Baaghi TV

Tag: islamabad

  • احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس؛ 63.82 ارب روپے کے مالیت کے گیارہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس؛ 63.82 ارب روپے کے مالیت کے گیارہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

    احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس؛ 63.82 ارب روپے کے مالیت کے گیارہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی

    سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس میں 63.82 ارب روپے کے مالیت کے گیارہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی ، چیف اکانومسٹ، ممبران پلاننگ کمیشن اور مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جبکہ فورم نے وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن، وزارت مواصلات، وزارت ریلوے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن ایچ ای سی سے متعلق گیارہ منصوبوں پر غور کیا۔جن منصوبوں کو فورم نے منظور کیا ان میں 909.285 ملین روپے کی لاگت سے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور سپورٹ منصوبہ، لاہور سیالکوٹ موٹر وے لنک ہائی وے، 4-لین جسکی لاگت 371,39.000 ملین روپیہ، ڈھڈیال بائی پاس ڈسٹرکٹ چکوال کی تعمیر جس کی لاگت 1174.962 ملین روپے ہے، 438.112 ملین روپے کی لاگت سے پائیدار ترقی کے لیے انٹیگریٹڈ انرجی پلاننگ آئی ای پی ، شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، لاہور میں ریڈیولاجی ڈیپارٹمنٹ کی اپ گریڈیشن، جسکی لاگت 1372.800 ملین روپے ہے ،

    پاکستانی یونیورسٹیوں کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام جسکی لاگت 7142.000 ملین روپے ہے ، انسٹی ٹیوٹ آف پروگریسو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، میران شاہ شمالی وزیرستان کا قیام جسکی لاگت 2000.000 ملین روپے ہے، نیشنل پولیس ہسپتال جسکی لاگت 6479.879 ملین روپے ہے، عطا آباد جھیل سے وسطی ہنزہ کے لیے 1270.866 ملین روپے کی لاگت سے گریٹر واٹر سپلائی سکیم اور پنجاب میں سستی رہائشی سکیم کے ٹیکنیکل اسسٹنس سنٹرز جن کی لاگت 3000.000 ملین روپے ہے کے منصوبے شامل ہیں۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے 909.285 ملین روپے کی لاگت سے چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور سپورٹ پروجیکٹ کی منظوری دی۔

    اس منصوبے میں پاکستان ریلویز کے ایم ایل ۔ 1 پر سی پیک سرگرمیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے وزارت ریلوے میں پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ( پی ایم یو) اور لاہور میں پروجیکٹ امپلیمینٹیشن یونٹ (پی آئی یو) قائم کیا جائے گا۔ یہ سرگرمیاں بنیادی طور پر پروجیکٹ کی سرگرمیوں کی نگرانی پر مشتمل تھیں۔ فورم نے 1174.962 ملین روپے کی لاگت سے ڈھڈیال بائی پاس ڈسٹرکٹ چکوال کی تعمیر کی بھی منظوری دی۔ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی وزارت اس منصوبے کی سرپرستی کرنے والی ایجنسی ہے۔ اس منصوبے میں مندرہ چکوال روڈ کو جوڑنے والی 6.5 کلومیٹر کی تعمیر چک بیلی روڈ پر فلائی اوور کی تعمیر ہو گی۔

    اس سڑک کی تعمیر سے ایک ماحول دوست اسکیم کی ترقی میں مدد ملے گی، جس کے تحت موجودہ ٹریفک اور مستقبل کے متوقع ٹریفک کو بہترین سطح کی خدمت کے ساتھ پورا کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پراجیکٹ کے علاقوں میں معیشت کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے 6479.879 ملین روپے کی لاگت سے نیشنل پولیس ہسپتال کی منظوری بھی دی۔ وزارت داخلہ اس منصوبے کی سرپرستی کرنے والی ایجنسی ہے۔ اس منصوبے میں اسلام آباد پولیس کے 12000 اہلکاروں اور آئی سی ٹی کی عام آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 100 بستروں پر مشتمل ہسپتال کے قیام کا قیام ہو گا۔

    منصوبے کے دائرہ کار میں آٹھ منزلہ ہسپتال کی عمارت کی تعمیر، طبی آلات کی خریداری، بیرونی ترقیاتی کام اور پی ایم یو کے قیام کے لیے سول ورک شامل ہے۔ مزید برآں، شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، لاہور میں 1372.800 ملین روپے کی لاگت سے ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ کی اپ گریڈیشن کی بھی فورم نے منظوری دی ہے ۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اس منصوبے کی سرپرستی کرنے والی ایجنسی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    اس منصوبے میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، لاہور کے شعبہ ریڈیولوجی کی اپ گریڈیشن کے ذریعے نئے آلات کی خریداری اور پرانے ریڈیولاجی آلات کو تبدیل کیا جائے گا۔سی ڈی ڈبلیو پی نے 7142.000 ملین روپے کی لاگت سے پاکستانی یونیورسٹیوں کے لیے فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام اور 2000.000 ملین روپے کی لاگت سے میران شاہ شمالی وزیرستان میں انسٹی ٹیوٹ آف پروگریسو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کی بھی منظوری دی۔ ایچ ای سی اس منصوبے کی سرپرستی کرنے والی ایجنسی ہے۔

  • شہریت چھوڑنے والے افراد کی تعداد کیوں بڑھنے لگی؟

    شہریت چھوڑنے والے افراد کی تعداد کیوں بڑھنے لگی؟

    شہریت چھوڑنے والے افراد کی تعداد کیوں بڑھنے لگی ؟
    پاکستان کی شہریت چھوڑ کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک خصوصاً یورپی ممالک کی شہریت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بڑھنے لگی۔ نجی ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے دستاویزات کے مطابق 2015 سے لے کر اب تک 25ہزار 240پاکستانیوں نے اپنی شہریت ترک کی ہے۔

    شہریت ترک کرنے والوں میں 670 انجینئرز اور 350 ڈاکٹروں نے شہریت ترک کی جبکہ 330 تاجر بھی شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں میں 50 فیصد سے زائد نے 3 یورپین ممالک کی شہریت حاصل کی۔ اس عرصے کے دوران 8 ہزار 600 پاکستانیوں نے جرمنی کی شہریت اختیار کی، 2 ہزار 781 شہری اسپین جبکہ 2 ہزار 268 افراد ناروے کی شہریت حاصل کرچکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    دستاویزات کے مطابق 8 سال کے دوران 1290 افراد نے برطانیہ جبکہ 158 افراد پاکستان کی شہریت چھوڑ کرامریکن شہری بن گئے۔ 2 ہزار 781 شہری اسپین کی شہریت اختیار کرچکے۔ علاوہ ازیں حیران کن طور پر 3 ہزار 700 افراد نے بھارت کے شہریت اختیار کی جبکہ ایک ہزار 716 پاکستانیوں نے چینی شہریت بھی حاصل کی۔ جبکہ دستاویزات کے مطابق پچھلے سال 2 ہزار 878 پاکستانیوں نے جبکہ 2200 سے زائد پاکستانیوں نے 2021 میں شہریت ترک کی۔ 2144 افراد نے 2020 میں شہریت ترک کی۔

  • بریک ڈاؤن انکوائری; سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وزارت توانائی کو آخری وارننگ دے دی

    بریک ڈاؤن انکوائری; سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وزارت توانائی کو آخری وارننگ دے دی

    بریک ڈاؤن پر انکوائری; سینیٹ قائمہ کمیٹی نے وزارت توانائی کو آخری وارننگ دے دی
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے وزارت توانائی کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کے بریک ڈاؤن پر محکمانہ انکوائری کیوں نہیں کی جارہی؟، آئندہ اجلاس تک انکوائری کمیٹی تشکیل نہ دیئے جانے پر معاملہ نیب یا ایف أئی اے کے حوالے کرنے کی دھمکی بھی دیدی۔

    سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی پاور کمیٹی کے اجلاس میں حالیہ بریک ڈاؤن پر کمیٹی ہدایات کے باوجود محکمانہ انکوائری کمیٹی نے بنانے پر ارکان نے پاور ڈویژن حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جبکہ چیئرمین کمیٹی نے وزیر مملکت کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا 5 ہفتے گزر گئے، کمیٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے، ارکان نے بلوچستان میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ پر احتجاج کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    ارکان نے کہا کہ 90 فیصد بلوچستان میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، سیلاب میں تباہ گھروں کو بھی ابھی تک بلز بھیجے جارہے ہیں۔ سیکریٹری پاور نے یقین دہانی کروائی کہ رپورٹ تیار کرکے ممبران کے تحفظات دور کئے جائیں گے۔

  • سندھ حکومت کا ترکیہ، شام کے زلزلہ متاثرین کےلیے دواؤں کا عطیہ

    سندھ حکومت کا ترکیہ، شام کے زلزلہ متاثرین کےلیے دواؤں کا عطیہ

    سندھ حکومت کا ترکیہ، شام کے زلزلہ متاثرین کےلیے دواؤں کا عطیہ

    محکمہ صحت سندھ نے ترکیہ اور شام کے زلزلہ متاثرین کےلیے دواؤں کا عطیہ دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ صحت سندھ ڈاکٹر جمن باہوتو نے وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو کی ہدایت پر دوائیں ترکیہ کے ڈپٹی قونصل جنرل کے حوالے کیں۔

    زلزلہ متاثرین کےلیے عطیہ کی گئی دواؤں میں جان بچانے والے اور دیگر ضروری 48 مختلف اقسام کے انجکشن اور دوائیں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ترکیہ اورشام کے زلزلہ متاثرین کے لیے وفاقی حکومت اور افواج پاکستان کی کاوشیں جاری بھی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    اس سے قبل زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے پاک بحریہ کا جہاز ایک ہزار ٹن سے زائد سامان لے کر ترکیہ روانہ ہوگیا۔ امدادی سامان میں ہزاروں خیمے،کمبل، خشک راشن، ادویات، ملبوسات اورجنریٹرز شامل ہیں۔

  • کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بالرز نے شاندار بالنگ کراتے ہوئےلاہور کو 148پر اۤل اۤؤٹ کیا

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بالرز نے شاندار بالنگ کراتے ہوئےلاہور کو 148پر اۤل اۤؤٹ کیا

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بالرز نے شاندار بالنگ کراتے ہوئےلاہور کو 148پر اۤل اۤؤٹ کیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 8 کے 18 ویں میچ میں لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو جیت کے لئے 149 رنز کا ہدف دیا ہے۔ جبکہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جانے والے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔


    کوئٹہ کے بالرز نے شاندار گیند بازی کرتے ہوئے لاہور قلندرز کے بلے بازوں پر اننگ کے اۤخر تک دباؤ ڈالے رکھا۔ تاہم سکندر رضا نے دلیرانہ بیٹنگ کرتے ہوئے عمدہ کھیل پیش کیا۔ سکندر رضا نے 34 بالز پر 71 رنز بنائے۔ ان کی دلکشن اننگ میں 3 چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔ لاہور قلندرز کی پوری ٹیم 148 رنز بناکر بیسویں اوورز میں ڈھیر ہوگئی اور جیت کےلئے کوئٹہ کو 149 رنز کا ہدف دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    مودی نے عالمی اداروں کو دنیا کے بڑے چیلنجز کے حل میں ناکام قرار دے دیا
    پاکستان میں غربت بھارت کےمقابلے میں بظاہر نہیں نظر آتی،جاوید اختر
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    کوئٹہ کی جانب سے محمد نواز اور نوین الحق نے 2، 2 کھلاڑیوں کو اۤؤٹ کیا۔ نسیم شاہ، عمید اۤصف اور اوڈین اسمتھ نے ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔ لاہور کے کپتان شاہین شاہ اۤفریدی، فخر زمان اور زمان خان رن اۤؤٹ ہوئے۔

  • پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات ازخود نوٹس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ نے پنجاب، خیبر پختونخواہ انتخابات تاخیر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ فیصلہ آج 11 بجے سنایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل تھے۔

    ابتدائی طور پر 22 فروری کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی درخواست پر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لیے 9 رکنی لارجربینچ تشکیل دے دیا تھا تاہم 24 فروری کو 9 رکنی لارجربینچ سے 4 اراکین کے خود الگ ہونے کے بعد 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کی۔

    جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے سماعت سے معذرت کرلی تھی۔

    عدالت عظمیٰ کا آج سامنے آنے والا فیصلہ طے کرے گا کہ صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی صورت میں صدر مملکت، گورنر، یا الیکشن کمیشن آف پاکستان میں سے کس آئینی ادارے کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔

    گزشتہ روز پورے دن جاری رہنے والی سماعت کے بعد بینچ نے تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر مختصر حکم سنانے کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں فیصلہ آج بروز بدھ تک محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے علاوہ کسی کو انتخابی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، ٹھوس وجوہات کا جائزہ لیکر ہی عدالت حکم دے سکتی ہے، الیکشن بروقت نہ ہوئے تو استحکام نہیں آئے گا، حکومت کی نیک نیتی پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے، پہلی بار ایسی صورتحال ہے کہ کنٹینر کھڑے ہیں لیکن زرمبادلہ نہیں ہے۔

    اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میں دلائل دینے کے لیے تیار ہوں ۔ اور اعتراض اٹھایا کہ عدالتی حکم میں سے سپریم کورٹ بار کے صدر کا نام نکال دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو ادارے کے طور پر جانتے ہیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جو عدالت میں لکھوایا جاتا ہے وہ عدالتی حکمنامہ نہیں ہوتا۔ جب ججز دستخط کردیں تو وہ حکمنامہ بنتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر عابد زبیری نے دلائل شروع کیے تو جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوے دن کا وقت اسمبلی تحلیل کیساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کیا نگران وزیراعلی الیکشن کی تاریخ دینے کی ایڈوائس گورنر کو دے سکتا ہے؟ کیا گورنر نگران حکومت کی ایڈوائس مسترد کر سکتا ہے۔

    وکیل عابد زبیری نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دینے کا اختیار گورنر کا ہے وزیر اعلی کا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ عابد زبیری درخواست گذار کے وکیل ہیں بار کی نمائندگی نہیں کرسکتے، جس پر عابد زبیری نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا وکیل ہوں کسی سیاسی جماعت کا نہیں، سپریم کورٹ ماضی میں قرار دے چکی ہے انتخابات 90 روز میں ہی ہونے ہیں،

    عابد زبیری وکیل اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے کہا کہ سیف اللہ کیس میں 12 ججز نے انتخاب کے عمل کو لازمی قرار دیا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 48 کہتا ہے کہ صدر کا ہر عمل اور اقدام حکومت کی سفارش پر ہوگا، آیا موجودہ حکومت یا سابقہ حکومت انتخابات کے اعلان کا کہے گی؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے مطابق الیکشن کی تاریخ دینا ایڈوائس پر ہوگا۔

    عابد زبیری نے کہا کہ آئین میں اسمبلی کی تحلیل کے چار طریقے بتائے گئے ہیں۔ جسٹس منیب نے کہا کہ نگران حکومت تو 7 روز بعد بنتی ہے، آئین کی مختلف شقوں کی آپس میں ہم آہنگی ہونا ضروری ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پنجاب کے کیس میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کیا گورنر نے نہیں۔ عابد زبیری نے کہا آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق عدم اعتماد ایڈوائس پر یا پھر 48 گھنٹوں میں حکومت ختم ہوسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق آج بھی حکومت گورنر سے انتخاب کا کہہ سکتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر حکومت کی تاریخ کے حوالے سے ایڈوائس آجائے تو گورنر کیسے انکار کرسکتا ہے۔

    عابد زبیری نے کہا کہ پنجاب میں 22 جنوری کو نگران حکومت آئی تھی، نگران حکومت کا اختیار روزمرہ کے امور چلانا ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر اور گورنر معاملہ میں کابینہ کی ایڈوائس کے پابند ہیں، کیا الیکشن کی تاریخ صدر اور گورنرز اپنے طور پر دے سکتے ہیں؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نگران حکومت کی تعیناتی اور الیکشن کی تاریخ پر گورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر بولے کہ جہاں صوابدیدی اختیار ہو وہاں کسی ایڈوائس کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن کون کرے گا؟

    عابد زبیری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کا نوٹیفکیشن سیکرٹری قانون نے جاری کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گورنر کہہ رہا ہے کہ اسمبلی میں نے تحلیل نہیں کی۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ تاریخ دینے کی بات کا ذکر صرف آئین کے آرٹیکل 105 (3) میں ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ حکومت کے انتخاب کی تاریخ دینے پر کوئی پابندی نہیں۔ عابد زبیری نے کہا کہ اتنے دنوں سے اعلان نہیں کیا گیا۔

    چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں حکومت آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہی؟ نوے روز میں الیکشن کرانا آئین کی روح ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں گے آئینی نکات پر معاونت کریں۔ عابد زبیری نے دلائل دیے کہ وقت کے دبائو میں اگر اسمبلی ٹوٹ جائے تو صدر مملکت تاریخ دے گا، میرا موقف ہے کہ انتخاب کی تاریخ دینا صدر مملکت کا اختیار ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مشاورت میں وسائل اور حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر الیکشن کمیشن انتحابات کرانے سے معذوری ظاہر کرے کیا پھر بھی گورنر تاریخ دینے کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے کہا کہ گورنر ہر صورت تاریخ دینے کا پابند ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر کے پاس تاریخ نہ دینے کا کوئی اختیار نہیں، گورنر الیکشن کمشن کے انتطامات مدنظر رکھ کر تاریخ دے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے کیا صدر کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر کوئی فیصلہ کرسکتا ہے؟۔

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ صدر کے اختیارات آئین میں واضح ہیں۔ صدر ہر کام کے لیے ایڈوائس کا پابند ہے۔ عابد زبیری نے موقف اپنایا کہ صدر مملکت ہر کام کے لیے ایڈوائس کے پابند نہیں۔ صدر ہر وہ اختیار استعمال کرسکتے ہیں جو قانون میں دیا ہوا ہو۔ انتحابات کی تاریخ پر صدر اور گورنر صرف الیکشن کمیشن سے مشاورت کے پابند ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صدر بطور سربراہ مملکت ایڈوائس پر ہی فیصلے کرسکتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ گورنر جب بھی تاریخ دے گا 52 دنوں کا مارجن رکھا جائے گا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صدر کے اختیارات برارہ راست آئین نے نہیں بتائے، آئین میں اختیارات نہیں تو پھر قانون کے تحت اقدام ہوگا، قانون بھی تو آئین کے تحت ہی ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اب تو آپ ہم سے پوچھنے لگ گئے ہیں کہ کرنا کیا ہے، صدر مملکت کس قانون کے تحت چٹھیاں لکھ رہے ہیں؟۔

    عابد زبیری نے جواب دیا کہ صدر مملکت نے مشاورت کیلئے خط لکھے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں تو کہیں مشاورت کا ذکر نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ اگر مان لیا قانون صدر مملکت کو اجازت دیتا ہے پھر صدر ایڈوائس کا پابند ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نگران حکومت بھی تاریخ دینے کا کہہ سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو سن کر فیصلہ کریں گے صدر کو مشاورت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ انتخابات 90 روز سے آگے کون لیکر جا سکتا ہے یہ الگ بات ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمشن گورنر کی تاریخ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اگر 85 ویں دن الیکشن کا کہے تو الیکشن کمیشن 89 دن کا کہہ سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گورنر کو اسی وجہ سے الیکشن کمیشن سے مشاورت کا پابند کیا گیا ہے، صدر ہو یا گورنر سب ہی آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر الیکشن کی تاریخ صرف قومی اسمبلی تحلیل ہونے پر دے سکتے ہیں، دوسری صورت میں ملک بھر میں انتخابات ہوں تو ہی صدر تاریخ دے سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کے صوابدیدی اور ایڈوائس پر استعمال کرنے والے اختیارات میں فرق ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر اسمبلی تحلیل کے اگلے دن انتخابات کا کہہ دے تو الیکشن کمیشن نہیں مانے گا۔ جسٹس منیب اختر بولے کہ گورنر نے الیکشن ایکٹ کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت میں موقف اپنایا کہا الیکشن 90 روز میں ہی ہونے چاہئے اور الیکشنز کو 90 روز سے آگے نہیں لیکر جانا چاہیے، گورنر پنجاب کا موقف ہے الیکشن کمیشن خود تاریخ دے، گورنر نے انٹرا کورٹ اپیل میں کہا ہے کہ ان سے مشاورت کی ضرورت نہیں اور الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ وہ ازخود تاریخ کیسے دے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا ہائیکورٹ میں 14 دن کا وقت کیوں مانگا گیا؟۔ بطور اٹارنی جنرل آپ کیس شروع ہوتے ہی مکمل تیار تھے، ایسے کون سے نکات تھے جس کی تیاری کیلئے وکلا کو 14 دن درکار تھے، ہائیکورٹ میں تو مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنا چاہیے تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ صدر نے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 ون کا استعمال کیا ہے اگر صدر کا اختیار نہیں تو سیکشن 57 ون غیر موثر ہے،اگر سیکشن 57 ون غیر موثر ہے تو قانون سے نکال دیں-

    اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ میرے حساب سے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ دے سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ دو یا چار دن اوپر ہونے پر آرٹیکل 254 لگ سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ استفسار کیا کہالیکشن کمیشن کی انتخابات کی تیاری کیا ہے جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا انتخابی مہم کا دورانیہ کم نہیں کیا جاسکتا،وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت کوبتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے وقت درکار ہوتا،انتخابی مہم کا دورانیہ دو ہفتے تک کیا جاسکتا ہے-

    جسٹس منیب نے کہا کہ آئین پر عمل کرنا زیادہ ضروری ہے اٹارنی جنرل نے کہااگر انتخابات 90 دن میں ہی ہونا لازمی ہیں تو 1988 کا الیکشن مشکوک ہوگا؟2008کا الیکشن بھی مقررہ مدت کے بعد ہوا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تاریخ دے گا کون؟الیکشن کمیشن کی تاریخ آنے پر ہی باقی بات ہوگی-

    جسٹس منیب اختر نے کہاآپ بطور اٹارنی جنرل قانون کا دفاع کرنے کی بجائے اس کے خلاف بول رہے ہیںجسٹس محمد علی مظہر بولے کہ سیکشن 57 ون ختم کردیں تو الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن کمیشن انتخاب تاریخ کا اعلان کرے الیکشن کمیشن کہہ سکتا ہے 14 اپریل تک الیکشن ممکن نہیں،ٹھوس وجوہات کے ساتھ الیکشن کمیشن فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کسی نے ابھی تک تاریخ ہی نہیں دی سب کچھ ہوا میں ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس 90 روز سے تاخیر کا اختیار کہاں سے آیا؟ جھگڑا ہی سارا 90 روز کے اندر الیکشنز کرانے کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ٹھوس وجوہات پر آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا کہ تاریخ کا اعلان کئے بغیر آرٹیکل 254 کا سہارا کیسے لئے جاسکتا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا قانون واضح نہیں تو کیسے کہیں الیکشن کمشن غلطی کررہا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نوے دن سے تاخیر پر عدالت اجازت دے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ نہ سمجھیں عدالت کسی غیر آئینی کام کی توسیع کرے گی، آرٹیکل 254 کا جہاں اطلاق بنتا ہوا وہاں ہی کریں گے۔سپریم کورٹ میں ایک موقع پر سیاسی جماعتوں کو الیکشن کی تاریخ پر مشاورت کیلئے بھی کہا گیا۔ چیف جسٹس نے شیری رحمن اور فواد چودھری کو روسٹرم پر بھی بلایا اور استفسار کیا کہ کیا ان کی جماعتیں مشاورت پر تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تھا۔

    یاد رہے کہ 12 جنوری کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کر دیے تھے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے وزیراعلیٰ کی جانب سے ارسال کی گئی سمری پر دستخط نہیں کیے تھے، جس کے بعد صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں میں از خود تحلیل ہوگئی تھی۔

    بعدازاں 18 جنوری کو گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کیے تھے دونوں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے لیے تاریخ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پی ٹی آئی نے 27 جنوری کو پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن سے صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے مشاورت کی تھی تاہم اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، گورنر پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر کی تھی اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

    دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا حکم دینے سے متعلق درخواستوں پر ای سی پی سے الیکشن شیڈول طلب کرلیا تھا۔

  • جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا معاملہ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا-

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمہ میں عمران خان، مراد سعید، علی نواز اعوان، فرخ حبیب، شبلی فراز کو نامزد کیا گیا-

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں حسان نیازی، عامر کیانی، شہزاد وسیم، راجہ بشارت، واثق قیوم، میاں اسلم اقبال، غلام سرور خان، حماد اظہر و دیگر قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ 25 افراد گرفتار کرلیے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنماء ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، پی ٹی آئی کارکنان نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئےکھل کر حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ بھاری نفری کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان پیشی کیلئے ریلی کی صورت میں زمان پاک لاہور سے بذریعہ موٹروے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے موٹروے پر جگہ جگہ چیئرمین تحریک انصاف کا استقبال کیا گیا۔ زیروپوائنٹ سے کارکنوں کی ایک بڑی ریلی ٹول پلازہ اسلام آباد پہنچی جہاں سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہا ریلی میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی بھی کی۔

    عمران خان کی انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی، پارٹی کارکنوں کی جانب سے کمپلیکس کے اندرونی حصے میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بدترین بدنظمی ہوئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور علاقہ سیل کرنے کے باوجود وکلاء ہائی کورٹ کا دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے میڈیا کو داخلے سے روک دیا-

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، عدلیہ کی توہین کی، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا، توشہ خانہ کیس میں بھی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود عدم پیشی پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر داخل ہوئے، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں غنڈہ گردی کی گئی ہے اور جوڈیشل کمپلیکس کی بطور ادارے کی توہین کی گئی ہے لہٰذا توڑ پھوڑ کرنے، عدلیہ کی عزت و تکریم کو سبوتاژ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے، پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کا وقت ملزم خود مقرر کر رہا ہے، دوسری طرف ایک عام آدمی چند منٹ تاخیر پر پہنچے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آج توشہ خانہ کیس میں پہلے 9 بجے، پھر 11 بجے اور پھر عمران خان پیش ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔قانون کا احترام نہ کرنے، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

  • ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آج سے آغاز

    ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آج سے آغاز

    ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آج سے آغاز، پاک فوج کے 86 ہزار افسران و جوان سیکیورٹی ذمہ داریاں نبھائیں گے.

    ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز آج یکم مارچ سے ہورہا ہے پاک فوج کے 86 ہزار افسران و جوان سیکیورٹی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ ادارہ شماریات حکام کہتے ہیں تمام اہم عمارتوں اور تنصیبات کی جیو ٹیگنگ ہوگی سندھ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو طریقۂ کار پر کوئی اعتراض نہیں، ساتویں مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر ہی نئی حلقہ بندیاں اور پھر عام انتخابات ہوں گے۔

    پاکستان میں کتنے افراد بستے ہیں اور گھروں کی تعداد کتنی ہے ملک میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرنے کیلئے فیلڈ ورک یکم مارچ سے شروع ہوگا. ایک لاکھ 21 ہزار شمار کنندگان ملک بھر کے 495 شماریاتی اضلاع میں گھر گھر جائیں گے، ادارہ شماریات نے انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ رکن ادارہ شماریات محمد سرور گوندل کا کہنا ہے کہ آپ کا شمار کنندہ جب آپ کے گھر جائے گا تو آپ کے گھر کو ٹیبلٹ کے ساتھ جیو ٹیگ کرے گا، ہر انومریٹر کے ساتھ ہمارا پولیس کا جوان ہوگا اور آؤٹر باؤنڈری آرمی فورسز تعینات ہوں گی۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خود شماری کے ذریعے لاکھوں افراد اپنی تفصیلات پہلے ہی آن لائن جمع کرا چکے، یہ سلسلہ 3 مارچ تک جاری رہے گا، ڈیجیٹل مردم شماری میں اکنامک سنسز فریم ورک کی تیاری بھی شامل ہے۔ ساتویں مردم شماری کی مجموعی لاگت 34 ارب روپے ہے، جس میں سے تقریباً ساڑھے 7 ارب روپے سیکیورٹی پر خرچ ہوں گے، مردم شماری کے ابتدائی نتائج کا اجراء 30 اپریل کو مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری سے ہوگا۔

  • 7 ماہ میں برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی

    7 ماہ میں برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی

    7 ماہ کے دوران برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی.

    رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں مالیاتی خسارے میں اضافہ ہوگیا۔ برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال جولائی سے جنوری کی معاشی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی سے جنوری ترسیلات زر 11 فیصد کم ہو کر 16 ارب ڈالر رہیں، سرکاری اخراجات میں 19.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق جولائی سے جنوری قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 77 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے. جولائی سے جنوری مہنگائی کی شرح 25.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، وفاق کے اخراجات 6382 ارب روپے تک جا پہنچے۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے جنوری تک سرمایہ کاری 44 فیصد کمی کے ساتھ 68 کروڑ 35 لاکھ ڈالر رہی۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    گزشتہ جولائی سے دسمبر ٹیکس آمدن میں 18.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جولائی سے جنوری برآمدات 7.4 فیصد کم ہوکر 16.4 ارب ڈالر پر رہیں جولائی سے جنوری درآمدات 20.9 فیصد کم ہو کر 33.5 ارب ڈالر رہیں۔

  • مبینہ بیٹی کو ظاہرنہ کرنے پر عمران خان کیخلاف نااہلی کیس کی  سماعت کل ہوگی

    مبینہ بیٹی کو ظاہرنہ کرنے پر عمران خان کیخلاف نااہلی کیس کی سماعت کل ہوگی

    مبینہ بیٹی کو ظاہرنہ کرنے پر عمران خان کیخلاف نااہلی کیس کی سماعت کل ہوگی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں مبینہ بیٹی ٹیریان کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت کل ہو گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی سربراہی میں لارجربینچ کل سماعت کرے گا۔ 3 رکنی لارجربینچ میں جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس ارباب طاہرشامل ہیں۔

    عمران خان نے وکیل سلمان اکرم راجا کے ذریعے متفرق درخواستیں ہائیکورٹ میں دائر کردی ہیں۔ درخواستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی7 نشستوں پرحلف نہ لینے کا الیکشن کمیشن کو لکھا خط اور قومی شناختی کارڈ اپ ڈیٹ کرنے کیلئے ڈی جی نادرا کو لکھا خط بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہیں۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    علاوہ ازیں توشہ خانہ ریفرنس کے فوجداری کارروائی کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو عدالت نے آج طلب کر رکھا تھا۔پیش نہ ہونے پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سیشن کورٹ پیش نہیں ہوئے جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال نے وارنٹ جاری کیے . سیشن جج ظفر اقبال نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کو بار بار موقع دیا لیکن وہ پیش نہ ہوئے، لہٰذا وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کیا جائے۔ کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کر دی گی۔