Baaghi TV

Tag: KP

  • کے پی میں نئی نگراں صوبائی کابینہ کی منظوری دے دی گئی

    کے پی میں نئی نگراں صوبائی کابینہ کی منظوری دے دی گئی

    گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے نگران وزیراعلٰی خیبر پختوں خواہ کی جانب سے نگران صوبائی کابینہ کی سمری کی منظوری دے دی ہے جبکہ نگران صوبائی وزرا کی بروز ہفتہ 19 اگست یعنی کل گورنر ہاؤس میں تقریب حلف برداری ہوگی جس میں گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نگران صوبائی وزراء سے انکے عہدے کا حلف لیں گے۔

    تاہم خیال رہے کہ نگراں کابینہ میں آصف رفیق آفریدی، انجینئر عامر ندیم، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، ڈاکٹر نجیب اللہ، انجم بہرہ خان، سید عامر عبداللہ اور جسٹس (ر) ارشاد قیصر شامل ہوں گے، جبکہ علاوہ ازیں ذرائع نے بتایا کہ کابینہ میں سید مسعود شاہ ،فیروز جمال شال کو دوبارہ شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نگراں وزیراعلی نے کابینہ میں ممکنہ شامل ہونے والے اراکین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی کیں تھیں

  • 3 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق. قومی ادارہ صحت

    3 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق. قومی ادارہ صحت

    خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں میں 3 سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ رواں سال کا دوسرا پولیو یہ کیس خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوا ہے، پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے، اور بنوں کے تین سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق بھی کردی گئی ہے۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق رواں سال کا دوسرا پولیو کیس خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ بچے کا عمر بھر کیلئے معذورہونا قابل تشویش ہے، ویکسین سے عمر بھرکی معذوری کو ختم کیا جاسکتا ہے، پولیو کے خاتمے کیلئے مستحکم بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ عالمی طور پر 2023 کو پولیو کےخاتمے کا ہدف قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب یاد رہے کہ کوئٹہ میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کوئٹہ کے نواحی علاقے نواں کلی میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح ملزمان نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ فائرنگ سے انسداد پولیو کی ٹیم محفوظ رہی،حملے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ایف سی کی بھاری نفری اور امدادی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچے، اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    انسداد پولیو ٹیم پر حملے کے بعد شہر میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی سیکیورٹی سخت کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور فائرنگ کے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

  • مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    ملک میں حالیہ دنوں میں مختلف بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے سب سے زیادہ افراد صوبہ سندھ میں متاثر ہوئے ہیں لیکن ملک کے باقی حصے بھی مختلف بیماریوں کے کیسز سے ناصرف متاثر ہورہے ہیں جبکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے جبکہ اس بارے میں قومی ادارہ صحت نے رپورٹ بھی جاری کردی ہے۔

    واضح رہے کہ ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 89 ہزار 58 افراد میں ایک ہفتے میں ہیضے کی تشخیص ہوئی ہے، اور ہیضے کے سب سے زیادہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق صوب سندھ میں 48 ہزار647 افراد ہیضے کا شکار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر مختلف بیماریوں کے مریضوں میں بھی سندھ کا پہلا نمبر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیضے کے علاوہ مچھروں کے کاٹنے سے مریضوں کا دوسرا نمبر رہا ہے اور ملک میں ملیریا سے 81 ہزار 775 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ کیسز سندھ سے67 ہزار 301 ریکارڈ ہوئے ہیں، ادارہ صحت کی رپورٹ میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں انفلوانزا کے 25 ہزار 482 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، بچوں میں سانس کے مسائل کے 12ہزار 288 کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ کتے کے کاٹنے کے 858 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ ان میں بھی سب سے زیادہ کیسز سندھ سے 513 رپورٹ ہوئے ہیں.

  • عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوزیراطلاعات خیبرپختونخوا فیروز جمال کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کیلئےاجازت لینا ضروری ہے۔ جب کہ جمعیت علمااسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراطلاعات فیروز جمال کا کہنا تھا کہ باجوڑ واقعہ کی پر زورمذمت کرتے ہیں، اور شہدا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، حملے میں 54 افراد شہید اور 200 افراد زخمی ہوئے، 100 سے زائد افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    فیروزجمال نے مزید کہا کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، صوبے میں امن وامان سے متعلق محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا، دھماکے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، تحقیقات سے جلد آگاہ کریں گے، تاہم عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ باجوڑ جلسے میں مجھے بھی شرکت کرنی تھی، لیکن شرکت نہیں کرسکا، باجوڑ حملے میں 80 سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلام کی بنیاد پر بنا، لیکن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کئی علما شہید ہوئے، مولانا فضل الرحمان پر 3 حملے ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے 22 ٹکٹ ہولڈر دہشت گرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا، لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی نہیں دی، اور سیکیورٹی دینے سے معذرت کی، جب کہ چیف سیکرٹری آئے تو ان کے ساتھ بھاری سیکیورٹی تھی، افسران کے پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی موجود ہے، لیکن جلسوں کو سیکیورٹی نہیں دی جاتی۔

