Baaghi TV

Tag: JUIF

  • الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری جبکہ چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان،بیرسٹر علی ظفر،عمیر نیازی اور علی محمد خان بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے.

    اعلامیہ کے مطابق جے یو آئی ف کے وفد میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،جلال الدین،مولانا درویش اور سینیٹر کامران مرتضی بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے، اور الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا، پی ٹی آئی نے90دن میں انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا.

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے بتایا کہ اسوقت حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی وفدنے بتایاکہ گرفتار رہنماؤں و کارکنان کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے ، پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارٹی کو سیاسی ریلیوں کی اجازات اور لیول پلئنگ مہیا کئےجائیں، جبکہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ کوئی شک نہیں کہ انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے،
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    جے یو آئی ف کے مطابق مردم شماری کے گزٹ نوٹیفیکشن کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنا چاہیے، آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں،امیدواروں اور ووٹرز کو سہولت میسر ہو، اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلدازجلد ہو، الیکشن کمیشن اس بات کویقینی بنائےگاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہونگے، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رہےگا.

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

    انہوں نے کہا 2018 کے الیکشن پاکستان میں سیاہ ترین الیکشن کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت آئی انہوں نے معاشی بدحالی ، بیروزگاری اور لاقانونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا ہر طرف لوٹ مار اور کوئی کسی کو قانون کا پابند نہیں سمجھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قومی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا ۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آنے والے انتخابات میں 2018 کی تاریخ دھرائی گئی تو ملک کو نقصان سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں جس سے پوری قوم کا اتفاق ہو ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ تجویز دی کہ ہر ضلع کے الیکشن کمیشن چئیرمن کو ڈی ۔آر ۔او بنایا جائے اور الیکشن کا پورا سسٹم الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہو تب انتخابات کی شفافیت کسی حد تک ممکن ہے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان کے 63 لاکھ آبادی کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو بالکل ناانصافی ہے ۔

    مولانا عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو جواب دیا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے آپ ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں اور الیکشن کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ مردم شماری کی روشنی میں مربوط حلقہ بندیاں تشکیل دیکر فوری طور پر انتخابات کرایا جائے۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے

  • اختر مینگل کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اہم امور زیر بحث

    اختر مینگل کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اہم امور زیر بحث

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں ملاقات میں آئندہ انتخابات سمیت دیگر امور پرمشاورت کی گئی ہے اور اس کے علاوہ مزید اہم معاملات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔


    جبکہ بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود اور علامہ راشد سومرو بھی موجود تھے۔ اور اس ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے معاملات پر گفتگو کے علاوہ آئندہ کے انتخابات سمیت دیگر امور پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

  • میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان خان ڈومکی کو نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ ہو گیا ہے اور میرعلی مردان خان ڈومکی کا نام نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے فائنل کرلیا گیا ہے، تاہم خیال رہے کہ آج سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور بلوچستان کے سیاستدان علی مردان ڈومکی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کی تھی ، اور ان کو نگران وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔

    بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے مشاورت کا آج آخری روز تھا اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کے درمیان گزشتہ روز بھی ملاقات ہوئی تھی۔ جبکہ آج آخری مرحلے میں ڈومکی کا نام طے کرلیا گیا ہے اور اب بتایا جارہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ ڈومکی ہی ہوں گے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تایم واضح رہے کہ میر علی مردان خان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کےعلاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں۔ جبکہ علی مردان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد حضور بخش ڈومکی 1975 سے 1977 تک سینیٹر رہے علاوہ ازیںڈومکی نے علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا اور وہ تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ علی مردان کے بھائی دوستین ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا ہے اور نگران حکومت کے قیام پر بات چیت کی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی اور میر خالد خان مگسی بھی سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی سینئر سیاسی قیادت سے بھی رابطے کیے ہیں ، بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کے لیئے جمیعت علماء اسلام ف کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی کا نام دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے گودار سے رکن اسمبلی حمل کلمتی کو نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میرعلی حسن زہری، سینیٹر کہدہ بابر اورسابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی اور وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے رشتے دار نصیر بزنجو بھی بھی نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں شامل ہیں۔

  • حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    جمعیت علماء اسلام ( فضل گروپ ) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل کا نتیجہ ہے۔ جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جے یو آئی ایف حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت جادو ٹونے کے اثر میں تھی اور یہ ڈائری سے ثابت ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت کی خاتون اول چلاتی تھیں.

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں درج ہے ویسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو اس کی حقیقت کا ثبوت ہیں اور 9 مئی کو سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا تھا پی ٹی آئی حکومت میں مخالفین پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ان کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ٹرسٹ کی زمین اور 190 ملین پاؤنڈ کی حقیقت سامنے آنی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں اب معلوم ہونا چاہئے علاوہ ازیں نگران وزیراعظم بارے کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعظم وہی اچھا ہے جوایک بیگ میں آئے اور وہی لے کر جائے یعنی یہاں پر ان کا اشارہ بدعنوانی کی طرف تھا کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ کرے.

  • زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    سینئر صحافی حامد میر نے ایک ویڈیو اپنے ایکس (ٹوئیٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "باجوڑ میں زخمی ہونے والا جے یو آئی کا کارکن اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کو سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے اپنے سینے پر زخم کھایا ہے ،ایسے بہادر کارکن سیاسی جماعتوں کا اصل سرمایہ ہیں ان کارکنوں کو اسمبلیوں میں لانا چاہئیے.”

    جبکہ خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دورہ پشاور پر زخمی کارکنان سے فردا فردا خود جاکر ان سے ملاقات کی اور
    زخمی کارکن پارٹی قائد کو اپنے درمیان دیکھ کر ناصرف خوش ہوئے بلکہ چند لہحوں کیلئے زخم کے درد بھی بھول گئے. جمیعت علماء اسلام ف نے اپنے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ "قائد جمعیت فردا فردا ہر زخمی کارکن کے پاس گئے، زخمیوں کو بوسہ دیا ،گلدستہ پیش کیا ،کارکن قائد جمعیت اور قائد جمعیت کارکنوں کو دلاسہ دیتے رہے ۔”


    پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے مزید کہا گیا کہ کارکنوں کے بلند حوصلوں سے ہمارے حوصلے بلند ہیں ۔ایک کارکن نے قائد جمعیت کو کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے گولی سینے پر کھائی ہے. تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ مولانا عبد الواسع رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی ، رکن قومی اسمبلی مولانا محمود شاہ سنیٹر مولانا فیض محمد ، مولانا عطاء الحق درویش و دیگر ارکین پارلیمنٹ نے بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی تھی.

    جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوڑ حادثے میں جے یو آئی کے 60 کارکن شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور باجوڑ دھماکہ افسوسناک ہے، یہ حالات کا ایک جبر ہے اور تاریخ کا سیاہ واقعہ ہے، جبکہ آزمائشیں قوموں پر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آزمائش کی گھڑی میں قوم کا شکر گزار ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    مولانا نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جنہوں نے ٹارگٹ کیا انہوں نے ذمہ داری قبول کی ہے، اسلحے کی جنگ کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں، کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا خون بہائے، پوائنٹ سکورنگ نہیں سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں جب کہ اس معاملے پر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، دلیل کی بنیاد پر یہ جنگ جیتیں گے، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علما اسلام اپنا نظریہ نہیں چھوڑے گی اور ہم نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا پیغام بھی دے دیا ہے تاکہ کسی قسم کی شرانگیزی سے بچا جاسکے اور ہم نے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی کے انداز میں نہیں دینا بلکہ پرامن جدوجہد کرنی ہے.

  • عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوزیراطلاعات خیبرپختونخوا فیروز جمال کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کیلئےاجازت لینا ضروری ہے۔ جب کہ جمعیت علمااسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراطلاعات فیروز جمال کا کہنا تھا کہ باجوڑ واقعہ کی پر زورمذمت کرتے ہیں، اور شہدا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، حملے میں 54 افراد شہید اور 200 افراد زخمی ہوئے، 100 سے زائد افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    فیروزجمال نے مزید کہا کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، صوبے میں امن وامان سے متعلق محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا، دھماکے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، تحقیقات سے جلد آگاہ کریں گے، تاہم عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ باجوڑ جلسے میں مجھے بھی شرکت کرنی تھی، لیکن شرکت نہیں کرسکا، باجوڑ حملے میں 80 سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلام کی بنیاد پر بنا، لیکن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کئی علما شہید ہوئے، مولانا فضل الرحمان پر 3 حملے ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے 22 ٹکٹ ہولڈر دہشت گرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا، لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی نہیں دی، اور سیکیورٹی دینے سے معذرت کی، جب کہ چیف سیکرٹری آئے تو ان کے ساتھ بھاری سیکیورٹی تھی، افسران کے پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی موجود ہے، لیکن جلسوں کو سیکیورٹی نہیں دی جاتی۔

  • جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا  مگر  برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لیا ہے، مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کارکنان سے اب بھی کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت سے کام لیں، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سانحہ باجوڑ سے متعلق اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ باجوڑ نے پوری امت کو نڈھال کردیا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا اجتماع تھا ، اس اجتماع سے امن کا پیغام دیا جارہا تھا .

    باجوڑ میں امن کنونشن کے نام سے ورکرز کنونشن منعقد کیا تھا، سفاکوں نے امن کے نام سے ہونے والے مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا
    46 لوگ شہید اور سو سے دوسو کے درمیان زخمی ہیں، باجوڑ سانحہ دل کو دہلا دینے والا کر بناک واقعہ ہے ، یہ حملہ صرف جے یو آئی پر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے. جبکہ جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ امن اور فساد ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے، جے یو آئی کے کارکن امن کی آواز بلند کر ہے تھے اور مفسدین نے فساد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، ہمیں اطمینان ہے کہ ہم امن کے علمبردار ہیں ہم مشیت الہی کے علمبردار ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہماری آواز قرآن اور رسول اللہ کی آواز ہے، اس طرح کے واقعات سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا، ہم پر حملے ہوئے کارکن شہید ہوئے تمام قربانیوں کے باوجود حق کا پرچم بحال رکھا اور کبھی جھکنے نہیں دیا ہے جبکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ایک طرف امن کے علمبردار ہیں اور دوسری طرف فساد کے علمبردار ہیں جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جبکہ حملہ آور جاہل سفاک قاتل اور اسلام کے دشمن ہیں.

    مولانا کا کہنا تھا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ہماری امن کی تحریک جاری رہے گی، ہم امت مسلمہ اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑیں گے اور ان شاء اللہ اس میں سرخرو ہونگے ، تمام شہداء سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں خود مستحق ہوں کہ مجھ سے تعزیت کی جائے، شہید ہونے ولے میرے بھائی ساتھی اور جے یو آئی کے کارکن ہیں، سیاسی محاذ پر جے یو آئی مسلمہ قوت ہے ایسے فساد سے ہمارا راستہ روکا جارہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کے کے مطابق اس طرح کے واقعات سے جےیوآئی کا عوام سے رابطہ توڑا جا رہا ہے، تجربہ ہے کہ یک چند دنوں کی ایک لہر ہے جو اپنا بھیانک اور کالا کردار تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے فارغ ہو جاتا ہے، جے یو آئی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو اپنی جد وجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی ہے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے، ان گھناونے عمل سے نہ پہلے راستہ روک سکے ہو نہ آج روک سکتے ہو.

    جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ چند لوگوں کو حق کس نی دیا ہے سب کو کافر کہنے والے، ان حربوں سے ہمیں اپنی فکر اور نظریے کو نہیں ہٹا سکتے، ہمارا عہد اللہ کے ساتھ ہے اور ہمیں اللہ تعالی اپنے عہد پر پورا اترنے کی توفیق دے، جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کرلیا ہے لیکن اس سے پہلے قبائلی زعماء کا جرگہ بلانے کی تجویز ہے، زعماء اور پختون قیادت بیٹھے اور اس خطے کے بارے میں سوچیں، حال میں خیبر ایجنسی میں دو واقعات ہوئے ،جس میں مسلمانوں کا خون بہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے کورم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے اور اس خطے کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پورا پشتون بیلٹ آج جل رہا ہے بلوچ بیلٹ جل رہا ہے کراچی تک فسادات کی لہر تھم نہیں رہی

    مولانا نے کہا کہ ملک کو کوئے مستحکم کرنا ہے، کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی صاحب کو تھانے میں لے آئی اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی ؟ یہی ان کی صلاحیتیں ہیں، چھبیس ادارے ہیں انٹیلیجنس کے وہ کہاں غائب ہیں، اتنا بڑا انٹیلیجنس فیلئر بے گناہوں کو تنگ کرکے اپنی کاروائی ڈالتے ہیں کاغذی کروائی بھرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کیا اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں یا صرف مجھ سے ٹیکس وصول کریں گے اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کرے گی، مجھے شکایت ہے مجھے کرب ہے میں نے ریاست کو بچانے کے لئے قربانیاں دی ہیں میں نے اس ریاست کے بقاء اور استحکام کے لئے جد وجہد کی ہے ، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کرسکتی ہے ۔پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے جو ریاست جی حفاظت کے ذمہ دار اور مسؤل ہیں اسی کے لئے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کہاں ہیں آج ؟ کب وہ ہمارے شکوں کا ازالہ کریں گے کب وہ ہمارے زخموں کا مرہم بنیں گے کب وہ ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گ جبکہ ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے تمام مکاتب فکر کو بیٹھنا ہے ان شاء اللہ ہم سب کو بلائیں گے پی ڈی ایک کو بھی بلانا پڑے گا سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ عنقریب اس حوالے سے ہمہ جہت رابطے کرونگا ،ذمہ داروں کے ساتھ گفتگو بھی کرونگا، ساری صورتحال سامنے رکھونگا کہ ہم سالہا سال سے جس کرب میں ہیں اور جس کرب کا اظہار لر رہے ہیں، کرب کا اظہار جرم ہوجاتا ہے لیکن ہمیں کرب میں مبتلا کرنے والے دندناتے پھریں، ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے، ہم بری طرح دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہونا چاہیے اس پر تجارت جی اجازت نہیں دی جا سکتی، جرم کا خاتمہ چاہیے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود بہت بڑا جرم ہے

  • قران کی بے حرمتی کرنے والے نے سرخ لکیر کو کراس کیا. مولانا فضل الرحمان

    قران کی بے حرمتی کرنے والے نے سرخ لکیر کو کراس کیا. مولانا فضل الرحمان

    سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والا دنیا کے جس حصے میں بھی ہو ہم اس توہین کا بدلہ لیں گے کیونکہ اس ملعون نے ہماری سرخ لکیر کو کراس کیا ہے۔ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف جمعیت علمائے اسلام ف کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں امریکا کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم نے نام نہاد دہشتگرد کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال پیدا کیا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا کے چہرے سے لبرازم کا نقاب اتر چکا ہے، تم مسلمان کو برداشت نہیں کرسکتے، تم نے ہماری سرخ لکیر کو کراس کیا ہے، ہم مزید اس قسم کی حرکات کو برداشت نہیں کریں گے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اسلام بھی رہے گا، قرآن بھی رہے گا اور رسول اللہ کا نام بھی رہے گا، ہم نے دنیا کو اس طرف آگے بڑھنے سے روکنا ہے، اگر تم نہ رکے تو دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو ہم بدلہ لیں گے۔

    علاوہ ازیں اس سے قبل سعودی عرب نے سوئیڈن کے حکام کے غیر ذمے دارانہ اقدامات اور کچھ انتہا پسندوں کو قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش اور بے حرمتی کرنے کی بار بار اجازت دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، نیز عراق کی وزارت خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم سے کہا کہ وہ مسلمانوں کی مقدس چیزوں کے خلاف اس طرح کے مکروہ اعمال کی تکرار کو روکنے کے لیے خصوصی ہنگامی اجلاس بلائے۔

    دوسری جانب عراق کی حزب اللہ تحریک نے مسلمانوں کی مقدسات کی ایک بار پھر توہین کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا: قرآن کریم کی توہین غاصب صیہونی حکومت کے سامنے عرب اور اسلامی ممالک سر تسلیم خم ہونے کا نتیجہ ہے۔ لبنان کی تحریک حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے قرآن کریم کی توہین کی تکرار کی مذمت کرتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا: جو کچھ ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں وہ قرآن کریم اور عراقی پرچم کو جلانا ہے جس کا مقصد سویڈن کی حکومت کی حمایت سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو کھلے عام مشتعل کرنا ہے، مسلمانوں کو اس شرمناک اقدام کے خلاف احتجاج کا بھرپور حق حاصل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تورات اور انجیل کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے فیصلے سے بے حرمتی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس شیطانیت کے تدارک کی مشترکہ حکمت عملی اور تمام مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی اجازت دینے کے اس فیصلے کو تبدیل کرنے کی مہم چلائیں گے۔ واضح رہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے گستاخ سیلوان مومیکا نے دوبارہ سویڈش پولیس کی حمایت اور اجازت سے قرآن مجید اور عراقی پرچم کی توہین کی۔