Baaghi TV

Tag: latest about Pakistan

  • وزیر اعظم شہباز شریف لندن میں نواز شریف سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے

    وزیر اعظم شہباز شریف لندن میں نواز شریف سے ملاقات کیلئے پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف فرانس کا دورہ مکمل کر کے نجی دورے پر لندن پہنچ گئے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف لندن میں تین روز قیام کریں گے اور اس دوران وہ نواز شریف سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ جبکہ لیگی ذرائع کے مطابق نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں آئندہ عام انتخابات، اتحادیوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور نگراں وزیراعطم کے نام پر مشاورت ہوگی۔

    علاوہ ازیں نوازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا اہم پارٹی اجلاس بھی ہوگا، جس میں لیگی قائدین بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کریں گے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور نواز شریف ملاقات میں آئندہ عام انتخابات کی تاریخ سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی مشاورت ہوگی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نے کہا تھا کہ سمندر پارپاکستانیزاپنے ملک کے خلاف جھوٹ بے نقاب کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں، 9 مئی کو آگ لگانے والے اپنے جھوٹ سے بیرون ملک آگ بھڑکارہے ہیں۔

    فرانس میں مقیم پاکستانی برادری اور بزنس فورم کے نمائندوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہبازشریف نے مزید کہا کہ ایک سال میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، نہایت کٹھن فیصلوں سے گزر کریہاں تک پہنچے ہیں، گزشتہ چار سال میں معیشت تباہ، بے روز گاری اور مہنگائی آسمان پر پہنچا دی گئی، پاکستان خارجہ محاذ پر تنہائی کا شکار تھا، ایک سال کی مسلسل محنت سے خارجہ تعلقات بحال کئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری
    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران
    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی میں اکنامک ریوائیول پلان سنگ میل ثابت ہوگا، سرمایہ کاری میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے سپیشل انوسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل بنادی ہے، پاکستان کی معاشی خودمختاری، ترقی اور مضبوطی ہی پاکستان کا مستقبل محفوظ بناسکتی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن کے سفیر اور قیمتی اثاثہ ہیں، بیرون ملک پاکستانی 9 مئی کے واقعات کی پرزور مذمت کریں، 9 مئی کو آگ لگانے والے اپنے جھوٹ سے بیرون ملک آگ بھڑکارہے ہیں، بیرون ملک پاکستانی اپنے ملک کے خلاف جھوٹ بے نقاب کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ظائف کی تقسیم ہفتہ اور اتوار معطل

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ظائف کی تقسیم ہفتہ اور اتوار معطل

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ظائف کی تقسیم ہفتہ اور اتوار کو معطل رہے گی جبکہ ملک گیر گرمی کی شدت کو مدنظر رقوم کی تقسیم عارضی طور پر روکی گئی ہے۔ ترجمان بی آئی ایس پی کا کہنا ہے کہ پیر 26جون سے وظائف کی تقسیم دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔

    ترجمان بی آئی ایس پی نے جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ وظائف کی تقسیم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے قائم کردہ کیمپوں میں ہی کی جائے گی۔ ترجمان بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ روز میں 29 لاکھ خواتین کو تقریباً 26ارب روپے رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران
    انہوں نے عوام کو مطلع کیا کہ شکایت کی صورت میں فوری طور پر بی آئی ایس پی کی ٹول فری ہیلپ لائن 26477-0800 پر اطلاع کریں جبکہ بی آئی ایس پی کی جانب سے تمام پیغامات صرف اور صرف 8171 سے بھیجے جاتے ہیں جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بینطیر کفالت کی چوتھی سہ ماہی قسط کی تقسیم کا اعلان کیا تھا ترجمان بی آئی ایس پی نے کہا تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں 20لاکھ پچاسی ہزار مستحق خواتین میں 18ارب77کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔

    جبکہ مزید کہا گیا تھا کہ 7لاکھ 41ہزار سکول جانے والے بچوں کی ماؤں کو بینظیر تعلیمی وظائف کے تحت وظیفہ بھی ادا کیا گیا ہے، اب تک تقریباًًً 25فیصد مستحق خواتین کو ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔

  • ایمرجنگ ایشیا کپ؛ 15 رکنی ٹیم کا اعلان

    ایمرجنگ ایشیا کپ؛ 15 رکنی ٹیم کا اعلان

    ایمرجنگ ایشیا کپ؛ 15 رکنی ٹیم کا اعلان

    مینز ایمرجنگ ایشیا کپ کیلئے 15 رکنی پاکستان شاہینز ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے۔ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد حارث ٹیم کی قیادت کریں گے جبکہ ایمرجنگ ایشیا کپ ٹورنامنٹ 14 سے 23 جولائی تک سری لنکا میں کھیلا جائے گا، جس کے لئے 15 رکنی پاکستان شاہینز ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پاکستانی شاہینز کی قیادت وکٹ کیپر بیٹسمین محمد حارث کریں گے، جب کہ اعلان شدہ دیگر کھلاڑیوں میں عمیر بن یوسف نائب کپتان، عماد بٹ، ارشد اقبال، حسیب اللہ،کامران غلام، مہران ممتاز، مبصر خان، وسیم جونیئر، قاسم اکرم، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، شاہنواز دھانی، سفیان مقیم اور طیب طاہر شامل ہیں۔

    جبکہ ریزرو کھلاڑیوں میں عبدالواحد بنگلزئی، عباس آفریدی، محمد جنید اور روحیل نذیر کو رکھا گیا ہے۔ پاکستان شاہینز کے کھلاڑی 3 جولائی کو لاہور میں اکٹھے ہوں گے۔ چار جولائی سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں کیمپ شروع ہوگا، اور پاکستان شاہینز 12 جولائی کو سری لنکا روانہ ہوں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چارٹر آف اکنامی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آصف علی زرداری
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران

    جبکہ دوسری جانب شائقین کا کہنا ہے کہ یہ بہت اچھا ہوگیا ہے کہ اس کا اعلان کردیا گیا ہے، کیونکہ کھیل ایک بہترین تفریح ہے اور لوگوں کو اس سے لطف اندوز ہونا چاہئے تاکہ وہ اس مشکل دور میں جہاں معاشی صورتحال کے پیش نظر کئی پریشانیاں ہیں میں ایک اچھی خبر سننے کو ملی ہے.

  • چارٹر آف اکنامی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آصف علی زرداری

    چارٹر آف اکنامی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آصف علی زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے صنعتکاروں سے ملاقات کی ہے جبکہ صنعتکاروں نے انہیں انڈسٹری کے حالات پربریفنگ دی ہے جس میں تاجروں کا کہنا تھا کہ ملک میں لگا پلانٹ اور مشینری بند پڑی ہے، اگر یہ پلانٹ چل جائیں تو 25 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ کرسکتےہیں، 15 سال سےخواہش تھی کہ آصف زرداری اپٹما آئیں۔

    جبکہ پیٹرن ان چیف اپٹما گوہراعجاز کا کہنا تھا کہ گنا جاتا ہے کہ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سےبڑی ایکسپورٹنگ صنعت ہے، 14 سال پہلے ایکسپورٹ کی 9 اعشاریہ 2 ارب کی ایکسپورٹ تھی، ہم ملک کو 100 ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ پر لے جانا چاہتے ہیں، آصف زرداری ہماری مدد کریں۔ تاجر رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں اب بھی اس بات پریقین رکھتا ہوں کہ پاکستان ایک منفرد ملک ہے، پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، اس ملک کے پاس سونے کی ٹوکری ہے، اس کی ترقی کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہئے، پاکستان کو کچھ ہوتا ہے تو مجھے کچھ ہوتا ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی سیاسی طور پر اسپورٹ کریں لیکن ان سے بات کریں، ان سے طے کرلیں کہ چارٹر آف اکنامی ہونا چاہئے، میں چارٹر آف اکنامی پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران
    سابق صدر نے مزید کہا کہ جھل مگسی کا علاقہ سندھ کے قریب ہے، میں اس علاقے میں کپاس لگوانا چاہتا ہوں، بلوچستان میں لگی کپاس اتنی سفید ہوتی ہے جیسی مصر کی کپاس ہوتی ہے۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ کا جائزہ لے چکا ہوں، عدم تحفظ کی وجہ سے پاکستانی بیرون ملک سرمایہ کاری کررہے ہیں، پاکستان میں دو قسم کے لوگ ہیں، ایک پیسے بناتے ہیں دوسرے پیسے کماتے ہیں، ہمیں امداد نہیں تجارت کے مواقع دیکھنے ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ختم ہونے کے بعد اب ایران سے گیس درآمد کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔

  • ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ

    ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ

    ملک میں امریکی ڈالر کی قدر میں آج معمولی اضافہ ہوا ہے اور انٹربینک میں کاروباری ہفتے کے اختتام پر ڈالر کا بھاو 286.74 روپے ہے۔ جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق آج انٹربینک میں ڈالر کا بھاؤ ایک پیسے بڑھا ہے۔ انٹربینک میں گذشتہ روز ڈالر 286 روپے 73 پیسے پر بند ہوا تھا۔ گذشتہ ہفتے ڈالر 287 روپے 19 پیسے پر بند ہوا تھا۔ رواں ہفتے انٹربینک میں ڈالر 45 پیسے سستا ہوا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا بھاؤ ایک روپیہ کم ہوکر 291 روپے ہے۔


    جبکہ دوسری طرف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اُتار چڑھاؤ کے باعث 86.73 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے باعث 100 انڈیکس 40065.32 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اندیشہ ہے کہ ایک متنازعہ بینچ کا فیصلہ بھی متنازعہ ہو گا،رانا ثناء اللہ
    اشیاء ضروریہ کی بیس چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران
    پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 0.22 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی جبکہ 5 کروڑ 95 لاکھ 50 ہزار 498 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 8 ارب روپے کے قریب نقصان برداشت کرنا پڑا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ سے مارکیٹ پر کافی اثر پڑتا ہے جبکہ ادھر کافی مہنگائی ہے جس کے سبب لوگ کافی پریشان ہیں.

  • اشیاء ضروریہ کی بیس  چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ

    اشیاء ضروریہ کی بیس چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ

    ملک بھر میں مہنگائی کی شرح 34 اعشاریہ 05 فیصد ہوگئی ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی بیس چیزوں کی قیمتوں کی مہنگئی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں، جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں 0.33 فیصد کا مزید اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 34.05 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 20 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جب کہ 12 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 19 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے 20 کلو آٹے کی قیمت میں 125 روپے کا اضافہ ہوا، آلو 2 روپے اور چینی 3 رویے فی کلو، دال ماش 6 روپے، زندہ مرغی 5 روپے، چھوٹا گوشت 15 روپے اور بڑا گوشت 7 روپے فی کلو مہنگا ہوا۔

    ادارہ شماریات نے بتایا کہ دودھ، انڈے، دہی، چاول اور لہسن بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں، دوسری جانب ملک میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان جاری ہے اور آج بھی فی تولہ قیمت میں سینکڑوں روپے کی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 1500 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ جبکہ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کا بھاؤ 2 لاکھ 17 ہزار روپے ہو گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پشاور میں جمعے کے خطبے کے دوران بھینس کی مسجد میں انٹری سے نمازی حیران
    عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 10 ڈالر کم ہو کر 1919 ڈالر فی اونس ہے۔ یاد رہے کہ سونے کی فی تولہ قیمت میں گزشتہ روز 200 روپے جبکہ اس سے ایک روز قبل 1800 روپے کی کمی ہوئی تھی۔

  • پنجاب؛  25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پنجاب؛ 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری

    پنجاب حکومت نے 25 سال میں پہلی بار ماحولیاتی رپورٹ جاری کردی ہے. پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے جس کی آبادی لگ بھگ 11 کروڑ ہے۔ پنجاب میں آبادی میں اضافے کی شرح دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ صوبے کی آبادی کی کثافت 1972 میں 183 افراد فی مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 2017 میں 536 افراد فی مربع کلومیٹر ہو گئی ہے۔ صوبے میں مجموعی ملکی رقبے کا چھپن فیصد کاشتکاری کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ قومی غذائی ضرورت کا اڑسٹھ فیصد صوبہ پنجاب پوری کرتا ہے مگر سنگلاخ پہاڑوں، دریاؤں، وادیوں اور میدانوں کی زمین گذشتہ کئی سالوں سے شدید ماحولیاتی بحران کا شکار ہے۔

    اس حوالے سے پنجاب حکومت نے 25 سال میں پہلی بار انوائرمنٹ رپورٹ جاری کی ہے۔ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب تیزی سے ماحولیاتی اور مصنوعی قدرتی بحران سے دوچار ہے۔ آب و ہوا کے لحاظ سے صوبہ پنجاب متنوع خصوصیات کا حامل ہے۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں نیم بنجر سے لے کر شمالی علاقوں میں ٹھنڈے اور مرطوب علاقے ہیں۔ کم از کم اونچائی والے علاقے انتہائی شمالی اطراف میں واقع ہیں یہی وجہ ہے کہ صوبے کی آب و ہوا گرم ہے۔ رپورٹ میں پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق 1975 سے 2005 کے درمیان تیس سالوں میں پنجاب کا کم سے کم درجہ حرارت 0.97 فیصد جبکہ ذیادہ سے ذیادہ درجہ حرارت 1.14 فیصد بڑھا ہے۔ درجہ حرارت میں اسی اوسط اضافے کے ثمرات ہیں کہ گذشتہ سال 2022 صوبے کا چھٹا گرم ترین سال رہا ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان کے ادارہ شماریات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2022 میں پنجاب میں ہونے والی بارشیں اوسطاً ہونے والی بارشوں سے 70 فیصد ذیادہ تھیں۔
    رپورٹ کے مطابق ذراعت کا شعبہ صوبے کی 47 فیصد افرادی قوت کے لیے ملازمتوں اور روزگار کی فراہمی کا وسیلہ ہے لیکن یہ شعبہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیاں ہی ہیں کہ گذشتہ سالوں میں سیلاب کی تکرار اور شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2010 کے سیلاب سے صوبے کی معیشت کو 219 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ 2014 میں سیلاب سے جھنگ اور مظفر گڑھ کی ایک کروڑ ایکڑ کی ذرعی اراضی تباہ ہوئی۔ 2022 میں پنجاب کو ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑا، شدید بارشیں بھی ہوئیں اور سیلاب کی صورتحال سے بھی نمتنا پڑا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے سیلاب سے پنجاب کی 4 لاکھ 38 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ ہوئی، 7 لاکھ 33 ہزار مویشی جان سے گئے۔ اس سیلاب سے معاشی دھارے کو 566 ملین امریکی ڈالرز جبکہ انفراسٹرکچر اور دیگر نقصانات کی مد میں 515 ملین امریکی ڈالرز کا نقصان پہنچا۔ پنجاب حکومت کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ائیر کوالٹی کی خراب صورتحال قومی جی ڈی پی میں پنجاب کی معاشی شراکت داری 54.2 فیصد ہے۔ صوبے کے 37.6 ملین افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کی اہم ترین وجوہات میں آبادی میں اضافہ، شہروں میں بڑھتی آبادکاری، صنعتوں میں اضافہ، ذرعی طلب کے تحت فصلوں کو جلانے کا عمل، گاڑیوں کی بڑھتی تعداد اور سرحد پار سے آنے والے اثرات شامل ہیں۔ یوں فضائی آلودگی صوبہ پنجاب میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مسائل میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہر سال اکتوبر سے اپریل تک پنجاب کو سموگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو صحت کے سنگین مسائل کا سبب بنتی ہے۔ لاہور جو کبھی باغات کا شہر سمجھا جاتا تھا، گزشتہ چند سالوں سے فضائی آلودگی کی خطرناک سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2022 میں صرف 17 دن ایسے تھے کہ لاہور کے رہنے والوں کو سانس لینے کے لئے اچھی یا تسلی بخش ہوا میسر آئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وزیراعظم شہبازشریف اور چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ کی ملاقات
    فوج کی تحویل میں کوئی خاتون اور کم عمر نہیں، کوئی صحافی اور وکیل فوج کی تحویل میں نہیں،اٹارنی جنرل
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    جعلی افغان پاسپورٹ کے ذریعے اٹلی جانے والا مسافر گرفتار
    رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں,پنجاب حکومت
    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع
    سربراہی اجلاس میں دعوت دینے اور پرتپاک میزبانی پروزیراعظم کا فرانسیسی صدر کا شکریہ
    گلوبل برڈن آف ڈیزیز کے اعداد و شمار کے مطابق، 2019 میں فضائی آلودگی کی وجہ سے پاکستان میں ہر ایک لاکھ میں سے 103 افراد موت کا شکار ہوئے۔ آج بھی پاکستان میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کی شرح عالمی اوسط سے کہیں ذیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ فضائی آلودگی میں تیز اضافے سے 1998 سے 2006 کے دوران لاہور کی آبادی کی اوسط عمر میں 5.3 سالوں کی کمی ہوئی ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے. وزیر اعظم

    موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے منصفانہ تقسیم کی پالیسی کی ضرورت ہے جبکہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کیلئے انصاف، شفافیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے پالیسی مرتب کرنا ہو گی اور اگر آج عملی اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والا وقت خطرناک ہو گا، پاکستان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اربوں ڈالر درکار ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ہم نے کروڑوں ڈالر خرچ کئے جس سے ملکی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے، پاکستانی قوم نے سیلاب جیسی قدرتی آفات کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔

    نئے عالمی مالیاتی معاہدہ کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ”نئے زد پذیر چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے دستاویزات اور فنانسنگ کے ساتھ جدت“ کے موضوع پر چوتھی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس اہم معاملہ پر سربراہ اجلاس بلانے پر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب سے متاثر ہوا، اس سے ہمارا زندگی گزارنے کا انداز متاثر ہوا، 3 کروڑ 3 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے، کئی ملین ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، بچوں سمیت 1700 افراد جاں بحق ہوئے، پانچ لاکھ مویشی بہہ گئے، 20 لاکھ گھروں کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا، اتنے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے کے باوجود تمام فریقوں نے جامع حکمت عملی اختیار کی،ہمیں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بحالی کیلئے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    جعلی افغان پاسپورٹ کے ذریعے اٹلی جانے والا مسافر گرفتار
    رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں,پنجاب حکومت
    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع
    سربراہی اجلاس میں دعوت دینے اور پرتپاک میزبانی پروزیراعظم کا فرانسیسی صدر کا شکریہ
    شہباز شریف نے کہا کہ ہم بروقت مدد پر دنیا بالخصوص دوست ممالک کے شکرگزار ہیں تاہم ہم نے اپنے وسائل سے بھی سیلاب متاثرین کی مدد کی جبکہ مزید وسائل کیلئے عالمی سطح پر بھی رابطے کئے۔ہمیں قرضے لینے پڑتے جس سے ہمارے ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ سیلاب کے باعث شہروں کے شہر ملیامیٹ ہو گئے، دور دراز علاقوں میں خوراک، صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی بہت مشکل چیلنج تھا، بعض ممالک کی حفاظت کیلئے بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں لیکن ہزاروں زندگیوں کو بچانے کیلئے بھاری قیمت ادا کرکے قرضہ لینا پڑتا ہے، ہمارے لوگ بہادر ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے اور موجودہ چیلنجز سے بہادری سے نکلیں گے، ہمارے جنوبی علاقے مسائل کا شکار ہیں۔

  • سویلین کورٹ مارشل؛  وزیر اعظم کو عدالت عظمی نے نوٹس جاری کردیا

    سویلین کورٹ مارشل؛ وزیر اعظم کو عدالت عظمی نے نوٹس جاری کردیا

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سویلین کے کورٹ مارشل کیخلاف آج کی عدالتی کاروائی کا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں وزیر اعظم شہبازشریف، ویر داخلہ رانا ثناءاللہ اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ ان کے علاوہ چئیرمین تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے علاوہ ازیں وفاق سمیت چاروان صوبوں اور اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا گیا ہے.


    واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا تھا اور چیف جسٹس نے 7 رکنی نیا بینچ تشکیل دیا تھا جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 9 رکنی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا، چیف جسٹس نے اس بار نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی بینچ کا حصہ بنایا تھا۔

    ان کے علاوہ جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی بینچ کا حصہ تھے۔ جبکہ آج سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئیں میں نے کچھ کہنا ہے، عدالت کو اختیار سماعت آئین کا آرٹیکل 175/2 دیتا ہے، میں اپنی قومی زبان اردو میں بات کروں گا، تعجب ہوا کہ کل رات8 بجے کازلسٹ میں میرا نام آیا، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر کوئی بات نہیں کروں گا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل ابھی بنا نہیں تھا کہ 13 اپریل کو سپریم کورٹ کے9 رکنی بینچ نےحکم امتناع دیا، سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کی سماعت جولائی تک ملتوی کی، سپریم کورٹ رولز پڑھیں کیا کہتے ہیں، آئین سپریم کورٹ کو سماعت کا اختیار دیتا ہے، جج کا حلف کہتا ہےکہ آئین وقانون کے مطابق فیصلہ کروں گا، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایک قانون ہے، میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل میں بینچ کا حصہ نہیں، کچھ نہیں کہوں گا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ایک ازخود نوٹس میرے بینچ میں سماعت کے لیے مقرر ہوا، میں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل184/3 میں رولزبنائے جائیں، اس کے بعد تعجب دکھ اور صدمہ ہوا کہ 31 مارچ کو عشرت علی صاحب نے سرکلر جاری کیا، عشرت علی صاحب نے 31 مارچ کے سرکلرمیں کہا کہ سپریم کورٹ کے 15 مارچ کے حکم کو نظر انداز کریں، یہ وقعت تھی سپریم کورٹ کے فیصلےکی؟ پھرسپریم کورٹ نے6 ممبر بینچ بنا کر سرکلر کی توثیق کی اور میرا فیصلہ واپس لیا، میرے دوست یقیناً مجھ سے قابل ہیں لیکن میں اپنے ایمان پر فیصلہ کروں گا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اس 6 ممبر بینچ میں اگر نظرثانی تھی تو مرکزی کیس کا کوئی جج شامل کیوں نہیں تھا؟ میں نے 6 ممبر بینچ پر نوٹ تحریرکیا جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنےکے بعد ہٹادیا گیا، چیف جسٹس نے 16 مئی کو پوچھا کہ کیا میں چیمبر ورک کرنا چاہتا ہوں یا نہیں؟ بتاتا ہوں کہ میں نے چیمبر ورک کو ترجیح کیوں دی، ایک قانون بنادیا گیا بینچز کی تشکیل سے متعلق، کسی پر انگلی نہیں اٹھا رہا لیکن میرے پاس آپشن تھا کہ حلف کی پاسداری کروں یا عدالتی حکم پربینچ میں بیٹھوں، میری دانست میں قانون کو مسترد کیا جاسکتا ہے معطل نہیں کیا جاسکتا، مجھ سے جب چیمبر ورک کے بارے میں دریافت کیا گیا تو میں نے 5 صفحات پر مشتمل نوٹ لکھا۔

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ مجھے جو درخواست رات گئے موصول ہوئی اس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بھی درخواست تھی، آج کازلسٹ میں آخر میں آنے والی درخواست سب سے پہلے مقرر کردی گئی، میں اس بینچ کو "بینچ” تصور نہیں کرتا، میں کیس سننے سے معذرت نہیں کر رہا، پہلے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجربل کا فیصلہ کیا جائے، میرا موقف یہ ہے کہ جب تک پریکٹس اینڈ پروسیجربل کو ٹھکانے نہ لگایا جائے تب تک میں کسی بینچ میں نہیں بیٹھ سکتا۔

  • جی سی یو لاہور؛ تعمیرات اور ٹھیکوں میں وائس چانسلر پر کرپشن کا الزام

    جی سی یو لاہور؛ تعمیرات اور ٹھیکوں میں وائس چانسلر پر کرپشن کا الزام

    باغی ٹی وی کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے پروفیسر اصغر زیدی وائس چانسلر جی سی یو لاہور نے جامعہ کے مختلف ٹھیکے اپنے من پسند لوگوں کو دے کر خوب لوٹ مار کی ہے کیونکہ ان ٹھیکوں میں جو چیزیں تعمیر یا کام کرنا تھا وہ اس معیار کے مطابق نہیں ہوا اور ناقص میٹیرل استعمال کرکے خانہ پُری کی گئی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ جامع کے اسٹالز اور کینٹین کا ٹھیکہ بھی اپنی قریبی لوگوں کو دیئے گئے جس کے باعث اب ان پر کرپشن کا الزام ہے.

    باغی ٹی وی کو موصول اے ایس آئی وقار احمد تھانہ ڈی اے سی ای لاہور کی رپورٹ کے مطابق بلنڈنگ کی تعمیر، پروکیورمنٹ اور فرنیچر سمیت مختلف اشیاء کی نیلامی بھی اپنی ہی خاص بندوں کے زریعے کی گئی ہے جبکہ ان سب معاملات میں پروفیسر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی کمیشن وصول کی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے.

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ سرکاری اخراجات پر غیر ملکی دورے بھی کرتا رہا ہے جس سے خزانہ کو لاکھوں روپے کا چونا لگایا گیا ہے، اور پھر کم یسوں میں مختلف تقریبات کروا کر زیادہ رقم خرچ کی رسیدیں بنوا کر بھی حکومتی خزانہ کو لوٹتا رہا ہے علاوہ ازیں ہاسٹلز کی مرمت اور دیکھ بھال میں لاکھوں روپے کے غبن کیئے ہیں. واضح رہے کہ اس تحریر میں وقار احمد نے یہ بھی لکھا کہ چونکہ پروفیسر پر بے دریغ بدعنوانی کا الزام ہے تو لہذا ان کے خلاف انکوئری کی جائے.

    دوسری جانب ایک فیس بک ویڈیو میں محمد اجمل رحیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر سب کچھ دیکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تعمیرات کا جس طرح نقشہ بنایا گیا تھا کام اس طرح کا نہیں کیا گیا اور جو میٹیرل استعمال کیا گیا ہے وہ بھی انتہائی ناقص ہے. اجمل رحیم کے مطابق نقشہ میں پلانٹیشن یعنی درخت بھی لگانے تھے جو نہیں نہیں لگائے بلکہ چمن تک کو صحیح طرح سے نہیں لگایا گیا اور نہ مٹی تبدیل کی گئی علاوہ ازیں اس سب کی نہ ہی دیکھ بھال کی گئی ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خدیجہ شاہ، صنم جاوید و دیگر کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ
    ہولی تہوار سے متعلق ایچ ای سی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار
    بچوں کیلئےفارمولا ملک پربھاری ٹیکس لگایا جانا چاہیئے،ماہرین صحت
    جعلی افغان پاسپورٹ کے ذریعے اٹلی جانے والا مسافر گرفتار
    رابعہ سلطان جناح ہاوس پر حملہ کی تفتیش میں پولیس کو مطلوب تھیں,پنجاب حکومت
    ہتک عزت دعویٰ: خواتین عوامی طور پر جنسی ہراسانی سنگین جیسے جھوٹے الزامات لگا سکتی ہیں،میشا شفیع
    سربراہی اجلاس میں دعوت دینے اور پرتپاک میزبانی پروزیراعظم کا فرانسیسی صدر کا شکریہ
    اجمل رحیم نے دعویٰ کیا کہ یہ منصوبہ میں نے اور باسط نامی شخص نے منظور کروایا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ کام ٹینڈر کے مطابق نہیں ہوا اور نہ ہی ابھی تک کام شروع ہوا ہے کیونکہ یہ بدعنوانی اور لوٹ مار کا بہت بڑا اسکینڈل ہے لہذا اس پر ایک غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہئے، انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کی کہ اس معاملہ کا نوٹس لیں اور فلفور اس بدعنوانی پر ملوث افراد سے پوچھ گچھ کی جائے کیونکہ یہ ایک مافیا ہے جنہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم رکھا ہے.