے بین الاقوامی کی مکمل احترام کی اپیل کی ہے۔

  • اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں.

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔ غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔” ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے. انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر طیب اردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

  • شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام میں پیر کے روز آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ملبے تلے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی بچی کو ملبے سے نکالنے والے شامی شخص نے گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق معجزاتی طور پر شامی نومولود بچی کو اس کے رشتہ دار نے ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا تھا۔ بچی کے والدین اور چار بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں-

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ہزاروں افراد نے اس بچی کو گود لینے کی پیشکش کی ہے جو پیر کے زلزلے کے بعد شمال مغربی شام میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے پیدا ہوئی تھی اس کی ماں، باپ اور اس کے چاروں بہن بھائیوں کی موت زلزلے کے بعد جنڈیریس قصبے میں ہوئی تھی۔

    بچی کو ملبے سے نکالنے والے صلاح البدران نامی شخص نے گود لیا ہے جو بچی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے ساتھ لے جاسکیں گے۔

    اس کی دیکھ بھال کرنے والی ماہر اطفال ہانی معروف نے کہا، "وہ پیر کو اتنی بری حالت میں پہنچی، اس کے گلے پر زخم تھے، وہ ٹھنڈی تھی اور بمشکل سانس لے رہی تھی وہ اب مستحکم حالت میں ہے۔

    آیا کے بچاؤ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ فوٹیج میں ایک شخص کو عمارت کے منہدم ہونے والے ملبے سے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں ایک بچے کو مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    اس بچی کو زندہ نکالنے والے شامی نے بتایا کہ انہوں نے بچی کا نام ‘آیاہ’ رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘اللہ کی جانب سے بھیجی گئی نشانی’-

    بچی کو نکالنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اسے گود لے گا اور اپنے بچوں کے ساتھ اس کی پرورش کرے گا یہ بچی ابھی ہسپتال میں داخل ہے اور صحت یاب ہو رہی ہے میں نے اسے اپنی والدہ عفرا کا نام دیا ہے تاکہ یہ مرحوم کے خاندان کے لیے یادگار رہے۔

    مذکورہ شخص نے مزید بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں ان کا گھر بار سب تباہ ہوگیا، وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں فی الحال رہ رہے ہیں۔

    قبل ازیں خاندان کے ایک رشتہ دار خلیل السواد نےکہا تھا کہ وہ ابو ردینہ اور اس کے اہلخانہ کو تلاش کر رہے تھے، انہوں نے پہلے ابو ردینہ کی بہن کو تلاش کیا، پھر ام ردینہ کو تلاش کیا اور اس کے قریب ہی اس کی نومولود بچی مل گئی ۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز