Baaghi TV

Tag: Islamabad Airport#

  • ایئرپورٹس پر فائیو اسٹار ہوٹلوں سمیت جدید سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ

    ایئرپورٹس پر فائیو اسٹار ہوٹلوں سمیت جدید سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر، ترکیہ، چین اور سعودی عرب نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے جبکہ خلیجی ملک کی ایک کمپنی کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد ایئرپورٹس پر فائیو اسٹار ہوٹلوں سمیت جدید سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

    علاوہ ازیں ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کا بن لادن گروپ بھی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے کوششیں کر رہا ہے جب کہ قطر کی حکومت نے ہوائی اڈوں کے کارگو سیکٹر کو سنبھالنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    ذرائع نے دعویٰ کیا کہ خلیجی ملک کی کمپنی ہوائی اڈوں پر فائیو اسٹار ہوٹل اور جدید سہولیات فراہم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ اوپن ٹینڈرنگ کے ذریعے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کیا کہ ورلڈ بینک کا ایک ذیلی ادارہ ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے لیے مالیاتی مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے۔

  • اتحادی جماعتوں کے بعد اسلام آباد ائرپورٹ کا نام تبدیل کرنے عوامی رائے بھی آگئی

    اتحادی جماعتوں کے بعد اسلام آباد ائرپورٹ کا نام تبدیل کرنے عوامی رائے بھی آگئی

    اتحادی جماعتوں کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرنے عوامی رائے بھی آگئی
    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرنے سے متعلق وفاقی حکومت اور تینوں اتحادیوں کی جانب سے تجاویز پرعوامی رائے بھی سامنے آگئی ہے۔
    وفاقی حکومت کی 3 اتحادی جماعتوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے لیے الگ الگ ناموں کی تجاویز دی تھیں، پیپلزپارٹی ائرپورٹ کو سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کے نام سے موسوم کرنے کی خواہشمند ہے تو ن لیگ کے ارکان چاہتے ہیں کہ دارالحکومت کا ایئرپورٹ پاکستان میں ایٹمی پروگرام کے خالق ڈاکٹرعبد القدیرخان کے نام پرہو جبکہ ایم کیوایم کی جانب سے ایئرپورٹ کا نام لیاقت علی خان رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے ایئرپورٹ کو بے نظیربھٹو کے نام سے منسوب کرنے کا معاملہ وفاقی کابینہ میں اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے جلد اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ حکومت نے غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے ایئرپورٹس غیرملکی آپریٹرز کو دینے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاﺅس میں ایوی ایشن کے امور پر اہم اجلاس ہوا تھا جس میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لئے بڑا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ اجلاس میں بین الاقوامی ساکھ کے حامل انٹرنیشنل آپریٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں ملک کے تین بڑے ایئرپورٹس کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلایا جائے گا اور انٹرنیشنل آپریٹرز اسلام آباد، لاہوراورکراچی کے ہوائی اڈوں کوچلانے میں معاونت فراہم کریں گے۔ علاوہ وزیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایئرپورٹس کو غیرملکی آپریٹرز کو 20 سے 25 سال کے لیے دیا جائے گا۔

  • انسان از وہاب ادریس خان

    انسان از وہاب ادریس خان

    دنیا چاند پر پانی ڈھونڈنے میں مصروف ہے اور ہم کراچی کے گٹروں کے پانی کو لے کر پریشان ہیں۔ ہر سال مون سون کا موسم آتے ہی کراچی کے گٹر اُبل پڑتے ہیں اور حسبِ معمول شہری چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔ سینکروں ٹی وی شوز بھی اس موضوع پر کر دئے جاتے ہیں اور اس سال محکمہ موسمیات نے بھی بیس فیصد زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے گٹر صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ سننا تھا کہ بس ہمارا دھیان فوراَ اس بات پر چلا گیا کہ ہم نے ایٹم بم بنا یا بھی ہے یاایسے ہی غلط بیانی کی ہے، لیکن پھر جب چاغی کے پہاروں کا بدلہ رنگ یاد آیا تو یقین ہوا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنایا ہےاور وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گٹر صاف نہیں کر سکتے۔ بات صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے، اسلام آباد میں تو ورلڈ ریکارڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ دنیا کہ تمام ممالک اب تک صرف جہاز اڑانے میں کامیا ب ہوئے ہمارا تو ائیر پورٹ اڑتے اڑتے رہ گیا۔ پچھلے دنوں اِک ہلکی سی آندھی نے جو تباہی مچائی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ سب دیکھ کر تو حیرانی ہی ہوئی تھی لیکن سخت پریشانی اس وقت ہوئی جب لاہور میں دو بزرگوں کا مکالمہ سُنا۔ ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھ رہے تھے اڑے بھائی کورونا وائرس کو تم کہیں دیکھے ہو کیا؟ اور جواب تو اور بھی متا ثر کُن تھا؛ نہیں میاں پتہ نہیں کیا ڈرامہ ہے ہمیں تو کہیں نہیں ملا ابھی تک، تمہیں ملے تو ضرور بتانا۔

    یکِ بعد دیگرِ تین بڑے شہروں کے واقعات بیا ن کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے مسائل علاقائی یا شہری نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، اور یہ مسائل ہماری سوچ اور ذہنیت میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی سی گورنمنٹ ہو یا کوئی کنٹریکٹر جو تھوڑے سے پیسے بچانے کی خاطر پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور منافع اور سیاست کوانسانیت پر ترجیح دیتے ہیں اور یا چاہےوہ پاکستان کا عام آدمی ہو جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسی باتیں پھیلا دیتا ہےجس کے نتائج بہت خطر ناک نکل سکتے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان نے احساس پروگرام تو شروع کر دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان میں "انسان” پروگرام شروع کیاجائے جس پر انسانوں کی ذہنی سوچ پرکام ہونا چاہئےجس کے تحت انسانوں کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا جائے۔ میرا ایمان ہےجس دن ہم مکمل انسان بن جائیں گے پاکستان دن دُگنی رات چُگنی ترقی
    کرے گا

    غالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔

    بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا