Baaghi TV

Tag: johny lever

  • جانی لیور کو جب پتہ چلا میں فلم کا ہیرو ہوں تو بہت خوش ہوا معمر رانا کا دعوی

    جانی لیور کو جب پتہ چلا میں فلم کا ہیرو ہوں تو بہت خوش ہوا معمر رانا کا دعوی

    معروف اداکار معمر رانا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ دعوی کیا ہےکہ میری ایک فلم تھی لو میں گم ، اس میں انڈین اداکار جانی لیور بھی تھے ، اور ان کو نہیں پتہ تھا کہ میں اس فلم کا ہیرو ہوں، وہ جب پہلے دن فلم کے سیٹ پر آئے تو پوچھا فلم کا ہیرو کون ہے ان کو بتایا گیا کہ معمر رانا ، تو وہ میرا نام سن کر بہت خوش ہوئے ، بولے میں نے ان کو فلمیزیا پر بہت زیادہ دیکھا ہے بہت اچھے اداکار ہیں، میں اُس وقت کھانا کھا رہا تھا ، وہ میرے پاس آئے اور مجھ سے گلے ملے ، اور بہت زیادہ خوش ہوئے.وہ جس طرح مجھے آکر ملے میری ہنسی نکل گئی اور ہنسی بند ہی نہیں ہو رہی تھی .

    اس کے بعد وہ میرے ساتھ بہت وقت گزارنے لگے.”ہم سارا دن کام کرتے شام کو جب پیک اپ ہوتا تو وہ سیدھا میرے کمرے میں آجاتے اور صبح تین بجے تک میرے کمرے میں ہی رہتے اور مجھے مختلف قصے سناتے رہتے اور ہنساتے رہتے” ، ساری رات ہنس ہنس کر پیٹ میں‌بل پڑ جاتے تھے. جانی لیور کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا ، انہوں نے کہا کہ میں سیٹ پر بہت زیادہ تنگ کرتا ہوں کو سٹارز کو، میں اپنے ساتھ ماسک رکھتا ہوں جسکو پہن کر سب کو ڈراتا ہوں.

    امرخان کا Women on Wheels کے نام سے نئے اقدام کاآغاز

    عادل درانی فقراء تھا اور ہے راکھی ساونت

    راکھی نے مجھے استعمال کرنا چاہا راکھی کی قریبی دوست راجشری کی پریس کانفرنس

  • شرابی والد کی وجہ سے پڑھائی مکمل نہ کر سکا جانی لیور

    شرابی والد کی وجہ سے پڑھائی مکمل نہ کر سکا جانی لیور

    بالی وڈ اداکار جانی لیور جو سال ہا سال سے اپنے مداحوں کو اپنی اداکاری کے بل پر اینٹرٹین کررہے ہیں ، انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی پڑھائی مکمل نہ ہونے کے سبب پر بات کی انہوں نے کہا کہ میرے والد کو بہت زیادہ شراب پینے کی عادت تھی ، وہ شراب میں دھت رہتے تھے ان کو گھر کے خرچے سے بھی کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تھا ، وہ ہمارا خیال نہیں کرتے تھے ، میں سکول میں‌پڑھتا تھا میری فیس کی ادائیگی نہیں کرتے تھے ، جب میری فیس کی ادائیگی نہیں ہوتی تھی تو مجھے سکول سے مار پڑتی تھی اور وہاں میرے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا تھا. شرابی والد

    کی انہی حرکتوں سے تنگ آکر میں نے سکول جانا ہی چھوڑ دیا اور ساتویں کے بعد پڑھائی کو خیرباد کہہ دیا. لیکن جب میں نے سکول چھوڑا تو میری ایک ٹیچر نے میرا بہت خیال رکھا. لیکن میرے دل میں ہمیشہ افسوس رہتا ہے کہ میں تعلیم مکمل نہ کر سکا. میں جب دیکھتا تھا سکول میں کہ بچوں کے والد ان کو لینے آتے ہیں اور ان کی فیسوں کی ادائیگی بروقت کرتے ہیں تو دل بھر آتا تھا. لیکن کیا کر سکتا تھا، سارا بچپن ایسی ہی حسرت کرنے میں ہی گزر گیا.