فیصل آباد میں عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تقریبات بھرپور عقیدت اور جوش وجذبے سے جاری ہیں جن میں عشقان رسول شرکت کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کررہے ہیں۔یہ بات ڈویژنل کمشنر زاہد حسین نے صوبائی وزیر پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیرالدین اور صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض فتیانہ سے گفتگو میں بتائی۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزراء کو عشرہ شان رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم تقریبات میں شرکت کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی ہیں اور صوبائی وزیر پبلک پراسکیوشن ضلع فیصل آباد اور صوبائی وزیر وومن ڈویلپمنٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تقریبات میں شرکت کررہے ہیں۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر کالونیز وکلچر میاں خیال احمد کاسترو کو ضلع چنیوٹ اور صوبائی وزیر کھیل تیمور بھٹی ضلع جھنگ کے لئے مقرر ہیں۔ڈویژنل کمشنر نے صوبائی وزراء کو بارہ ربیع الاول تک کے پروگرامز کی تفصیلات سے آگاہ کیااور بتایا کہ سکولوں،کالجوں،یونیورسٹیز میں حسن قرات،نعت وتقاریر کے مقابلے جاری جبکہ سیرت النبی کانفرنسز کے انعقاد کے ساتھ محفل میلاد کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔صوبائی وزراء نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان بیان کرنا باعث ثواب اوراعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آقائے دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوجہانوں کے لئے باعث رحمت بن کرآئے جن کا یوم ولادت وباسعادت بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے اور اس بار حکومت نے عشرہ کی تقریبات کا اہتمام کیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو نبی آخرالزمان کی زندگی کے پہلوؤں سے آگاہی دی جاسکے اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہوکرکامیابی حاصل کرسکیں۔
Tag: Islam

علماء کرام صحت مند ماحول، صفائی ستھرائی اور شجرکاری سے متعلق اپنے خطبات میں عوامی شعور اجاگر کریں. چیئرمین ایف ڈی اے/ایم پی اے چوہدری لطیف نذر
فیصل آباد(نمائندہ ایف ٹی وی) علماء کرام و آئمہ حضرات صحت مند ماحول اور صفائی برقرار رکھنے سے متعلق عوامی کارواں کی قیادت کریں اور اپنے خطبات میں صفائی ستھرائی اور شجرکاری سے متعلق عوامی شعور اجاگرکریں کیونکہ وہ معاشرے کا بااثر طبقہ ہیں جنکا موثرپیغام معاشرے میں نتیجہ خیر ہوسکتاہے۔یہ بات چیئرمین ایف ڈی اے /ایم پی اے چوہدری لطیف نذر نے اپنے حلقہ پی پی 114کی مساجد کے علماء کرام و آئمہ حضرات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو میٹروپولٹین میونسپل کارپوریشن میں منعقدہوا۔جس میں ایم ڈی واسا جبار انور،جنرل منیجر آپریشن فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کرنل عماد اقبال گل، ڈائریکٹر پی ایچ اے عبد اللہ نثار چیمہ، تاجر رہنما خواجہ شاہد رزاق سکااوردیگر افسران نے بھی شرکت کی جبکہ تقریب کی نقابت اختر بٹ نے کی۔چیئرمین ایف ڈی اے چوہدری لطیف نذر نے آئمہ کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ تقریب اپنے شہر اور ملک کوصاف ستھرابنانے کے عظیم مقصد کیلئے منعقد کی گئی ہے جسکی کامیابی مذہبی رہنما اپناکلیدی کردار اداکرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دین اسلام اور وطن عزیز سے محبت کاتقاضا ہے کہ ہرفرد صفائی قائم رکھنے کے معاملے میں مذہبی و اخلاقی ذمہ داریاں کماحقہ ادا کرے اور علماء کرام کی طرف سے صفائی نصف ایمان کے اسلامی اصولوں کو دہرانے سے یہ پیغام پورے ملک میں پھیلے گا اور صحت مندماحول،صاف ہوا اور سرسبز و شادابی کی بدولت معاشرہ بیماریوں سے پاک ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ غیر مسلم ممالک صفائی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں لیکن ایمان کا حصہ ہونے کے باوجود ہم بدقسمتی سے گلی محلوں، شاہرات اور اپنے ارد گرد ماحول کو صاف رکھنے کیلئے اپنی انفرادی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے اس ضمن میں علماء کرام لوگوں میں وسیع ادراک پیدا کریں تاکہ اسلامی معاشرہ میں صفائی نصف ایمان کی عملی تصویر نظر آئے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیاگیاہے جسکی تعمیر وترقی، بقاء و سلامتی کیلئے اسے صاف ستھرا اور سرسبز و شاداب بنانے کا پختہ عہد کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ نماز جمعہ کے موقع پر رضاکار پودوں سمیت مساجد کے باہر موجود ہونگے۔ شہری اپنے پودے حاصل کرکے ان کی آبیاری اورنشوونما میں حصہ ڈالیں۔ ایم ڈی واسا جبار انور نے کہاکہ آلودگی اور تعفن سے پاک ماحول کیلئے سیوریج سسٹم میں کوڑا کرکٹ نہ پھینکا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مساجد میں سیپٹک (septic)ٹینک اور انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک قائم کرنے سے سیوریج کے بند ہونے یا پانی کی قلت کا مسئلہ ختم ہوسکتاہے اس ضمن میں واسا کی طرف سے ڈیزائن فراہم کیاجارہاہے۔ انہوں نے سیوریج کا نظام کو بحال رکھنے میں عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔جنرل منیجر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کرنل عماد گل نے شہر کی صفائی کے نظام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ دستیاب وسائل میں صفائی کرنے اور کوڑا کرکٹ اٹھانے کے کام کی کامیابی شہریوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ سینٹری ورکر آٹھ گھنٹے کام کرتاہے جبکہ کوڑا کرکٹ چوبیس گھنٹے پیدا ہوتاہے لہٰذ ا کچرے کو سٹرکوں پر پھینکنے کی بجائے شاپر میں بند کرکے سینٹری ورکرکے حوالے کیاجائے اس سلسلے میں علماء کرام شہریوں کی موثر رہنمائی کرسکتے ہیں۔ تاجر رہنماخواجہ شاہدرزاق سکا نے صفائی اور شجرکاری کے سلسلے میں علماء کرام کے تعاون کے حصول کیلئے تقریب کے انعقاد کوسراہتے ہوئے بتایاکہ انجمن تاجراں کی طرف سے پانچ ہزار پودے لگائے جاچکے ہیں اوروہ مساجد و مدارس کومزیدپودے عطیہ کرسکتے ہیں جبکہ صفائی میں استعمال ہونے والا سامان بھی مہیا کرنے میں تعاون کرینگے۔انہوں نے خلوص نیت اور دیانتداری سے وطن عزیز کی خدمت کرنے پر زوردیا اور کہاکہ حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔ اجتماع سے علماء کرام /آئمہ حضرات مفتی عبدالرحمن عابد، قاری عبیدالرحمن، نجیب اللہ طارق، ودیگر نے خطا ب کرتے ہوئے کہاکہ صفائی نصف ایمان اور درخت لگاناصدقہ جاریہ ہے جس پر عمل کیلئے عزم وجذبے کی ضرورت ہے اور محراب ومنبر سے صفائی ستھرائی اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ترغیب دی جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ احکام الٰہی ہے کہ اچھاانسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لہٰذا ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کی پیروی کرنی چاہئے جس سے معاشرے کی اصلاح ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ صفائی اور شجرکاری کی تحریک ایک بڑا مقصد ہے جسکی کامیابی کیلئے ہرفرد کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرناچاہئے آخر میں ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی اور قومی یکجہتی اور وطن عزیز کی خدمت کے مشن کی تکمیل کی دعا کی گئی۔

دنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی ضروری
میاں چنوں:بچوں کو معاشرتی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت دیکر اُنہیں ایک اچھا انسان بنایا جائےگا, پروفیسر محمد یاسین ظفر
ہوپ آف جناح ایجوکیشن کمپلیکس کی افتتاحی تقریب میں مرکزی رہنما جمعیت اہلحدیت حافظ عبدالستار, ن لیگ رہنما عامر حیات ہراج, جنرل سیکرٹری بار فخر امام ایڈووکیٹ,تحصیل امیر جمعیت اہلحدیث مظہر امین چوہان, سیاسی و سماجی رہنما چوہدری سلیم آرائیں,پرنسپل حافظ ماجد سمیت معززین علاقہ کی کثیر تعداد کی شرکت …

اسلام اور ویلنٹائن ڈے تحریر: ضیاء عبدالصمد
اسلام کا دوسرا نام حیاء بھی ھے۔ ویلینٹائن ڈے کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ دور دور تک کوئی تعلق نہیں ھے نوجوان نسل مغرب کے اس کلچر کو اپناتے جارہیں اور دن بہ دن اس بے حیائی کو عام کرتے جارہیں
اس سلسلے میں سب سے پہلے
قرآنِ کریم کے متعدد مقامات پر اس بات کے واضح اشارات موجود ہیں کہ عورت کا چہرہ اور دونوں ہاتھ بھی مقامِ ستر ہیں اور ننگے منہ اس کا گلی بازار میں نکلنا جائز نہیں۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا:اللہ تعالیٰ پہلی مہاجر صحابیات پر رحم کرے، جب یہ حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سینوں پر اوڑھنیوں کے پلو ڈالے رہیں تو انھوں نے اپنی قمیصوں کے نیچے استعمال کی جانے والی چادروں کو پھاڑا اور ان کی اوڑھنیاں بنالیں۔
یعنی عورت کو چاہیے کہ اپنا بناؤ سنگار چھپا کر رکھے تاکہ اجنبی مرد کو نظر یں نیچی رکھنے میں مدد ملے۔ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
اور اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں تا کہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں۔
یعنی عورت پائل پہنے ہو تو اس پر حرام ہے کہ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ مرد پائل کی چھن چھن سنیں گے تو فتنے میںپڑ جائیں گے۔ عورت کے لیے جب ایسا کرنا حرام ہے تو چہر ے کو کھلا رکھنا کیو نکر جائز ہوسکتا ہے۔ مرد محض پائل کی جھنکار سن کر تو فتنے میں مبتلاہو گا لیکن کیا چہرے کی دلکشی و جلوہ سامانی اس کے ہوش نہ اڑائے گی؟
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیںيَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
دوسری جگہ ارشاد باری تعالی ہے:
النور، 24 : 31)اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔
عورت کے لیے ہاتھ پاؤں اور چہرے کے علاوہ سارا جسم ستر ہے، جس کو چھپانا اس پر فرض ہے۔ مذکورہ بالا تین اعضاء چھپانے کا شرعی حکم نہیں ہے۔يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا.
(الاحزاب، 33 : 59)
اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے
سنن ابو داود اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت انسؓسے مروی ہے کہ نبی اکرم اپنی لختِ جگر حضرت فاطمہ ؓ کے پاس اپنے آزاد کردہ غلام کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس وقت حضرت فاطمہؓ کے سرپر ایک اوڑھنی تھی، جب وہ اپنا سر ڈھانپتیں تو وہ پاؤں تک نہیں پہنچتی تھی اور جب پاؤں چھپاتیں تو سر تک نہیں پہنچتی تھی۔ نبی اکرم نے جب اپنی لختِ جگر کو ذہنی الجھن میں دیکھا تو ارشاد فرمایا:تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، تیرا باپ اور غلام ہی تو ہیں
آزاد عورت کا سارا جسم ہی مقامِ ستر ہے۔ شوہر اور محرم کے سوا کسی غیر محرم مرد کو عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ دیکھنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ سوائے علاج معالجہ اور شہادت وغیرہ کی ضرورت و مجبوری کے۔
سانحہ کرائسٹ چرچ ،مساجد پر حملے کی ویڈیوز کیوں شیئر کیں.عدالت نے شہری کو جیل بھیج دیا
نیوزی لینڈ :عدالت کا رواں سال مارچ میں دو مساجد پر حملے کی ویڈیوز شیئر کرنے والے شخص کو جیل بھیج دیا . کرائسٹ چرچ کی النور اور لین ووڈ مسجد پر آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کرکے 51 نمازیوں کو شہید جبکہ 80 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔اس واقعے کے چند دن بعد نیوزی لینڈ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش بھی کیا تھا اور اُن پر الزامات بھی لگائے گئے تھے۔حملہ آور نے مساجد پر حملے کے دوران واقعے کی ویڈیو فیس بک پر براہ راست چلائی تھی۔دہشت گرد حملے کی اسی ویڈیو کو شیئر کرنے والے افراد میں کرائسٹ چرچ کے 44 سالہ کاروباری شخص فلپ آرپس بھی شامل تھے۔یاد رہے کہ کرائسٹ چرچ پر حملے کے بعد دنیا بھر میں انتہا پسند عیسائیوں کی اسلام دشمنی کی شدید مزمت کی گئی .
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اس موقع پر مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کرائسٹ چرچ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کیا تھا. نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو اسلامی دنیا می بہت سراہا گیا .کرائسٹ چرچ پرحملے کے بعد نیوزی لینڈ میں ملک میں انتہا پسندی کے خلاف سخت نفرت پائی جانے لگی .وزیر اعظم نے ملک میں آئندہ ایسے کسی بھی سانحہ سے بچنے کے لیے سخت قانون سازی کی ہے .نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے ملک میںمسلمانوں کی مساجد اور دیگر مراکز کی سیکورٹی بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے.




