چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب
آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔
5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔
اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔
اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین
حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.
ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.
امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.
میں حافظ سعید صاحب کو دہشتگرد نہیں سمجھتا، نہ وہ ہیں، نہ ہی واویلا کرنے والے انڈیا کے پاس ان کے خلاف کوئی رتی برابر بھی ثبوت ہیں، وہ پاکستان سے محبت کرنے والے رہنما ہیں، ان کے فلاحی کام ان کی خدمات اور خصوصا کشمیر کاز کیلئے ان کی کاوشیں بے مثال ہیں، اس وقت میں اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا ہوں اور ریاست کی بدلتی پالیسی کو گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ اور سمجھ رہا ہوں، نہ صرف میں بلکہ انکی جماعت کی قیادت بھی احتجاج کی جانب نہیں جارہی اور وہ بھی ریاست کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔ جیسے جیسے حالات بدل رہے ہیں پاکستان غیر ریاستی قوتوں/ فورسز کو قومی دھارے میں شامل کررہا ہے اور کچھ انتہاپسندی کی جانب مائل قوتوں کو ختم کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے موقف کو پہلے کی نسبت پذیرائی مل رہی ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا پالا جس ناپاک دشمن سے ہے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، کلبھوشن جیسے دہشتگرد بھیجتا ہے مگر اسے سبق سکھانے کیلئے اب حکمت عملی سفارتی محاذ پر طے ہے اور میدان جنگ میں پاک فوج ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔ داخلی، خارجی سیکیورٹی سے متعلق ریاست کے ادارے چلانے والی قیادت سمجھتی ہے کہ ہماری معیشت بلیک لسٹ ہونے کی متقاضی نہیں ہوسکتی۔ اسلئے ہم FATF کو لے کر جذباتی نہیں ہوسکتے، نہ ہی کوئی جذباتی فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے ہمیں تحفے میں قرضوں کی صورت میں غلامی دی ہے اس سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ لہذا حافظ صاحب جیل کے باہر تھے تو بھی پاکستان کیلئے اور اگر اب جیل میں بھی ہیں تو بھی پاکستان کیلئے ہیں۔
رضی طاہر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں حافظ محمد سعید و دیگر کی درخواست پر سماعت 15 جولائی کو ہو گی، لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواست پر سماعت کرے گا.
واضح رہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ نے سی ٹی ڈی کی جانب سے دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے پر لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤن پر درج مقدمات ختم کیے جائیں، عدالت میں دائردرخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ریاست کے خلاف اقدامات میں ہرگز ملوث نہیں ہیں، انڈین لابی کا حافظ محمد سعید پر ممبئی حملوں میں ملوث ہونے بیان حقائق کے منافی ہے
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیموں کے رہنماوں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں. دہشتگردوں کی مالی معاونت کےالزام پرجماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کیخلاف بھی دہشتگردی ایکٹ کےتحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ،