Baaghi TV

Tag: Malik Ramzan Isra

  • کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    آج 31 اکتوبر 2023 اور وقت بھی قریب صبح کے نو بجے ہے لیکن آج ہم آپ کو اکتوبر 31، 1984 کی صبح قریب 9 بجے کے وقت آج سے ٹھیک 39 سال پہلے کا بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ جس میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی کو انہی کے پراعتماد محافظ نے قتل کردیا جس پر انہیں بے انتہاء اعتماد تھا ۔ یہ کہنا ہے صحافی ملک رمضان اسرا کا جنہوں نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں مزید کہا کہ سورج ابھر چکا تھا اور پرندے اڑان بھر چکے تھے لیکن اندرا گاندھی کو کیا پتا تھا کہ آج کے اس بدقسمت دن ان کی روح بھی پروا ز کرجائے گی؟
    https://www.youtube.com/watch?v=rCv98DXPL00&t=283s
    ملک رمضان اسراٰ مزید کہتے ہیں کہ "ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی ون صفدر یارجنگ روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ کے گیٹ سے باہر نکلتی ہیں اور پاس ہی موجود اپنے دفتر کی طرف جارہی ہوتی ہیں اس دوران وہ اپنے سیکرٹری آر کے دھاون سے باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ ان کی نظر اچانک چائے کی ٹرے اٹھائے ایک ملازم پر پڑتی ہے جو آئے ہوئے مہمانوں کے لیے چائے لے جا رہا تھا۔ تاہم اندرا گاندھی انہیں مہمان کے لیے اسے کوئی خوبصورت ٹرے لانے کو کہا اور آگے بڑھ گئی تاہم وہ جیسے ہی گیٹ کے نزدیک گئی تو ان کے پراعتماد سکھ محافظ بینت سنگھ تیزی سے ان کی طرف لپکے اور اپنی پستول نکال کر اس کا رخ سیدھا اندرا کی طرف کرکے گولیاں چلا دی جبکہ اس دوران انہوں نے دوسرے سکھ محافظ ساتھی کو بھی آواز دی جس کا نام ستونت سنگھ تھا ن انہوں نے زمین پر گری ہوئی اندرا گاندھی پر اپنی سٹین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

    جبکہ اس کے بعد بینت سنگھ پنجابی میں چلایا کہ؛ اسی جو کجھ کرنڑا سی کرلیا ہنڑ تسی جو کرنڑے کرلو اور اپنے ہاترھ اوپر اٹھا لئے، اور ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس موقع بدقسمتی سے بھارتی وزیر اعظم کیلئے موجود ایمبولینس تو موقع پر موجود تھیں مگر ان کا ڈرائیور پراسرار طور غائب تھا، لیکن آر کے دھاون نے گھائل اندرا گاندھی کو ایک کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔ آپریشن تھیٹر میں پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکی تھیں۔ شام چار بجے کے سرکاری اعلان میں ان کی موت کی تصدیق سے قبل ساری دنیا میں میڈیا کے ذریعے ان کی موت کی خبر پہنچ چکی تھی۔ وہ قتل ہونے والی صبح کی گزشتہ رات اڑیسہ کے دورے سے واپس آئی تھیں ۔ اور انہوں اس صبح نامور اداکار پیٹرا سٹینوف کے ساتھ عوامی دربار میں لوگوں سے ملاقات کی فلم بندی کروانی تھی اور انہیں انٹرویو دینا تھا۔

    اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر اندرا گاندھی کو اپنی ہی سکھ محافظوں نے قتل کیوں کردیا؟

    تو اس جواب یہ ہے کہ انتہا پسند سکھوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کی موت دراصل ان کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر کیے جانے والے فوجی آپریشن ’بلیو سٹار‘ کا انتقام لینا تھا۔ نامور ہندوستانی صحافی کلدیپ نایر کے مطابقاس قتل سے قبل سیکیورٹی اداروں نے ان کے سکھ محافظوں کو تبدیل کرنا چاہا مگر اندرا گاندھی انہیں برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور ان کا پر اعتماد بھی جبکہ دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اس طرح محافظوں کو ہٹانے سے سکھ برادری پر برا تاثر جائے گا اور سمجھا جائے گا پوری کمیونٹی سے نفرت کی جارہی ہے۔ جبکہ ان سکھ محافظوں کا تعلق موجودہ خالستان موومنٹ سے تھا جو خالستان تحریک چلا رہے ہیں آزادی خالستان کیلئے۔

    اب آتے ہیں اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کی طرف اور آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا اندرا گاندھی نے ایک مسلمان سے شادی کی تھی اور کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا؟

    معروف سوئڈش صحافی برٹل فوک اپنی کتاب ’فیروز خان ۔دی فارگٹن گاندھی‘ میں لکھتے ہیں کہ کمالہ جو اندرا گاندھی کی ماں تھیں نے اپنے خاوند اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ٹی بی کے باعث اپنی موت سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے مستقبل کے بارے میں کافی فکرمند ہیں اور اس حق میں بھی قطعی نہیں ہیں کہ وہ فیروز خان سے شادی کرے کیونکہ وہ اسے اپنی بیٹی کے لائق نہیں سمجھتی تھیں۔

    اندرا گاندھی کی ماتا کمالہ کا 1936 میں دہانت ہوگیا، مگر تب تک فیروز خان اور اندرا کی زندگی کافی آگے بڑھ چکی تھی۔ ادھر جواہر لال نہرو کو ان دونوں کے معاشقے کا پہلے سے علم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اس بات کی نوبت شادی تک بھی پہنچے گی۔ بعد ازاں دونوں نے لندن کی ایک مسجد میں جا کر شادی کرلی اور اندرا نے اپنا اسلامی نام میمونہ بیگم رکھ لیا تھا۔ لیکن نہرو خاندان کے لیے اندرا کا غیر ہندو سے شادی پر اصرار کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل نہرو کی بہن وجیہ لکشمی پنڈت کی ایک مسلمان کے ساتھ شادی نے بھی طوفان برپا کیا تھا۔ وہ اپنے والد کے اخبار انڈیپنڈنٹ کے ایڈیٹر سید حسین کے دام الفت میں گرفتار ہو گئی تھیں۔ دونوں نے نہرو خاندان کے علم میں لائے بغیر نہ صرف شادی کر لی بلکہ لکشمی نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔

    تاہم جب جواہر لال نہرو کو اس شادی کا پتہ چلا تو وہ کافی پریشان ہوگئے کیونکہ نہرو کو فیروز خان پر نہیں بلکہ ان کے مذہب پر اعتراض تھا۔ لیکن اندرا نے بالآخر اپنے باپ کو منا لیا اور بعد میں انہوں نے فیروز خان کے ساتھ ہندوستان آکر 26 مارچ 1942 کو اپنی شادی ہندو طریقے سے کر لی جو اصل میں ہندو انتہاء پسندوں اور سیاست میں کسی قسم کی کنٹرورسی سے بچنا تھا۔ فیروز خان کا خاندانی نام فیروز خان گھندے تھا اور وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی کے کردار سے بہت متاثر تھے اور انہیں اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔گاندھی بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔

    ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے فیروز خان کی طرح کے سات افراد مل جائیں تو ہندوستان سات روز میں آزاد ہو جائے۔ فیروز خان جو پہلے اپنا خاندانی نام گندھے استعمال کرتے تھے، انہوں نے محبت میں گاندھے کو گاندھی سے بدل دیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ نہرو نے ان کی مذہبی شناخت کو چھپانے کے لیے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ لفظ گاندھی لکھیں۔ اس طرح شادی کے بعد اندرا کے نام کے ساتھ بھی لفظ گاندھی آ گیا۔ یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اندرا کے نام کے لاحقے ’گاندھی‘ سے عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے موہن کرم چند گاندھی سے عقیدت کی وجہ سے اسے اپنے نام کا حصہ بنایا مگر حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ اس کی نسبت اندرا کے شوہر فیروز گاندھے کی وجہ تھی جو خود بھی بعد میں فروز گاندھی بن گئے۔

    کتاب پرسنز ، پیشنز اینڈ پالیٹکس‘ کے مصنف یونس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سنجے جو اندرا کے بیٹے ہیں کے ختنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک مسلم روایات کا خاصا ہے۔
    شادی کے بعد فیروز خان، جواہر لال نہرو کے اخبار ’دی نیشنل ہیرالڈ‘ کے ایم ڈی بن گئے۔آزادی کے بعد 1950 سے 1952 کے درمیان وہ صوبائی اسمبلی کے رکن نامزد ہوئے۔ 1952 میں جب بھارت میں پہلے عام انتخابات ہوئے تو وہ رائے بریلی اتر پردیش سے لوک سبھا کے ممبر بھی منتخب ہو گئے۔

    اس الیکشن مہم میں اندرا گاندھی نے خصوصی طور پر دہلی سے جاکر ان کی الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور معروف بینکر رام کشن ڈالمیا کا پردہ چاک کیا تھا جبکہ 1957 میں جب وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو انہوں نے حکومتی انشورنس کمپنی میں مالی بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی جس کی وجہ سے نہرو حکومت کی شفافیت نہ صرف سوالیہ نشان بن گئی بلکہ ان کے وزیر خزانہ کو مستعفی بھی ہونا پڑا۔ اب اس کے بعد یہیں سے ان کی اور نہرو خاندان کے چپقلش کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔

    1958 میں فیروز خان کو دل کو دورہ پڑا۔ اندرا گاندھی اس وقت اپنے والد کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام پذیر تھیں۔لیکن انہیں جب فیروز خان کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنے والد کے ساتھ بھوٹان کے دورے پر تھیں، وہ وہاں سے واپس آئیں اور فیروز خان کو لے کر کشمیر چلی گئیں تاہم 1960 میں انہیں دل کا دورا پڑا اور وہ دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

    فروز خان گاندھے یا گاندھی کی وفات کے چھ سال بعد اندرا بھارت کی وزیراعظم بن گئیں۔ رائے بریلی کی وہ سیٹ جس سے وہ الیکشن لڑا کرتے تھے، بعد میں اسی حلقے سے راجیو گاندھی کی بیوی اور ان کی بہو سونیا گاندھی نے الیکشن لڑنا شروع کردیا۔ فیروز خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی شادی اندرا سے نہ بھی ہوتی اور زندگی ان کے ساتھ وفا کرتی تو وہ بھارت کے صدر یا وزیراعظم بنتے کیونکہ ان کی صلاحیتوں سے خود نہرو بھی خائف رہتے تھے۔

    ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک کے دنوں میں جب دونوں کی شادی کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اگست 1942 میں انہیں گرفتار کرکے ایک سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دو بیٹے راجیو اور سنجے 1944 اور 1946 میں پیدا ہوئے۔معروف بھارتی سکالر کے این راؤ اپنی کتاب ’دی نہرو ڈائنسٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راجیو گاندھی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد اندرا گاندھی کے اپنے شوہر فیروز خان سے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور دونوں الگ الگ رہنے لگے لیکن باقاعدہ طلاق بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران اندرا حاملہ ہوئی اور سنجے پیدا ہوا گیا.

    این کے راؤ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سنجے گاندھی فیروز خان کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ایک اور مسلمان یونس خان کا بیٹا تھا، جو پیشے کے لحاظ سے سفارت کار تھے اور انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ ناجائز تعلقات پیدا کرلیے تھے۔ بعد میں وہ اندرا گاندھی کے مشیر بھی رہے۔ این کے راؤ: مزید لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنے باپ نہرو کی طرح دل پھینک عاشقہ تھیں۔ فیروز خان سے اگرچہ انہوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور وہ لندن میں فیروز خان کے ساتھ گزرے اپنے ایام کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتی تھیں لیکن اپنی ذات میں جابرانہ مزاج کی وجہ سے ان کی کسی سے بن نہیں پاتی تھی۔ لہذا فیروز خان نے جب دیکھا کہ ان کی حیثیت ایک نوکر جیسی ہے جبکہ ہندو دھرم میں خاوند کو دیوتا جیسا رتبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ خود ہی الگ ہوگئے۔

  • زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    سینئر صحافی حامد میر نے ایک ویڈیو اپنے ایکس (ٹوئیٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "باجوڑ میں زخمی ہونے والا جے یو آئی کا کارکن اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کو سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے اپنے سینے پر زخم کھایا ہے ،ایسے بہادر کارکن سیاسی جماعتوں کا اصل سرمایہ ہیں ان کارکنوں کو اسمبلیوں میں لانا چاہئیے.”

    جبکہ خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دورہ پشاور پر زخمی کارکنان سے فردا فردا خود جاکر ان سے ملاقات کی اور
    زخمی کارکن پارٹی قائد کو اپنے درمیان دیکھ کر ناصرف خوش ہوئے بلکہ چند لہحوں کیلئے زخم کے درد بھی بھول گئے. جمیعت علماء اسلام ف نے اپنے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ "قائد جمعیت فردا فردا ہر زخمی کارکن کے پاس گئے، زخمیوں کو بوسہ دیا ،گلدستہ پیش کیا ،کارکن قائد جمعیت اور قائد جمعیت کارکنوں کو دلاسہ دیتے رہے ۔”


    پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے مزید کہا گیا کہ کارکنوں کے بلند حوصلوں سے ہمارے حوصلے بلند ہیں ۔ایک کارکن نے قائد جمعیت کو کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے گولی سینے پر کھائی ہے. تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ مولانا عبد الواسع رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی ، رکن قومی اسمبلی مولانا محمود شاہ سنیٹر مولانا فیض محمد ، مولانا عطاء الحق درویش و دیگر ارکین پارلیمنٹ نے بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی تھی.

    جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوڑ حادثے میں جے یو آئی کے 60 کارکن شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور باجوڑ دھماکہ افسوسناک ہے، یہ حالات کا ایک جبر ہے اور تاریخ کا سیاہ واقعہ ہے، جبکہ آزمائشیں قوموں پر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آزمائش کی گھڑی میں قوم کا شکر گزار ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    مولانا نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جنہوں نے ٹارگٹ کیا انہوں نے ذمہ داری قبول کی ہے، اسلحے کی جنگ کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں، کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا خون بہائے، پوائنٹ سکورنگ نہیں سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں جب کہ اس معاملے پر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، دلیل کی بنیاد پر یہ جنگ جیتیں گے، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علما اسلام اپنا نظریہ نہیں چھوڑے گی اور ہم نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا پیغام بھی دے دیا ہے تاکہ کسی قسم کی شرانگیزی سے بچا جاسکے اور ہم نے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی کے انداز میں نہیں دینا بلکہ پرامن جدوجہد کرنی ہے.