Baaghi TV

Tag: islamabad

  • ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ

    ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ ہوئے،قومی ادارہ صحت
    قومی ادارہ صحت(این آئی ایچ) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے17نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کورونا وائرس سے متاثرہ 10مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔ این آئی ایچ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4ہزار462کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے17ٹیسٹ مثبت آئے اور اس دوران کورونا ٹیسٹ کی مثبت شرح 0.38 فیصد رہی۔ اس دوران کورونا وائرس سے کوئی مریض جاں بحق نہیں ہوا جبکہ 10مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ملک بھر کے مختلف شہروں میں24گھنٹوں کے دوران کیے گئے۔

    جبکہ ٹیسٹوں میں اسلام آباد میں483ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے کوئی بھی ٹیسٹ مثبت نہیں آیا اور شرح 0.00فیصد ، پشاور میں226ٹیسٹوں میں سےایک ٹیسٹ مثبت اور شرح 0.44فیصد جبکہ لاہور میں531ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 2ٹیسٹ مثبت آئے اور وہاں پر شرح 0.38فیصد رہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی

    یاد رہے کہ گزشتہ روز ومی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 4 ہزار 462 کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ این آئی ایچ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 ہزار 462 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 17 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

  • ڈاکٹر عاصم  نے 17 ارب  کرپشن سے متعلق نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست کردی

    ڈاکٹر عاصم نے 17 ارب کرپشن سے متعلق نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست کردی

    ڈاکٹر عاصم حسین نے 17 ارب کرپشن سے متعلق نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست کردی

    ڈاکٹر عاصم حسین نے 17 ارب کی کرپشن سے متعلق نیب ریفرنس سے بریت کی درخواست کردی۔ سابق وفاقی مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین و دیگر جے جے وی ایل میں 17 ارب روپے کے کرپشن ریفرنس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے ریفرنس سے بریت کے لیے درخواست دائر کردی۔

    ریفرنس سے بریت کی درخواست پر عدالت نے آئندہ سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی، جس میں وکلا بریت کی درخواست پر اپنے دلائل دیں گے۔ احتساب عدالت میں پیشی کے بعد غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ ملک سخت ترین حالات سے گزر رہا ہے، اب وہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہوکر فیصلے لیے جائیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    انہوں نے کہا کہ معاملہ منی بجٹ سے حل نہیں ہوگا، ہمیں اپنے اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ عوام کو سمجھنا پڑے گا کہ ہم کس مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک بہت ہی سخت حالات کی طرف جا رہا ہے۔ ہم نے ٹھیک اقدامات نہ کیے تو حالات سنگین ہوں گے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر فیصلے لیے جائیں۔

  • محمد علی بندیال کے ناول ‘آئی ڈریم آف رین’ کی تقریب رونمائی

    محمد علی بندیال کے ناول ‘آئی ڈریم آف رین’ کی تقریب رونمائی

    محمد علی بندیال کے ناول ‘آئی ڈریم آف رین’ کی تقریب رونمائی

    پاکستانی سفارتخانہ ابو ظہبی میں محمد علی بندیال کے ناول ‘آئی ڈریم آف رین’ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا ۔ پاکستانی سفارتخانہ ابو ظہبی کے پریس سیکشن سے جاری پریس ریلیز کے مطابق نوجوان پاکستانی ادیب محمد علی بندیال کے ناول کو ایمریٹس لٹریچر فیسٹیول کیلئے منتخب کیا گیا ہے ناول کی تقریب رونمائی کے موقع پر متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کتاب مصنف کے تخلیقی ادب کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قومی اور علاقائی زبانوں میں بہترین ادب تخلیق کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ادیب نا صرف قومی اور علاقائی زبانوں میں ادب تخلیق کر رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی انتہائی اعلیٰ قسم کا ادب تخلیق کیا جا رہا ہے جس کو دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ علاقائی اورقومی زبان میں ادب کی اپنی اہمیت ہے تاہم انگریزی زبان میں تحریر کردہ ادبی فن پاروں کو بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نثر اورشاعری کسی بھی ثقافت کو دنیا میں متعارف کرانے کا ایک موثر ذریعہ ہے ، پاکستان کی ثقافتی تاریخ 7ہزار سال قدیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین انڈس سول لائیزیشن اور گندھارا تہذیب کی امین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا خطہ موہنجوداڑو ، ہڑپا تہذیبوں اور تخت بھائی میں بدھ مت کی قدیم تاریخ سمیت مغل سلطنت کی نشانیوں بادشاہی مسجد سمیت شاہی قلعہ لاہور کی بھی وارث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں دنیا بھر کی 8 ہزار میٹر سے بلند 5 پہاڑی چوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک 70 سے زیادہ زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    محمد علی بندیال نے کہا کہ یہ زبانیں ادبی خزانوں کی امین ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نوجوان ادیب کی تخلیق کو بہترین تاریخی اور ثقافتی ادب کا نمونہ قرار دیتا ہوں۔ تقریب رونمائی میں مختلف ممالک کے سفارت کاروں ، کاروباری و تاجر برادری اور میڈیا سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

  • صدر پاکستان نے شفا اسپتال کو مریض کا 29 لاکھ روپے کا بل واپس کرنے کا حکم دے دیا

    صدر پاکستان نے شفا اسپتال کو مریض کا 29 لاکھ روپے کا بل واپس کرنے کا حکم دے دیا

    صدر پاکستان نے شفا اسپتال کو مریض کا 29 لاکھ روپے کا بل واپس کرنے کا حکم دے دیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کو 29 لاکھ روپے کی رقم شہری کو واپس کرنے کی ہدایت جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے جاری احکامات میں کہا گیا ہے کہ مریض کی موت اسپتال کے ڈاکٹرز کی طبی غفلت اور پیشہ ورانہ بدانتظامی کی وجہ سے ہوئی۔صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اسپتال پر 9 لاکھ روپے کے جرمانے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف ہیلتھ اتھارٹی کی درخواست مسترد کر دی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    حکم میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں ایسے ہی کیس میں شفا اسپتال پر نہ صرف جرمانہ عائد کیا گیا بلکہ میڈیکل بل واپس کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔ شکایت کنندہ (مرحومہ کی بیٹی) کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ قانون کا مقصد تب ہی پورا ہوتا ہے جب شکایت کنندہ کو اسپتال کی طرف سے کسی غفلت پر ریلیف فراہم کیا جائے۔ تاہم اس حکم کو سوشل میڈیا صارفین نے بھی سراہا ہے اور کئی صارفین نے تو کہا کہ یہ اسپتال نہیں بلکہ کاروباری اڈے ہیں.

  • شاہد افریدی کا دور بطور چیف سلیکٹر

    شاہد افریدی کا دور بطور چیف سلیکٹر

    شاہد افریدی کا دور بطور چیف سلیکٹر

    معروف کھیلاڑی شاہد افریدی کو گزشتہ سال دسمبر میں چیف سلیکٹر تعینات کیا گیا تھا جبکہ بتایا گیا تھا کہ کرکٹ بورڈ کی مینجمینٹ کمیٹی نے سابق ٹیسٹ کرکٹر شاہد آفریدی کو کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا عبوری طور پر چیئرمین تعینات کیا تھا پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق سلیکشن کمیٹی کے دیگر ممبران میں سابق کرکٹرز عبدالرزاق سمیت راؤ افتخار انجم بھی شامل تھے جبکہ ہارون رشید کنوینر بنائے گئے.

    تاہم صارفین نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے عارضی طور پر عہدہ سنبھالنے والے شاہد آفریدی کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کے نئے سربراہ کے لیے ہارون رشید کو منتخب کیا گیا جبکہ واضح رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید اس سے قبل بھی ماجد خان کے دور میں چیف سلیکٹر رہ چکے ہیں۔ اور ہارون رشید کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں اور سلیکٹرز کے درمیان رابطے کا فقدان رہا ہے کھلاڑیوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیوں منتخب ہوئے ہیں اور کیوں نہیں ہوئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عہدہ اعزاز کی با ت ہے۔

    ایک صارف نے پی سی بی پر تنقید کی کہ شاہد افریدی کو اگر عارضی یا وقتی طور پر چیف سلیکٹر بنانا تھا تو اس کا کیا فائدہ ہے؟ لیکن خود شاہد افریدی نے اس پر کہا تھا کہ "مجھے فخر ہے کہ پی سی بی کی مینجمینٹ کمیٹی نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے اور میں اس کو نبھانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاؤں گا۔”
    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی


    شاہد افریدی نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی عہدیداران چاہتے تھے میں چیف سلیکٹر رہوں مگر میں اپنی مصروفیات کے سبب مزید اس عہدہ کو جاری نہیں سکتا تھا لہذا میں نے خود بہتر سمجھا کہ مجھے یہ عہدہ چھوڑ دینا چاہئے. جبکہ اس حوالے سے ایک صارف نے کہا کہ شاہد افریدی کا بطور چیف سلیکٹر دور پر کوئی تبصرہ کرنا اس لیئے بھی بہتر نہیں کیونکہ وہ بہت کم مدت کیلئے چیف سلیکٹر رہے لیکن اس میں بھی انہوں نے جو فیصلے کیئے وہ اچھے تھے لیکن مزید وہ رہتے تو بہتری ہوسکتی تھی.

  • پشاور زلمی کی ٹیم  سعودی عرب کی قومی کرکٹ ٹیم سے میچ کھیلے گی،جاوید آفریدی

    پشاور زلمی کی ٹیم سعودی عرب کی قومی کرکٹ ٹیم سے میچ کھیلے گی،جاوید آفریدی

    پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے تصدیق کی ہے کہ زلمی کی ٹیم سعودی عرب کی قومی کرکٹ ٹیم سے میچ کھیلے گی۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں جاوید آفریدی نے بتایا کہ انہوں نےریاض میں سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل سے ملاقات کی جس میں انہوں نے زلمی اورسعودی کرکٹ ٹیم کےدرمیان مقابلے کے امکان پر بات چیت کی جلد پشاور زلمی کی ٹیم سعودی عرب کا دورہ کرے گی اور ساتھ ہی قومی ٹیم کے ساتھ کھیلے گی-


    پشاور زلمی نے اس حوالے سے بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ جاوید آفریدی نے شہزادہ سعود بن مشعل کو سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے پشاور زلمی کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔


    اس کے علاوہ جاوید آفریدی نے سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو پاکستان میں پی ایس ایل کے میچز دیکھنے کی بھی دعوت دی اور زلمی کی ٹی شرٹ بھی بطور تحفہ پیش کی-

    آئی سی سی نےامپائر آف دی ایئر2022 کا اعلان کردیا

    واضح ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا آغاز 13 فروری کو لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے مابین میچ سے ہو گا۔ 34 میچز پر مشتمل ایونٹ کے 11 میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے، پی ایس ایل سیزن 8 کے 9 میچز لاہور، 9 کراچی اور 5 ملتان میں کھیلے جائیں گے۔ پی ایس ایل 8 میں ٹوٹل 36 غیرملکی کھلاڑی شرکت کریں گے۔

    لاہور قلندرز، کراچی کنگز، ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں ہوم گراؤنڈز پر5 ،5 میچز کھیلیں گی جبکہ ٹورنامنٹ کا فائنل 19 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، ٹورنامنٹ کے دوران ویمنز کرکٹ کے 3 نمائشی میچز بھی کھیلے جائیں گے،پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب ملتان میں ہو گی جبکہ پی ایس ایل کا پہلا لیگ ملتان اور دوسرا کراچی میں ہو گا۔

    بابر اعظم آئی سی سی کرکٹر آف دی ائیر بن گئے

  • اس سال پی ایس ایل 8 میں نیا کیا ہوگا؟

    اس سال پی ایس ایل 8 میں نیا کیا ہوگا؟

    اس سال پی ایس ایل 8 میں نیا کیا ہوگا؟

    جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے آٹھویں ایڈیشن کا شیڈول فائنل کر لیا گیا ہے جس کے مطابق ملتان میں افتتاحی تقریب کے ساتھ ایونٹ کا آغاز 13فروری سے ہوگا اور پہلے میچ میں قلندرز اور سلطانز ٹکرائیں گے جبکہ میچز کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں بھی کھیلے جائیں گے اور پھر اس کا فائنل 19مارچ کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    جبکہ خبریں یہ بھی ہیں کہ انگلینڈ کے لیگ اسپنر کھیلاڑی عادل رشید اور اس کے علاوہ بیٹر ہیری بروک اس بار پاکستان سپر لیگ کے اس 8ویں ایڈیشن میں شائقین کو نظر نہیں آئیں گے جبکہ اس سال پی ایس ایل میں نیا یہ ہے کہ اس سے قبل پاکستانی کرکٹ شائقین یہ میچ دیکھنے کیلئے غیر ملک جاتے تھے مگر اب شیڈول کے مطابق اب یہ تمام میچ پاکستان میں ہی ہونگے.

