Baaghi TV

Tag: islamabad

  • اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کوجلد مکمل کیا جائے:وزیراعظم شہبازشریف

    اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں کوجلد مکمل کیا جائے:وزیراعظم شہبازشریف

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر آج جائزہ اجلاس منعقد ہوا.

    اجلاس میں وزیرِ اعظم نے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے حوالے سے بھی تفصیلات طلب کیں. وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے سی ڈی اے نے 10 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے جس سے سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ، سیوریج کا نظام اور سڑکوں کی تعمیر و بحالی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.

    اجلاس کو بارہ کہو بائی پاس، 7th ایونیو انٹرچینج، مارگلہ ایونیو، 11th ایونیو، IJP روڈ، اسلام آباد ایکپریس وے، اور پارکنگ پلازہ کے جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ بارہ کہو بائی پاس پر 24 گھنٹے کام جاری ہے. وزیرِ اعظم نے بارہ کہو بائی پاس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کر دی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ بارہ کہو بائی پاس عوامی نوعیت کا اہم منصوبہ ہے جس کی تعمیر میں کسی قسم کا تعطل قبول نہیں کیا جائے گا. اجلاس کو بتایا گیا کہ 7th ایونیو انٹر چینج اور مارگلہ ایونیو منصوبے مکمل ہوچکے ہیں. IJP روڈ کا توسیعی منصوبہ 23 مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا. مزید برآں 11th ایونیو اور اسلام آباد ایکسپریس وے کا فیز ون رواں سال کے وسط جبکہ بلیو ایریا پارکنگ پلازہ اور ایکسپریس وے کا فیز ٹو رواں سال کے آختتام تک مکمل کرلئے جائیں گے.

    اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے ٹرانسپورٹ کے فیڈر روٹس اور بس ٹرمینل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ سی ڈی کی جانب سے بین الاقوامی معیار کا ایک نیشنل بس ٹرمینل اور 3 سیٹلائٹ ٹرمینل بنائے جائیں گے جس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری ہوگی. اسکے علاوہ 90 دن میں بسوں کے 13 فیڈر روٹس شروع کئے جا رہے ہیں جبکہ چار فیڈر روٹس اس وقت کام کر رہے ہیں. اسلام آباد کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ کے قریب لوگ معیاری سفری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں.

    وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں پارکنگ کے مسائل کے حل کیلئے سی ڈی اے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا. مزید برآن سی ڈی اے F8, F10, G9, 1-8 اور بلیو ایریا میں پارکنگ پلازے بنا رہی ہے. 5000 گاڑیوں کی پارکنگ کی استعداد سے یہ پارکنگ پلازے شہر میں پارکنگ کے مسئلے کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے.

    چیئرمین سی ڈی اے نے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے رہائشی منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی. وزیرِ اعظم نے ہدایت دی کہ ان منصوبوں کو بین الاقوامی معیار پر لانے کیلئے ان میں بہترین سہولیات میسر کی جائیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں. ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے نظام کو شفاف اور خودکار بنایا جائے. منصوبوں کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا تعطل قبول نہیں کیا جائے گا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سابقہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری، سابقہ ارکانِ اسمبلی حنیف عباسی، انجم عقیل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ہے

  • ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانے کی استدعا مسترد

    ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد:ممنوعہ فنڈنگ کیس؛عمران خان کی ویڈیو لنک پرحاضری لگوانےکی استدعا مستردکردی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نےممنوعہ فنڈنگ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو28فروری کوبینکنگ کورٹ کےروبرو پیش ہونےکاحکم دےدیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی اورجسٹس طارق محمود جہانگیری پرمشتمل 2 رکنی بینچ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کے لئے اپیل پرسماعت کی۔دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹروں کے مطابق زائد العمری کے باعث زخم بھرنے کا عمل سست ہے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں زخموں کے اصل ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا، یہ اعتراض عمران خان کیلئے کافی ڈسٹربنگ (پریشان کُن)تھا۔عمران خان کے وکیل کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ ناکافی ہے، عمران خان کو صرف ٹانگ میں تھوڑا سا کھنچاؤ ہے۔

    جس پر جسٹس محسن اختر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہتے ہیں یہ زخم اصل نہیں،میڈیکل رپورٹس جعلی ہیں؟،اگر آپ زخم کے میرٹس پر جارہے ہیں تو پھر میڈیکل بورڈ بنانا ہوگا، ُس بورڈ کی رپورٹ آنے تک پھر عمران خان ضمانت پر رہیں گے، وہ ایک پیشی کا استثنیٰ مانگ رہے ہیں آپ 6 ماہ کا دلوانے لگے ہیں۔

    جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کو ان ہی میڈیکل رپورٹس پر 9 بار استثنیٰ ملا۔دوران سماعت اسپیشل پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان ابھی تک کیس میں شامل تفتیش بھی نہیں ہوئے۔

    جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی اے کے سامنے شامل تفتیش ہونے کی ہمیشہ رضامندی دکھائی، ایف آئی اے کو کہتے رہے کہ آکر تفتیش کر لیں مگر یہ نہیں آئے، یہ 25 فروری کو پیشی کا کہہ رہے ہیں ہم 3 مارچ کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔

    فریقین کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 28 فروری کے روز بینکنگ کورٹ پیشی کا حکم دے دیا۔ 28 فروری تک عمران خان کی ضمانت کے فیصلے پر حکم امتناع برقرار رہے گا۔

    یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی بینکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس زیر سماعت ہے۔گزشتہ سماعت پر عدالت نے مسلسل عدم پیشی پر عمران خان کی درخواست ضمانت منسوخ کردی تھی۔عمران خان کے وکلا نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر اعلیٰ عدلیہ کا 2 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

  • سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے          معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سائفرتحقیقات کامطالبہ مسترد:ایگزیکٹوکے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے:جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کے لئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔سائفر تحقیقات کے لئے اپیلیں ایڈووکیٹ ذوالفقاربھٹہ، سید طارق بدر اور نعیم الحسن نے دائر کی تھی، رجسٹرار سپریم کورٹ نے اپیلیں اعتراض عائد کرتے ہوئے واپس کر دی تھیں، درخواست گزاروں نے رجسٹرار آفس کے اعترضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواستوں پر عائد اعتراضات کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔

    دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا فارن افیئرز ڈیل کرنا عدالت کا کام ہے ؟ جس وقت ساٸفر سامنے آیا وزیراعظم کون تھا؟ جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، عمران خان نے بطور وزیر اعظم سائفر جلسے میں لہرایا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ بطوروزیراعظم عمران خان کےپاس تحقیقات کروانے کے تمام اختیارات تھے، کیا بطور وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر تحقیقات کا کوئی فیصلہ کیا؟ وزیراعظم کے ماتحت تمام اتھارٹیز ہوتی ہیں، اس سائفر کے معاملے میں عدالت کیا کرے؟۔

    درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سائفر کی تحقیقات بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سائفر سے آپ کی اور میری زندگیوں پر کیا اثر پڑا ؟ اس کیس میں بنیادی حقوق کا کوئی معاملہ نہیں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت اگر چاہے تو دنیا بھر کے ساٸفر پبلک کر سکتی ہے، کوٸی دوسرا ایسا کرے گا تو سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔فاضل جج صاحب نے ریمارکس دیئے کہ تحقیقات کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ایگزیکٹو کے معاملات میں عدلیہ مداخلت نہیں کرسکتی، جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے۔وکلا کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے سائفر معاملے کی تحقیقات کیلئے دائر تینوں اپیلیں مسترد کردیں۔

  • کے پی میں انتخابات کیلیے دائر درخواست پرالیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل سے جواب طلب

    کے پی میں انتخابات کیلیے دائر درخواست پرالیکشن کمیشن اور اٹارنی جنرل سے جواب طلب

    پشاور: خیبر پختون خوا میں 90 دن میں انتخابات کے لیے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28 فروری تک جواب طلب کرلیا۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈوکیٹ جنرل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ صدر پاکستان نے 9 اپریل کی تاریخ کا اعلان کیا ہے جس کے بعد یہ رٹ غیر موثر ہوگئی ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ صدر نے تاریخ دے دی یہ بات کی بات ہے کہ اس پر عمل درآمد ہوتا ہے یا نہیں لیکن ایک تاریخ آ گئی ہے اور مزید دوسری تاریخ ابھی نہیں دی جا سکتی تاہم ہم اس ضمن میں وفاقی حکومت سے بھی جواب طلب کریں گے کہ کیا وہ صدر کے احکامات پر عمل کرتے ہیں یا نہیں۔

    جسٹس ارشدعلی نے کہا کہ اب تو صدر صاحب نے تاریخ دی ہے، دو تاریخ تو نہیں ہوسکتی۔ ہم اب الیکشن کمیشن سے پوچھیں گے کہ اب کیا ہوگا، ہم نے الیکشن کمیشن سے شیڈول طلب کیا ہے اور یہ شیڈول دیں گے۔عدالت میں موجود الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا اور ہم نے مشاورت نہیں بلکہ ہم نے اختلاف کیا، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن صدر سے کسی طرح اختلاف کرسکتا ہے؟

    عدالت نے اگلی پیشی پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ الیکشن کمیشن سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔

  • گندم اورآٹے کی قیمتیں پھربڑھنے کا امکان

    گندم اورآٹے کی قیمتیں پھربڑھنے کا امکان

    لاہور: پنجاب میں محکمہ خوراک نے نگراں حکومت کو سرکاری گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے لیے 4 تجاویز ارسال کردیں۔تجاویز میں سرکاری گندم کی قیمت فروخت میں730 سے1100 روپے فی من تک اضافے کا کہا گیا ہے جب کہ 20 کلو سرکاری آٹے کی پرچون قیمت میں 360 سے625 روپے تک اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔

    صوبے میں سرکاری گندم کی موجودہ قیمت 2300 روپے فی من مقرر ہے جب کہ 20 کلو سرکاری آٹے کے تھیلے کی موجودہ قیمت 1295 اور 10 کلو قیمت 648 روپے ہے۔

    محکمہ خوراک نے گندم کی نئی قیمت فروخت 3030 روپے اور 20 کلوسرکاری آٹے کی قیمت 1655 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ گندم کی نئی قیمت 3150 روپے اور سرکاری آٹا تھیلا قیمت 1740 روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی ارسال کی گئی ہے۔

    تجاویز کے مطابق گندم کی نئی قیمت3300 روپے اور سرکاری آٹے کے تھیلے کی قیمت1848 روپے مقرر کرنے کا کہا گیا ہے۔ گندم کی قیمت فروخت 3400 روپے اور سرکاری آٹے کی قیمت 1920 روہے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں گندم کی موجودہ قیمت 2300 روپے برقرار رکھتے ہوئے سرکاری آٹے کے تھیلے کی نئی قیمت 1134 روپے تجویز کی گئی ہے۔

    نگراں کابینہ پیش کردہ تجاویز میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی ممکنہ نئی امدادی قیمت 4ہزار ہونے اور اوپن مارکیٹ کی قیمت کا فرق کم کرنے کے لیے اضافہ ناگزیر ہے۔

  • پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    کراچی: پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمیں کوخوشخبری سنادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ خوشخبری ان ملازمین کےلیے ہے جوبہتر اور مستقل روزگار کے تلاش میں امید رکھتے تھے ،اس حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرزکی تنظیم کی طرف سے ایک تقریب کاانعقاد بھی کیا گیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں‌اہم شخصیات کو دعوت نامے بھی بھیجے جارہےہیں اور ان کو اس اہم تقریب میں شمولیت کی دعوت بھی دی جارہی ہے،ایک ایسا ہے دعوت نامہ پروفیسرقادرخان مندوخیل کے نام بھیجا گیاہے جوکہ ملازمین کی فلاح وبہبود کےلیے پہلے ہی کوشاں ہیں ،

    اس دعوت نامے میں‌کہا گیا ہے کہ 26 فروری بروز اتوار سول ایوی ایشن کلب سٹارگیٹ کے نزدیک ایک تقریب ہورہی ہے جس میں‌ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعوکیا جاتا ہے ، یہ تقریب زیادہ طویل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹوں پر مشتمل ہوگی اور دوپہرایک بجے شروع ہوجائے گی ،

    اس دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اس تقریب میں غیرمستقل ، کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز اوردیگرغیرمستقل ملازمین کو مستقل کیے جانے کے حوالے سے اہم اعلان متوقع ہے اورآپ ملازمین کی بحالی ترقی اورخوشحالی کے لیے کوشاں ہیں آپ کی آمد ہمارےلیے باعث مسرت ہوگی

  • نپولین کا انجام یاد رکھیں:میکرون کو ماسکو کی دھمکی

    نپولین کا انجام یاد رکھیں:میکرون کو ماسکو کی دھمکی

    پیرس:ماسکو نے فرانس کے صدر امانوئل میکرون سے خطاب میں کہا ہے کہ جب آپ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو نپولین کا انجام یاد رکھئے گا۔یوکرین کی جنگ میں روس کی شکست کے بارے میں فرانس کے صدر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ماسکو کو نپولین بوناپارٹ کا انجام آج بھی یاد ہے۔

    ماسکو نے اتوار کو "یوکرائن کی جنگ میں روس کی شکست” کے بارے میں امانوئل میکرون کے الفاظ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو نپولین بوناپارٹ کا انجام اب بھی یاد ہے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر پر کریملن کے بارے میں فریبکارانہ سفارت کاری کا الزام عائد کیا۔فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے ہفتہ وار جریدے Le Joguenal de Dimas) ) سے انٹرویو میں کہا کہ پیرس بھی چاہتا ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں شکست ہو لیکن ان کے ملک کا موقف کبھی بھی روس کو کچلنے یا اس کی سرزمین پر حملہ کرنے کا نہیں رہا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ فرانس کی شروعات میکرون سے نہیں ہوئی اور نپولین کی باقیات، جن کا قومی سطح پر احترام کیا جاتا ہے، پیرس کے وسط میں باقی ہیں۔” فرانس اور روس کو اس کو درک کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ عمومی طور پر میکرون مضحکہ خیز ہیں، ان کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب، روس میں حکومت کی تبدیلی کے بارے میں بات چیت میں شامل رہا ہے، جبکہ میکرون نے بارہا روسی قیادت سے ملاقات کی کوشش کی ہے۔

    22 جون 1812 کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین بوناپارٹ نے مسلح فوج کے ساتھ روس پر حملہ کیا لیکن اسے جان لیوا سردی، بیماری اور بھوک کا سامنا کرنے کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑا تھا۔ اس ذلت آمیز شکست کے بعد، جس کے نتیجے میں ہزاروں فرانسیسی فوجی مارے گئے، وہ مزید حملوں کی تیاری کے لیے واپس پیرس چلا گیا لیکن حریف ممالک نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرانسیسی فوج پر حملہ کر کے فرانسیسی سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔

  • کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے قریب کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ایس پی بارکھان نے جیو نیوز کو بتا یا کہ بارکھان کے علاقے حاجی کوٹ کے نواح میں واقع کنویں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ برآمد شدہ لاشوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے لگ بھگ ہیں ،تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے جبکہ خاتون کے چہرے کو تیزاب ڈال کر مسخ کیا گیا ہے۔

    لاشیں شناخت کیلئے ڈی ایچ کیو اسپتال بارکھان منتقل کردی ہیں جہاں ان کا طبی معائنہ کر کے رپورٹ تیار کی جائے گی۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ٹی ایل پی کا ہڑتال کا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ٹی ایل پی کا ہڑتال کا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر ٹی ایل پی کا ہڑتال کا اعلان

    تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ٹی ایل پی کے امیر حافظ سعدرضوی اور نائب امیر پیر ظہیر الحسن نے اپنے بیان میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق الٹی میٹم مکمل ہو گیا۔

    نائب امیر ٹی ایل پی پیر سید ظہیر الحسن شاہ نے کہا کہ 27 فروری بروز پیر کو ملک بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال ہو گی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل ہی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 22 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ جبکہ وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گراتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 22 روپے سے زائد کا اضافہ کر دیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    طالبان کا امریکی فوجی اڈوں کو اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
    چیٹ جی پی ٹی نے نریندر مودی کودنیا کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک قرار دیا
    کھمبے سے باندھ کر لوہے کی راڈ گرم کرکے جسم کے مختلف حصوں میں لگانے کی ویڈیو وائرل
    امریکی سائفر کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    عدالت نے عمران خان کی دوسری درخواست نمٹا دی
    دو گھنٹے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد عمران خان عدالت پیش، پانچ منٹ کی سماعت، عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ سنا دیا
    وفاقی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے 20 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 20 پیسے اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 68 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے مٹی کے تیل کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں