ننکانہ صاحب میں عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ریجنل یونین آف جرنلسٹس (RUJ) کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافتی خدمات کے اعتراف میں ممتاز صحافی احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب میں شہر کے سینئر صحافیوں اور معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب افضل حق، جنرل سیکرٹری آصف بھٹی، سینئر صحافی سمیع اللہ عثمانی، عرفان رشید بھٹی اور شیخ آصف اقبال سمیت دیگر مقررین نے احسان اللہ ایاز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جس کی بنیاد سچائی، دیانتداری اور امانت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، مقدمات اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایک حقیقی صحافی ہر حال میں حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو اپنے قلم کے ذریعے سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرتا ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ ایک ایماندار صحافی قوم کا سرمایہ اور معاشرے کی حقیقی آواز ہوتا ہے، تاہم جب قلم بک جائے تو نہ صرف صحافت بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحافیوں کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے مسائل اجاگر کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔تقریب کے اختتام پر سرپرست اعلیٰ پریس کلب ننکانہ صاحب، بابائے صحافت شیخ منظور احمد شاد نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن علی ناصر قادری ایڈووکیٹ، سینئر صحافی شاہین اقبال غیور، حبیب احمد، راؤ توقیر الاسلام اور ڈاکٹر شاہنواز قادری نے احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ پیش کیا، جس پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
Tag: journalism
-

عالمی یومِ آزادی صحافت: احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نواز دیا گیا
ننکانہ صاحب میں عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ریجنل یونین آف جرنلسٹس (RUJ) کے زیر اہتمام ضلع کونسل ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافتی خدمات کے اعتراف میں ممتاز صحافی احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب میں شہر کے سینئر صحافیوں اور معزز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب افضل حق، جنرل سیکرٹری آصف بھٹی، سینئر صحافی سمیع اللہ عثمانی، عرفان رشید بھٹی اور شیخ آصف اقبال سمیت دیگر مقررین نے احسان اللہ ایاز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، جس کی بنیاد سچائی، دیانتداری اور امانت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ لکھنے والے صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، مقدمات اور مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر ایک حقیقی صحافی ہر حال میں حق اور سچ کا ساتھ دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صحافی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، جو اپنے قلم کے ذریعے سچ اور جھوٹ میں فرق واضح کرتا ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ ایک ایماندار صحافی قوم کا سرمایہ اور معاشرے کی حقیقی آواز ہوتا ہے، تاہم جب قلم بک جائے تو نہ صرف صحافت بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحافیوں کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنے مسائل اجاگر کرنے میں ان کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔تقریب کے اختتام پر سرپرست اعلیٰ پریس کلب ننکانہ صاحب، بابائے صحافت شیخ منظور احمد شاد نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن علی ناصر قادری ایڈووکیٹ، سینئر صحافی شاہین اقبال غیور، حبیب احمد، راؤ توقیر الاسلام اور ڈاکٹر شاہنواز قادری نے احسان اللہ ایاز کو “بیسٹ رپورٹر آف دی ایئر” ایوارڈ پیش کیا، جس پر شرکاء نے بھرپور تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
-

6 جولائی صحافی و کالم نگار مظہر عباس کا یوم پیدائش
بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔
مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔
2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
وہاب ریاض نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کیا ہے
عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب
اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں انہیں 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں ۔ -

کرائم رپورٹر بننا چاہتی تھی اداکارہ بن گئی سدرہ نیازی
اداکارہ سدرہ نیازی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں کبھی بھی اداکارہ نہیں بننا چاہتی تھی ، میں نے ایم اے جرنلیزم کیا تھا اور میں نے بطور صحافی کام بھی شروع کر دیا تھا اور کرائم رپورٹنگ کیا کرتی تھی ، میں کرائم رپورٹنگ میں نام بنانا چاہتی تھی . انہوں نے کہا کہ میں نے ایک نامور اور بڑے چینل سے کام کا آغاز کیا تھا. کرائم رپورٹنگ کرتے کرتے میں ماڈلنگ کی طرف چلی گئی ، مجھے آفر ہوئی اس آفر کو قبول کیا تو اس کے بعد اداکاری کی آفرز آگئیں، میں کرائم رپورٹنگ سے مطمئن تھی لیکن اداکاری کی آفر کسی جاننے والے نے کی ، ٹیلی فلم لال میں کام کیا اور لیکن میں
رپورٹنگ کو ہی جاری رکھنا چاہتی تھی لیکن قسمت میں اداکارہ بننا ہی لکھا تھا بس ٹیلی فلم کے بعد اداکاری کا سلسلہ چل نکلا اور میں آج ایک اداکارہ ہوں ، سدرہ نیازی نے کہا کہ میں حادثاتی طور پر اداکارہ بنی میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا. لیکن ہوتا تو وہی ہے جو قسمت میں ہوتا ہے ، اب میں اداکاری سے بہت زیادہ لطف اندوز ہورہی ہوں. اسی میں مزید نام پیدا کرنا ہے اور اچھا کام کرنا ہے.