Baaghi TV

Tag: karachi

  • پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے

    پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے

    لندن:پاکستان پچھلےچند ماہ سےغیرملکی ایجنسیزکےنشانےپرہے:جدید ٹیکنالوجی سے جاسوسی جاری ہے اطلاعات ہیں کہ معروف کمپی بلیک بیری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوجی شخصیات،تنصبیات اورتقریبات اس وقت ایسے عناصراورممالک کی ہٹ لسٹ پرہے جوپاکستان کے مخالف جانے جاتے ہیں

    نیوز پینگوئن نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس کچھ ایسے ثبوت ہیں کہ جن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کوکن خطرات کا سامنا ہے ، جو آنے والی پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC-2023)پرنظریں مرکوز کررکھی ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ جدید جاسوسی ٹول فراہم کرنے کے لیے ہتھیاروں سے لیس دستاویزات رکھتے ہیں۔

    10-12 فروری کوہونے والےایک پروگرام جوکہ PIMEC پاکستانی بحریہ کا ایک اقدام ہے جو نجی اور سرکاری اداروں کو مصنوعات کی نمائش اور تعلقات کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہےکےبارے میں بھی معلوم ہوا ہےکہ اس وقت نظروں میں ہے

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دستاویزات بہت کچھ منفی ظاہرکررہی ہیں ،کیونکہ ان کوایک بار کھولنے کے بعد دستاویز ریموٹ سرور سے اگلے مرحلے کو لانے کے لیے ریموٹ ٹیمپلیٹ انجیکشن تکنیک کا استعمال کرتی ہے جو صرف پاکستانی IP ایڈریسز پر پے لوڈ فراہم کرتا ہے۔

    اس کے ذریعے جب پاکستان میں آئی ٹی سے متعلقہ افراد جوخصوصی طورپران شعبوں میں کام کرتے ہی‌حتمی پے لوڈ کی طرف جانے والی متعدد دیگر فائلیں بھی متاثرہ کی مشین پر ڈاؤن لوڈ کی جاتی ہیں۔ NewsPenguin کا ایجنٹ، جسے explorer.exe میں داخل کیا جاتا ہے، پہلے سے غیر دستاویزی جاسوسی ٹول ہے جو سینڈ باکسز اور ورچوئل حساس مقامات کواپنے قبضے میں لے سکتا ہے

    اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے متعدد چیک کرتا ہے کہ آیا یہ سینڈ باکس کےکواپنے قبضے میں لیتا ہے یا پھر کمانڈ اینڈ کنٹرول (C&C) سرور کا IP حاصل کرنے کے لیے ہارڈ کوڈ شدہ ریموٹ سرور سے منسلک ہوتا ہے اور کمانڈز وصول کرنا شروع کرتا ہے، جو کہ base64 انکوڈ شدہ ہیں۔

    پاکستان کی حساس فوجی اوراہم تنصیبات ،شخصیات اوراداروں کے حوالے سے اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیاہے کہ میلویئر کمانڈز کے درمیان پانچ منٹ انتظار کرتا ہے، ممکنہ طور پر سینڈ باکسز کو اپنے قبضے میں لینے کوشش کرتا ہے ، جس میں عام طور پر فی فائل پانچ منٹ سے بھی کم وقت کی حد ہوتی ہے۔

    موصولہ کمانڈز کی بنیاد پر، میلویئر مشین کے بارے میں معلومات اکٹھا کرتا اور بھیجتا ہے، ایک اضافی تھریڈ چلاتا ہے، فائلوں کو کاپی کرتا ہے یا منتقل کرتا ہے، فائلوں کو ڈیلیٹ کرتا ہے، ڈائریکٹریز بناتا ہے، فائلوں کا مواد سرور کو بھیجتا ہے، فائلوں پر عمل کرتا ہے، اور فائلوں کو اپ لوڈ یا ڈاؤن لوڈ کرتا ہے۔

    ان حملوں سے منسلک ڈومینز 2022 کے دوسرے نصف حصے میں رجسٹر کیے گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ NewsPenguin کچھ عرصے سے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ھمکی آمیز اہداف میں پاکستان میں ملٹری ٹیکنالوجی کمپنیاں، ملکی ریاستیں اور عسکری تنظیمیں شامل ہیں،

    اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ سب کچھ اس طریقے سے کیا جارہا ہے بلکہ کئی متبادل ٹیکنالوجیز کے ذریعے بھی پاکستانی حساس دستاویزات پرقبضہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،اس میں کامیابی کس حد تک ملتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی سے متعلقہ اداروں کے متعلق ہراہم موومنٹ نیوزپینگوئن کی گرفت سے باہرنہیں‌ہے

  • عدالت کا الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم

    عدالت کا الیکشن کمیشن کو پنجاب میں انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو پنجاب میں 90 دن کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کا حکم جاری کردیا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے حوالے سے دائر درخواست کو بھی منظور کرلیا۔ جسٹس جواد حسن نے تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی اور محفوظ فیصلہ سنایا۔ قبل ازیں آئی جی پنجاب نے موقف اختیار کیا تھا کہ انتخابات سے متعلق جو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہو گا ہم اس پر عملدرآمد کریں گے جبکہ چیف سیکرٹری پنجاب نے آگاہ کیا تھا کہ ہم آئین کے آرٹیکل 220 پر عملدرآمد کے پابند ہیں عدالت اور الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے ہم اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن بروقت کروانے سے معذوری ظاہر کردی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کا موقف تھا کہ تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے، عدلیہ ،چیف سیکرٹری، فنانس سب نے افسران اور فنڈز دینے سے معذرت کرلی ہے الیکشن کمیشن ایسے حالات میں کیسے الیکشن کروا سکتا ہے.ہمیں الیکشن کرانے کے لیے 14 ارب روپے کی ضرورت ہے، قانون میں الیکشن کی تاریخ مؤخر ہو سکتی ہے ۔ گورنر کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل میں کہا اگر اسمبلی خودبخود تحلیل ہوتی ہے تو گورنر انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند نہیں ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    تحریک انصاف کے وکیل کا کہنا تھا کہ آئین میں واضح درج ہے کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد نوے روز میں الیکشن ہوں گے. صدر مملکت بھی الیکشن کی تاریخ دے سکتے ہیں ، عدالت حکم دے گی تو صدر تاریخ دے دیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کے لیے دائر درخواستوں پر وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو کہ اب سنا دیا گیا ہے.

  • ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے.  وزیر اعظم

    ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے. وزیر اعظم

    ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، سیکیورٹی لیپس برداشت نہیں ہو گا، وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، سیکیورٹی میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں چاروں صوبوں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیکورٹی امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اس سلسلے میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کسی قسم کا سیکورٹی نقص برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو چاروں صوبوں کا دورہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے حوالے سے وفاق اور صوبوں میں رابطوں اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے. انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام صوبوں میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹس کی استعداد کار میں بہتری لانے کے لئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ہتھیاروں اور سامان سے لیس کیا جائے۔ شہباز شریف نے ہدایت کی کہ اپیکس کمیٹی میں کئے گئے فیصلوں پر بھرپور عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک کے بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی سیکرٹری داخلہ نے حال ہی میں چاروں صوبوں کا دورہ کیا تاکہ امن و امان کے حوالے سے صوبوں کو درپیش مسائل اور درکار وسائل کا جائزہ لیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی سید طارق فاطمی، جہان زیب خان، چاروں صوبوں , گلگت بلتستان , آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹریز، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اسلام آباد کے آئی جیز پولیس اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی.

  • پنجاب کے لذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    پنجاب کے لذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    پنجاب کےلذیذ کھانے جنہیں کھاتے ہی مزہ آجائے

    اگر پنجاب کے مشہور کھانوں کی بات کی جائے تو بہت سے منفرد کھانے ذہن میں آتے ہیں. جیسے کہ سرسوں کا ساگ اور مکی کی روٹی پنجاب کی مشہور ترین کھانوں میں سے ایک ہیں۔ عام طور پر اس ڈش سے سردیوں کے موسم میں لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ لیکن مکھن اور بڑا سا گلاس لسی کے ساتھ اس کا مزہ لیا تو کہیں زیادہ ہی دوبالا ہوجاتا ہے.

