Baaghi TV

Tag: islamabad

  • پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    پہلی ششماہی میں 10.21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    پہلی سہ ماہی میں بیرونی قرض اور سود کی مد میں 3.448 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں. سٹیٹ بنک

    رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان نے غیر ملکی قرض پر سود اور خالص قرض کی مد میں 10.216 ارب ڈالر ادا کیے ہیں جس میں سے لگ بھگ 19فیصد رقم سود کی مد میں ادا کی گئی۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں بیرونی قرض اور سود کی مد میں 3.448 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں جبکہ دوسری سہ ماہی میں بیرونی قرض اور سود کی مد میں 6.768 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔ خالص قرض کی مد میں 8.271 ارب ڈالر اور سود کی مد میں 1.945 ارب ڈالر ادا کیے گئے۔

    ادھر حکومت کی بجٹ سپورٹ کے لیے مقامی ذرائع سے قرض لینے کے رجحان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اعدادوشمار کے مطابق بینکنگ سیکٹر کی سب سے بڑی قرض خواہ حکومت وفاقی حکومت بن چکی ہے جبکہ بلند شرح سود اور سرمایہ کاری و تجارت کے لیے ناموافق حالات کی وجہ سے نجی شعبے قرضوں سے اجتناب کر رہا ہے۔

    جولائی تا مارچ وفاقی حکومت نے بجٹ سپورٹ کی مد میں 2 ہزار ارب روپے سے زائد کے قرضے لیے۔ رواں مالی سال جولائی تا مارچ تک بجٹ سپورٹ قرضوں کی مالیت 2ہزار 260 ارب روپے رہی۔ وفاقی حکومت نے بینکوں سے ایک ہزار 987 ارب روپے کے قرضے لیے جبکہ حکومت کی گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں قرض گیری 535 ارب روپے رہی تھی۔

    نجی شعبے نے اس عرصے میں 248 ارب روپے کے کاروباری قرضے حاصل کیے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں نجی شعبہ نے 911 ارب روپے کے قرضے لیے تھے۔ سرکاری اداروں نے 151 ارب روپے کے قرضے لیے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پبلک سیکٹر اداروں نے 18 ارب روپے کے قرضے لیے تھے۔

  • تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کامیاب، افغانستان نے سیریز 1-2 سے جیت لی

    تیسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کامیاب، افغانستان نے سیریز 1-2 سے جیت لی

    شارجہ میں ہونے والے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے 66 رنز سے کامیابی حاصل کرلی تاہم افغانستان نے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی جبکہ پاکستان کے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغان ٹیم 19 ویں اوورز میں 116 رنز بنا سکی اور اسے میچ میں 66 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور شارجہ میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔
    https://twitter.com/ACBofficials/status/1640378934444408843-

    پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز مایوس کن رہا اور محمد حارث ایک رن بنا کر آؤٹ ہوگئے، اس کے بعد طیب طاہر 10 رنز بنا کیچ ہوئے جبکہ عبداللہ شفیق سیریز میں کھاتا کھولنے میں کامیاب ہوگئے تاہم وہ بھی 23 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد صائم ایوب اپنی نصف سنچری مکمل نہ کرسکے اور 49 رنز پر کریم جنت کا شکار بنے، عماد وسیم 13، افتخار احمد 31 اور شاداب خان 28 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    گرین شرٹس نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے۔ افغانستان کی جانب سے مجیب الرحمن نے دووکٹیں حاصل کیں جبکہ محمد نبی، فضل حق فاروقی، راشدخان اور کریم جنت نے ایک ایک وکٹ لی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے 183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغان ٹیم کا آغاز مایوس کن رہا اور وقفے وقفے سے ان کی وکٹیں گرتی رہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    افغان ٹیم کو کوئی بھی بیٹرز پاکستان کی بولنگ کے سامنے مزاحمت نہ کرسکا اور یوں 19 ویں اوورز میں افغان ٹیم 9 وکٹوں پر 116 رنز بناسکی تاہم نجیب اللہ زادران ریٹائر ہرٹ ہونے کے باعث بیٹنگ کیلئے نہیں آئے، یوں پاکستان نے 66 رنز سے فتح حاصل کی۔ افغانستان کے عظمت اللہ عمر زئی 21 اور رحمان اللہ گرباز 18 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے شاداب خان اور احسان اللہ نے 3، 3 جبکہ عماد وسیم، زمان اور محمد وسیم نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ افغانستان نے سیریز میں 1-2 سے اپنے نام کی، یہ پاکستان کیخلاف افغانستان کی اولین سیریز فتح ہے۔ ابتدائی دو ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھی پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی تھی تاہم افغان بولرز نے پاکستان کو بڑا مجموعہ حاصل کرنے نہیں دیا تھا۔

