Baaghi TV

Tag: interview

  • محمود اسلم انٹرویو کے دوران کیوں روئے؟

    محمود اسلم انٹرویو کے دوران کیوں روئے؟

    سینر اداکار محمود اسلم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی والدہ کی بڑائیاں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری والدہ بہت زیادہ محنتی تھیں ، میرے والد نے کما کر والدہ کو دیا اور انہوں نے سلیقے سے پانچ بچے پالے. میری ماں میں آخری وقت تک بہت زیادہ انرجی تھی. وہ ہر کام خود کرتی تھیں ، انہوں نے مجھے کہا کہ میں استری کرنا سیکھوں انہوں نے مجھے ہر کام سکھایا. اور اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کام میری زندگی میں بہت کام آئے، میں نان والے کا رول کروں یا ہوٹل والے کا تو میں بہت آرام سے کر لیتا ہوں ایسے کردار سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے. محمود اسلم نے

    اپنی والدہ کے آخری وقت کا بتاتے ہوئے کہا کہ میری والدہ کا آخری وقت آگیا تو سب گھر والوں نے یاسین پڑھنا شروع کر دی، میں‌کمرے میں داخل ہوا تو امی نے مجھے ہاتھ ہلایا میں امی کے اوپر جا کر لیٹ گیا انہوں نے مجھ پہ اپنا ہاتھ رکھا اور ایکدم ہاتھ جھٹک دیا اور امی اللہ کے حضور پیش ہو گئیں یہ بتا کر محمود اسلم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے. محمود اسلم نے کہا کہ ماں اور باپ میاں اور بیوی ایک ہی گاڑی کے دوپہیے ہوتے ہیں‌ باپ پیسے کما کرلا کر والدہ کو نہ دے تو والدہ کس طرح گھر کا خرچ چلا سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ میری شخصیت میں میرے ماں باپ کی ففٹی ففٹی پرچھائیں ہیں.

  • صرحا اصغر نے بچے کی پیدائش کے محض دو ماہ کے بعد ورک آئوٹ کیوں شروع کردیا ؟

    صرحا اصغر نے بچے کی پیدائش کے محض دو ماہ کے بعد ورک آئوٹ کیوں شروع کردیا ؟

    اداکارہ صرحا اصغر اپنے ورک آئوٹ اور خوبصورت ڈانس کی وجہ سے کافی مشہور ہیں. وہ اکثر اداکارہ رابعہ کلثوم کے ساتھ ڈانس وڈیوز میں نظر آتی ہیں. صرحااصغر نے شادی اور بچے کی پیدائش کے بعد شوبز کا کام تو روک دیا لیکن انہیں اپنی فٹنس کا غم کھایا جا رہا تھا کہ کسی طرح سے وہ پھر سے فٹ ہو جائیں. صرھا اصغر بتاتی ہیں کہ انہوں نے بیٹے کی پیدائش کے محض دو ماہ کے بعد ورک آئوٹ اس لئے شروع کر دیا کیونکہ انہیں ڈپریشن ہورہا تھا، کہ میرا وزن بہت زیادہ بڑھ گیا ہے، کب میں اسے کنٹرول کروں گی یا کم کروں گی ، سو میرے بیٹے نے رات کو جیسے

    ہی سونا شروع کیا تو میں نے طے کر لیا کہ بس اب جم جانا ہے لہذا میں نے جم جانا شروع کر دیا. اور اب میں نے کافی حد تک اپنا وزن کم کر لیا ہے. انہوں نے کہا کہ انسان خود کو فٹ رکھے تو وہ ذہنی طور پر بھی مطمئن رہتا ہے اور وہ اچھے سے پرفارم کرتا ہے. انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے کو اسکی نانی سنبھالتی ہیں اور میں اپنے کام کرتی رہتی ہوں. صرحا اصغر نے یہ بھی کہا کہ میں نے کام کو بریک لگائی ہوئی ہے بہت جلد مکمل طور پر کام شروع کر دوں گی .