    اس کے علاوہ ڈش جو پنجاب کھانوں میں جو لذت دار فوڈ ہے ان میں دہی بھلہ یا دہی بڑا کے نام جانا جاتا ہے، یہ گہری تلی ہوئی اُڑد کی دال کی گیندوں سے بنا پوا ہوتا ہے جسے بلے کہا جاتا ہے. اور پھر اسے اچھی طرح سے دہی میں ڈبویا جاتا ہے۔ ان کے ذائقے کو بڑھانے کے لیے ٹینگی اور میٹھی املی کی چٹنی اور دھنیا کی چٹنی شامل کی جاتی ہے۔ تاکہ اس کے ذائقہ کو مزید مزیدار بنایا جاسکے.
    علاوہ ازیں دال مکھنی بھی ایک لزت دار کریم اور مکھن کے گڑیوں کے ساتھ پوری کالی دال پر مشتمل ہے یہ پاکستان اور بھارت دونوں پنجاب میں مشہور ہے اس کا ذائقہ بہت ہی مزیدار ہوتا ہے اور دونوں ملکوں کے پنجاب میں ماضی میں تو کافی مشہور رہا ہے لیکن پاکستان میں اب یہ کم ہی رہ گیا بلکہ نایاب ہی ہوگیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اگر پنجاب کے میٹھے کھانوں کی بات کی جائے تو جلیبی کافی مشہور یہ اصل میں جالندھر کی تمام گلیوں میں دستیاب ہے لیکن پاکستان میں لاہور جلیبی کو دودھ کے گرم پیالے میں بھی ڈال کر دیا جاتا ہے جو بہت لذتدار ہوتا ہے۔ اسے میدہ کی مدد سے بنایا جاتا ہے اور گول جلیبیاں تو بہت ہی مزیدار ہوتی ہیں جبکہ یہ سرخ اور ہلکے ہھیکے سفید رنگ میں بھی بنائی جاتی ہیں.

  • خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    خواتین ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز؛ پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    پاکستان سمیت10 ملکوں کی ٹیمیں ٹرافی کے حصول کیلئے مد مقابل

    جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنے والے 10 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیمیں جمع ہیں جہاں وہ آٹھویں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے حصول کیلئے ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کو تیار ہیں۔ ٹورنامنٹ جمعہ 10 فروری سے شروع ہورہا ہے جس میں آسٹریلوی ویمنز کرکٹ ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی جس نے 2020 میں اپنے ہوم گراؤنڈ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلنے جانے والے فائنل میں بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کو 85 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا کو اپنے اولین میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی تھی ۔ اسی ٹورنامنٹ میں آئی سی سی نے فرنٹ فٹ نوبال کو مانیٹر کرنے کیلئے پورے ٹورنامنٹ کے دوران ٹیکنالوجی کواستعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایونٹ میں حصہ لینے والی10 ٹیموں کو پانچ پانچ کے دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میزبان جنوبی افریقہ سمیت 8 ٹیمیں براہ راست رینکنگ کی بنیاد پر ٹورنامنٹ میں شرکت کی اہل ہیں جبکہ آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر اس مرحلے میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

    گروپ اے میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا’ بنگلہ دیش’ نیوزی لینڈ’ میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا گروپ بی میں انگلینڈ’ بھارت’ آئرلینڈ’ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں ۔ ٹورنامنٹ کے میچز تین شہروں کوساہ ( پورٹ ایلزبتھ) پارل اور کیپ ٹائون میں کھیلے جائیں گے ۔ افتتاحی میچ اور فائنل کی میزبانی کیپ ٹائون کر رہا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم 20 اوورز کے اس ٹورنامنٹ میں پانچ مرتبہ فاتح رہی ہے جبکہ انگلینڈ کی خواتین نے 2009 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے اولین کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر جیتا تھا۔ اس کے بعد انگلش خواتین کی ٹیم تین مرتبہ فائنل میں پہنچی لیکن ہر بار اسے روایتی حریف آسٹریلوی ٹیم کے ہاتھوں شکست کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔ ویسٹ انڈین خواتین نے 2016 میں بھارت میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ویسٹ انڈین ٹیم نے اس ایونٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے اور دوسرے ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تھی ۔ پہلے ورلڈ کپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ کو انگلینڈ اور دوسرے ورلڈ کپ فائنل میں آسٹریلیا نے زیرکیا تھا ۔

    آسٹریلوی ٹیم کو سب سے زیادہ ورلڈ کپ میچز کھیلنے اورجیتنے کا اعزاز حاصل ہے۔ آسٹریلوی خواتین نے سات ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 38 میچز کھیلے اور 29 میں فتوحات حاصل کیں جبکہ صرف آٹھ میچوں میں اسے شکست ہوئی۔ ایک میچ ٹائی ہوا۔ انگلش کرکٹ ٹیم نے 30 میں سے 18 میچ جیتے 12 ہارے۔ نیوزی لینڈ نے 32 میں سے 22 جیتے 10 ہارے۔ بھارت کو 31 میچز میں سے 17 میں کامیابی ملی جبکہ 14 میں شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔ جنوبی افریقن ٹیم 27 میچز میں سے 11 جیتی 16 ہاری۔ سری لنکن ٹیم نے میچز میں سے آٹھ جیتے اور 19 ہارے۔ بنگلہ دیش نے 17 میچوں میں سے صرف دو جیتے اور 15 میں شکست کی ہزیمت اٹھانا پڑی۔ آئرلینڈ13 اور تھائی لینڈ نے 4 میچ کھیلے لیکن دونوں ٹیموں کو تمام میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ویسٹ انڈیز وہ واحد ملک ہے جسے دومرتبہ ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔ ویسٹ انڈیز نے 2010 اور2018 میں اس ایونٹ کی میزبانی کی تھی اوردونوں بار ویسٹ انڈین ٹیم کو سیمیفائنل میں شکست ہوئی تھی۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا وہ ممالک ہیں جنہوں نے میزبانی کرتے ہوئے ورلڈ کپ جیتا جبکہ تین میزبان ایشائی ملک پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہوگئے تھے۔ 2012 کے میزبان ملک سری لنکا ’ 2014 کا میزبان بنگلہ دیش اور 2016 کا میزبان بھارت گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔ اس ٹورنامنٹ کا آغاز آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے نام سے ہوا تھا اور 2019 تک اسے آئی سی سی ویمنز ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ جس کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ رکھ دیا گیا ۔ یہ 20 محدود اوورز کا خواتین کرکٹ کا دو سالہ بین الاقوامی ایونٹ ہے۔ یہ ایونٹ بین الاقوامی کرکٹ کی گورننگ باڈی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔

    اس کا پہلا ایڈیشن 2009 میں انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا۔ پہلے تین ٹورنامنٹس میں آٹھ آٹھ ممالک شریک ہوئے تھے۔ لیکن پھر 2014 کے بعد ٹیموں کی تعداد کو بڑھا کر 10 کر دیا گیا تھا۔ جولائی 2022 میں آئی سی سی نے اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش 2024 کے ٹورنامنٹ کی میزبانی کرے گا اور 2026 کے ٹورنامنٹ کا میزبان انگلینڈ ہو گا اور اس ٹورنامنٹ میں ٹیموں کی تعداد 10 سے بڑژھا کر 12 کر دی جائے گی ۔ ہر ٹورنامنٹ میں 8 ٹیموں کی ایک مقررہ تعداد خود بخود کوالیفائی کرتی ہے، باقی ٹیموں کا تعین ورلڈ T20 کوالیفائر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 2014 تک ڈراز کے وقت آئی سی سی ویمنز ٹی 20 انٹرنیشنل رینکنگ میں ٹاپ چھ ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کرتی تھیں جبکہ دو ٹیمیں کوالیفائنگ رائونڈ کھیل کر آنی تھیں۔ 8 ملکوں کی ویمنز کرکٹ ٹیموں کو ساتوں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کااعزاز حاصل ہے جن میں آسٹریلیا’’ نیوزی لینڈ’ جنوبی افریقہ’ سری لنکا’ انگلینڈ’ بھارت“ پاکستان اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔ بنگلہ دیش چار’ آئرلینڈ تین اورتھائی لینڈ نے ایک بار اس ایونٹ میں شرکت کی ہے۔

    ٹورنامنٹ میں شریک ہر ٹیم 15 رکنی اسکواڈ پر مشتمل ہے تام زخمی ہونے والی کھلاڑیوں کیلئے متبادل کی اجازت ہے۔ ٹورنامنٹ کے باقاعدہ آغاز سے قبل ٹیموں نے 6 سے 8 فروری تک وارم اپ میچز کھیلے۔ جس میں آئرلینڈ نے دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دے کر تہلکہ مچا دیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کی کارکردگی بھی کوئی متاثر کن نہیں ہے۔ پاکستان نے سات ٹورنامنٹس میں مجموعی طور پر 28 میچز کھیلے ہیں اور صرف آٹھ میچوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ 19 میچز میں اسے حریف ٹیموں نے زیر کیا۔ ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ پاکستان کی 15 رکنی ٹیم آل راؤنڈر بسمہ معروف کی زیر قیادت اس ٹورنامنٹ میں شرکت کررہی ہے ٹیم کی دیگرکھلاڑیوں میں ندا ڈار (نائب کپتان) ایمن انور ’عالیہ ریاض ’ عائشہ نسیم‘ صدف شمس’ فاطمہ ثنا’ جویریہ ودود’ منیبہ علی صدیقی’ نشرہ سندھو’ عمیمہ سہیل’ سعدیہ اقبال’ سدرہ امین’ سدرہ نواز اور طوبیٰ حسن شامل ہیں جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں کائنات امتیازاور غلام فاطمہ شامل ہیں۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف اس بارگروپ مرحلے سے آگے بڑھنے کیلئے خاصی پرامید ہیں۔ بسمہ معروف دوسری بار ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کررہی ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ ٹیم کی مسلسل اچھی کارکردگی کی وجہ سے اسبار پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ میں بہتر نتائج دے گی۔ ٹیم جواں سال باصلاحیت اورتجربہ کار کھلاڑیوں کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت شامل ہے لیکن پاکستان کا روایتی حریف کے خلاف ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ بھارت کو پاکستان پر ٹی 20 میچوں میں تین کے مقابلے میں 10 فتوحات کی برتری حاصل ہے۔ تاہم حال ہی میں ایشیاکپ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد بھارت کو 13 رنزسے شکست دی تھی اور 138 رنز کے ہدف کاکامیابی سے دفاع کیا تھا۔ پاکستانی ٹیم نے جنوری 2021 کے بعد 21 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے جن میں سے 10 جیتے اور9 میں حریف ٹیمیں فاتح رہیں۔

    پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کا زیادہ تر دارو مدار بسمہ معروف’منیبہ علی ’سدرہ امین‘ عمیمہ سہیل پر ہے جبکہ نداڈاراورعائشہ نسیم جارحانہ بیٹنگ کر کے رنزوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ طوبیٰ حسن’ ندا ڈار’ نشرہ سندھو’ فاطمہ ثنا اپنی شاندار نپی تلی بولنگ سے حریف ٹیموں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم اس سب کا پتہ توگراؤنڈ میں چلے گا جب ٹیمیں کامیابی کیلئے ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ ٹورنامنٹ کا پہلا میچ 10 فروری کو گروپ اے میں شامل میزبان جنوبی افریقہ اور سری لنکا کے مابین کیپ ٹاؤن میں کھیلا جائے گا۔ گروپ راؤنڈ میچز 22 فروری تک جاری رہیں گے اور دونوں گروپوں سے دو دو ٹاپ ٹیمیں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گے. 11 فروری کو پارل میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز’ آسٹریلیا بمقابلہ نیوزی لینڈ’ 12 فروری کو ایشیا کے دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کیپ ٹاؤن میں مدمقابل ہوں گی جبکہ اس میچ کے بعد اسی گراؤنڈ پر بنگلہ دیش اور سری لنکا کا مقابلہ ہوگا ۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے لئے بڑا حکم جاری کردیا ہے، عدالت نے لاہور شہر میں درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعللق کیس کی سماعت کی، نگران حکومت کی جانب سے سموگ تدارک کے لئے چینی ماہرین کی خدمات کے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔عدالت نے ٹریفک کے رش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈ آویزاں کرنے کی ہدایت کر دی۔

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ نگران حکومت نے سموگ تدارک کے لئےچینی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لئے ورکنگ پیپر جاری کردیا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ ڈپٹی اٹارنی جنرل صاحب آپ اس ورکنگ پیہر کو وفاقی حکومت کےذریعے چِینی حکومت سے شئیر کریں ۔ چینی ماہرین کی مدد سے سموگ کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جسٹس شاہد کریم نے کہا ہے کہ شہر میں درخت کاٹنے کو فوجداری جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جائے ، لاہور شہر میں سموگ کے معاملے پر پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں ، درخت کاٹ کر حالات مزید ابتر نہ کئے جائیں ۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی پراجیکیٹ کے لئے آئندہ محکمہ ماحولیات درختوں کی کٹائی کی صورت میں این او سی جاری نہ کرے۔عدالت نے ٹریفک کےرش والے علاقوں میں خلاف ورزی کی صورت میں ایمرجنسی نمبرز کے بورڈز اویزاں کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی۔

  • نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف  ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی۔

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کردی ہے.محمدخان بھٹی کےخلاف کارروائی کا آغاز ہوگیا ہے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کیلئے ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ محمدخان بھٹی کو ملنے والی تنخواہیں، مراعات اور سیشن الاؤنس کاریکارڈحاصل کرلیا، بینک نے سیکڑوں صفحات پر مشتمل ریکارڈ نیب کو جمع کرا دیا ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ محمدخان بھٹی نے2007 تا 2018 جبری رخصت پر ہونے کے باوجود تنخواہیں وصول کیں اور کروڑوں روپے کی غیرقانونی مراعات وصول کیں۔ ذرائع کے مطابق نیب نے کروڑوں روپے کی مخلتف ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا۔ محمدخان بھٹی کےخلاف ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن میں بھی مبینہ کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری جانب سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی اہلیہ نے شوہر کی گمشدگی پر چیف جسٹس پاکستان سے ازخود نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح‌رہے کہ اس سے قبل محمد خان بھٹی کے خلاف مقدمے میں نامزد ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال کا عدالت میں دیا گیا اعترافی بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محمدخان بھٹی ٹرانسفر پوسٹنگ کی مد میں زبردستی رشوت وصول کرایا کرتے تھے، ترقیاتی کاموں کی مد میں زبردستی محمد خان بھٹی رشوت وصول کرایا کرتے تھے۔ ایکسیئن ہائی وے رانا محمد اقبال نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ محمدخان بھٹی پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے فرنٹ مین ہیں، ذکا نامی شخص نے محمدخان بھٹی سے متعارف کرایا تھا، 10 لاکھ رشوت کے عوض مجھے ایکسیئن ایم اینڈ آر گجرات تعینات کرایا گیا، گجرات میں کام شروع کیا تو ابتدائی 3 ماہ میں محمد خان بھٹی کو تقریباً 3کروڑ روپے پہنچائے، جس کے بعد محمد خان بھٹی نے میرا تبادلہ بطور ایس ڈی او ہائی وے پھالیہ کرا لیا۔

    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے جولائی میں کنٹریکٹرز کو نئےکام دینے کے لیے بڑی رقم کا مطالبہ کیا، پھالیہ تعیناتی کے دوران 25 کروڑ اکٹھےکر کے محمد خان بھٹی کو جی او آر ون ان کے گھر پہنچائے، مئی 2022 سے جولائی 2022 تک میں او ایس ڈی رہا، پرویز الٰہی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا اور محمد خان بھٹی سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ لگ گئے۔ ملزم نے اعترافی بیان میں مزید بتایا تھا کہ محمد خان بھٹی نے سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ بنتے ہی میرے آرڈر بطور ایکسیئن منڈی بہاؤالدین کرا دیے، محمد خان بھٹی نے مجھے من پسند آسامیوں پر تعیناتیوں کی مد میں پیسے اکٹھے کرنے کا ٹاسک سونپا، دلشاد کو ایکسیئن ہائی وے لاہور تعینات کرنے کے لیے 20 لاکھ رشوت لی تھی. کاشف شکور سے ایس ای لاہور سرکل تعینات کرنے کے لیے 50 لاکھ رشوت لی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    رانا محمد اقبال نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا تھا کہ مختلف افسروں کو من پسند آسامیوں پر تعینات کرنے کے لیے مجموعی طور پر 2 کروڑ رشوت لی گئی تھی. محمد خان بھٹی پرنسپل سیکرٹری بنے تو مختلف محکموں کے لیے ڈیویلپمنٹ کا بہت بڑا پیکج منظور کروایا، محمد خان بھٹی کی ہدایت پر کام دینے کے عوض 50کروڑ جمع کر کے ان کے گھر پہنچائے، رشوت دیتے وقت رہائش گاہ پر مونس الٰہی اور دیگر بھی موجود تھے، مونس الٰہی کی موجودگی میں 2 کمپنیوں کو کام دینے کا حکم دیا، دو کمپنیوں کو کام دلوانے کی مد میں محمد خان بھٹی نے 10کروڑ روپے رشوت لی تھی.

  • پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے

    اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیداواری صلاحیت میں اصلاحات اور لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کے بغیر پاکستانی معیشت ترقی نہیں کرسکتی۔

    تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک نے پاکستانی معیشت پر رپورٹ جاری کردی، ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت پیداواری صلاحیت میں اصلاحات کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، پاکستان کی معیشت نازک مرحلے پر ہے۔عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق خرابیاں دور کرنے پر زور دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سالانہ 6 سے 8 فیصد معاشی ترقی کی ضرورت ہے۔

    ورلڈ بینک فنڈزکااستعمال؛ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو مزید ٹھیکے دینے سے روک دیا

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسائل کے اعتبار سے پیداوار نہ ہونا ملکی ترقی میں رکاوٹ ہے، تمام شعبوں پر ٹیکسوں کو ہم آہنگ کرنے سے معیشت میں بہتری آسکتی ہے۔ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے بجائے مینو فیکچرنگ اور تجارتی شعبے کو بہتر کیا جائے، تجارتی پالیسی سے برآمدی شعبوں میں برآمد مخالف رویوں کو ختم کیا جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سے ریجنل ڈائریکٹر ورلڈ بینک کی سربراہی میں وفد کی ملاقات

    رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں 22 فیصد خواتین ملازمت کرتی ہیں اس شرح کو بڑھانا چاہیئے، خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت سے ترقی میں اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ خواتین کے لیے روزگار کے 73 لاکھ مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں خواتین کو روزگار کی فراہمی سے جی ڈی پی کی شرح 23 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

    سیلاب سے 90 لاکھ تک پاکستانی غربت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان کا بنیادی مسئلہ نجی حکومتی اخراجات پر انحصار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ جنرل سیلز ٹیکس کو ہم آہنگ کرنا اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں میں پاکستان میں فی کس خام قومی پیداوار کی شرح کم رہی، پائیدار ترقی کے لیے دیرینہ عدم توازن کا مسئلہ ہنگامی بنیاد پر حل کرنا ہوگا۔

  • پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہو گا، تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملک کی 22کروڑ عوام کے لیے پوری ذمہ داری سے لکھ رہا ہوں کہ پاکستان نہ تو معاشی دیوالیہ ہوگا اور نہ ایک ایٹمی طاقت کے ملک کو امریکہ سمیت عالمی مالیاتی ادارے دیوالیہ ہونے دیں گے۔ وطن عزیز کی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے باوقار اور شاندار ادارے ہیں۔ پتہ نہیں ہمارے سیاستدان کن چکروں میں پڑ کر اس ملک کی جگ ہنسائی کروا رہے ہیں۔ چین سمیت عرب ممالک بھی وطن عزیز کی معاشی صورت حال پر فکر مند ہیں اور نہ ہی پاک فوج اقتدار پر کمند ڈالنے کی سوچ رہی ہے۔ حکمرانوں اور ملک کے تمام سیاستدانوں کو سوچنا ہوگا اپنے وسائل پر توجہ دینا ہوگی ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا اور وی لاگر اس ملک اور عوام کو مایوس نہ کریں تاہم قومی سیاسی احوال پر سرسری نگاہ کی جائے تو یہ افسوسناک حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ ہمارے سیاسی زعماء کی اکثریت بے معنی اور بے وقت مسائل میں گرفتار ہے۔

    ان کے درمیان سیاسی نظریات اور افکار کے حوالے سے اختلاف رائے کی بجائے ذاتی مفادات کا ٹکرائو زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ اس کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اپنی جماعت کی ساکھ کو بحال کرنے کے لئے اپنی بیٹی مریم نواز کو میدان میں اتارا لیکن نواز شریف کی سیاسی مشکلات کا ازالہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں سب سے اہم سبب یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا نتیجہ خیز مظاہرہ کرنے کی بجائے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یوں اپنے لئے اور اپنی سیاسی جماعت کے لئے آزمائش کی روش کو عام کردیا۔ عوام الناس کی طرف سے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں جو تبصرے کئے جاتے ہیں اس سے ہر خاص و عام آگاہ ہے۔

    پیپلز پارٹی کے بے تاج بادشاہ آصف علی زرداری اپنے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو ایوان اقتدار میں وزیراعظم کی اس مسند پر رونق افروز دیکھنا چاہتے ہیں۔ قرائن یہی ظاہر کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لئے تمام تجربات کو بروئے کار لائیں گے۔ اس سلسلے میں وہ سیاسی شطرنج ہر قیمت کھیلیں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جماعت بھی قومی اسمبلی میں دوبارہ داخل ہورہی ہے یہ پی ڈی ایم اور بالخصوص شہباز شریف کے اقتدار کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ موجودہ سیاسی کھیل میں اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کی تمام توجہ ملک و قوم کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ کاش ہمارے سیاسی زعماء اس حقیقت کا احساس اور ادراک کریں کہ ان کے قول و فعل کا عام آدمی کے ذہن ہی نہیں بلکہ روز مرہ زندگی پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔

  • پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

    کراچی:پاکستان کے معروف سائنسدان اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمان کو دنیا کی معروف ”وال آف سائنٹسٹ“ میں شامل کرلیا گیا۔سوئٹزر لینڈ میں ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ مشہور انجینئرنگ یونیورسٹی ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ کی جانب سے بنائی گئی ہے۔

    بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق پروفیسر عطاء الرحمان مسلم دنیا سے پہلے سائنسدان ہیں، جن کو ’’وال آف سائنٹسٹ‘‘ میں شامل کیا گیا ہے، اس میں صرف دنیا کے نمایاں سائنسدانوں کو ہی شامل کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’’سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘‘ دنیا میں صفِ اول کی جامعات کی فہرست میں 12 ویں نمبر پر ہے۔

    شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے پروفیسر عطاء الرحمن کو اس اچیومنٹ پر مبارکباد دیتے ہوئے جامعہ کراچی اور پوری قوم کیلئے اعزاز قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ پروفیسر عطاء الرحمان رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔

    پروفیسر عطاء الرحمان چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے مناصب پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ کئی مرتبہ پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہے ہیں۔ڈاکٹر عطاء الرحمان مسلم دنیا سمیت کئی دیگر ممالک کی اکیڈمی آف سائنسز کے صدر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ چین اور ملائیشیا میں ان کے نام سے متعدد تحقیقی اور تعلیمی ادارے قائم کئے جاچکے ہیں۔

    ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ناصرف ملکی بلکہ متعدد بین الاقوامی ایوارڈز بھی حاصل کئے ہیں، چینی صدر ژی جن پنگ نے انہیں چین کے سب سے اعلیٰ ’’سائنٹیفک ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا تھا۔ڈاکٹر عطاء الرحمان کو فیلو آف رائل سوسائٹی (لندن) کا اعزاز بھی حاصل ہے، انہیں ’دی ورلڈ اکیڈمی آف سائنس (ٹی ڈبلیو اے ایس)‘ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