Baaghi TV

Tag: islamabad

  • عام تعطیل اتوار کو آنے پر پیر کی چھٹی دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عام تعطیل اتوار کو آنے پر پیر کی چھٹی دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عام تعطیل اتوار کو آنے پر پیر کی چھٹی دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرسمس اور قائد ڈے اتوار کو آنے پر پیر کو چھٹی نہ کرنے دینے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق وفاقی وزیر جے سالک کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں درخواست گزار جے سالک اپنے وکیل خاور امیر بخاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔

    دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 25 دسمبر قائد ڈے اور کرسمس کی چھٹی بھی ہوتی ہے 25 دسمبر عام تعطیل کو اتوار آجائے تو پیر کو چھٹی کا دن قرار دیا جائے کیونکہ دنیا بھرمیں پریکٹس ہے، اتوار کو پبلک ہالی ڈے ہو تو اسے لانگ ویک اینڈ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عدالت نے دوران سماعت کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی رکاوٹ تو نہیں ہے؟ اس پر مناسب ہدایات جاری کریں گے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    الیکشن کمیشن نے (ق) لیگ کو معاملہ جلد دیکھنے کی یقین دہانی کرادی
    عوام نے نام نہاد مقبول لیڈرز کا پول کھول دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری
    جبکہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سال 2023 کے لیے اسلامی چھٹیاں متوقع تاریخ کے حساب سے طے کی گئی ہیں، چاند کی رویت کے حساب سے چھٹیوں کا الگ نوٹیفیکشن جاری کیا جائے گا۔سال 2023 میں 16 عام تعطیلات میں سے دو اتوار کے روز ہوں گی۔2جنوری، 22 مارچ اور 3 جولائی کو بینکوں کی چھٹی ہو گی۔مسلم حکومتی ملازمین کو سال میں ایک سے زیادہ آپشنل چھٹی نہیں ملے گی۔غیر مسلم حکومتی ملازمین کو سال مین 3 سے زائد آپشنل چھٹیاں نہیں ملیں گی۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سال 2023 میں 38 عام تعطیلات اور اختیاری چھٹیاں ہوں گی۔

    38 تعطیلات میں 16 عام تعطیلات اور 22 اختیاری چھٹیاں ہوں گی۔5 فروری 2023 کو یوم کمشیر، 23 مارچ 2023 کو یوم پاکستان ، یکم مئی 2023 کو یوم مزدور کی عام تطیل ہو گی۔علاوہ ازیں 22 سے 24 اپریل 2023 عید الطفر کی تین چھٹیاں، 29 اور 30 اور یکم جولائی 2023 کو عید الاضحیٰ کی تین چھٹیاں ہو گی۔14 اگست 2023 کو یوم آزادی، 28 ستمبر 2023 کو عید میلاد النبی ﷺ کی عام تعطیل ہو گی۔جبکہ 9 نومبر 2023 کو یومِ اقبال، 25 دسمبر 2023 کو یوم قائداعظم اور کرسمس کی عام تعطیل ہو گی۔26 دسمبر 2023 کو مسیحی ملازمین کے لیے کرسمس کے بعد کی عام تعطیل ہو گی۔

  • چاربارعالمی چیمپئن رہنے والا پاکستان ہاکی ورلڈ کپ کھیلے بغیر باہر

    چاربارعالمی چیمپئن رہنے والا پاکستان ہاکی ورلڈ کپ کھیلے بغیر باہر

    لاہور:پاکستان ہاکی اس وقت اپنی بدترین صورتحال سے دوچار ہے، چار بار عالمی چیمپئن رہنے والا ملک 2023 میں ورلڈ کپ ہی نہیں کھیل رہا۔ہاکی ورلڈ کپ 2023 بدھ سے بھارت میں شروع ہورہا ہے جس میں 16 ٹاپ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں لیکن پاکستان عالمی رینکنگ میں 18 ویں نمبر پر ہونے کی وجہ سے اس ایونٹ میں اپنی جگہ نہیں بناسکا جو ایک المیہ کو نمایاں کرتا ہے۔

    پاکستان نیوزی لینڈ:ٹیسٹ سیریز برابر:ون ڈے میں شکست؛ کھلاڑی گھروں کو لوٹ گئے

    پاکستان نے بالترتیب 1971، 1978، 1982 اور 1994 میں چار مرتبہ ورلڈ کپ جیتا تھا، اسکے علاوہ 1975 اور 1990 میں دو بار سلور میڈل بھی اپنے نام کرچکا ہے۔

    پاکستان میں ہاکی کے زوال کی وجوہات میں سے ایک پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خراب مالی حالات بھی ہیں کیونکہ پاکستان ٹیم کے پاس سہولیات کا فقدان ہے اور کھلاڑیوں کے پاس اچھا سامان ہے نہ پیسے ہیں، فنڈز کی شدید قلت کی وجہ سے غیر ملکی کوچ کو بھی کئی ماہ کی تنخواہ نہیں دی گئی۔

    ہاکی ورلڈ کپ 2023 بھارت میں جاری

    سیکریٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن حیدر حسین نے منگل کو میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ ورلڈ کپ نہیں کھیل رہے، قصور واروں کو سزا ملنی چاہیے۔ حکومتی ساتھ کے بغیر پاکستان ہاکی کا آگے چلنا مشکل ہے، پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کو پی ایچ ایف کے معاملات پر غلط گائیڈ کیا جا رہا ہے۔

    یقین ہے کہ بھارتی ٹیم کو وقت سے پہلے ویزے جاری ہوجائیں گے،پاکستان بیس بال فیڈریشن

    حیدر حسین نے کہا کہ ایشیا کپ میں اضافی کھلاڑی میدان میں نہ ہوتا تو ورلڈ کپ کھیل رہے ہوتے، معاملے پر انکوائری کمیٹی بنائی ہے لیکن اب انکوائری رپورٹ کے لیے خط لکھا ہے کہ اب تک کیوں نہیں بنی۔

    حیدر حسین کا کہنا تھا کہ ہیڈ کوچ سیگفرائیڈ ایکمین کے واجبات کی عدم ادائیگی کے بھی ہم قصور وار ہیں، پی ایس بی نے انکے واجبات ادا کرنا تھے یہی معاہدہ ہوا تھا، تاخیر نہیں ہونی چاہیے تھی، میں ایکمین کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے معاوضے کے بغیر کام کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ایکمین کی تنخواہ کا چیک بن چکا ہے، وزیر بین الصوبائی رابطہ بیرون ملک ہیں، واپسی پر دستخط ہونے پر انکو چیک بھجوا دیا جائے گا۔

  • نیب ترامیم کیس پارلیمان میں حل ہونا چاہیئے. سپریم کورٹ

    نیب ترامیم کیس پارلیمان میں حل ہونا چاہیئے. سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو پارلیمنٹ میں جا کر نیب ترامیمی بل پیش کرنے کا مشورہ دے دیا ۔ سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کے دوران تحریک انصاف کا پارلیمنٹ واپس جانے کا معاملہ زیر بحث آگیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خبریں چھپی ہیں پی ٹی آئی پارلیمنٹ واپس جارہی ہے، پی ٹی آئی پارلیمنٹ واپس آئی توکیاحکومت ان کےساتھ بیٹھےگی؟

    عدالت نے کہا کہ اپنےمؤکل سےپوچھیں کیاہم نیب ترامیم کامعاملہ واپس پارلیمنٹ بھیج دیں؟ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ بغیر ہدایات لیے عدالت میں کوئی بات نہیں کر سکتا ،پارلیمانی نظام میں تمام طریقہ کارواضح اورطےشدہ ہے، پی ٹی آئی چاہے تو پارلیمنٹ جا کر نیب قانون کا ترمیمی بل پیش کر سکتی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ قانون سازی اکثریتی رائے کے بجائے اتفاق رائے سے ہونی چاہیئے،حکومت اور پی ٹی آئی کو معاملے میں قومی اور ملکی مفاد کو سامنے رکھا جانا چاہیئے، امید ہے حکومت اور پی ٹی آئی اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گی۔

    وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سیاست کے بغیر جمہوریت کا کوئی تصور نہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاہتے ہیں کہ نیب ترامیم کا کیس جلد مکمل ہو، نیب ترامیم کے فیصلے سے ملک میں قانون پر عملدرآمد متاثر ہو رہا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ میں جا کر نیب ترامیمی بل پیش کر دیں، پی ٹی آئی والے پارلیمنٹ میں کیوں نہیں جا رہے؟ ۔

    عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی فیصلے کے تحت اسمبلی سے باہر آئی، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں ہی احتساب کا مؤثر قانون چاہتے ہوں گے، حکومت اور پی ٹی آئی مل کر بہترین قانون بنا سکتے ہیں، توقع ہے دونوں جانب سے دانشمندی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صرف اتنا کہہ دیں ترامیم کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا تو 90فیصد کیس ختم ہوجائے گا، ترامیم کے ماضی سے اطلاق کے حوالے سے قانون واضح ہے، مخدوم علی خان کو اسی لئے ہدایات لینے کا کہا ہے، توقع ہے حکومت کھلے ذہن کے ساتھ معاملے کا جائزہ لے گی، سپریم کورٹ کئی مرتبہ آبزرویشن دے چکی کہ نیب ترامیم کیس پارلیمان میں حل ہونا چاہیئے، بادی النظر میں عمران خان کا کیس 184/3 کے زمرے میں آتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا مناسب نہیں ہوگا پی ٹی آئی اسمبلی میں ترمیمی بل لائے جس پر بحث ہو ،اسمبلی میں بحث سے ممکن ہے کوئی اچھی چیز سامنے آ جائے، اگر پارلیمان سے مسئلہ حل نہ ہو تو عمران خان عدالت آ سکتے ہیں۔

  • عمران خان ن لیگ اور ق لیگ کے ارکان کا ضمیر خریدنے کے لیے بولیاں لگا رہے ہیں. راناثناء

    عمران خان ن لیگ اور ق لیگ کے ارکان کا ضمیر خریدنے کے لیے بولیاں لگا رہے ہیں. راناثناء

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا مجرمانہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا مجرمانہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک معزز رکن قومی اسمبلی کے اغوا کا مجرمانہ ارادہ اور توہین آمیز گفتگو قابل مذمت ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر کا مجرمانہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔


    انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان مسلم لیگ ن اور ق لیگ کے ارکان کا ضمیر خریدنے کے لیے بولیاں لگا رہے ہیں جبکہ چیف جسٹس کو آڈیو لیک اور ضمیر کی خریداری کے اعترافی بیانات کا نوٹس لینا چاہیے.

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین اور خاتون رکن قومی اسمبلی کو کون سی عدالت انصاف دے گی ؟ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی اس آڈیو کا نوٹس لے کر کارروائی کرنی چاہیے۔ قوم نے دیکھ لیا کہ کون ضمیر خریدتا اور بولیاں لگاتا ہے اور اغوا کار کون ہے؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    انہوں نے کہا کہ ڈسکہ الیکشن کے عملے کو “اغوا” کرنے والے اب اراکین قومی اسمبلی کے اغوا کے منصوبے بناتے پکڑے گئے۔ منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنانے والے اب اغوا کی وارداتیں بنا رہے ہیں.

  • گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے. وزیر مملکت پیٹرولیم

    گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے. وزیر مملکت پیٹرولیم

    گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے. وزیر مملکت پیٹرولیم

    وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک ک کہنا ہے کہ گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے، گيس کے نئے ذخائر کی دريافت تک ہم نئے کنکشنز نہیں دیں گے. سینیٹ کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات پر وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے بتایا کہ گیس کی رائلٹی اور سرچارج فارمولے کے تحت دیتے ہیں۔

    وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ملک میں مجموعی طور پر 3200 ملین کیوبک فٹ پر ڈے (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس پیدا ہوتی ہے جس میں سے 1600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سسٹم میں آتی ہے۔ مصدق ملک نے کہا کہ 700ایم ایم سی ايف ڈی براہ راست بجلی کے کارخانوں کو جاتی ہے، چولہےجلانے کے لئے ملک میں 1400ایم ایم سی ایف ڈی گیس چاہیے۔ رواں سال صورت حال خراب ہونے کے باوجود خيبر پختونخوا میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر
    وزیر مملکت نے کہا کہ اوگرا نے گیس مہنگی کرنے کی تجویز دی تھی لیکن مہنگائی کی وجہ سےگيس کی قیمت نہیں بڑھائی،گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے قومی خزانے پر بوجھ پڑرہا ہے۔ عوام پر اضافی بوجھ نہیں ڈال رہے، مناسب وقت میں گیس کی قیمت بڑھانی ہوگی۔

  • سیلاب متاثرین کیلئے قائم بحالی کمیٹیاں،ججزکوسربراہی سے ہٹا دیا گیا

    سیلاب متاثرین کیلئے قائم بحالی کمیٹیاں،ججزکوسربراہی سے ہٹا دیا گیا

    سیلاب متاثرین کیلئے قائم بحالی کمیٹیاں،ججزکوسربراہی سے ہٹا دیا گیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے قائم شہری کمیٹیوں کی سربراہی سے ججزکو ہٹا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کا اپنے فیصلے میں کہنا ہے کہ ( Flood 2022 ) متاثرین کی بحالی کيلئے کمیٹیاں قانون کے مطابق کام جاری رکھیں گی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے منگل 17 جنوری کو سیلاب متاثرین کی بحالی کيلئے بنائی گئیں نگراں کمیٹیوں کیخلاف درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا۔

    اس موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سندھ حکومت کی درخواستوں کو جزوی طور پر منظور بھی کرلیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بحالی اور نگرانی کيلئے شہری کمیٹیوں میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے، جب کہ سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین کو طبی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

    عدالتی حکم میں شہری کمیٹیوں کو ریلیف آپریشنز میں ہدایات اور کنٹرول کرنے سے روک دیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شہری کمیٹیاں متاثرین کی بحالی کيلئے اداروں کیساتھ مل کر کام کریں، جب کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے) ہر 2 ہفتوں بعد سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرائے۔ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے سول ججز کو شہری کمیٹیوں کا سربراہ تعینات کیا تھا، جس پر سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کيا تھا۔ سندھ حکومت کے مطابق عدالت کا آرڈر ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت ہے۔

    دوسری جانب چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدالطیف آفریدی کے قتل کوبڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالطیف آفریدی بہت بڑی شخصیت تھے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل افتخارگیلانی سے استفسار کیا کہ کیا لطیف آفریدی کا تعلق کوہاٹ سے تھا؟ ۔

    جس پر وکیل افتخار گیلانی نے بتایاکہ لطیف آفریدی کا تعلق فرنٹیئرریجن سے تھا، جنہیں گزشتہ روز بار روم میں قتل کیا گیا اس واقعہ نے رنجیدہ کردیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لطیف آفریدی کا قتل افسوسناک واقعہ ہے،عبدالطیف آفریدی بہت بڑی شخصیت تھے ۔

  • کراچی میں 21 اور 22 جنوری سے سردی کی نئی لہر داخل ہوگی

    کراچی میں 21 اور 22 جنوری سے سردی کی نئی لہر داخل ہوگی

    کراچی: شہر میں 21 اور 22 جنوری سے سردی کی نئی لہر داخل ہوگی۔

    باغی ٹی وی: چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردار سرفراز کے مطابق سردی کی ایک نئی لہر کے دوران کراچی بلوچستان کی سرد ہواؤں کے لپیٹ میں رہے گا اور اس دوران معمول سے تیز شمال مشرقی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

    نتائج کوتبدیل کیا جارہا ہے،پہلے مسئلہ حل ہوگا پھرپیپلزپارٹی سے بات ہوگی،حافظ نعیم

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں نئی لہر کے دوران بارش کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ یہ مغربی سلسلہ 18 جنوری کی رات سے بلوچستان میں داخل ہوگا اور اس کے زیر اثر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔

    کراچی سمیت سندھ بھر میں سردی کی حالیہ لہر 24 گھنٹوں تک برقرار رہ سکتی ہے جبکہ کل سے سردی کی شدت میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگی ۔

    پی ٹی آئی میں ضم کا معاملہ،مشاورتی اجلاس میں تمام اختیارات پرویز الہیٰ کو دے…

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں منگل کی صبح درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، ہوا میں نمی کا تناسب 55 فیصد ہے ، شہر میں ہلکی دھند ہے،حد نگاہ 3.5 کلو میٹر ہے جبکہ شمال اور شمال مشرق سے ہلکی ہوائیں چل رہی ہیں۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ آج رات بھی کراچی میں درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ میں رہنے کا امکان ہے۔

    جماعت اسلامی نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

  • راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد

    راولپنڈی میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائی 1300 سے زائد سرکاری آٹے کے تھیلے برآمد ہوئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کےخلاف کارروائی کرتے ہوئے سرکاری آٹے کے تھیلے قبضے میں لے لیے ہیں انتظامیہ کےمطابق کارروائی میں 1356 آٹے کے تھیلے قبضے میں لیے گئے ہیں جب کہ گودام میں 13 فلورملزکے 20 ہزارخالی بیگ بھی نکلے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری آٹا راولپنڈی کے مختلف سیل پوائنٹس سے خریدا گیا تھا، اس معاملے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیاہے۔ یاد رہے کہ دوسری جانب اس سے قبل اگرچہ حکومت خیبرپختونخوا نے صوبے میں آٹے کے بحران کا ذمہ دار حکومت سندھ کو قرار دیا تھا لیکن مقامی تاجر اس الزام سے متفق نہیں تھے اور اصرار کرتے ہوئے کہا کہ بحران کا اصل ذمے دار پنجاب ہے اور جیسے ہی حکومت پنجاب گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت پر پابندی واپس لے گی تو آٹے کی قیمت معمول پر آ جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کو درپیش چیلنج سے نکال کر اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ وزیر اعظم
    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم
    عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا
    مس ایل سلواڈور کی مقابلہ حسن میں بٹ کوائن والے لباس میں شرکت
    حافظ نعیم الرحمٰن الیکشن کمیشن پر الزامات نہ لگائیں،صوبائی الیکشن کمشنر

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 11 جنوری کو خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک محمد عاطف نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی سپورٹ پرائس، حکومت پنجاب کی جانب سے اعلان کردہ مقررہ رقم سے زیادہ مقرر کیے جانے کی وجہ سے صوبے میں آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ جبکہ خیبر پختونخوا میں آٹے کے ڈیلرز نے وزیر خوراک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں آٹے کی قیمت میں اضافے کے معاملے کا سندھ کی جانب سے مقرر کردہ گندم کی امدادی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا. وسیم اکرم

    پاکستان کرکٹ کی ایک ویب سائٹ کو دبئی میں خصوصی انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں کپتان کو سپورٹ کرنا چاہیے،بابر اعظم کا تجربہ ابھی کم ہے،ان کو ہٹانے سے ٹیم میں کچھ نہیں ہو گا البتہ سپورٹ کرنے سے فرق پڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک قوم کے طور پر ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی ہم اپنے لیے خود ہی کافی ہیں، جس طریقے سے بعض لوگ بابر اعظم کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ بہت ہی پریشان کن بات ہے، اپنا مذاق اڑانا بند کردیں،اس سے میرا دل بھی دکھتا ہے۔

    تینوں فارمیٹ میں قیادت کا بوجھ بانٹنے کیلیے بابر اعظم کو ہٹانے کے سوال پرسابق اسٹار نے کہا کہ یا تو آپ کے پاس کوئی عمران خان، جاوید میانداد یا مائیک بریرلی بیٹھا ہو تو بات سمجھ میں بھی آئے، اب اگر بابر اعظم کا تقرر کیا ہے تو اسے 2،3سال موقع دیں، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ بہترین کپتان ثابت ہوں گے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ قیادت کرنے سے ہی آتی ہے کوئی نیچرل یا پیدائشی کپتان نہیں ہوتا، وقت کے ساتھ بہتر فیصلوں کی صلاحیت آتی جاتی ہے، ہم کوچز پر اٹیک کرتے ہیں، اسے تو بتانا ہوتا ہے میدان میں کھیلنا تو کرکٹر کا ہی کام ہے،دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے تو تنقید کریں مگر ہم کیوں کرتے ہیں، مجھے تو یہ دیکھ کرہی شرم آتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا بیٹر کپتان بتائیں جس نے بیٹنگ پچز نہ بنوائی ہوں، ہم بابر پر تنقید کیوں کررہے ہیں، پیسر شاہین آفریدی میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں، انھوں نے لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کا چیمپئن بنوایا مگر ابھی انھیں قومی ٹیم کی قیادت سونپنے کی بات کرنا جلد بازی ہوگی،وہ حال ہی میں انجری سے واپس آئے ہیں، تھوڑا پرفارم کریں اور 5سال بعد کپتانی کے بارے میں سوچیں، فی الحال ایک قائد کو مکمل سپورٹ کرنے کی بات کرنا چاہیے۔

    وسیم اکرم نے کہا کہ اگر مجھ سے ہی پوچھ لیا جاتا تو بتا دیتا کہ غیر ملکی کوچز کو نہیں آنا،انھیں ڈر ہے کہ بورڈ تبدیل ہوا تو معاہدہ بھی ختم ہوجائے گا،2یا 3سال کیلیے کوئی آئے تو خود کو محفوظ خیال کرے گا، ثقلین مشتاق اور محمد یوسف نے بھی اچھا کام کیا مگر مزید بہتری کیلیے ان کو بھی وقت درکار ہوگا، اگر کوئی غیر ملکی کوچ نہیں مل رہا تو پاکستانی کی خدمات حاصل کریں اور اسے بھرپور سپورٹ بھی کریں۔

    فاسٹ بولرز کی کارکردگی کا گراف گرنے کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ پچز مسئلہ نہیں، ہمارے دور میں بھی ایسی ہی پچز تھیں، وجہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہے، صرف 4اوور کرنے پر پیسے بھی زیادہ ملیں تو یہی آسان فیصلہ ہوگا، نسیم شاہ، حارث رؤف اور وسیم جونیئر کو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا چاہیے،سال میں پی ایس ایل کے سوا بھی 1،2 لیگز ضرور کھیلیں مگر طویل فارمیٹ کے میچز پر بھی توجہ دیں، ہمیں وقت ملتا تو 4ڈے میچز ضرور کھیلتے تھے۔

    ہوم گراؤنڈ پر مسلسل شکستوں کے سوال پر انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ ہارنے کا خوف ہے، ہار جیت تو ہونی ہے مگر ڈر نہیں ہونا چاہیے،میں یہ نہیں کہتا کہ گرین ٹاپ پچ ہو مگر تھوڑا باؤنس ضرور ہونا چاہیے،2دن بیٹنگ ہو، تیسرے چوتھے روز ٹرن کرے، ٹیم چاہے 3 دن میں بھی میچ ہارجائے مگر پچ اچھی ہونی چاہیے، ڈیڈ پچز پر اسی طرح کی صورتحال ہوتی ہے،ہوم سیریز کو شائقین کی توجہ حاصل نہ ہوئی، میچز بھی ہم ہارگئے۔

  • معروف شاعر محسن بھوپالی کا یوم وفات

    معروف شاعر محسن بھوپالی کا یوم وفات

    ابلاغ کے لیے نہ تم اخبار دیکھنا
    ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا
    محسن بھوپالی

    نام عبدالرحمن، تخلص محسنؔ بھوپالی 29؍ ستمبر 1932ء کو بھوپال (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ءسےہوا اوروہ کم و بیش ساٹھ سال تک ادب کےمیدان میں فعال رہےاس دوران ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں ”میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیئے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن“ شامل ہیں۔

    محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اردو میں لکھی جانے والی کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔

    محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔

    تلقین اعتماد وہ فرمارہے ہیں آج
    راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
    نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

    محسنؔ بھوپالی کا انتقال17؍جنوری2007ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نیرنگیِ سیاست دوراں تو دیکھیے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

    ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام
    جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ

    جانے والے سب آ چکے محسنؔ
    آنے والا ابھی نہیں آیا

    ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسنؔ
    کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

    اس کو چاہا تھا کبھی خود کی طرح
    آج خود اپنے طلب گار ہیں ہم

    جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
    جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں

    کیا خبر تھی ہمیں یہ زخم بھی کھانا ہوگا
    تو نہیں ہوگا تری بزم میں آنا ہوگا

    لفظوں کے احتیاط نے معنی بدل دیئے
    اس اہتمام شوق میں حسن اثر گیا

    زندگی گل ہے نغمہ ہے مہتاب ہے
    زندگی کو فقط امتحاں مت سمجھ

    بدن کو روندنے والو ضمیر زندہ ہے
    جو حق کی پوچھ رہے ہو تو حق ادا نہ ہوا

    لفظوں کو اعتماد کا لہجہ بھی چاہئے
    ذکر سحر بجا ہے یقین سحر بھی ہے

    سورج چڑھا تو پھر بھی وہی لوگ زد میں تھے
    شب بھر جو انتظار سحر دیکھتے رہے

    بات کہنے کی ہمیشہ بھولے
    لاکھ انگشت پہ دھاگا باندھا

    اس لیے سنتا ہوں محسنؔ ہر فسانہ غور سے
    اک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

    اس سے مل کر اسی کو پوچھتے ہیں
    بے خیالی سی بے خیالی ہے

    کس قدر نادم ہوا ہوں میں برا کہہ کر اسے
    کیا خبر تھی جاتے جاتے وہ دعا دے جائے گا

    ابلاغ کے لئے نہ تم اخبار دیکھنا
    ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا

    محسنؔ اور بھی نکھرے گا ان شعروں کا مفہوم
    اپنے آپ کو پہچانیں گے جیسے جیسے لوگ

    محسنؔ اپنائیت کی فضا بھی تو ہو
    صرف دیوار و در کو مکاں مت سمجھ

    سوچا تھا کہ اس بزم میں خاموش رہیں گے
    موضوع سخن بن کے رہی کم سخنی بھی

    اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے
    سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے

    خندۂ لب میں نہاں زخم ہنر دیکھے گا کون
    بزم میں ہیں سب کے سب اہل نظر دیکھے گا کون

    کوئی صورت نہیں خرابی کی
    کس خرابے میں بس رہا ہے جسم

    پہلے جو کہا اب بھی وہی کہتے ہیں محسنؔ
    اتنا ہے بہ انداز دگر کہنے لگے ہیں

    صدائے وقت کی گر باز گشت سن پاؤ
    مرے خیال کو تم شاعرانہ کہہ دینا

    روشنی ہیں سفر میں رہتے ہیں
    وقت کی رہ گزر میں رہتے ہیں

    اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار
    ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