Baaghi TV

Tag: latest news

  • زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا. عطاء تارڑ

    زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا. عطاء تارڑ

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ بل کے اوپر صدر نے دستخط اور لکھ کر اعتراض لگانا ہوتا ہے اور صدر مملکت نے جو بل دستخط کر کے واپس بھیجے وہ سب کے سامنے ہیں، بل کو واپس کیا گیا اور نہ پاس کیا گیا تو 10دن میں خود بخود پاس ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ زبانی کلامی بل واپس ہوں گے تو ریاست کا سٹرکچر کہاں جائے گا جبکہ بل صدر کے دستخط سے واپس ہوتا ہے ، سیکریٹری کے دستخط سے نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صدرمملکت نے دونوں طرف سے کھیلا ہے، صدر نے اپنی پارٹی کو بھی خوش کیا باقی کو بھی خوش کیا۔ ن لیگ کے رہنما عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت منافقت کرتے ہوئے بے نقاب ہوئے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تاہم واضح رہے کہ اس سے قبل مزمل سہروردی نے کہا تھا کہ صدر مملکت نومئی کے واقعہ کے بعد تو بالکل ہی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے تھے، انہوں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سمیت بہت سارے بل ایسے ہیں جن پر پی ٹی آئی کی حمایت شامل نہیں تھی لیکن وہ سائن کیے ہیں.

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ صدر مملکت جھوٹ بولے ہیں، جو بل ان کے پاس آیا ہے انہوں نے اس پر کوئی اختلافی نوٹ نہیں لکھا اور قانون یہی ہے کہ اگر وہ اختلافی نوٹ نہیں لکھتے یا وہ کوئی ہدایات نہیں کرتےکیونکہ وجہ تو صدر نے بتانی ہے کہ میں ان پوائنٹس پر ایگری نہیں کرتا، اس کو بعد میں لا ڈیژون نے نوٹیفائی کرنا ہے۔

  • صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    سابق وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ ہاؤس پہنچے ہیں، جبکہ اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو بیان دیا ہے اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیئے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جس بل کو چیک کرتے ہیں اس پر دستخط بھی کرتے ہیں، اس میں زبانی کلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو زبانی کلامی بات نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت صاحب نے اتنے دن انتظار کیوں کیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلوں پر دستخط نہ کرنے والا معاملہ اتنا آسان نہیں، اس پر صدر عارف علوی کو جواب دینا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آرمی اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی۔ اور پھر آج صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔

  • سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافے ہوا ہے جبکہ عالمی منڈی میں فی اونس سونے کی قیمت میں 2 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 1891 ڈالر ہوگئی۔ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں کراچی ، حیدرآباد ، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد ، راولپنڈی اور پشاور میں فی تولہ سونے کی قیمت 3100 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 29 ہزار 900 روپے پر پہنچ گئی۔

    اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت 2658 روپے اضافے کے بعد 197102 روپے کی سطح پر آگئی۔ تاہم دوسری جانب پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیر کو شدید مندی کا رجحان رہا، 100 انڈیکس 770 پوائنٹس کی غیر معمولی کمی کے بعد 48 ہزار کی نفسیاتی حد برقرار نہ رکھ سکی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن شدید مندی کا رجحان رہا، صبح سے ہی کاروبار میں مندی غالب رہی اور 100 انڈیکس میں شدید کمی دیکھی گئی، انڈیکس 48 ہزار پوائنٹس کی حد بھی برقرار نہیں رکھ سکا۔ پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 770 پوائنٹس کی غیر معمولی مندی کے سب 47 ہزار 448 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    تاہم اسٹاک بروکرز کے مطابق ڈالر کی قدر اور بڑھتی مہنگائی پر سرمایہ کار محتاط ہوگئے، نگران حکومت کے 10 روز میں اسٹاک مارکیٹ میں 1400 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ واضح رہے کہ جمعہ کو آخری کاروباری روز پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 48 ہزار 218 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 80 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستانی معیشت کو 150 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ہم ایک ایسی قوم ہیں جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کے متاثرین کے دکھ اور تکلیف کو بخوبی سمجھتا ہے اور گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران پاکستان کو 80 ہزار سے زیادہ ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی معیشت کو 150 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ جبکہ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ان چیلنجز نے ہمیں نہیں روکا اور پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ قومی عزم اور عوام کی بے مثال قربانیوں کی بدولت پاکستان نے حالات کا رخ موڑا جبکہ ہمیں ریاستی دہشت گردی کے متاثرین کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔

  • اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم پر فرض ہے. نگران وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ کرسچن برادری کا تحفظ امت محمدی پرفرض ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب کی ہے۔ جبکہ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لئے جڑانوالہ کا دورہ بھی کیا اور مسیحی برادری سے ملاقات بھی کی ہے۔

    خیال رہے کہ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کوحلف لیے ہوئے 2 دن گزرے تھے اور یہ واقعہ ہوگیا، واقعہ پر بہت دکھی ہوں، آج آپ کے سامنے دل کی باتیں کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ اور انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کا کسی مذہب،زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں، یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے، سانحہ جڑانوالہ معاشرےمیں موجود ایک مرض کی نشاندہی کررہا ہے، کوئی بھی گروہ حملہ آور ہو گا تو ریاست ایکشن میں آئے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور ریاست کے قوانین مظلوم کے ساتھ ہیں، ایک دوسرے کے احساس سے ہی معاشرہ قائم رہتا ہے، کسی کو نہیں پتہ آنے والا کل کیا لیکر آئے گا، مستقبل میں آنے والا وقت کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف سے ہی قائم رہ سکتا ہے، مجھے بہت خوشی ہوئی اگلے چیف جسٹس جڑانوالہ تشریف لائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بنانے میں مسیحی برادری کا اہم کردار ہے، ملٹری لیڈر شپ نے یقین دلایا اقلیتوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

  • عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    تحریک انصاف کے سینئر وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے یا تو اس بل کو پاس کر دیں یا بغیر دستخط کیے واپس بھیج دیں۔ جبکہ شعیب شاہین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کہ صدر نے ٹویٹ سے واضح کیا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو واپس بھجوایا جائے، صدر مملکت کےا سٹاف نے انہیں بتایا بل واپس بھجوا دیئے گئے ہیں، صدر مملکت نے بل پر دستخط ہی نہیں کیے تھے، پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 75 کی رو سے یہ خلاف آئین ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے، صدر پاکستان نے اپنے ٹویٹ کےذریعے واضح کیا عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے،اس طرح قانونی طور پر ان دونوں بلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بل پاس کروانے یا واپس بھجوانے کا طریقہ آئین میں واضح ہے، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی مشاورت سے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے۔

    تاہم انکا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کی تصدیق کے بغیر بل پاس کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اصل سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہوتا ہے ، دوسری کاپی نہیں ہوتی۔ شعیب شاہین نے مزید کہا ہے کہ سائفر کوڈڈ شکل میں وزیراعظم، صدر اور آرمی چیف کو بھیجا جاتا ہے، اس کے بعد کیبنٹ کے پاس سائفر کو ڈی کلاسیفائیڈ کیا جاتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اس سائفر پر ڈی مارش کا حکم دیتی ہے۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    صوبائی نگران وزیراطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا۔ جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت ایک چرچ میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم کیا گیا۔

    نگران وزیراطلاعات عامر میر نے اس بارے میں بتایا کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا، متاثرہ 94 خاندانوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں 20 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں عامر میر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر متاثرہ دو چرچوں کی بحالی اگلے چند دنوں میں مکمل ہوجائے گی، دیگر متاثرہ چرچوں کی مرمت کا کام بھی جلد مکمل کیا جاے گا جبکہ نگران وزیراعلیٰ 48 گھنٹوں میں دوبارہ جڑانوالہ کا دورہ کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں، سازش کے پیچھے موجود اصل کرداروں کو جلد بے نقاب کیا جائے گا اور زیادتی کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے گا۔

  • صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے.  خرم دستگیر

    صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے. خرم دستگیر

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بل سے متعلق آئین بہت واضح ہے اور صدر بل کو کسی بھی وجوہات کے ساتھ واپس کریں گے، صدرمملکت کے پاس کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر نے رضا مندی دینی یا وجوہات کے ساتھ واپس کرنا ہے، صدر مملکت نے تیسرا آپشن ڈھوندنے کی کوشش کی ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت سی چیزوں کی بے توقیری ہوچکی ہے، عوام کے نمائندوں کا پاس کیا ہوا بل کوئی کاغذ کا ٹکرا نہیں ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ صدر نے پارلیمنٹ کو توقیر کرنا ہوتی ہے، اس معاملے پر آئینی اور قانونی ماہرین رائے دے سکتے ہیں، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ صدر بل بغیر ریمارکس کے واپس نہیں کرسکتے، صدر اگر بل سے متفق نہ تھے تو یہ ریمارکس ڈالنے چاہیے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ بل پر کوئی دستخط ضرور موجود تھا جس کی بنیاد پر قانون بنایا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سے دستخط تھے، بغیر دستخط کے قانون کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعجب کی بات ہے صدر کہتے ہیں میں نے دستخط نہیں کیا، لیکن یہ بل دستخط کے ساتھ پہنچ گیا اس میں اسٹاف کا کیا قصور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ صدر کہتے ہیں میرے دستخط نہیں تو اس کا ثبوت ہونا چاہیے، صدر کے دستخط کی تصدیق ہونی چاہیے، یہ ایکسپرٹ ہی کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ثابت ہو جاتا کہ دستخط جعلی ہے تو آگے قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، جب تک دستخط کے حوالے سے کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تو یہ قانون رہے گا۔

    قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے آرٹیکل 75 کے تقاضے پورے نہیں کیے، سب سے اہم بات یہ ہے صدر بغیر ریمارکس کے بل واپس نہیں بھیج سکتے۔ جبکہ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر نے پارٹی کے فائدے کے لیے یہ قدم اٹھایا، کسی نے صدر کو یہ غلط ایڈوائس دی، صدر نے اس ٹوئٹ سے اپنی پوزیشن کو متنازع بنایا ہے۔

  • سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ 4 روزہ دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں اور نائب وزراء حج عمرہ، سیاحت، سربراہ سعودی ایئرلائنز اور سعودی ایوی ایشن کے نمائندے بھی وفد میں شامل ہیں، نیواسلام آبادائیرپورٹ پرنگران وزیرمذہبی امور انیق احمد نےوفد کا استقبال کیا۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ڈاکٹر توفیق حرمین الشریفین کےانتظامی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں جبکہ سعودی وزیر حج وعمرہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے حج اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے تاہم ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ، نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی وزیر برائے حج و عمرہ اور ان کے وفد کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ریاست کے مہمان ہوں گے۔ان کے دورے میں حج اور عمرہ زائرین کو سہولتیں مہیّا کرنے اور طریق مکہ منصوبے کو پاکستان کے دیگر شہروں تک توسیع دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ سعودی وزیر کی قیادت میں سعودی محکمہ شہری ہوابازی، ایئر لائنز اور دیگر محکموں کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی پاکستان آرہا ہے اور ان کا دورہ مذہبی سیاحت، شہری ہوا بازی اور ایئرلائنز کے لیے تعاون بڑھانے کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ یادرہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں پاکستان اور چار دیگر ممالک میں طریق مکہ اقدام متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت عازمین حج کے روانگی کے ہوائی اڈوں پر حج ویزا، کسٹمز اور صحت کی ضروریات سے متعلق خدمات مہیا کی گئی تھیں۔اس طرح ان کی مملکت میں آمد پر وقت کی کافی بچت ہوئی تھی اور انھیں ہوائی اڈوں سے براہ راست ان کی جائے قیام ہوٹلوں میں پہنچایا گیا تھا۔ رواں سال اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر26 ہزار سے زیادہ پاکستانی عازمین حج نے اس منصوبے سے فائدہ اٹھایا۔

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ مستقبل میں حج انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی وزیر کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر بھی دست خط کیے جائیں گے۔نیز نئی مردم شماری کے تحت پاکستان کی آبادی کے مطابق حج کوٹا بڑھانے کی بھی بات کی جائے گی اور اگر وہ (سعودی وفد) راضی ہوجاتے ہیں تو نئی مردم شماری کی بنیاد پر پاکستان کا حج کوٹا دنیا میں سب سے زیادہ ہوگا۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ،نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ سعودی وفد حج، عمرہ اور مذہبی سیاحت سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان سے گذشتہ کئی سال سے عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے زائرین کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پاکستان حجاج کرام کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

  • الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے حقلہ بندیوں کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن مساوی آبادی پر مشتمل انتخابی حلقے تشکیل دے اور کسی اسمبلی کے حلقوں میں آبادی کا فرق دس فیصد سے زیادہ نہ بڑھنے پائے جبکہ فافن کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کی اشاعت کے بعد یکساں آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی تشکیل یقینی بنائی جائے۔

    واضح رہے کہ فافن کے اعلامیہ کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا۔ مساوی آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندیاں یقینی بنانے کیلئے اقدامات سے انتخابی عمل کو منصفانہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اجلاس کیا جس میں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا، نئی حلقہ بندیاں ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت کی جائیں گی جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہوا جس میں ممبران و سیکریٹری کمیشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی تھی۔

    جبکہ اجلاس میں آئینی و قانونی پیچیدگیوں پر غور کیا گیا، جبکہ لاء ونگ نے مذکورہ پیچیدگیوں پر بریفنگ دی، اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا، ساتھ ہی صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق حلقہ بندیاں 14 دسمبر کو مکمل ہوں گی اور 14 دسمبر کو ہی حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت کی جائےگی۔ الیکشن کمیشن نے پرانی حلقہ بندیوں کو منجمد کردیا ہے۔ جبکہ 21 اگست کوچاروں صوبوں اور اسلام آباد کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