    اس قبل دبئی میں پی ایس ایل کے میچ ہوئے تھے کیونکہ پاکستان میں اس وقت سیکورٹی خدشات تھے اور باہر کے بہت سارے نام ور کرکٹ کے کھیلاڑی اس خطرے کی وجہ سے پاکستان آنے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے تھے جس کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ میچز اپنے ملک سے باہر کرانے پڑتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوا جبکہ تمام پاکستان اب اپنے پاکستانی کھیل کے میدانوں میں یہ میچز ٹی وی کے بجائے براہ راست دیکھ سکیں گے.


    مزید یہ بھی پڑھیں
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی


    کرکٹ وکٹ ویب کے مطابق آئیندہ پی ایس میں انگلینڈ کے وکٹ کیپر اور بلے باز سیم بلنگز بھی پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرتے ہوئے کھیلیں گے. مزید براں لاہور قلندرز نے ہیری بروک، راشد خان، اور جارڈن کاکس کی جگہ شین ڈیڈسویل، کوسل مینڈس اور احسن بھٹی کو بھی سائن کیا ہے جو پہلے تین میچز نہیں کھیل سکیں گے۔

  • اسلام آباد سے کراچی جانے والی گرین لائن ایکسپریس نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    اسلام آباد سے کراچی جانے والی گرین لائن ایکسپریس نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سکھر: گرین لائن ایکسپریس نے تیز رفتاری میں اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد سے کراچی جانے والی گرین لائن ایکسپریس نے اپنے پہلے ہی دن نیا ریکارڈ بنا دیا 19 کوچز پر مشتمل مسافر ٹرین گرین لائن ایکسپریس مقررہ وقت سے 10 منٹ پہلے روہڑی اسٹیشن پہنچ گئی۔

    ریلوے حکام کے مطابق گرین لائن ٹرین کے افتتاح کے بعد پہلے ہی روز بکنگ بھی 70 فیصد رہی۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش ،پہاڑوں پربرف برفباری کا امکان

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز چائنیز کوچز پر مشتمل گرین لائن ایکسپریس کا افتتاح کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ریلوے انتظامیہ نے انتہائی محنت سے گرین لائن کا احیاء کیا ہے-

    اس موقع پر سعد رفیق کا کہنا تھا کہ گرین لائن میں بہترین سفری سہولیات دی جائیں گی احسن اقبال نے کہا تھا کہ گرین لائن سروس کسی بھی جہاز کی بزنس کلاس سے کم نہیں ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گرین لائن کے دوبارہ آغاز پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی تھی-

    گرین لائن ٹرین گرین لائن کراچی سے رات دس بجے چلا کرے گی، اگلی دوپہر سوا دو بجے لاہور سٹاپ کرے گی اور رات سوا آٹھ مارگلہ پہنچے گی مارگلہ سے کراچی جاتے وقت سفر کا آغاز سہ پہر تین بجے ہو گا، رات آٹھ بجے ٹرین لاہور رکے گی جبکہ اگلے روز دوپہر دو بج کر بیس منٹ پر کراچی پہنچے گی۔

    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان…

  • بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے.

    جنوری بروز پیر نیشنل گرڈ میں ہونے والی ایک تباہ کن خرابی نے پورے پاکستان کو بجلی سے محروم کردیا، جس سے امور زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے، کاروبار ٹھپ ہوگئے اور اربوں کا نقصان ہوا ۔ اس ملگ گیر پاور بریک ڈاؤن نے توانائی کے پرانے بنیادی ڈھانچے کی قلعی کھول دی۔ اب اس حوالے سے نیشنل ٹرانسمیشنز اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بلیک آؤٹ ہوا کیسے تھا۔ چوبیس جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ میں اس بدترین بلیک آؤٹ کی وضاحت کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کمپنی نے تسلیم کیا کہ سسٹم پروٹیکشن مکینزم (نظام کے تحفظ کے طریقہ کار) پے در پے پونے والی ٹرپنگ کو روکنے میں ناکام رہا۔ حالانکہ حکام نے اسی رات بجلی بحالی کا عمل شروع کردیا تھا، اس کے باوجود زیادہ تر علاقوں میں بلیک آؤٹ 12 گھنٹے، جب کہ کچھ علاقوں میں اس سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔ سارے معاملے سے نمٹنے کے بعد بلیک آؤٹ کی بندش کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

    جب آپ کسی ڈیوائس جیسے استری یا لیپ ٹاپ چارجر آن کرتے ہیں تو یہ الٹرنیٹ کرنٹ کا استعمال کرتے ہیں، یعنی بجلی مثبت اور منفی وولٹیج کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ بجلی کی اس بدلتیی حرکت کو الیکٹریکل فریکوئنسی (برقی تعدد) کہا جاتا ہے۔ ہرٹز (Hz) میں ماپی جانے والی ”گرڈ فریکوئنسی“ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جو ہر سیکنڈ میں الٹرنیشن سائیکل ہونے کی تعداد بتاتی ہے۔ فی الحال، 50 ہرٹز سب سے زیادہ مروجہ فریکوئنسی ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے زیادہ تر پاور سسٹمز میں استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ آپ کے گھر، فیکٹری یا دفتر میں موجود آلات کو 50 ہرٹز کے اندر چلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے ہماری بجلی فراہمی کی فریکوئنسی کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وولٹیج یا فریکوئنسی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ہم اپنے آلات بند کردیتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان آلات کے خراب ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اگر بجلی کی ضرورت، پیداوار سے میل نہ کھائے تو گرڈ پر بجلی کی فریکوئنسی متاثر ہو سکتی ہے۔
    اس دن ہوا کیا تھا؟

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، “سسٹم فریکوئنسی 50 کے بجائے 50.75 ہرٹز (Hz) تک پہنچ گئی تھی جس سے شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہوا، اور اس کی وجہ سے ٹرانسمیشن لائنوں پر لوڈ اور وولٹیج میں فرق آیا۔ نتیجے میں ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں، اور شمالی اور جنوبی نظام کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (ایچ وی ڈی سی) سسٹم بلاک ہو گیا۔ وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزارت کے ابتدائی بیانات کے مطابق، سسٹم کو ”فریکوئنسی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک بڑا بریک ڈاؤن ہوا“۔ جو کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ فریکوئنسی بڑھی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر توانائی خرم دستگیر نے بتایا کہ ”موسم سرما میں، ملک بھر میں بجلی کی طلب کم ہو جاتی ہے، اس لیے، معاشی اقدام کے طور پر، ہم رات کے وقت اپنے بجلی پیدا کرنے کے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں۔“ لیکن جب 23 جنوری کی صبح پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کیا گیا تو جنوبی پاکستان دادو اور جامشورو کے درمیان کہیں ”فریکوئنسی میں تغیر اور وولٹیج کا اتار چڑھاؤ“ پیدا ہوا۔ نتیجتاً، ”بجلی پیدا کرنے والے یونٹ ایک ایک کر کے بند ہو گئے۔“

    وزارت توانائی کا یہ بیان این ٹی ڈی سی کی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، بنیادی طور پر اگر بجلی کی طلب سپلائی سے زیادہ ہو تو فریکوئنسی کم ہو جائے گی۔ لیکن جب اضافی سپلائی ہوتی ہے تو فریکوئنسی بڑھ جاتی ہے۔ اب اگر ہم اس سمجھ بوجھ پر چلیں تو سسٹم اس لئے ٹرپ کر گیا کیونکہ وہاں بجلی کی زیادہ سپلائی تھی، اور وزیر توانائی کے یہ دعوے کہ فریکوئنسی میں کمی کی وجہ سے سسٹم ٹرپ ہو گیا، غلط ہے۔ رپورٹ نے بلیک آؤٹ کے لیے مقرر پیمانے کو بھی نکار دیا، واقعے سے قبل کل پیداوار 11,356 میگاواٹ اور فریکوئنسی 50.31 ہرٹز تھی۔ واقعہ کے وقت 23 جنوری کو ٹھیک 7:34 بجے فریکوئنسی 50.57 ہرٹز تک پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ایک سلسلہ وار رد عمل ہوا جس میں 500 کلو واٹ سپلائی کی بڑی لائنیں ٹرپ کر گئیں۔

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ بلیک آؤٹ کی صبح بڑھتی ہوئی بجلی بندش سے پہلے فریکوئنسی اعلیٰ سطح پر کام کر رہی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ ریگولیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہونا چاہئیے کہ سپلائی ڈیمانڈ سے تجاوز کرگئی جس کی وجہ سے فریکوئنسی میں اضافہ ہوا۔ فریکوئنسی میں اس اضافے کی صحیح وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ تاہم یہ شدید موسم، انسانی غلطی، آلات کی خرابی، یا جانوروں کی مداخلت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ فریکوئنسی کے اس سپائیک نے پاور پلانٹس کے سیفٹی مکینزم کو متحرک کر دیا، جس نے گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے تمام 23 پاور پلانٹس بند کر دئے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو پورا گرڈ، سرکٹ بریکرز کے بنیادی اصول پر کام کرتا ہے۔ الیکٹریکل سرکٹ بریکر ایک سوئچنگ مکینزم ہے جو الیکٹریکل پاور سسٹم اور اس سے منسلک برقی آلات کو کنٹرول اور حفاظت کے لیے مینوئلی یا آٹو میٹکلی چلایا جا سکتا ہے۔ جب سرکٹ بریکر سے بہت زیادہ بجلی بہتی ہے یا اضافی بجلی کو لوڈ سنبھال نہیں سکتا تو یہ ٹرپ ہو جاتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آپ کے سرکٹس کو زیادہ گرمی یا مزید نقصان سے بچنے کے لیے بجلی کے بہاؤ میں خلل پڑجاتا ہے۔

    پاور پلانٹس ایک مخصوص فریکوئنسی رینج کے اندر چلنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسا کہ ایک سرکٹ بریکر ہے۔ اگر سسٹم میں زیادہ فریکوئنسی ہے، تو ایک خاص وقت کے بعد یا اچانک خرابی سے ان کے گرڈ سے منقطع ہونے کا خطرہ ہے۔
    بجلی کی بحالی کیسے ممکن ہوئی؟ اگر پورے نیشنل ہائی وولٹیج بجلی کے نیٹ ورک (گرڈ) سے بجلی ختم ہو جاتی ہے، تو ملک کو دوبارہ بجلی فراہم کرنے سے پہلے انفرادی پاور سٹیشنز کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔ پاور پلانٹس کو دوبارہ چلانے کے لیے اکثر الیکٹریکل سپلائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ گاڑی کو اگنیشن پاور کرنے کے لیے بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، بجلی کی مکمل بندش کی وجہ سے سسٹم کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مرکزی طور پر منسلک بجلی دستیاب نہیں ہے۔ جس سے اسے دوبارہ شروع کیا جاسکے۔ اس عمل کو ”بلیک اسٹارٹ“ کہا جاتا ہے۔

    بلیک اسٹارٹ کا آپریشن دراصل کافی سیدھا ہے۔ بجلی کے چھوٹے ذرائع بڑے ذرائع کو شروع کرتے ہیں، اور یہ عمل پورے ملک میں دوبارہ پاور اپ ہونے تک جاری رہتا ہے۔ تاہم، کچھ پاور پلانٹس اس پیچیدہ ری بوٹ کا نقطہ آغاز بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ جدید گیس پاور پلانٹس طلب کے مطابق تیزی سے دوبارہ شروع ہونے کے قابل ہیں۔ پاکستان کے معاملے میں جنوبی علاقے کی بحالی بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ”UCH-I“ پاور پلانٹ سے شروع ہوئی۔ گیس سے چلنے والا یہ پلانٹ اوچ پاور لمیٹڈ کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 586 میگاواٹ ہے۔ اس پلانٹ کے بارے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ این ٹی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق اس میں 220 کلو واٹ تک بلیک سٹارٹ کی سہولت ہے۔ اس پاور پلانٹ کی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    اس کے ساتھ ہی شمالی علاقہ جات کے لیے تربیلا، ورسک اور منگلا سے بحالی کا عمل شروع ہوا، کیونکہ ہائیڈرو پاور میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو اسے بلیک اسٹارٹ کے لیے بہترین بناتی ہیں۔بلیک سٹارٹ آپریشن کے دوران کسی خاص تیاری کے بغیر ٹربائن کو پاور کرنے کے لیے ان ذخائر میں کافی پانی موجود ہے۔ اوک رج نیشنل لیبارٹری کے ایک مطالعے کے مطابق ہائیڈرو فیسیلٹیز کو کم سے کم اسٹیشن پاور کے ساتھ تیزی سے دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

