Baaghi TV

Tag: Khawaja Asif

  • فیض آباد کمیشن ایک مذاق تھا، اس رپورٹ کی کوئی وقعت نہیں،خواجہ آصف

    فیض آباد کمیشن ایک مذاق تھا، اس رپورٹ کی کوئی وقعت نہیں،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے فیض آباد انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ نا تو مستند اور نا قابلِ بھروسہ ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ فیض آباد کمیشن ایک مذاق تھا،اس رپورٹ کی کوئی وقعت نہیں، یہ رپورٹ نا تو مستند اور نا قابلِ بھروسہ ہے،جنرل ریٹائرڈ فیض اور جنرل ریٹائرڈ باجوہ تو کمیشن کے سامنے پیش ہی نہیں ہوئے، صرف مجھ جیسے سیاسی ورکرز پیش ہوئے کمیشن کے سامنے جا کر احساس ہوا کہ یہاں کوئی سنجیدگی نہیں، آنا ہی نہیں چاہیے تھا، فیض آباد دھرنا کمیشن گریبان میں جھانکے کہ انہوں نے فرض نبھایا کہ نہیں نبھایا۔

    واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو کلین چٹ دے دی 3 رکنی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اُس وقت کے آرمی چیف نے فیض حمید کو معاہدے کی اجازت دی تھی ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے دستخط پر وزیراعظم شاہد خاقان، وزیر داخلہ احسن اقبال نے بھی اتفاق کیا تھا۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا عمل جب شروع ہوا تو روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا کہ کوئی ایسا شخص وزیراعظم نہ بن جائے کہ جس سے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ جائے اور الزامات لگیں کہ ان کا کسی پارٹی سے تعلق ہے۔ احتیاط کی گئی کہ پی ڈی ایم سے جڑی کسی پارٹی پر یہ الزام نہ لگے۔ جبکہ نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم جو ہیں، میرا نہیں خیال کہ انہوں نے وابستگی کا ایسا کوئی بوجھ اٹھایا ہوا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ان کا تعلق ضرور ہے لیکن اس پارٹی کا اتنا زور نہیں کہ وہ پورے پاکستان یا انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔

    انہوں نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا 48 گھنٹے پہلے سے ہی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا اور اس سلسلے میں مشاورت بھی ہوگئی تھی۔ ان کی تعیناتی بلوچستان کے عوام پر اچھا اثر ڈالے گی۔ چاہے وہ نگراں ہی صحیح لیکن تاثر جائے گا کہ صوبے پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آپ بھی قومی دھارے کا حصہ ہیں ایک اہم حصہ ہیں اور برابر کے حصہ دار ہیں‘۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں ڈاکٹر مالک سمیت متعدد ناموں پر بحث ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیبرپختونخوا اور سندھ سے ایک ایک نام اور جنوبی پنجاب سے دو نام فائنل کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی پسند ہیں۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں کے تجویز کردہ بہت سے ناموں پر شدید تحفظات تھے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا آنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا، ان کی آمد سے عوامی نظریہ ہمارے لیے بہتر ہوگا، میرے حساب سے الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد میاں صاحب کو آنا چاہیے۔ نو مئی سے متعلق مقدمات میں جیلوں میں قید خواتین سے سلوک کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے جو خواتین قید ہیں انہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا اور سیاست میں جب ہم آجاتے ہیں تو پھر جینڈر ایکوالٹی (صنفی برابری) ہونی چاہیے جینڈر پریفرنس (صنفی ترجیح) نہیں ہونی چاہیے۔

  • نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن یعنی حزب اختلاف نے فروری میں الیکشن کا کہا ہے، الیکشن ڈیڑھ دو ماہ آگے جاسکتے ہیں لیکن الیکشن فروری سے آگے نہیں جائیں گے اور ہم سب چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے ہوجائیں اور جو بھی ملک کے لیئے بہتر وہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اس ملک پر حکمرانی کرے جبکہ ان کا کہنا تھا نواز شریف اپنے ملک آکر سب کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں.

