Baaghi TV

Tag: london nahi jaon ga

  • جسکی ریٹنگ آرہی ہو ضروری نہیں وہ کام معیاری بھی ہے؟‌

    جسکی ریٹنگ آرہی ہو ضروری نہیں وہ کام معیاری بھی ہے؟‌

    اداکارہ کبری خان جنہیں ان کی اداکاری کی وجہ سے بے ھد سراہا جاتا ہے ، انہوں نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں آج کل بہت سارے پراجیکٹس پر کام کررہی ہوں. میرے پاس بہت سارے پراجیکٹس ایسے ہیں جو کہ بہت ہی دلچپسپ ہیں. کبری خان نے کہا کہ آج کل ریٹنگ کے چکر کی وجہ سے بہت سارے مسائل ہیں ، ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جن پراجیکٹس کی کی ریٹنگ آرہی ہو اس سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس سے جڑے اداکار بہت زیادہ ہٹ ہیں اور انکی عوام میں بہت زیادہ پذیرائی ہے ، حالانکہ ریٹنگ اور معیار دو الگ الگ چیزیں ہیں اس کے فرق کو

    سمجھنے کی ضرورت ہے . کبری خان نے کہا کہ تنقید ہونی چاہیے میں یہ نہیں کہتی کہ نہیں ہونی چاہیے لیکن مثبت تنقید ہو تو انسان کو سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور وہ اپنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے لیکن اگر مثبت کی بجائے منفی انداز میں‌تنقید کی جائے تو یقینا اس سے اگلے انسان کی زہنی صحت پر اثر پڑتا ہے. کبری خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسا کام کروں‌ جسکو عوام قبول کرے اور پسند کرے.

  • اچھے انسان کی قدر کرنا ہم سب پر واجب ہے کبری خان

    اچھے انسان کی قدر کرنا ہم سب پر واجب ہے کبری خان

    کبری خان جنہوں نے ڈرامہ کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، گزشتہ برس ان کی فلم لندن نہیں‌جائونگا ریلیز ہوئی ان کے کردار کو بہت سراہا گیا. کبری خان آج کل گوہر رشید کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں ، ان کی دوستی کے چرچے کافی مہینوں سے چل رہے ہیں، اداکارہ نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ اچھا دوست قسمت والوں کو ملتا ہے . اور آج کے دور میں جس کے پاس اچھا دوست ہو وہ بہت ہی قسمت والا ہوتا ہے. اگر کسی

    کو اچھا اور مخلص دوست مل جائے تو اسکی قدر کی جانی چاہیے جو کہ اکثر نہیں کی جاتی. انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں اچھی شکل و صورت اور شخصیت کو ہی دیکھا جاتا ہے اسے پسند کیاجاتا ہے اس کے قریب سب رہنا پسند کرتےہیں لیکن اس کے برعکس کسی کی شخصیت اچھی نہیں ، اسکا اخلاق اچھا ہے تو اسکو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اسکی باطنی خوبیاں اسکی ظاہرکی شخصیت کی وجہ سے زیرو کر دی جاتی ہے جو کہ بہت ہی غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے. انہوں نے کہ انسان مخلص ہونا چاہیے چاہے وہ جیسا مرضی نظر آتا ہو، اس کی قدر کی جانی چاہیے.

  • آپ ہیرو کیوں نہیں آتے ہمایوں سعید سے سوال

    آپ ہیرو کیوں نہیں آتے ہمایوں سعید سے سوال

    اداکار ہمایوں سعید نے گزشتہ روز اینیمیٹڈ مووی اللہ یار کے ٹیزر لانچ میں شرکت کی ۔ پریس میٹ میں ان سے ہال میں بیٹھے کسی شخص نے سوال کیا۔ بولا ہمایوں سعید صاحب اب بہت اچھے اداکار ہیں لیکن آپ فلموں میں ولن کیوں آتے ہیں ہیرو کیوں نہیں آتے اس پر تقریب کی میزبانی کرنے والے واسع چوہدری نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں رہتے ہیں تو اس شخص نے بتایا کہ وہ کینڈا میں رہتا ہے پھر واسع نے کہا کہ آپ نے ان کو کس فلم میں ولن دیکھ لیا ہے۔ ہمایوں سعید نے کہا کہ بھئی اب تو میرے ہیرو آنے پہ میمز بننے لگ گئےہیں اور تم کہہ رہے کہ میں ولن آتا ہوں

    ہیرو نہیں آتا۔ ہمایوں سعید کے اس جواب پر سارا ہال تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ہمایوں سعید نے اس موقع پر کہا کہ جب تک میرے چاہنے والے ہیں میں ہیرو آتا رہوں گا۔ میں فن کی خدمت مرتے دم تک کرتا رہوں گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے بہت تنقید سہی ہے لیکن کبھی جواب نہیں دیا میرا جواب میرے اچھے کام کے زریعے ہی آتا ہے۔ انہوں زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ فلمیں بننی چاہیے۔