  • گورنرسندھ  نے کم از کم اجرت 50ہزار روپے کرنے کی تجویز دے دی

    گورنرسندھ نے کم از کم اجرت 50ہزار روپے کرنے کی تجویز دے دی

    گورنرسندھ کی کم از کم اجرت 50ہزار روپے کرنے کی تجویز

    گورنرسندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ اس وقت شدید مہنگائی کے باعث سفید پوش خاندان بری طرح سے متاثر ہو چکا ہے دوسری جانب خود ساختہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اس لئے زائد منافع خوروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے اس ضمن میں پرائس کنٹرول انسپکٹر کے اختیارات ایڈمنسٹریٹرز کو بھی دیئے جائیں ۔

    انہوں نے گورنرہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں گورنرسندھ نے کہا کہ مہنگائی سے جہاں عام طبقہ متاثر ہے وہیں سرکاری ملازمین کے حالات بھی بہت ہی زیادہ خراب ہو چکے ہیں اس لئے وزیراعلیٰ سندھ کو ملازمین کی تنخواہوں میں 30سے 35فیصد اضافہ کے لئے خط لکھ رہا ہوں اسی طرح اگلے بجٹ میں کم از کم اجرت 50ہزار روپے کرنے کی بھی تجویز دے رہا ہوں مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غریب عوام کا سوچنا چاہئے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرنی چاہئے تاکہ وہ بھی سکھ کی سانس لے سکیں اور آسانی سے زندگی گزر بسر سکیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں غریبوں کیلئے تجاویز دی ہیں لہذا ان پر عمل کیا جانا چاہئے.

  • تھانہ رمنا میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ایک اور  مقدمہ درج

    تھانہ رمنا میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ایک اور مقدمہ درج

    تھانہ رمنا میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ایک اور مقدمہ درج

    عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر تھانہ رمنا میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ یہ مقدمہ تھانہ ترنول کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا اور مقدمہ میں‌لکھا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر ڈیوٹی پر معمور تھے تو 40 سے 50 افراد نعرے بازی کرتے ہوئے گروپ کی شکل میں آئے اور ان افراد نے پولیس کے ساتھ دھکم پیل کی شروع کردی جبکہ موقع سے 35 افراد کو گرفتار کیا گیا اور اس مقدمے میں کارسرکار میں مداخلت کی دفع شامل کی گئی ہیں.

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دیگر مقدمات میں 38 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے جب کہ عمران خان کی دونوں گاڑیاں حفاظتی حصار میں تھیں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    اسلام آباد پولیس ترجمان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کی کسی گاڑی کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے البتہ اس طرح کےوقوعہ کی رپورٹ موصول ہوئی تو پولیس تفتیش کرے گی۔ علاوہ ازیں ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ قانون کی برابری کی سطح پر عمل داری کو یقینی بنایا جائے گا، کسی کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہیں ہے، پولیس شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے کوشاں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    خیال رہے اسلام‌ آباد میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافض کر رکھا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر پولیس ایکشن لے رہے جبکہ دوسری طرف اسلام آباد پولیس نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی عمل میں لائی جائے گی تو پھر پولیس ضرور ایکشن لے گی.

  • میرے لیڈر نواز شریف ہیں مریم نواز نہیں؛  سابق وزیراعظم کا مبشر لقمان کے ساتھ تہلکہ خیز انٹرویو

    میرے لیڈر نواز شریف ہیں مریم نواز نہیں؛ سابق وزیراعظم کا مبشر لقمان کے ساتھ تہلکہ خیز انٹرویو

    سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی نے معروف اینکرپرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے لیڈر نواز شریف ہیں اور مریم نواز نے ابھی کام شروع کیا ہے اور انہیں اپنی لیڈر شپ منوانی ہے جبکہ میں نے ہمیشہ اپنی جماعت کو بھی کہا تھا کہ جب بھی جماعت کے اندر تبدیلی آئے گی تو وہ مریم نواز شریف ہی ہیں کیونکہ جو پارٹی قیادت کی شہزادی ہوتی ہے اس کا جماعت میں اثر ہوتا ہے اور پھر پاکستان میں ابھی اس طرح کا نظام نہیں ہے کہ خاندان کے علاوہ جماعت سے لوگ بھی آسکیں. انہوں نے مزید کہا میں نے پہلے سے کہا تھا کہ جب بھی جنریشن تبدیلی آئے گی تو میں نہیں رہ سکوں گا کیونکہ میں گزشتہ 35 سال سے نواز کا ساتھی ہوں.