  • زارا نور عباس نے کر دیا ایک بڑا گلہ

    زارا نور عباس نے کر دیا ایک بڑا گلہ

    سینئر اداکارہ اسماء عباس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے ہمارے ہاں ایک بہت عجیب چیز ہے کہ ہیروئین شادی کر لے تو اسکو کام ملنا کم ہوجاتا ہے، اور اگر وہ حاملہ ہوجائے تو برینڈز اور پرڈیوسرز اس کے ساتھ کام کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں. زارا نور عباس نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے.انہوں نے یہ بھی کہا کہ شادی بچوں اور رنگت کا تعلق ٹیلنٹ اور کام سے نہیں جوڑا جانا چاہیے. یہ کیا بات ہوئی کہ کسی نے شادی کر لی ہے تو اس ہیروئین کو کام ہی نہیں دینا. انہوں نے کہا کہ تعصب ہر جگہ ہوتا ہے بالی وڈ میں بھی ہے ، ہمارے ہاں زرا ان سے کم ہے لیکن ہوتا ضرور ہے

    . انہوں نے کہا کہ میں نے اس طرح کے بہت سارے کیسز دیکھے ہیں اور میرا کچھ ذاتی تجربہ بھی ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ شادی انسان کو وقت پر کر لینی چاہیے انسان کے کام پر اسکا فوکس ہوجاتا ہے اور وہ زندگی کو ایک الگ نظریے سے دیکھنا شروع ہوجاتا ہے. زارا نور عباس نے کہا کہ مجھے سیاست میں دلچپسی اس حد تک ہے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور کیا چل رہاہے. انہوں نے کہا ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی سیاستدان کو سپورٹ کرنے کا حق حاصل ہے اس چیز کا احترام کیا جانا چاہیے.

  • سوشل میڈیا پر سب جعلی ہے محسن عباس حیدر

    سوشل میڈیا پر سب جعلی ہے محسن عباس حیدر

    اداکار محسن عباس حیدر جو کہ سوشل میڈیا پر ایک عرصہ تنقید کا نشانہ بنے رہے، لیکن انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں‌دیا کہ جس سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف چلنے والی مہم میں مزید تیزی آجائے. محسن عباس حیدر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں سوشل میڈیا سے دور رہنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ دوسرے بھی اس سے دور رہیں. انہوں نے کہا کہ اس سوشل میڈیا نے بہت سارے لوگوں کی زندگیاں تباہ و برباد کر دی ہیں. سوشل میڈیا پر سب جعلی ہے ہر کوئی اپنی شخصیت کا پرفیکٹ پہلو دکھاتا ہے دوسروں کو متاثر کرتا ہے، جبکہ ایسا حقیقت میں ہوتا

    نہیں‌جیسا دکھایا جا رہا ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ کئی گھر اس سوشل میڈیا کی آگ کی وجہ سے بربار ہو گئے ہیں جل گئے ہیں لیکن لوگ باز نہیں آرہے. آج کل سوشل میڈیا پر مذاق میں چلنے والی مہم کسی کی زندگی تباہ کر دیتی ہے اس چیز کا احساس کیا ہی نہیں جاتا.انسان اچھائی اور برائی کا مجموعہ ہے کسی کی کوئی عادت اچھی ہے تو کسی کی کوئی ، کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہے لہذا سوشل میڈیا پر جعلی بن کر بیٹھے رہنے کی بجائے اپنی سوچ کو مثبت کاموں میں خرچ کریں اور زندگی بنائیں.

  • ریشم برس پڑیں ناقدین پر

    ریشم برس پڑیں ناقدین پر

    لالی وڈ‌ اداکارہ ریشم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بات کی ہے ڈپریشن کی ، انہوں نے کہا کہ ڈپریشن پر میرا یقین نہیں ہے میں سمجھتی ہوں کہ جسے انسان ڈپریشن سمجھتا ہے وہ اللہ سے دوری ہے اور اللہ سے دوری ہو تو انسان کا دماغ نہ اچھا سوچتا ہے نہ ہی اچھا سمجھتا ہے. ریشم کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر ان کو لے لیا گیا آڑھے ہاتھوں اور کہا کہ ریشم کو تو شاید خود بھی نہیں پتہ کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں. ناقدین نے کہا کہ ڈپریشن کا وجود ہے اور وہ کسی بھی وجہ سے ہو سکتا ہے اس کو صرف اللہ سے دوری کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ، اس قسم کی تنقید سن کر ریشم ہو

    گئیں آگ بگولہ. انہوں نے کہا کہ میں‌ اکثر و بیش تر گہری باتیں کرتی ہوں اور ضروری نہیں ہے کہ گہری باتیں‌ہر کسی کو سمجھ میں آئیں. میں نے ہمیشہ ہر مصیبت پریشانی میں اللہ کو یاد کیا اس سے مدد مانگی اللہ نے میری سنی. اور مجھے لگتا ہے کہ اگر اللہ سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے اور اگر اس سے دوری اختیار کر لی جائے تو پھر یقینا انسان ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے. انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر زیادہ تر وہ لوگ ہوتےہیں جو صرف اپنے مطلب کی بات کو سمجھنا اور سننا چاہتے ہیں.