    اگرچہ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ، ”تربیلا اور منگلا میں پیداواری یونٹس استحکام برقرار نہ رکھ سکے اور بحالی کے عمل کے دوران کئی بار ٹرپ ہوئے“۔ اس کے نتیجے میں، ورسک سے پیدا ہونے والی پیداوار کو دوسرے ڈیموں تک بڑھا دیا گیا جو ری بوٹ شروع کر رہے تھے۔ اس سے بنیادی طور پر بحالی کا آغاز ہوا، کیونکہ ان پاور پلانٹس سے بجلی دوسرے پلانٹس کو بھیجی گئی تھی تاکہ وہ ری بوٹ کرکے دوبارہ کام شروع کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بحالی کا عمل پیر کی صبح 9 بج کر 39 منٹ پر بلوچستان میں اُچ پاور پلانٹ سے شروع ہوا، گرڈ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تھا اور آخری پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر دوبارہ شروع کیا گیا۔
    دلچسپ مشاہدات اگرچہ این ٹی ڈی سی یا حکومت نے ابھی تک بجلی بند ہونے کی صحیح وجہ کا تعین نہیں کیا ہے اور اس وقت اس کا تعین کرنا ناممکن ہے۔

    تاہم، کچھ مبصرین کے مطابق، پہلا ڈومینو جس نے بلیک آؤٹ شروع کیا وہ 747 میگاواٹ کا گیس پاور پلانٹ تھا جو گدو، سندھ میں واقع تھا۔ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں ابتدائی مسائل زیر بحث پاور پلانٹ سے منسلک تین 500کلو واٹ ہیوی پاور لائنوں میں دیکھے گئے۔ یہی پاور پلانٹ اگلی صبح 4:57 پر بحال ہونے والا آخری تھا۔

  • آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی

    آئی ایم ایف کی 2 ہزار ارب کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی، 600 ارب کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کی جانب سے 2 ٹریلین (دو ہزار ارب) روپے کی مالیاتی خلاف ورزی کی نشاندہی اور فنڈ کا سخت اضافی ٹیکس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بنیادی خسارے پر کوئی مالیاتی تاخیر نہیں، آئی ایم ایف کا منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کا مطالبہ، پاکستانی حکام کا عدم اتفاق، پاکستان نے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کردی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈ کا GDP کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے کے مارجن سے شگاف ڈالنے کا تخمینہ ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اپنی ابتدائی تشخیص میں 2022-23 کے بجٹ کے تخمینے میں 2000 ارب روپے سے زیادہ کی خلاف ورزی کا پتا چلا ہے جس کے نتیجے میں بجٹ خسارے اور بنیادی خسارے کے اہداف بڑے مارجن کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مذاکرات کے تنازہ کا بڑا حصہ مالیاتی گراوٹ اور اعداد و شمار کی مفاہمت ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف پاکستانی حکام سے منی بجٹ کے ذریعے 600 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کے اقدامات کرنے کا کہہ رہا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے اس سے بالکل اتفاق نہیں کیا اور دلیل دی کہ بنیادی خسارہ اس حد تک بالکل نہیں بڑھے گا۔ اب ایسے شعبے درج ہیں جہاں دونوں فریقوں کے مختلف خیالات ہیں اور دونوں فریقین کو 9 فروری 2023 تک عملے کی سطح کے معاہدے کی جانب بڑھنے کے لیے اختلافات کو دور کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ موجودہ مالی سال 2022-23 کے بنیادی خسارے کے حصے کے طور پر فنڈ کے ساتھ طے شدہ حد سے زیادہ پاکستان کے نقصان میں جانے والے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے میں اضافہ کو شامل کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    پابندیوں کے باوجود پاکستان روس سے تیل خرید سکتا ہے. امریکہ
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    دریں اثناء پاکستان نے رواں مالی سال 2022-23 کے بجٹ خسارے خاص طور پر بنیادی خسارے کا حساب لگانے کے لیے آئی ایم ایف سے سیلاب کے اخراجات کے لیے 500 ارب روپے کی معافی کی درخواست کی ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے اب تک اس کا حساب لگایا ہے کہ جی ڈی پی کے 0.2 فیصد کے بنیادی خسارے کے ہدف کو ایک ٹریلین روپے سے زیادہ کے بڑے مارجن کے ساتھ شگاف ڈالا جائے گا۔