Baaghi TV

Tag: KSA

  • یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

    متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی گرمی نے ہفتے کے روز 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور کر لیا۔ یہ اس موسم گرما کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے جبکہ نیشنل سنٹر آف میٹرالوجی نے اپنے ایک اعلامیہ میں بتایا کہ امارت ابوظبی کے ریجن الضفرا میں واقع گاؤں وتیید میں پارہ 50.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے.

    علاوہ ازیں اس سے قبل جولائی میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا تھا اور اس وقت ملک میں موسم گرما کی لہر دوڑ گئی تھی۔بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے لوگوں کو براہ راست سورج کی تپش میں زیادہ وقت گذارنے اور ہائیڈریٹ رہنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے ، خاص طور پر اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد بچّوں کومحتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب
    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    جبکہ عرب خطے میں گرمی میں شدت آتی جا رہی ہے اور سائنس دان اس رجحان کو گلوبل اُبلنا قرار دے رہے ہیں، جو گلوبل وارمنگ سے انتہائی گرمی کی لہرکی طرف تبدیل ہورہی ہے اور موسمیات سے متعلق آفات جیسے جنگل کی آگ کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔

  • ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کی ہلاکت؛ سعودیہ کی تردید

    ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کی ہلاکت؛ سعودیہ کی تردید

    سعودی عرب کے ایک سرکاری ذرائع نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے یمن کی سرحد کے قریب ایتھوپیا کے تارکینِ وطن کو ہلاک کیا تھا جبکہ گذشتہ پیر کے روز امریکا میں قائم ہیومن رائٹس واچ گروپ نے ایک رپورٹ میں الزام عاید کیا تھا کہ سعودی عرب کے سرحدی محافظوں نے یمن سے مملکت کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے سیکڑوں ایتھوپیائی تارکین وطن کو ہلاک کردیا ہے۔

    جبکہ عرب میڈیا کے مطابق سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور ناقابل اعتماد ذرائع پر مبنی ہیں جبکہ سرکاری ذریعے نے کچھ تنظیموں کی جانب سے مملکت کے بارے میں جھوٹے الزامات لگانے اور مشکوک ومذموم مقاصد واہداف کے لیے بار باربرپا کی جانے والی بدنیتی پر مبنی میڈیا مہموں کے تناظر میں سیاسی اور گمراہ کن رپورٹس کی اشاعت اور تشہیر کی مذمت کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اس سے قبل ان افراد کے گروپوں کو طبّی نگہداشت کی تھی اوران کی ہر طرح کی دیکھ بھال کی تھی جنھیں مسلح گروہوں نے یمن سے طاقت کے ذریعے مملکت میں داخل ہونے پرمجبور کیا تھا اور ان پر گولی چلا دی تھی جبکہ ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق سرکاری ذریعے نے سعودی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اپنے قواعد و ضوابط، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قوانین میں بیان کردہ انسانی حقوق کے اصولوں اور سرحدی سلامتی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انسانی خدمات مہیا کرنے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے تحت مملکت کے قوانین اور ذمے داریوں کے مطابق ان کے ساتھ سلوک روا رکھنے کے عزم پر زور دیا ہے۔

  • چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    تیل کی طاقت کام کرگئی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار برکس گروپ کی توسیع میں ترقی پذیر ممالک کے گروپ کا رکن بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا نے جمعرات کو جوہانسبرگ میں گروپ کے سالانہ سربراہ اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اگلے سال ایران، مصر، ایتھوپیا اور ارجنٹائن بھی اس میں شامل ہوں گے۔ مدعو کیے گئے تمام ممالک نے پہلے ہی شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس گروپ میں اس وقت برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

    رامفوسا نے مزید کہا کہ رکنیت کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے برکس کے نئے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بلاک کا عالمی اثر و رسوخ بڑھتا رہے گا۔ اور میں نئے ارکان کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اگلے سال اس مکمل پیمانے پر کام کریں گے۔

    علاوہ ازیں روسی صدر نے مزید کہا کہ میں اپنے تمام ساتھیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم دنیا میں برکس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے آج شروع کیے گئے کام کو جاری رکھیں گے۔ جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے بلاک کی توسیع کو تاریخی قرار دیا، جو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ متحد اور تعاون کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے برکس تعاون کے طریقہ کار میں نئی روح پھونکی جائے گی اور عالمی امن اور ترقی کی طاقت کو مزید تقویت ملے گی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ برکس ممالک کے ساتھ خصوصی، اسٹریٹجک تعلقات مشترکہ اصولوں کو فروغ دیتے ہیں، سب سے اہم بات خودمختاری کے احترام، آزادی اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر پختہ یقین ہے۔ انہوں نے برکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب "محفوظ اور قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ” رہے گا۔

    سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 2022 میں سعودی عرب اور برکس ممالک کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو ہمیشہ یقین رہا ہے کہ نئے ارکان کو شامل کرنے سے بلاک مضبوط ہوگا۔

    اس اعلان سے سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، کو دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ، چین کی طرح اقتصادی بلاک میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اور سعودی عرب، دونوں تیل پیدا کرنے والے بڑے گروپ اوپیک پلس کے رکن ہیں – ایک نئے اقتصادی بلاک میں ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک اکثر اپنی تیل کی پیداوار کو مربوط کرتے ہیں ، جس نے ماضی میں سعودی عرب کو اپنے اتحادی ، امریکہ کے ساتھ اختلافات میں ڈال دیا ہے۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی

    جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق بلاک کی توسیع سے ممکنہ ڈی ڈالرائزیشن کا سوال پیدا ہوتا ہے ، ایک ایسا عمل جس کے ذریعے ارکان آہستہ آہستہ تجارت کرنے کے لئے امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا استعمال کریں گے۔ برکس ممالک ایک مشترکہ کرنسی کے بارے میں بھی بات کر رہے ہیں، جسے تجزیہ کاروں نے مستقبل قریب میں ناقابل عمل اور ناممکن چیز قرار دیا ہے۔ تایم پیوٹن نے کہا کہ مشترکہ کرنسی کا مسئلہ ایک مشکل سوال ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب برکس کے کچھ رکن ممالک یعنی روس اور چین مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے مغرب کے خلاف کھلے عام مخالف ممالک کو شامل کرنے کا انتخاب گروپ کو مغرب مخالف بلاک بننے کی طرف دھکیل سکتا ہے جبکہ گولڈ مین ساکس کے سابق ماہر اقتصادیات جم او نیل نے اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی وضاحت کے لیے جو اصطلاح ایجاد کی تھی، اس کے ارکان کے درمیان سیاسی اور معاشی نظام میں گہرے اختلافات کے باوجود یہ گروپ برقرار ہے۔

  • پاکستان اور سعودی عرب کی پہلی مشترکہ اسپیشل فورسز مشق

    پاکستان اور سعودی عرب کی پہلی مشترکہ اسپیشل فورسز مشق

    آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی پہلی مشترکہ اسپیشل فورسز مشق البطار-1 کی افتتاحی تقریب چراٹ میں منعقد ہوئی ہے، پاک سعودی اسپیشل فورسز دو ہفتوں پر محیط مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس مشق کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تاریخی فوجی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے.

    آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ جس میں مشترکہ روزگار کے تصور کو فروغ دینا اور مستقبل میں فوجی تعاون کے لئے باہمی دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کرنا شامل ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف ملازمت میں ایک دوسرے کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جاسکیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    آئی ایس پی آر نے بتایا تقریب کے آغاز میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ اس موقع پر دونوں مسلح افواج کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ دونوں برادر ممالک کی افواج کے درمیان اس طرح کی مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد موجودہ دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔

    تاہم خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاک بحریہ اور سعودی بحریہ کی اسپیشل آپریشن فورسز کے درمیان کراچی میں ہونے والی مشترکہ بحری مشق افعیٰ الساحل ہوئی تھی جبکہ پاک بحریہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ مشق کے پہلے مرحلے کے دوران زمینی اور ہاربر سرگرمیوں کی مشق کے علاوہ بحری اسپیشل آپریشنز کی قبل از مشق ریہرسل بھی کی گئی۔

    واضح رہے یہ بھی کہا گیا تھا کہ مشق افعیٰ الساحل کا مقصد دونوں بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انسانی اسمگلنگ، بحری قذاقی اور دہشت گردی جیسے کئی میری ٹائم خطرات سے نمٹنا تھا تاکہ ان مشقوں سے دونوں ملکوں کو درپیش روایتی خطرات کے خلاف صلاحیت کو مشترکہ طور پر بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

  • خوفناک ٹریفک حادثے میں چار بچوں سمیت  پانچ افراد جاں بحق

    خوفناک ٹریفک حادثے میں چار بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق

    سعودی عرب میں ایک خوفناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں اردنی خاندان کے چار بچوں سمیت کم سے کم پانچ افراد جاںبحق ہوگئے ہیں جبکہ ریاض روڈ پر ایک خوفناک ٹریفک حادثہ نے اردنی اور سعودیوں قوموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ حادثے کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے.

    نشامی فورم میں انسانی ہمدردی اور حادثاتی کمیٹی کے سربراہ ہیثم خطاب نے کہا ہے کہ حادثے میں خاندان کے نوجوان سربراہ ملک اکرم خرما اور ان کے چار بچے، اکرم، مایا، دانا اور دیما چل بسے ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ خاندان عمرہ ادا کرنے کے بعد واپس متحدہ عرب امارات جا رہا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں ہلاک شدگان کو اردن منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے اور زخمیوں کو سعودی عرب کے ہفوف علاقے کے کنگ فہد اسپتال منتقل کردیا گیا ہے تاکہ ان کی دیکھ بھال کی جاسکے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اردن کا سفارت خانہ لاشوں کی منتقلی کے لیے اردن اور سعودی عرب میں تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب میں جس علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا وہاں کے مکینوں نے اپنی گاڑیوں سے اتر کر فوری طور پر ایمبولینس کو منگوا کر مطلوبہ امداد فراہم کی۔

  • برادر ممالک کے باہمی فائدے کیلئے تعلقات مزید فروغ دینے کی ضرورت. ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ

    برادر ممالک کے باہمی فائدے کیلئے تعلقات مزید فروغ دینے کی ضرورت. ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے سعودی وزیر حج و عمرہ ، ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ نے ملاقات کی ہے جبکہ صدر نے سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے اور ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دونوں ممالک میں معیشت، سرمایہ کاری اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔


    صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور عوامی تعلقات پر مبنی ہیں اور پاکستان میں آئی ٹی، قابل تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں علاوہ ازیں ڈاکٹر عارف علوی نے اس سال حج کے بہترین انتظامات کرنے پر سعودی عرب کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور امید کا اظہار کیا کہ سعودی حکومت مدینہ میں منہدم ہونے والے دو پاکستان ہاؤسز کی رقم سے پاکستان ہاؤس کی خریداری میں تیزی لائے گی۔

    واضح رہے کہ صدر مملکت نے او آئی سی کے ذریعے اہم مسلم مسائل بالخصوص تنازعہ جموں و کشمیر ، فلسطین اور افغانستان پر مستقل حمایت پر سعودی عرب اور اس کی قیادت کی تعریف کی جبکہ صدر سے ملاقات میں سعودی وزیر حج و عمرہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بہت مضبوط ہیں، دونوں برادر ممالک کے باہمی فائدے کیلئے تعلقات مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب عازمین کو حج اور عمرہ کیلئے اچھی سہولیات فراہم کرتا رہے گا۔ صدر مملکت نے سعودی بادشاہ اور ولی عہد وزیراعظم کیلئے نیک خواہشات کا پیغام دیا ہے اور پاکستان کی مسلسل حمایت اور مالی امداد پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

  • سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ 4 روزہ دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں اور نائب وزراء حج عمرہ، سیاحت، سربراہ سعودی ایئرلائنز اور سعودی ایوی ایشن کے نمائندے بھی وفد میں شامل ہیں، نیواسلام آبادائیرپورٹ پرنگران وزیرمذہبی امور انیق احمد نےوفد کا استقبال کیا۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ڈاکٹر توفیق حرمین الشریفین کےانتظامی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں جبکہ سعودی وزیر حج وعمرہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے حج اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے تاہم ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ، نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی وزیر برائے حج و عمرہ اور ان کے وفد کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ریاست کے مہمان ہوں گے۔ان کے دورے میں حج اور عمرہ زائرین کو سہولتیں مہیّا کرنے اور طریق مکہ منصوبے کو پاکستان کے دیگر شہروں تک توسیع دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ سعودی وزیر کی قیادت میں سعودی محکمہ شہری ہوابازی، ایئر لائنز اور دیگر محکموں کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی پاکستان آرہا ہے اور ان کا دورہ مذہبی سیاحت، شہری ہوا بازی اور ایئرلائنز کے لیے تعاون بڑھانے کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ یادرہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں پاکستان اور چار دیگر ممالک میں طریق مکہ اقدام متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت عازمین حج کے روانگی کے ہوائی اڈوں پر حج ویزا، کسٹمز اور صحت کی ضروریات سے متعلق خدمات مہیا کی گئی تھیں۔اس طرح ان کی مملکت میں آمد پر وقت کی کافی بچت ہوئی تھی اور انھیں ہوائی اڈوں سے براہ راست ان کی جائے قیام ہوٹلوں میں پہنچایا گیا تھا۔ رواں سال اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر26 ہزار سے زیادہ پاکستانی عازمین حج نے اس منصوبے سے فائدہ اٹھایا۔

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ مستقبل میں حج انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی وزیر کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر بھی دست خط کیے جائیں گے۔نیز نئی مردم شماری کے تحت پاکستان کی آبادی کے مطابق حج کوٹا بڑھانے کی بھی بات کی جائے گی اور اگر وہ (سعودی وفد) راضی ہوجاتے ہیں تو نئی مردم شماری کی بنیاد پر پاکستان کا حج کوٹا دنیا میں سب سے زیادہ ہوگا۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ،نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ سعودی وفد حج، عمرہ اور مذہبی سیاحت سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان سے گذشتہ کئی سال سے عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے زائرین کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پاکستان حجاج کرام کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

  • سونے کی قیمتوں میں کمی

    سونے کی قیمتوں میں کمی

    سعودی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ سعودی خبررساں ادارے نے بتایا ہے کہ سعودی گولڈ مارکیٹ میں نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور 24 قیراط ایک گرام سونے کی قیمت 227.75 ریال، 22 قیراط ایک گرام 208.77 اور18 قیراط 170.81 ریال رہی جبکہ 21 قیراط ایک گرام سونا 199.28 ریال میں فروخت کیا جاتا رہا ہے.

    جبکہ واضح رہے کہ سعودی گولڈ مارکیٹ میں 21 قیراط آٹھ گرام کی گنی 1,916.12 ریال، 22 قیراط ایک گرام کی گنی 2,007.37 ریال جبکہ 24 قیراط ایک گرام گنی 2,189.86 ریال اور ایک کلوگرام سونا 229,706.88 ریال میں بھی دستیاب رہا.


    اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جاوے گا

  • ایران کے وزیر خارجہ  ریاض پہنچ گئے

    ایران کے وزیر خارجہ ریاض پہنچ گئے

    ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد ریاض پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کے ریاض پہنچنے پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کا سعودی وزارت خارجہ کی عمارت میں ان کا استقبال کیا ہے.


    جبکہ باضابطہ ملاقات کے بعد دونوں عہدیداران مشترکہ پریس کانفرنس کا اہتمام بھی کریں گے اور ایرانی وزیر خارجہ ایک روزہ دورے پر آج یعنی جمعرات کے روز ریاض پہنچے ہیں اور وہاں ان کا استقبال سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ نے بڑے پرتپاک طریقے سے استقبال کیا جبکہ سعودی عرب اور ایران نے چین کی ثالثی میں مارچ کے دوران تعلقات کی بحالی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان سات سال سے سفارتی تعلقات منقطع تھے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں سعودی سفارتخانے اور مشھد میں قونصل خانے پر مظاہرین کےحملے کے بعد ایران کے سفارتی تعلقات ختم کر دئیے تھے۔ جبکہ اس سے قبل جون میں سعودی عرب کے وزیرخارجہ فیصل بن فرحان ایران کا دورہ کیا تھا اور وہ 2006 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے سعودی وزیر خارجہ بن گئے تھے، تاہم اس سے چند روز قبل ایران نے ریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں

    ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے گزشتہ روز کہا تھا کہ دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ماسکو میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر غیررسمی ملاقات ہوئی تھی۔ حسین امیر عبداللہیان نے رواں ہفتے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریاض کے لیے نئے سفیر سعودی دورے میں ان کے ہمراہ ہوں گے اور وہ باقاعدہ طور پر اپنے سفارتی مشن کا آغاز کریں گے۔

  • ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں ایک پائیدار نظام قائم کرنا چاہتے. آرامکو

    ڈیجیٹل تبدیلی کے میدان میں ایک پائیدار نظام قائم کرنا چاہتے. آرامکو

    پٹرولیم کمپنی آرامکو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے استعمال میں توانائی کی صف اول کی کمپنیوں میں سے ایک بننے کے لیے کوشاں ہے کیونکہ اس کا مقصد دنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے والے تکنیکی حل پر عمل درآمد کرنا ہے۔ کمپنی کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کرنے نیز ایندھن کی کارکردگی میں اضافہ اور پانی کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرنے کےلیے کام کررہی ہے جبکہ عالمی میڈیا کی خبر کے مطابق آرامکو میں ڈیجیٹلائزیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سینیر نائب صدر نبیل النعیم نے میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کہا کمپنی کے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے اور نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کے علاوہ مناسب ماحول اور ضروری وسائل جو نئے ڈیجیٹل حل تیار کرنے کے لیے اختراع کاروں اور کاروباری افراد کو فراہم کرتے ہیں فراہم کیے ہیں اور مزید بھی کیئے جائیں گے.

    ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2017ء میں کمپنی کی جانب سے شروع کیے گئے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام میں حوصلہ افزائی کے ثمرات حاصل کرنا شروع کردیے ہیں جبکہ پراسیسڈ تیل کے فی بیرل توانائی کے استعمال میں تقریباً 14.5 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 3.8 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اورغیر طے شدہ دیکھ بھال کے اخراجات کو تقریباً 20 فیصد کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیمروں، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز اور گیس ڈیٹیکٹر سے لیس روبوٹس اور سمارٹ ڈرونز کے استعمال نے روایتی فیلڈ انسپیکشن ٹورز پر انحصار کم کیا جس سے کاروباری ٹیموں کی کارکردگی، حفاظت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔جیسے کہ روبوٹ اور ڈرون اب بقیق پلانٹ میں ہمارے معمول کے تقریباً 30 فیصد کام انجام دیتے ہیں۔ جبکہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی مشین لرننگ تکنیکوں اور الگورتھم کے تعارف نے ہمیں خام تیل کے ارتکاز کے عمل کی مسلسل فعال ڈیجیٹل ٹیوننگ کرنے کے قابل بنایا ہے، اور اس کے نتیجے میں کارکردگی کی سطح کو بہتر بنانے اور مصنوعات کے معیار کی یکسانیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کی وجہ سے مصنوعات کے معیار میں اضافہ ہوا اور 2019 کے بعد سے بجلی کی پیداوار کی کارکردگی میں تقریباً 4.5 فیصد بچت کی گئی ہے۔