    جب مبشر لقمان نے سوال کیا کہ آپ نے مسلم لیگ نواز چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ میں مسلم لیگ نواز نہیں چھوڑ رہا ہوں لیکن مریم نواز کی قیادت میں ہمارا ہونا منفی اثررکھے گا، کیونکہ ہمارا اس پارٹی کے اسٹرکچر کا حصہ رہنا ممکن نہیں ہے.
    https://www.youtube.com/watch?v=4mLpba4ZpA8
    سینئر اینکرپرسن نے مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اگر آج آپ وزیر اعظم ہوتے تو آپ کا وزیر خزانہ کون ہوتا تو سابق وزیر اعظم نے جواب دیا کہ میرے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ہوتے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں مفتاح اسماعیل بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں حالانکہ دونوں مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار بھی میرے دوست ہیں لیکن زاتی خیال یہ ہے اس حالات اسحاق ڈار کی جگہ مفتاح کو ہونا چاہئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

    ایک اور سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کل تو بینچ کو دیکھ کر فیصلے کی توقع اور اندازہ لگا لیا جاتا ہے ہ کیسا فیصلہ آئے گا جبکہ آج سے قبل جو ماضی میں ایک فیصلہ دیا گیا تھا (ان کا اشارہ نواز بارے فیصلے سے تھا) اس کا حساب کون دے گا؟ اور پھر اس کے بعد جو فیصلوں کی ایک لمبی قطار ہے جبکہ بیلنسنگ ایکٹ بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی خرابی کو دوسری خرابی سے دور نہیں کیا جاسکتا ہے البتہ ہاں ان فیصلوں کی درستگی کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے فیصلے ملک پر اثر چھوڑتے ہیں.

    ان یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے تاکہ عدلیہ ساکھ بحال ہو، علاوہ ازیں تحریک انصاف بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی معاشی پالیسیوں نے جڑیں کھوکھلی کردی تھیں اور ملک تباہی کے دہانے پر تھا لہذا ملک کو واپس بہتری کی طرف لانے میں لمبا عرصہ درکار ہے کیونکہ تحریک انصاف نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا تھا.

  • پاکستانی نژاد حمزہ یوسف اسکاٹ لینڈ کے پہلے مسلمان نئے فرسٹ منسٹر منتخب ہوگئے

    پاکستانی نژاد حمزہ یوسف اسکاٹ لینڈ کے پہلے مسلمان نئے فرسٹ منسٹر منتخب ہوگئے

    پاکستانی نژاد حمزہ یوسف اسکاٹ لینڈ کے پہلے مسلمان نئے فرسٹ منسٹر منتخب ہوگئے

    برطانیہ کی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہوگئی اور پاکستانی نژاد حمزہ یوسف اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کے نئے سربراہ منتخب ہوگئے جبکہ 37 سالہ حمزہ یوسف اسکاٹ لینڈ کے نئے فرسٹ منسٹر (اسکاٹش حکومت کے سربراہ) ہوں گے اور وہ کسی برطانوی سیاسی جماعت کے پہلے مسلمان اورپاکستانی نژاد لیڈر ہوں گے۔

    حمزہ یوسف گلاسگو کے علاقے پولک سے رکن اسکاٹش پارلیمنٹ ہیں۔ حمزہ یوسف کوایس ایم پی لیڈر شپ انتخابات کے دوسرے راؤنڈ میں 52.1 فیصد ووٹ ملے جبکہ ان کے مدمقابل کیٹ فوربز 47.9 فیصد ووٹ حاصل کرسکیں۔ حمزہ یوسف اسکاٹش پارلیمنٹ سے منگل کو اعتماد کا ووٹ لیں گے اور وہ فرسٹ منسٹر (اسکاٹش حکومت کے سربراہ) ہوں گے۔

    حمزہ یوسف کا اعتماد کا ووٹ لینا رسمی کارروائی ہے، وہ اسکاٹ لینڈ کے وزیرصحت کےطورپرخدمات انجام دے رہے تھے، انہیں اسکاٹش پارلیمنٹ کا کم عمرترین رکن ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ حمزہ یوسف پہلی بار2011 میں 26 سال کی عمرمیں اسکاٹش پارلیمنٹ کے رکن بنے، وہ اسکاٹش کابینہ میں وزیرٹرانسپورٹ، وزیرانصاف بھی رہ چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    حمزہ یوسف کے والد مظفریوسف کا تعلق پاکستان کے قصبے میاں چنوں سے ہیں۔ جبکہ خیال رہے کہ گزشتہ دنوں رشی سونک کنزرویٹیوپارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے تھے اور وہ پہلے ایشیائی نژاد برطانوی وزیراعظم ہیں، ان کے آبا و اجداد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

  • منصور عثمان اعوان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کردیا گیا

    منصور عثمان اعوان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کردیا گیا

    منصور عثمان اعوان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کردیا گیا

    صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے منصور عثمان اعوان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کردیا ہے۔ جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بیرسٹر شہزاد عطا الہٰی کا اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔ گزشتہ دنوں اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور اب صدر مملکت نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے۔

    ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے منصور عثمان اعوان کو اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کیا ہے۔ صدر نے تعیناتی کی منظوری آئین کے آرٹیکل 100 کے تحت وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

  • فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. امان اللہ کنرائی

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. امان اللہ کنرائی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے سپریم کورٹ کے سینئیر جج اپنے ماضی قریب و بعید کے نظائر کے تناظر میں آج سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کے اختلافی فیصلے کی روشنی میں چیف جسٹس کے شاہی اختیارات کا آئینی تعین کے لئے اس کے بغیر فل بنچ تشکیل دیں جو چیف جسٹس کے آئینی اختیارات کی آئین کے آرٹیکل 176 کے پس منظر میں تشریح کرے

    انہوں نے مزید کہا اس سے قبل 28 فروری 2023 کو بھی جناب جسٹس قاضی فائز عیسی و جناب جسٹس یحی آفریدی صاحب چیف جسٹس کی جانب سے بنچز کی تشکیل پر رجسٹرار آفس و سٹاف کی جانب سے کردار کو غیر آئینی قرار دیا جبکہ چیف جسٹس کو بالواسطہ نااھلی و مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے کے قریب پہنچا دیا اب آج 27 مارچ 2023 کے سپریم کورٹ کے دو معزز جج صاحبان کے آرڈر کو نظر انداز نہ کیا جائے اس مقصد کے لئے فوری فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی و مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے اس سلسلے میں اسد علی کیس PLD 1998 SC161 کے اندر رہنما اصول وضع شدہ ہیں جس میں سینئر Puisne جج کی ھدایت پر بنچ کی تشکیل ہوئی اور چیف جسٹس عہدے سے سبکدوش ہوئے.

    واضح رہے کہ پنجاب اور کے پی الیکشن کی تاریخ کے تعین کے حوالے سے لیے جانے والے سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کیس کے حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کا تفصیلی فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ ور جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ از خود نوٹس 4 ججز نے مسترد کیا، آرڈر آف کورٹ 3-4 کا فیصلہ ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے’ون مین پاور شو‘ کے اختیار پر نظرثانی کرنا ہوگی، سپریم کورٹ کو صرف ایک شخص کے فیصلوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا، وقت آگیاہےکہ چیف جسٹس آفس کا ’ون مین شو‘ کا لطف اٹھانےکاسلسلہ ختم کیا جائے، از خود نوٹس کے اختیار کے بارے میں فُل کورٹ کے ذریعے پالیسی بنانا ہوگی۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے از خود نوٹس لیا تھا اور ابتدائی طور پر اس پر 9 رکنی لارجر بینچ بنایا گیا تھا۔ لارجر بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔ تاہم سماعت کے دوران جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے تھے کہ میرے ازخود نوٹس سے متعلق کچھ تحفظات ہیں۔کچھ آڈیو سامنے آئی ہیں، آڈیو میں عابد زبیری کچھ ججز کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، ان حالات میں میری رائے میں یہ کیس 184/3 کا نہیں بنتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    بعد ازاں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے علاوہ جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی کیس سننے سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد پانچ رکنی بینچ نے چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی تھی۔ اس کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 90 روز میں الیکشن کرائے جائیں۔ تاہم اب الیکشن کمیشن نے 8 اکتوبر 2023 کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ لے گئی ہے جہاں اس کی سماعت جاری ہے۔

  • پی ٹی آئی  رہنما عثمان ڈار نے من پسند افراد کو ٹھیکے دیکر نوازا

    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے من پسند افراد کو ٹھیکے دیکر نوازا

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار پر من پسند افراد کو ٹھیکے دیکر نوازنے کا معاملہ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور انکے بھائی اینٹی کرپشن میں پیش ہوئے. جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار اور انکے بھائیوں نے اینٹی کرپشن کواپنا جواب جمع کروا دیا ہے. تفصیلات کے مطابق عثمان ڈار اور انکے بھائیوں نے اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات اینٹی کرپشن کو جمع کروا دی ہیں.

    جبکہ عثمان ڈار اور انکے بھائیوں نے بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی اینٹی کرپشن کو جمع کروا دی ہیں. عثمان ڈار اور انکے بھائیوں نے ایف بی آر گوشواروں کی تفصیلات بھی اینٹی کرپشن کو جمع کروا دی پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار پر پبلک ہیلتھ انجینرنگ ، ایم سی ایل ، ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کا الزام ہے.

    ذرائع کے مطابق عثمان ڈار ، عمر ڈار ، عامر ڈار نے کوئی بھی پروجیکٹ بغیر نقشہ منظوری کے ٹھیکہ پر دیا.ایس ڈی او نے الزام لگایا ہے کہ مجھ سے پانچ لاکھ روپے کے عوض میری ٹرانسفر کروائی گئی. پبلک ہیلتھ انجینرنگ کے ایس ڈی او جہانگیر بٹ کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ایس ڈی او پبلک ہیلتھ انجینرنگ جہانگیر بٹ کے خلاف مقدمہ درج ہے .
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عدالت ایک شخص کے فیصلوں پر انحصار نہیں کر سکتی. سپریم کورٹ ججز
    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم
    اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق ایک ٹھیکیددار نے عامر ڈار کی بیٹی کی شادی کا سارا خرچہ اٹھایا، اسی مقدمہ میں تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار اور انکے بھائیوں کی انکوائری کی جا رہی ہے .

  • جماعت اسلامی لاہور کا الیکشن کمیشن دفتر  کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    جماعت اسلامی لاہور کا الیکشن کمیشن دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ

    جماعت اسلامی لاہور کا الیکشن کمیشن دفتر کے باہر کورٹ سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرہ

    جماعت اسلامی لاہور کا الیکشن کمیشن دفتر کے باہر کورٹ سٹریٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجبکہ احتجاجی مظاہرہ 30 اپریل کو ہونے والے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی ہونے کیخلاف کیا گیا اور احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈوکیٹ نے کی ہے۔


    خیال رہے کہ احتجاجی مظاہرے میں سیکرٹری جماعت اسلامی لاہور خالد احمد بٹ ، نائب امراء لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد ، ملک شاہد اسلم کی شرکت کی ہے جبکہ صدر جے آئی یوتھ لاہور جبران بٹ ، ڈپٹی سیکرٹری لاہور عامر نثار خان کی شرکت اور امیدوار محمد وقاص بٹ ، میجر افتخار احمداعوان ،رانا سلمان ، چوہدری حسیب ، عامر نورخان ، سیف الرحمن ،زاہد شباب بٹ ،عبدالعزیز عابد بھی شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ مظاہرین نے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی اور حکومت اور الیکشن کمیشن کا انتخابات سے فرار سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی اور آئین شکنی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی آئین شکنی کرنے والوں کے خلاف ہر محاذ پر مذمت کریگی جبکہ بروقت قومی انتخابات ہی سیاسی اور قومی مسائل کا حل ہیں ۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی بدترین کارکردگی کی بنا پر انتخابات سے بھاگ رہی ہے اور حکمرانوں سے قوم پوچھتی ہے اگر زلزلہ کے باوجود ترکیہ میں انتخابات ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں ؟ جبکہ الیکشن میں تاخیر کر کے پی ڈی ایم حکومت آئین سے انحراف کر رہی ہے جو قابل مذمت ہے ۔ اور ظالم حکمرانوں نے اپنے وقتی مفادات کی خاطر آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔

    علاوہ ازیں کرپٹ اور نااہل حکمرانوں نے اقتدار کی جنگ میں ملک و قوم کا مستقبل داؤپر لگادیا ہے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈر ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کیلئے سوچیں۔ اور سیاسی معاملات کو عدالتوں میں گھسیٹنے کی بجائے پارلیمنٹ میں مشاورت کی جائے لیکن ملک میں واحد جماعت اسلامی نے عوام کے سامنے انقلابی منشور پیش کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے جھنڈے اور انتخابی نشان ترازو کے ساتھ انتخابات میں جائیں گے جبکہ کرپشن فری اسلامی فلاحی پاکستان ہماری منزل ہے اور جماعت اسلامی نے انتخابات کیلئے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے ۔