Baaghi TV

Tag: JIT

  • جناح ہاؤس حملہ کیس:پی ٹی آئی رہنماؤں کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    جناح ہاؤس حملہ کیس:پی ٹی آئی رہنماؤں کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع

    لاہور: جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع ہوگئی جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) عمران خان بہنوں سمیت گنہگار قراردیا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور عمران کشور نے ایف بی آر،اسٹیٹ بینک اور کمشنر لاہور کے نام خط میں پی ٹی آئی کے روپوش رہنماؤں مراد سعید،اعظم سواتی، میاں اسلم اقبال،حماد اظہر سمیت دیگر ملزمان کی جائیدادوں اوربینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ 24 جولائی کو عدالت نے مرادسعید،اعظم سواتی،میاں اسلم اقبال،حماد اظہر سمیت ملزمان کے اشتہار جاری کیے اور ملزمان کو ایک ماہ میں پیش ہونے کی مہلت دی مگر وہ پیش نہیں ہوئے دفعہ 88 کے تحت ملزمان کی جائیداد یں ضبط کرنےکی کارروائی کی ضرورت ہے،ملزمان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

    سپریم کورٹ سے 90 روز میں انتخابات کرانے کا حکم دینے کی درخواست کو پٹیشن …

    جن رہنماؤں کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ان میں فرخ حبیب، زبیرنیازی، واثق قیوم،اسدزمانا،امتیاز شیخ ،حافظ فرحت،غلام عباس،علی حسن،سعیداحمد،شفقت امین،عندلیب عباس،احمد خان نیازی،خالد گجر،ملک کرامت کھو کھر اور دیگر شامل ہیں-

    دوسری جانب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے سانحہ 9 مئی کی تحقیقات کے دوران جناح ہاؤس مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماؤں کو گنہگار قرار دے دیا۔

    موٹرسائیکل اور کمرشل گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے سربراہ عمران کشور نے تفتیش مکمل کرلی ہے، جس میں جے آئی ٹی نے چئیرمین پی ٹی آئی کی بہنوں کو بھی گنہگار قرار دیا ہے جے آئی ٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کے کہنے پر جناح ہاؤس پر حملہ ہوا، عمران خان نے تفتیش میں حملہ کرانے کا اعتراف کیا۔

    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 3 بار شامل تفتیش کیا، جے آئی ٹی اٹک جیل میں بھی بیان ریکارڈ کرنے گئی 9 مئی کیس میں جلد چئیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ڈالی جائے گی،عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس میں تفتیش تاحال جاری ہے، دونوں مقدمات کی تفتیش کیلئےعلیحدہ جے آئی ٹیز بنائی گئی ہیں۔

    انڈونیشیا میں چیئر لفٹ کے حادثے میں 5 افراد ہلاک

  • عمران خان کو جے آئی ٹی نے یکم اگست کو طلب کرلیا

    عمران خان کو جے آئی ٹی نے یکم اگست کو طلب کرلیا

    سائفر تحقیقات کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جے آئی ٹی نے یکم اگست کو طلب کرلیا ہے جبکہ سائفر سے متعلق دستاویزات بھی ساتھ لانے کو نوٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا گیا ہے اور نوٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو یکم اگست کو دوپہر 12 بجے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز طلب کیا گیا ہے.


    علاوہ ازیں نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات میں پیش نہیں ہوئے تو یکطرفہ کارروائی کا حق رکھتے ہیں جبکہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان سائفر کیس کی تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سامنے پیش ہوئے تھے.

    چیئرمین پی ٹی آئی سائفرکیس میں ایف آئی اے کی مشترکہ انکوائری ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے وہ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں تقریباً 2 گھنٹے موجود رہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی سے سائفرکیس میں ایف آئی اے کی مشترکہ انکوائری ٹیم نے پوچھ گچھ کی تھی، انکوائری ٹیم کی پوچھ گچھ کے بعد وہ ایف آئی اے ہیڈکوارٹر سے واپس چلے گئے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ اسکریبل چیمپئن شپ: پاکستان کے عنایت اللہ نے لیٹ برڈ ٹورنامنٹ جیت لیا
    بحیرہ روم کے نو ممالک میں آگ بھڑک اٹھی
    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظور
    پشاور،محرم الحرام کے موقع پر تمام ہسپتالوں میں طبی عملہ چوکس

    تاہم خیال رہے کہ گزشتہ دنوں سابق وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے بیان کے بعد ایف آئی اے نے سائفر تحقیقات کیلئے عمران خان، شاہ محمود اور اسد عمر کو طلب کیا تھا۔ اعظم خان نے اپنے اعترافی بیان میں کہا تھاکہ سائفر سیاسی مقاصد کیلئے پری پلان ڈرامہ تھا۔

  • جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصور وار قرار دے دیا

    جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصور وار قرار دے دیا

    جے آئی ٹی نے عمران خان کو قصوروار قرار دے دیا ہے جبکہ بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان قصور وار پائے گئے ہیں خیال رہے کہ عمران خان 9 مئی کے واقعات کے حوالے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے جس میں ان کو ویڈیوز بھی دیکھائی گئی تھی اور انہوں نے جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب دیئے تھے.

    جبکہ اب اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ عمران خان کو قصور وار قرار دے دیا گیا ہے تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونےکی اندرونی کہانی یہ تھی کہ جے آئی ٹی نے چیئرمین پی ٹی آئی سے 9 مئی سے متعلق سوالات کیے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی، عمران خان ایک گھنٹہ اندر رہے اور ان سے تمام سوالات کا نفرنس روم میں کیےگئے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی ارکان کا عمران خان سے کہنا تھا کہ ہم آپ سے صرف پروفیشنل سوالات کریں گے۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کو پورے ملک میں جو ہوا اس کی پلاننگ تھی یا اتفاق ؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ پلاننگ کہیں اور سے ہوئی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ جے آئی ٹی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ آپ کے لوگ کنٹونمنٹ میں کیوں گئے تھے؟ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جب کمانڈر مجھے گرفتار کرے گا تو لوگوں نے وہیں جانا تھا۔

  • عمران خان جے آئی ٹی کے سوالات پر تسلی بخش جوابات نہ دے سکے

    عمران خان جے آئی ٹی کے سوالات پر تسلی بخش جوابات نہ دے سکے

    تحریک انصاف کے سربارہ عمران خان 9 مئی کے مقدمات کی تفتیش کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد روانہ ہوگئے تھے جبکہ جے آئی ٹی نے نو مئی کے واقعات بارے سوالات کیے اور ان واقعات کی ویڈیوز بھی دکھائیں جس کے بعد عمران خان جے آئی ٹی کے سوالات پر تسلی بخش جوابات نہ دے سکے ۔

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے، اس موقع پر انکے ہمراہ ان کی قانونی ٹیم بھی تھی، جے آئی ٹی نے چیئرمین یی ٹی آئی سے 45 منٹ تک تفتیش کی، اور ان سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق سوالات کیے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کو9 مئی کے واقعات کی ویڈیوز دکھائی گئیں، اور8 مارچ اور 9 مارچ کو زمان پارک سے آپریٹ روابط کے شواہد بھی دکھائے گئے۔ جبکہ ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی جے آئی ٹی کے سوالات پر تسلی بخش جوابات نہ دے سکے، اور واپس روانہ ہوگئے۔ جب کہ چیئرمین تحریک انصاف کے جوابات اور بیان تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنالیے گئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو جے آئی ٹی نے تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ میں طلب کیا تھا، اس سے قبل بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو دو بار طلب کیا جاچکا ہے تاہم وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

    جبکہ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان آج ڈی آئی جی آفس میں تفتیش کے لیئے جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تھے جبکہ اس حوالے سے انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ "آج تفتیش میں مجھے کہا گیا کہ 9 مئی کو سازش ہوئی اور آپ اس کا حصہ تھے تو میں نے کہا سازش ہوئی لیکن دیکھا جائے سازش کا نقصان کس کو ہوا اور فائدہ کس نے اٹھایا.”
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا
    علاوہ ازیں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ آج کا پورا دھیان اور پوری پلاننگ یہ ہے کہ کسی طرح کسی کو وعدہ معاف گواہ بنا کر عمران خان کو نشانہ بنایا جائے اور یہ ثابت کریں کہ عمران خان ہی تمام حملوں کے پیچھے ہے۔ تاکہ یہ لوگ اسے میرے خلاف استعمال کرسکیں، علاوہ ازیں چئرمین عمران خان نے نواز شریف زرداری اور ان کے بچوں کو کھلا چیلنج کیا کہ جس طرح میں نے امریکہ میں اسرائیل مخالف بیان دیا اسطرح بیان دے کر دکھائیں.”


    انہوں نے مزید کہا کہ نگران حکومت کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک غیر جانبدار حکومت اور یہ سر عام ٹی وی پر بیان دے رہےہیں کہ ہم نے بانٹا تھا کتنے کتنے نمائندے پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور جے یو آئی کے ہونگے جبکہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش میں آپ ملک کی آزادی، جمہوریت ملک کا آئین سب کچھ ختم کررہے ہیں۔