  • عمران خان کو کئی بار الیکشن آفر ہوئی وہ کیوں قبول نہ کی؟ پرویز خٹک

    عمران خان کو کئی بار الیکشن آفر ہوئی وہ کیوں قبول نہ کی؟ پرویز خٹک

    سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے عمران خان کو پچھلے ایک سال میں تین سے چار مرتبہ الیکشن کی آفر کی گئی تھی جبکہ انہوں نے یہ الیکشن کی آفر کیوں نا قبول کی تھی؟ خیال رہے کہ پرویز خٹک نے بہت اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ کیوں ذرائع کے مطابق جب بھی الیکشن کی آفر کی گئی تو بشریٰ بی بی نے جادو ٹونا کیا اور منع کر دیا کہ یہ تاریخ آپ کے لئے ٹھیک نہیں ہے اور یہی وہ وجہ تھی جس کے باعث پی ٹی ائی کی تباہی شروع ہوئی اور اس کے ذمہ دار صرف عمران خان اور بشری بی بی ہے.


    پرویز خٹک نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ہم یعنی میں اور محمود خان یہاں کے پی میں وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور بہت سارے پروجیکٹ کیئے ہیں جیسے موٹرویز اور بلین ٹری منصوبہ جبکہ پشاور بی آر ٹی سمیت جنگلات کو بچایا، انہوں نے مزید کہا ہم نے سڑکوں کے جال بچھائے اور سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وہ مواقع کیوں گنوائے جو ہمیں مل چکے تھے.

    پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ہم نے جمہوریت کو فروغ دینا ہے یا پھر انتشار کو یہ سب کیلئے سوال ہے، کیونکہ یہ بہت بڑا راز ہے اور جس دن یہ راز کھلے گا سب کو پتہ چل جائے گا، لہذا ہم نے نئی جماعت کی بنیاد رکھ رہے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    دوسری جانب تحریک انصاف خیبر پختون کے سابق ارکان اسمبلی نے پرویز خٹک کی نئی جماعت میں شمولیت کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ تحریک انصاف سے راہیں جدا کرکے اپنی جماعت بنانے والے سابق وفاقی وزیر پرویزخٹک نے نئی پارٹی میں 57 ارکان کی شمولیت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم ان میں سے متعدد پی ٹی آئی کے سابق ممبران اسمبلی کی تردید آنا شروع ہوگئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما پیر مصور خان، اعظم خان، افتخارمشوانی اور نوابزادہ فرید کے بیانات سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے پرویزخٹک کی جماعت میں شمولیت کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ ارکان کا کہنا ہے کہ ہم اب تک پی ٹی آئی کا ہی حصہ ہیں، پرویز خٹک کی بنائی گئی فہرست میں تصویر ہماری مرضی سے نہیں لگائی گئی، ہم ان کی پارٹی اور تقریب میں بھی شریک نہیں تھے، ہم کسی اور جماعت میں گئے ہیں اور نہ شامل ہونے کا ارادہ ہے۔

    دوسری جانب پرویزخٹک کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں فضل مولا کی جگہ وقار خان کی تصویرلگا دی گئی تھی، جب کہ اے این پی کے رہنما وقار خان کچھ عرصہ قبل انتقال کر چکے ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پی ٹی آئی سے راہیں جُدا کرنے کے بعد نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اپنی نئی جماعت کا نام پی ٹی آئی پارلیمینٹرینز رکھا ہے۔

  • کے پی ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کی درخواست مسترد

    کے پی ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کی درخواست مسترد

    سپریم کورٹ میں کے پی ملازمین ریٹارمنٹ عمر بڑھانے کیخلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    عدالت نے کے پی حکومت کی درخواست پر فیصلہ سنایا

    پشاور ہائیکورٹ نے ملازمین کی ریٹارمنٹ عمر بڑھانے سے متعلق صوبائی حکومت کا قانون کالعدم قرار دیا تھا

    سپریم کورٹ نے معاملہ دوبارہ فیصلہ کے لیے پشاور ہائیکورٹ کو واپس بھجوا دیا

    پشاور ہائیکورٹ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ کرے,عدالت

    سول سرونٹ ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کر دی گئی. 25 سال کی سروس پر ریٹائرمنٹ کا قانون ختم کر دیا گیا,وکیل ملازمین

    اسمبلی میں کسی کو سنے بغیر اور بنا بحث کیے بل پاس کیا گیا,وکیل ملازمین

    چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون تو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا,چیف جسٹس

    صرف وضاحتوں سے قانون چیلنج نہیں ہوتے,چیف جسٹس

    قانون بنانا حکومت کا کام ہے عدالتیں اس پر عملدرآمد کرواتی ہیں,چیف جسٹس

    قانون آئین کے تحت بنتا ہے رولز آف بزنس سے نہیں,چیف جسٹس

    اگر کسی کو اسمبلی کی کاروائی پر اعتراض ہے تو اسمبلی میں جاکر شکایت کرے,جسٹس منیب اختر

    جب روٹی پک چکی تو یہ پوچھنا بے کار ہے کہ آٹا کہاں سے آیا,جسٹس منیب اختر

    جب قانون پر گورنر کے دستخط ہوگئے تو معاملہ ختم ہوگیا,جسٹس اعجاز الاحسن

    قانون سازی میں کسی کا موقف سننے کا تصور نہیں ہے,جسٹس اعجاز الاحسن

    چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی.