Baaghi TV

Tag: IT

  • ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں. وفاقی وزیر

    ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں. وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق نے کہا ہے کہ ایم کیوایم 2023 کی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں پر الیکشن چاہتی ہے، ایم کیوایم عام انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ 2023 میں ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، الیکشن کمیشن کو 3 ماہ میں حلقہ بندیاں کرنی چاہئیں، پاکستان میں بیشتر مردم شماری وقت پر نہیں ہوئیں۔ امین الحق نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 دن میں الیکشن نہیں ہوئے، تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکوئی راستہ نکالنا ہوگا، ایم کیوایم بروقت انتخابات چاہتی ہے، انتخابات 2023 کی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں پر ہونے چاہئیں، حلقہ بندیاں نگراں حکومت نہیں، الیکشن کمیشن کرتا ہے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت فوری مردم شماری کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مردم شماری کے نتائج کے اعلان پر حلقہ بندیوں کا فیصلہ ہوگا، مردم شماری میں بظاہر آبادی میں بڑا فرق ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اپنے سپوٹرز کی سوچ کے ساتھ چلتی ہے، عام انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ بھی نہیں سکتے، انتخابات کی تیاری کی طرف جارہے ہیں، 2023 کی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پشاور ، حیات آباد میں دھماکا، 8 افراد زخمی
    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور
    ہمارے ہاں 80% لوگ بے مقصد زندگی گزارتے ہیں زیبا بختیار
    اسلام آباد؛ 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
    امین الحق کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہونی چاہیئے، ایم کیو ایم الیکشن سے بھاگنے والی جماعت نہیں، ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ خالد مقبول صدیقی کی کل وزیراعظم سے ملاقات ہوگی، امید ہے مشاورت سے تمام معاملات طے پاجائیں گے، امید ہے وزیراعظم ہماری بات سنیں گے، قومی سلامتی پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن لڑنے کا موقع ملنا چاہیئے۔

  • گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کاآغاز کردیا

    گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کاآغاز کردیا

    گوگل نے پاکستان میں پہلی ”ایپ گروتھ لیب“ کا آغاز کردیا ہے۔ نئی لیب چار ماہ تک ورکنگ کرے گی جسے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ایسے ایپ ڈیویلپرز، اسٹوڈیوز اور کمپنیوں کی نشاندہی کے لئے تیار کیا گیا ہے جو اپنے کاروبار کی ترقی کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ایپ گروتھ لیب کے ذریعے پاکستانی ایپ ڈیولپرز گوگل ماہرین کے تجربے سے مستفید ہوسکیں گے۔ جامع تعلیم اور معاونت کے مراحل پر مشتمل یہ پروگرام ایپ ڈیویلپرز کو اشتہارات، ایڈموب، فائربیس، جی ٹیک اور پلے میں گوگل کے ماہرین کے علاوہ دیگر صنعتی ماہرین سے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

    لیب کا قیام پاکستان کی ایپ انڈسٹری کے مقامی اور عالمی سطح پر ترقی دینے میں مدد کے لئے گوگل کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لیے گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر فرحان ایس قریشی کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ ملک میں ڈیویلپرز کے لیے مستحکم ماحولیاتی نظام کے قیام میں مدد دینے کے لیے گوگل کی لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ فرحان ایس قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جاری کوششوں کے ذریعے پاکستانی ڈیویلپرز کو دنیا کی بہترین ایپلی کیشنز بنانے میں ان کی مدد کی توقع رکھتے ہیں۔ایپ گروتھ لیب کے چار بڑے مقاصد رکھے گئے ہیں، جس میں اول اپنی کمپنی کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی ترتب دینے کی غرض سے مختلف بیرموں کو سمجھنے کے لیم عالمی ایپ اور گیمنگ کے مواقع دریافت کرنا ہے۔’
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    دوئم ایپ اور گیم پروڈکٹ کی تیاری کے لیے ایک ایسی سوچ استعمال کریں جس میں صارف کو مرکزیت حاصل ہو اور اپنی ایپ کو طویل مدتی کامیابی کیلئے اعلیٰ درجہ کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکیں۔ سوئم ابتدائی کا میابی کے لیے مختلف اقسام کی حکمت عملی تیارکریں اور اُن سے فائدہ اٹھائیں، گوگل کے ٹولز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، مالی فائدے کا ماڈل تیار کریں اور قابل ستاائش ترقی کی جاسکے۔ چہارم مارکیٹ اور پلیٹ فارم کے تنوع کی حکمت عملیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ایپ کودنیا بھرمیں مقبول بنانے کا علم حاصل کرنا ہے۔

  • چیٹ جی پی ٹی کے متبادل  الفا گو کا اعلان

    چیٹ جی پی ٹی کے متبادل الفا گو کا اعلان

    گوگل ڈیپ مائنڈلیبارٹری کے مطابق انہوں نے اپنے اے آئی نظام کا نام، جیمینائی رکھا ہے جو کمپنی کے تیارکردہ مصنوعی ذہانت (آرٹفیشل انٹیلی جنس) پروگرام ’ایلفا گو‘ کو ترقی دے کربنایا جائے گا۔ اسے آخرکار لینگویج لرننگ ماڈل (ایل ایل ایم) میں بدلا جائےگا جبکہ رپورٹس کے مطابق ایلفا گو کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ’ری انفورسمنٹ لرننگ‘ کی مؤثرتکنیک پر کام کرتا ہے جس میں سافٹ ویئر اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے۔ اے آئی ہرطرح کی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور بہتر فیصلے کرتا رہتا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنے والی جنریٹیو اے آئی کو دوبارہ فارمیٹ سے گزارکر نیچرل ساؤنڈنگ ٹیکسٹ کو شامل کیا جائے تو جیمینائی دنیا کا طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کا پروگرام بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس حوالے سے ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی ڈیمس ہیسیبی نے کہا ہےکہ جیمینائی میں انسانیت کی مدد کرنے والی سب سے اہم ٹیکنالوجی بننے کی صلاحیت موجود ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قرض پروگرام کےحصول کیلئے وزیر اعظم نےاہم کردارادا کیا. اسحاق ڈار
    نرس کے ساتھ زیادتی،ڈاکٹر نے نازیبا ویڈیو بھی بنا لی
    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم
    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ
    وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہیں پاک فوج کے برابر کردیں
    رپورٹس کے مطابق گوگل لیب کی جانب سے اس پر دن رات کام جاری ہے جس پرغیر معمولی لاگت بھی آئے گی،اس سے قبل گوگل اپنے طاقتور چیٹ بوٹ بناچکا ہے جو بارڈ کے نام سے استعمال ہورہا ہے۔

  • اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح

    اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح

    اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذیلی ادارے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت اسلام آباد میں فضل سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا گیا ہے۔

    فضل سافٹ ویر ٹیکنالوجی پارک سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں 40،000 مربع فٹ جگہ پر 10 آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی خدمات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جبکہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح ہے۔

    اس سے قبل اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے اشتراک سے قائم کردہ گلگت آئی ٹی پارک کا افتتاح گذشتہ سال اکتوبر چیف آف آرمی اسٹاف نے کیا تھا ۔

    افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی تھے جبکہ تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، وزارت آئی ٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سینئر عہدیداران شریک تھے۔

    اس اہم تقریب کیلئے اپنے خصوصی بیان میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن سید امین الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ اس شعبے کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور فروغ کیلئے اس صنعت سے منسلک کمپنیوں اور ماہرین کوانتہائی پرکشش مراعات فراہم کی جارہی ہیں اس ضمن میں متعدد منصوبے ہیں جن کا مقصد آئی ٹی انڈسٹری کو اس کی نمو میں مدد اور مدد فراہم کرنا اور مقامی اور برآمدی آمدنی میں مسلسل اضافے کی رفتار کو یقینی بنانا ہے۔

    وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لیئے مقامی صنعت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اسی سلسلے میں خصوصی اقتصادی زون اور خصوصی ٹیکنالوجی زون کے قیام کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کیلئے ، وزارت آئی ٹی نے پرکشش مراعات کا آغاز کیا ہے جس میں انکم ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، دیگر ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹیوں سے 10 سال کی چھوٹ شامل ہے۔ اسی طرح ان زونز کی حدود میں خدمات پر 10 سال کیلئے جنرل سیلز ٹیکس سمیت منافع پر دیگر ٹیکسز میں چھوٹ دی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر سید امین الحق نے کہا کہ "پاکستانی عوام اس حقیقت پر فخر کرسکتے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کو مصنوعات اور خدمات مہیا کررہی ہیں۔ جدید ترین ٹکنالوجی جیسے اےآئی ، روبوٹکس اور ڈرائیور لیس کاروں پر اسٹیٹ آف دی آرٹ ورک کا انعقاد پاکستان میں کیا جارہا ہے اور امریکی کمپنیوں سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے پاکستان میں ریسرچ اینڈ ڈٖویلپمنٹ سنٹرز قائم کیے ہیں۔

    سید امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ ، آئی ٹی انڈسٹری کی عروج کی وجہ سے ملک میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی شدید مانگ ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ کے منصوبے پائیدار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ اس میں نجی شعبوں کو مراعات بھی دی جائیں کہ وہ آگے آئیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں آج کی یہ تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    تقریب سے اپنے خصوصی خطاب میں سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر سید امین الحق کی ہدایت پر ہم نے آئی ٹی کے شعبے کی تعمیرو ترقی اور معیشت میں اس کی نمایاں حصہ داری کیلئے جارحانہ انداز اختیار کیا ہے وزارت آئی ٹی اوراس کے ماتحت اداروں کے ایک کے بعد ایک منصوبے اور پراجیکٹس کی تیزی سے تکمیل اس کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک غیر استعمال شدہ عمارتوں کو جدید ترین سافٹ ویئر پارکس میں تبدیل کرنے کا تعلق ہے تو مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔ جامعات میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کی راہ میں کام تیزی سے جاری ہے۔

    شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے پیشہ ور اور کاروباری افراد جو پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری کو ملک کے لئے کامیابی کی تاریخ بنارہے ہیں ، انہوں نے ترسیلات زر کی مد میں بے مثال شرح نمو حاصل کی ہے اور اسے پاکستان سے آئی ٹی خدمات کے شعبے کو بڑا برآمد کنندہ بنادیا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی انڈسٹری اور عوامی شعبے کے اداروں کے مابین قریبی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنائے۔

    پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر ، عثمان ناصر نے اپنے استقابلیہ خطاب میں کہا کہ ملک کے ترقی پذیر علاقوں میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لئے آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں کے لئے پی ایس ای بی رجسٹریشن فیس بشمول ملک کے ترقی پذیر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کال سینٹرز اور آئی ٹی اسٹارٹ اپس کیلئے مکمل طور پر معاف کردی گئی ہے۔ یہ عمل پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کیلئے نہایت خوش آئند ہے۔

    یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گلگت ایس ٹی پی کی کامیابی اپنی مثال آپ بنتی جارہی ہے ابتدائی طور پر اس آئی ٹی پارکس سے 73 آئی ٹی پیشہ افراد نے اپنے کام کا آغاز کیا جنہوں نے خواتین سمیت آئی ٹی گریجویٹس کو مزید تربیت اور سرپرستی فراہم کی ، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 150 آئی ٹی پروفیشنلز نے گلگت میں آئی ٹی انڈسٹری کی نمایاں توسیع میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اسے ایک مثالی پارک بنادیا ہے۔ گلگت کی کامیابی کی بہت سی کہانیوں میں "شی ڈیو” نامی کمپنی بھی ہے جو ایک 17 رکنی خواتین کمپنی ہے جو مقامی اور بین الاقوامی صارفین کو ٹیکنالکوجیکل سہولیات اور اس کی سروسز فراہم کرتی ہے۔