  • خواجہ آصف نے عمران خان کی گرفتاری کا عندیہ دے دیا

    خواجہ آصف نے عمران خان کی گرفتاری کا عندیہ دے دیا

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ سائفر جیسی سیکرٹ دستاویز پبلک کرنے پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر آرٹیکل چھ لگ سکتا ہےاور ان کی گرفتاری کا امکان ہے، حکومت اپنی مدت کی تاریخ سے ایک دو روز قبل تحلیل کر دی جائے گی۔ جبکہ نجی ٹی وی گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ جب ہم کہتے تھے کہ ان کا بیانیہ فراڈ ہے اس وقت تنقید کی جاتی تھی ۔ اب ان کے اپنے ہی ساتھی بول رہے ہیں ، ملک کے موجودہ حالات بھی پی ٹی آئی حکومت کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہیں ،انکی پارٹی کے ورکر اور لیڈر عمران خان کی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جتنے بھی اعمال کئے ہیں اپنی زندگی میں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں،عوام کو جھوٹ سوشل میڈیا کے زریعے گھونٹ کر پلایا گیا،نوجوان نسل اس سے متاثر ہوئی ابھی اسکا نشہ نہیں اترا،نو مئی کا دن اسی کا تسلسل تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میرا سوال ہے چیرمین پی ٹی آئی عدالتوں میں آگیا ہے ،قانون کا سامنا بھی کرے گا قانون کے مطابق اسے سزا یا جزا بھی ملے گی،جن لوگوں نے اسکو دو ہزار گیارہ بارہ سے لیکر دو ہزار اٹھارہ تک سرپرستی کی انکو بھی اختساب ہونا چاہئے ۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے ساتھ تجربہ کیا تھا کہ نواز شریف قابل قبول نہیں،نوازشریف کی ثابت قدمی سیاست میں مثال بن گئی ہے،آج چیئرمین پی ٹی آئی کو عدلت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے،نواز شریف کو تو کسی نے استثنیٰ نہیں دیا،نواز شریف نے دو سو پیشیاں بھگتی ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ نواز شریف ایک ایک ضمانت کے لئے چکر لگانے پڑتے تھے جبکہ اسکو بارہ بارہ ضمانتیں دیں جاتیں ہیں،اورسب سے بڑی عدالت میں جج صاحب بیٹھ کر محبت کا اظہار کررہے ہوتے ہیں،انصاف اور اپنے عہدوں کا ہی بھر رکھ لیں۔

    انہوں نے کہا کہ سائفر ایک سکریٹ ڈاکومنٹ ہے،اسکو افشاں کرنا سیکرسی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور اسکی سزا کتاب کے اندر درج ہیں،اگر کل ملٹری کورٹ میں کیس چلتے ہیں تو پی ٹی آئی دور میں عدلیہ کو نظر نہیں آرہا تھا،25 لوگوں کو سزائیں ہوئیں سزائے موت بھی ہوئی اس وقت ہماری عدالتوں پتا نہیں لگا تھا؟اب کہتے ہیں ہم نوٹس لینگے،آج ٹارگٹ ان چیزوں کا پی ٹی آئی یا لیڈر ہے تو انکو قانون اور آئین یاد انی شروع ہوگی ہے۔

    انکا کہنا تھاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کا امکان ہے،جب اتنے جرائم کئے ہوئے ہیں میرٹ پر سزا بھی ہوسکتی ہے اور رہا بھی،میری رائے میں ان پر ارٹیکل سکس بھی لگتا ہے،یہ بندہ اس قابل نہیں تھا کہ اسکو وزیراعظم کی حسیت سے ریاست کے راز شیئر کئے جائیں،اس نے راز کہاں کہاں پہنچائے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتا ہے کورکمانڈر ہاؤس کے باہر اسکا کوئی بندہ نہیں تھا،اسکی بہن اور بھتیجا کیا آئس کریم اور برگر کھانے گئے ہوئے تھے،نومبر پچھلے سال تک پورا زور لگتا رہا کہ کسی طرح اسکو بچا لیا جائے،میں سمجھتا ہوں نومبر میں جو فیصلہ ہوا اسکو روکنے کی پوری کوشش کی گئ جو کہ میرٹ پر تھا،پچھلے سال نومبر تک اس سسٹم کو کسی نہ کسی شکل کے اندر جاری رکھنے کی کوشش کی دو ہزار اٹھارہ کے ناجائز الیکشن میں پیدا ہوا تھا،آرٹی ایس کو ڈاؤن کرکے ایک ناجائز بھرتی کی گئی تھی۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ توشہ خانہ کی سرکاری پراپرٹی فروخت کرکے اس میں سے منافع جیب میں ڈالتے ہیں اور باقی بیس فیصد جمع کر دیتے ،ایک سو نوے ملین ملک ریاض انکا ماما لگتا ہے،اس کوایک سو نوے ملین پونڈ پکڑا دیا،اب تو اعظم خان نے بھی اس پر بیان دے دیا ہے، شوکت خانم ہسپتال میں ڈونیشن اتیں وہ تحریک انصاف کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے حکومت اپنی مدت کی تاریخ سے ایک دو روز قبل تحلیل کر دی جائے گی،الیکشن نئی مردم شماری یا پرانی اس پر ایک دو روز میں فیصلہ ہوجائے گا،مجودہ عدالتوں کا جو ماحول ہے میں اپنے قائد کی واپسی کا رسک اگلے ڈیڑھ مہنے تک نہیں لونگا۔
    یہ بھی پڑھیں؛
    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار
    ایس ایچ او اورساتھی افسر بھتہ وصول کرنے کے الزام میں رنگے ہاتھوں گرفتار
    تحفے میں ملنے والے جوتوں کی رقم سے زیادہ ٹیکس
    خواجہ آصف نے کہا کہ آئی ایم ایف ہم چاہتے یا نہ چاہتے اسکے بغیر گزارا نہیں تھا،گزشتہ حکومت نے پوری کوشش کی کے ملک دیوالیہ ہو،شہباز شریف انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، مہنگائی سےجھٹکارا یہی ہے کہ ایک اسٹیبل گورنمنٹ ائے وہ اس مہنگائی پر قابو پاسکتی ہے،ملک کے ٹیکس چور اشرافیہ کئی ہزار ارب پیسہ چوری ہوتا ہے،سیالکوٹ:آٹھ ہزار ارب کی ٹیکس چوری ہوتی ہے ۔

  • نگراں حکومت 60 سے 90 روز میں انتخابات کرادے گی. وزیر دفاع

    نگراں حکومت 60 سے 90 روز میں انتخابات کرادے گی. وزیر دفاع

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کون ہوگا ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، نگراں حکومت 60 سے 90 روز میں انتخابات کرادے گی۔ نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سال سوا سال سے پراکسی وار کر رہے ہیں، اداروں کا ردعمل جانچنے کے لیے یہ اپنے لوگوں سے ٹویٹ کراتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان غیرمستحکم رہے۔


    وزیر دفاع نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے صرف دفاعی اداروں کو ہدف بنایا ہوا ہے،9 مئی کو زیادہ تر دفاعی اداروں کو نشانہ بنایا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو جتنا ریلیف عدلیہ سے ملا آج تک کسی کو نہیں ملا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا ایجنڈا چیئرمین پی ٹی آئی پورا کررہے ہیں، اسرائیل کو فکر ہے پاکستان میں ان کا ایجنڈا روکا جا رہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    ان کا مزید کہنا تھا کہ نگراں وزیراعظم کون ہوگا ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا، نگراں حکومت 60 سے 90 روزمیں انتخابات کرادے گی۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی جنگ اپنی سرزمین پر لڑی ہے، افغان حکومت اپنی سرزمین کسی اور ملک میں دہشت گردی کے لیےاستعمال نہ ہونے دے۔

  • عمران خان نے ہماری حکومت چلانے میں آسانیاں پیدا کیں۔ خواجہ آصف

    عمران خان نے ہماری حکومت چلانے میں آسانیاں پیدا کیں۔ خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ کس طرح چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو حکومت چلانے میں آسانیاں پیدا کیں ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت پراکسی کے ذریعے پروپیگنڈا کر رہے ہیں، 9 مئی کو جو ان لوگوں نے کیا، اللہ کے فضل سے ناکام ہوا، ناکامی کے بعد دوبارہ یہ پلان پراکسی کے ذریعے لانچ کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا پچھلے سال سے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی یتیمی تنگ کر رہی ہے، عدم اعتماد کے بعد یہ اپوزیشن میں بیٹھ جاتے تو کیا ہماری گورنمنٹ 14ماہ چل سکتی تھی؟ اسمبلیاں توڑی گئیں تو ہمارے لیے آسانی پیدا ہوئی، اس شخص کو سیاست کی زیر زبر معلوم نہیں، اس شخص نے آرمی چیف کی تقرری پر بھی تماشا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خطرناک اشتہاری ملزم کو دبئی سے گرفتار کرلیا گیا
    چیئرمین تحریک انصاف سے 13 مقدمات میں 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش
    آئی ایم ایف کی عمران خان سے ملاقات سیاسی عمل کا حصہ ہے،مریم اورنگزیب
    افغانستان کر کٹ ٹیم نے تین میچز کی سیریز اپنے نام کر لی
    یونان کشتی حادثہ؛ جاں بحق 15 مزید پاکستانیوں کی شناخت
    بے اولادی کے طعنے پر 3 پڑوسیوں کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
    محمد رضوان کو سری لنکا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کھلانے پر غور
    انہوں نے مزید کہا کہ کل آئی ایم ایف کے ساتھ زوم پر جو لوگ تھے سب مفرور ہیں، ہم پر بھی مشکل وقت آیا، ہم نے عزت آبرو سےکاٹا، خدشہ ہے یہ شخص یہاں رکےگا نہیں، یہ انتہائی ڈپریسڈ شخص ہے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا مصیبت یہ ہے کہ اب ان کو کوئی گود لینے کو تیار نہیں ہے، ان کے خلاف ضرور اقدامات کیے جائیں گے، یہ ملک کے خلاف کھیل کھیل رہے ہی