  • ہاں میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہے نازش جہانگیر

    ہاں میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہے نازش جہانگیر

    اداکارہ نازش جہانگیر جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے ان کے ساتھ کام کرنا نہایت ہی مشکل ہے. اکثر آڑٹسٹ ایسا کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں . نازش نے ایسی باتوں‌ پر توڑ دی ہے خاموشی . انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہے لوگ ایسا کہتے ہیں تو کہتے رہیں. جب تک میرے ساتھ کوئی ٹھیک رہے میں اس کے ساتھ ٹھیک رہتی ہوں جب کوئی مجھے تنگ کرے اور میرے کام کو مشکل بنائے میرے پیسے ادا نہ کرے تو میں بھی اسکو تنگ کرتی ہوں اور پھر ٹھیک ٹھاک تنگ کرتی ہوں.. میں اصول پسند ہوں سکون سے رہتی ہوں اور سکون سے کوئی مجھے رہنے دے ایسا چاہتی ہوں، انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ میرے ساتھ کام کرنا مشکل ہے تو ٹھیک ہے ، ہے.

    انہوں نے کہا کہ میرا دل اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب میری ماں اس دنیا سے گئی تھی امی کی وفات کے بعد اب کوئی بھی غم بہت بڑا اور گہرا نہیں لگتا. نازش جہانگیر نے کہا کہ میرے بارے میں لوگ بلاوجہ باتیں کرتے رہتے ہیں میں اس لئے جواب نہیں دیتی کیونکہ میرے پاس ایسے معاملات کے لئے بالکل بھی وقت نہیں ہے.

  • تیاری کے بغیر دادا ابو عیدی نہیں دیتے تھے صبا فیصل

    تیاری کے بغیر دادا ابو عیدی نہیں دیتے تھے صبا فیصل

    سینئر اداکارہ صبا فیصل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو انہوں نے ان کے دادا کو بچوں میں باقاعدگی سے عید بانٹتے ہوئے دیکھا. انہوں نے کہا کہ میرے دادا ابو کبھی بھی ہمیں عید کی تیاری کے بغیر عیدی نہیں دیا کرتے تھے لہذافیملی کے سارے بچے صبح صبح عید کے دن تیار ہو کر دادا ابو کے کمرے میں‌جایا کرتے تھے ، دادا ابو نے اپنے تکیے کے نیچے ہر بچے کے حصے کے پیسے پیکٹ کی صورت میں رکھے ہوتے تھے. ایک ایک بچہ دادا ابو کے کمرے میں‌جاتا اور اسکو اس کے حصے کے

    پیسے مل جاتے. صبا فیصل نے مزید کہا کہ ہمیں‌پانچ یا دس روپے ملتے تھے اور ان پیسوں میں بہت زیادہ برکت ہوا کرتی تھی اتنی برکت ہوتی تھی کہ ہم جتنا بھی خرچ کر لیتے پھر بھی پیسے بچ جاتے. صبا فیصل نے کہا کہ اب وقت بدل چکا ہے اب عیدی لیتے نہیں عیدی دیتے ہیں. ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں کل بھی اچھا تھا آج بھی اچھا ہے. لیکن میں‌آج بھی عید کے روز تیار ہوتی ہیں اور تیار ہونے کی یہ عادت مجھے بچپن سے ہے جو کہ میری والدہ نے مجھے ڈالی .

  • ماہرہ خان خود پر ہونے والی تنقید سے نالاں

    ماہرہ خان خود پر ہونے والی تنقید سے نالاں

    پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان جو بلاوجہ ہی سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہتی ہیں اس حوالے سےوہ کئی بار گفتگو بھی کر چکی ہیں ایک بار پھر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کچھ بھی نہ کہوں تب بھی مجھے ٹرول کیا جاتا ہے مجھ پہ تنقید کی جاتی ہے جھوٹی باتیں میرے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں. اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والے جن اکائونٹس سے ایسا کررہے ہیں ان پہ ان کی کوئی تصویر نہیں ہوتی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے نام سے بھی یہ اکائونٹس نہیں بنائے ہوتے. ماہرہ خان نے کہا کہ میں تو یہ چاہوں گی

    کہ سوشل میڈیا پت ہر صارف کے اکائونٹ کو بلیو ٹک ملنا چاہیے تاکہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ ہم کسی کے ساتھ بات کریں . انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بہت سارے اکائونٹس سوشل میڈیا پر چل رہے ہیں اور ایسی ایسی تنقید کی جاتی ہے کہ میں پریشان ہوجاتی ہوں کہ اتنی شدت کے ساتھ کوئی کسی کے خلاف اتنی مہم کیسے چلا سکتا ہے.ماہرہ خان نے کہا کہ میں کوشش کرتی ہوں کہ سوشل میڈیا پر اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب نہ دوں اور میں نہیں‌دیتی لیکن افسوس ضرور ہوتا ہے.

  • ریاست مدینہ بن گئی تو کیا ہوگا انور مقصود نے بتا دیا

    ریاست مدینہ بن گئی تو کیا ہوگا انور مقصود نے بتا دیا

    حال ہی میں کراچی آرٹس کونسل میں ماہرہ خان کے اعزاز میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں انہیں انور مقصود نے انٹرویو کیا. انور مقصود نے ماہرہ خان سے سوال کیا کہ اگر آپ پاکستان کی وزیراعظم بن گئیں تو کیا کریں گی تو انہوں نے کہا کہ میں اگر وزیراعظم بنی تو وہ میری فلم ہے نا قائداعظم زندہ باد اس میں قوی خان کا ایک ڈائیلاگ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ خدایا کوئی معجزہ ہوجائے حرام اور حلال کی کمائی میں فرق ہو. اس پر انورمقصود نے کہاکہ اکیلا ایماندار آدمی کچھ نہیں کر سکتا. اس کے بعد پلٹ کر ماہرہ خان نے انور مقصود سے سوال کیا کہ آپ اگر وزیراعظم بن جائیں تو کیا کریں گے تو اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمام بے ایمانوں کو معاف کر دوں گا ، اور اگر ریاست مدینہ بن گئی تو پھر تو

    30 کروڑ کی آبادی میں سے 19 کروڑ کو ہتھکڑیاں‌لگ جائیں گی. انور مقصود کی یہ بات سن کر ماہرہ خان اور ہال میں موجود لوگ ہنستے رہے. ماہرہ خان اور انور مقصود کو اس انٹرویو کے بعد سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا سامنا ہے. کیونکہ اس میں انہوں نے ان سیاستدانوں کی تعریف کی ہے جن کو وہ پسند کرتے ہیں اور جن کو ناپسند کرتے ہیں ان پر طنز کی ہے.

  • کپل شرما نے کم عمر میں کام کیوں‌ شروع کیا؟‌ سن کر رہ جائیں حیران

    کپل شرما نے کم عمر میں کام کیوں‌ شروع کیا؟‌ سن کر رہ جائیں حیران

    کپل شرما اس وقت انڈیا کا سب سے بڑا کامیڈی شو کپل شرما شو کررہےہیں. ان کو بہت پسند کیا جاتا ہے ان کی بات سنی جاتی ہے. ان کے شو پر بڑی سے بڑی سلیبرٹیزآنے میں عزت محسوس کرتی ہیں. کپل شرما نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں نے نہایت ہی کم عمر میں کام شروع کر دیا تھا، عموما بچے اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کے لئے چھوٹی عمر میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن میں نے اپنے گھر والوں کو نہیں بلکہ خود کا جیب خرچ نکالنے کےلئے کام شروع کیا ، میں نے گارمنٹس کی فیکٹری میں بھی کام کیا ، نو سو روپے ماہانہ کماتا تھا. اسی طرح سے پانچ سو روپے ماہانہ پر بھی کام کیا. مجھے گھر والوں سے پیسے مانگنا اچھا نہیں‌لگتا تھا ، دل کرتا تھا کہ

    خدا مجھے اتنا دے کہ میں اپنے گھر والوں کو سپورٹ کروں گو کہ اسکی ضرورت آج بھی انہیں نہیں . آج اوپر والے کا کرم ہے کہ میں بہت کماتا ہوں لیکن میں نے زندگی میں جتنی جدوجہد کی وہ ہمیشہ یاد رہے گی. میں نام کمانے کے بعد بھی اپنے پائوں زمین پر رکھتا ہوں. میں آج بھی اپنے پرانے دوستوں کو ملتا ہوں زمین پر بیٹھ کر ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہوں.